حدیث نمبر: 1470
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ وَأَنَا ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ ، فَأَخَذَتْ أُمِّي بِيَدِي فَانْطَلَقَتْ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ رَجُلٌ وَلَا امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَّا قَدْ أَتْحَفَتْكَ بِتُحْفَةٍ ، وَإِنِّي لَا أَقْدِرُ عَلَى مَا أُتْحِفُكَ بِهِ إِلَّا ابْنِي هَذَا ; فَخُذْهُ ، فَلْيَخْدِمْكَ مَا بَدَا لَكَ . فَخَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَشْرَ سِنِينَ ، فَمَا ضَرَبَنِي ضَرْبَةً ، وَلَا سَبَّنِي سَبَّةً ، وَلَا انْتَهَرَنِي ، وَلَا عَبَسَ فِي وَجْهِي ، وَكَانَ أَوَّلَ مَا أَوْصَانِي بِهِ أَنْ قَالَ : " يَا بُنَيَّ ، اكْتُمْ سِرِّي تَكُنْ مُؤْمِنًا " ، فَكَانَتْ أُمِّي وَأَزْوَاجُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلْنَنِي عَنْ سِرِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا أُخْبِرُهُنَّ بِهِ ، وَلَا أُخْبِرُ بِسِرِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَدًا أَبَدًا ، وَقَالَ : " يَا بُنَيَّ ، عَلَيْكَ بِإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ يُحِبُّكَ حَافِظَاكَ ، وَيُزَادُ فِي عُمُرِكَ ، وَيَا أَنَسُ ، بَالِغْ فِي الِاغْسَالِ مِنَ الْجَنَابَةِ ; فَإِنَّكَ تَخْرُجُ مِنْ مُغْتَسَلِكَ وَلَيْسَ عَلَيْكَ ذَنْبٌ وَلَا خَطِيئَةٌ " . قَالَ : قُلْتُ : كَيْفَ الْمُبَالَغَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تَبُلُّ أُصُولَ الشَّعْرِ وَتُنَقِّي الْبَشَرَةَ . وَيَا بُنَيَّ ، إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا تَزَالَ عَلَى وُضُوءٍ ; فَإِنَّهُ مَنْ يَأْتِيهِ الْمَوْتُ وَهُوَ عَلَى وُضُوءٍ يُعْطَى الشَّهَادَةَ . وَيَا بُنَيَّ ، إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا تَزَالَ تُصَلِّي ; فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلِّي عَلَيْكَ مَا دُمْتَ تُصَلِّي . وَيَا أَنَسُ ، إِذَا رَكَعْتَ فَأَمْكِنْ كَفَّيْكَ مِنْ رُكْبَتَيْكَ ، وَفَرِّجْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ ، وَارْفَعْ مِرْفَقَيْكَ عَنْ جَنْبَيْكَ . وَيَا بُنَيَّ ، إِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ فَأَمْكِنْ كُلَّ عُضْوٍ مِنْكَ مَوْضِعَهُ ; فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى مَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ بَيْنَ رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ . يَا بُنَيَّ إِذَا سَجَدْتَ فَأَمْكِنْ جَبْهَتَكَ وَكَفَّيْكَ مِنَ الْأَرْضِ ، وَلَا تَنْقُرْ نَقْرَ الدِّيكِ ، وَلَا تُقْعِ إِقْعَاءَ الْكَلْبِ - أَوْ قَالَ : الثَّعْلَبِ - وَإِيَّاكَ وَالِالْتِفَاتَ فِي الصَّلَاةِ ; فَإِنَّ الِالْتِفَاتَ فِي الصَّلَاةِ هَلَكَةٌ ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَفِي النَّافِلَةِ لَا فِي الْفَرِيضَةِ . وَيَا بُنَيَّ ، إِذَا خَرَجْتَ مِنْ بَيْتِكَ فَلَا تَقَعَنَّ عَيْنُكَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ إِلَّا سَلَّمْتَ عَلَيْهِ ; فَإِنَّكَ تَرْجِعُ مَغْفُورًا لَكَ . وَيَا بُنَيَّ ، إِذَا دَخَلْتَ مَنْزِلَكَ فَسَلِّمْ عَلَى نَفْسِكَ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ . وَيَا بُنَيَّ ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصْبِحَ وَتُمْسِي وَلَيْسَ فِي قَلْبِكَ غِشٌّ لِأَحَدٍ ; فَإِنَّهُ أَهْوَنُ عَلَيْكَ فِي الْحِسَابِ . يَا بُنَيَّ ، إِنِ اتَّبَعْتَ وَصِيَّتِي فَلَا تَكُنْ فِي شَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنَ الْمَوْتِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَزَادَ : " يَا بُنَيَّ ، إِذَا خَرَجْتَ مَنْ بَيَّتَكَ فَلَا يَقَعَنَّ بَصَرُكَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ إِلَّا ظَنَنْتَ أَنَّهُ لَهُ الْفَضْلُ عَلَيْكَ . يَا بُنَيَّ ، إِنَّ ذَلِكَ مِنْ سُنَّتِي ، وَمَنْ أَحْيَا سُنَّتِي فَقَدْ أَحَبَّنِي ، وَمَنْ أَحَبَّنِي كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ " . وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تھے ، اُس وقت میں آٹھ سال کا تھا ، میری والدہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! انصار سے تعلق رکھنے والے ہر مرد اور ہر عورت نے آپ کی خدمت میں کوئی تحفہ پیش کیا ہے ، میں آپ کی خدمت میں کوئی تحفہ پیش کرنے کی قدرت نہیں رکھتی ، البتہ میرا یہ بیٹا ہے ، آپ اسے ( خادم کے طور پر ) رکھ لیں ، جب تک آپ کو مناسب لگے گا ، یہ آپ کی خدمت کرتا رہے گا ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تو میں نے دس سال ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ، آپ نے کبھی مجھے مارا نہیں ، کبھی برا نہیں کہا: ، کبھی مجھے جھڑکا نہیں ، کبھی میرے سامنے ماتھے پر بل نہیں ڈالے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سب سے پہلے جو تلقین کی وہ یہ تھی کہ آپ نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! میرے ” ستر “ کو چھپا کے رکھنا ، تم مومن ہو جاؤ گے ، پھر میری والدہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج ، مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ” ستر “ کے بارے میں دریافت کرتی تھیں ، تو میں انہیں اس بارے میں نہیں بتاتا تھا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ” ستر “ کے بارے میں ، میں کبھی کسی کو نہیں بتاؤں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے میرے بیٹے ! تم پر لازم ہے کہ اچھی طرح وضو کرو ، تمہارے دونوں محافظ فرشتے تم سے محبت رکھیں گے ، تمہاری عمر لمبی ہو گی ، اور اے انس ! غسل جنابت میں مبالغہ کرنا ، کیونکہ جب تم غسل خانے سے نکلو گے ، تو تم پر کوئی گناہ اور کوئی خطاء نہیں ہو گی ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ مبالغہ کیسے ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم بالوں کی جڑوں کو تر کرنا ، اور جلد کو صاف کرنا ۔ اے میرے بیٹے ! اگر تم سے ہو سکے ، تو تم ہمیشہ با وضو رہنا ، کیونکہ جس شخص کو ایسی حالت میں موت آئے کہ وہ باوضو ہو ، تو اُسے شہادت کا مرتبہ دیا جائے گا ۔ اے میرے بیٹے ! اگر تم سے ہو سکے ، تو تم نفل نماز ادا کرتے رہنا ، کیونکہ جب تک تم نماز ادا کرتے رہو گے ، فرشتے تمہارے لئے دعائے رحمت کرتے رہیں گے ۔ اے انس ! جب تم رکوع کرو ، تو اپنی ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر جما کے رکھنا ، اپنی کہنیاں کشادہ رکھنا ، اپنے بازؤں کو پہلو سے دور رکھنا ۔ اے میرے بیٹے ! جب تم رکوع سے سر اٹھاؤ ، تو اپنے ہر ایک عضو کو اس کی مخصوص جگہ پر ٹھہرا دینا ، کیونکہ قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا ، جو رکوع اور سجدے کے درمیان اپنی پشت کو سیدھا نہیں کرتا ہے ۔ اے میرے بیٹے ! جب تم سجدہ کرو ، تو اپنی پیشانی اور اپنی ہتھیلیاں زمین پر جما کے رکھنا ، تم مرغ کے ٹھونگا مارنے کی طرح ٹھونگے نہ مارنا ، اور تم کتے ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) - لومڑی کی طرح ” اقعاء “ کے طور پر نہ بیٹھنا ، اور نماز کے دوران ادھر ادھر نہ دیکھنا ، کیونکہ نماز کے دوران ادھر ادھر دیکھنا ہلاکت کا باعث ہے ، اگر اُس کے بغیر چارہ نہ ہو ، تو نفل نماز میں ایسا کر لینا ، فرض میں ایسا نہ کرنا ۔ اے میرے بیٹے ! جب تم اپنے گھر سے نکلو ، تو تمہاری نظر اہل قبلہ میں سے ، جس شخص پر بھی پڑے ، تم اُسے سلام کرنا ، جب تم واپس آؤ گے ، تو تمہاری مغفرت ہو چکی ہو گی ۔ اے میرے بیٹے ! جب تم اپنے گھر میں داخل ہو ، تو اپنے اوپر ، اور اپنے اہل خانہ پر ، سلام بھیجنا ۔ اے میرے بیٹے ! اگر تم سے ہو سکے ، تو تم ایسی حالت میں صبح و شام کرنا ، کہ تمہارے دل میں کسی کے لئے کھوٹ ، یا کینہ نہ ہو ، اس طرح تمہارے لیے حساب دینا آسان ہو گا ۔ اے میرے بیٹے ! اگر تم نے میری ہدایت کی پیروی کی ، تو تمہارے نزدیک کوئی بھی چیز موت سے زیادہ محبوب نہیں ہو گی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں : اے میرے بیٹے ! جب تم اپنے گھر سے نکلو ، تو تمہاری نگاہ اہل قبلہ میں سے ، جس شخص پر بھی پڑے ، تو تم بھی گمان کرنا کہ وہ تم پر فضیلت رکھتا ہے ۔ اے میرے بیٹے ! یہ چیز میری سنت ہے ، اور جو شخص میری سنت کا احیاء کرے گا ، وہ مجھ سے محبت رکھے گا ، اور جو شخص مجھ سے محبت رکھے گا ، وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن ابویزید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1470
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف