مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ . باب: غسل جنابت کا بیان
وَعَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ أَنَّهَا قَالَتْ : أَفْتِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ ، فَقَالَ : " تَبُلُّ أُصُولَ الشَّعْرِ ، وَتُنَقِّي الْبَشَرَةَ ; فَإِنَّ مِثْلَ الَّذِينَ لَا يُحْسِنُونَ الْغُسْلَ كَمَثَلِ شَجَرَةٍ أَصَابَهَا مَاءٌ ، فَلَا وَرَقُهَا يَنْبُتُ وَلَا أَصْلُهَا يُرْوَى ، فَاتَّقَوْا اللَّهَ وَأَحْسِنُوا الْغُسْلَ ; فَإِنَّهَا مِنَ الْأَمَانَةِ الَّتِي حُمِّلْتُمْ ، وَالسَّرَائِرِ الَّتِي اسْتُودِعْتُمْ " . قُلْتُ : كَمْ يَكْفِي الرَّأْسَ مِنَ الْمَاءِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " ثَلَاثُ حَثَيَاتٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُمَا . ¤سیده میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اُنہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں غسل جنابت کے بارے میں حکم بیان کیجیے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم بالوں کی جڑوں کو تر کرو ، اور جلد کو صاف کر لو ، جو لوگ اچھی طرح سے غسل نہیں کرتے ہیں ، اُن کی مثال اس درخت کی مانند ہے ، جس تک پانی پہنچ جاتا ہے ، لیکن نہ اس کا پتہ پھوٹتا ہے ، نہ اس کی جڑ سیراب ہوتی ہے ، تم لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! اور اچھی طرح غسل کرو ، یہ ایک امانت ہے ، جو تمہارے ذمہ ڈالی گئی ہے ، اور ایک پوشیدہ چیز ہے ، جو تمہارے سپرد کی گئی ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سر کے لیے کتنا پانی کفایت کرے گا ؟ آپ نے فرمایا : تین مرتبہ دونوں ہاتھ ملا کر ڈالنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں عثمان بن عبدالرحمان کے حوالے سے ، عبدالحمید سے نقل کی ہے ، میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔