مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ كَرَاهِيَةِ الدَّعْوَى . باب: دعوی کرنے کا ناپسندیدہ ہونا
وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَامَ لَيْلَةً بِمَكَّةَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَكَانَ أَوَّاهًا فَقَالَ : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، فَحَرَّضْتَ وَجَهَدْتَ وَنَصَحْتَ [ فَأَصْبَحَ ] ، فَقَالَ : " لَيَظْهَرَنَّ الْإِيمَانُ حَتَّى يُرَدَّ الْكُفْرُ إِلَى مَوَاطِنِهِ ، وَلَتُخَاضَنَّ الْبِحَارُ بِالْإِسْلَامِ ، وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَتَعَلَّمُونَ فِيهِ الْقُرْآنَ ، يَتَعَلَّمُونَهُ وَيَقْرَءُونَهُ ، وَيَقُولُونَ : قَدْ قَرَأْنَا وَعَلِمْنَا ، فَمَنْ ذَا الَّذِي هُوَ خَيْرٌ مِنَّا ؟ فَهَلْ فِي أُولَئِكَ مِنْ ضُرٍّ ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَنْ أُولَئِكَ ؟ قَالَ : " أُولَئِكَ مِنْكُمْ ، وَأُولَئِكَ وَقُودُ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ هِنْدَ بِنْتَ الْحَارِثِ الْخَثْعَمِيَّةَ التَّابِعِيَّةَ لَمْ أَرَ مَنْ وَثَّقَهَا وَلَا جَرَّحَهَا . ¤سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں رات کے وقت کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ؟ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے : وہ فرمانبردار شخص تھے ، انہوں نے کہا: اے اللہ ! جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ کر دی ، پوری کوشش کی ، خیرخواہی کی ، جس کا یہ نتیجہ نکلا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایمان ضرور غالب آ جائے گا ، یہاں تک کہ کفر کو اُس کے مخصوص مقام کی طرف لوٹا دیا جائے گا ، سمندروں میں اسلام پھیل جائے گا اور لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آئے گا ، جس میں وہ قرآن کی تعلیم حاصل کریں گے ، وہ اسے سیکھیں گے ، اُسے پڑھیں گے اور پھر یہ کہیں گے : ہم نے پڑھ لیا ہے اور علم حاصل کر لیا ہے ، تو کون شخص ایسا ہے ؟ جو ہم سے بہتر ہو ؟ تو کیا ایسے لوگوں میں کوئی نقصان ہو گا ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ لوگ کون ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ تم میں سے ( یعنی اس اُمت میں سے ) ہوں گے اور وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ہند بنت حارث خثعمیہ ، جو تابعیہ ہیں ، ان کا معاملہ مختلف ہے ، میں نے کسی کو ان کی توثیق یا اُن پر جرح کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔