حدیث نمبر: 878
وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَامَ لَيْلَةً بِمَكَّةَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَكَانَ أَوَّاهًا فَقَالَ : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، فَحَرَّضْتَ وَجَهَدْتَ وَنَصَحْتَ [ فَأَصْبَحَ ] ، فَقَالَ : " لَيَظْهَرَنَّ الْإِيمَانُ حَتَّى يُرَدَّ الْكُفْرُ إِلَى مَوَاطِنِهِ ، وَلَتُخَاضَنَّ الْبِحَارُ بِالْإِسْلَامِ ، وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَتَعَلَّمُونَ فِيهِ الْقُرْآنَ ، يَتَعَلَّمُونَهُ وَيَقْرَءُونَهُ ، وَيَقُولُونَ : قَدْ قَرَأْنَا وَعَلِمْنَا ، فَمَنْ ذَا الَّذِي هُوَ خَيْرٌ مِنَّا ؟ فَهَلْ فِي أُولَئِكَ مِنْ ضُرٍّ ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَنْ أُولَئِكَ ؟ قَالَ : " أُولَئِكَ مِنْكُمْ ، وَأُولَئِكَ وَقُودُ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ هِنْدَ بِنْتَ الْحَارِثِ الْخَثْعَمِيَّةَ التَّابِعِيَّةَ لَمْ أَرَ مَنْ وَثَّقَهَا وَلَا جَرَّحَهَا . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں رات کے وقت کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ؟ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے : وہ فرمانبردار شخص تھے ، انہوں نے کہا: اے اللہ ! جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ کر دی ، پوری کوشش کی ، خیرخواہی کی ، جس کا یہ نتیجہ نکلا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایمان ضرور غالب آ جائے گا ، یہاں تک کہ کفر کو اُس کے مخصوص مقام کی طرف لوٹا دیا جائے گا ، سمندروں میں اسلام پھیل جائے گا اور لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آئے گا ، جس میں وہ قرآن کی تعلیم حاصل کریں گے ، وہ اسے سیکھیں گے ، اُسے پڑھیں گے اور پھر یہ کہیں گے : ہم نے پڑھ لیا ہے اور علم حاصل کر لیا ہے ، تو کون شخص ایسا ہے ؟ جو ہم سے بہتر ہو ؟ تو کیا ایسے لوگوں میں کوئی نقصان ہو گا ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ لوگ کون ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ تم میں سے ( یعنی اس اُمت میں سے ) ہوں گے اور وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ہند بنت حارث خثعمیہ ، جو تابعیہ ہیں ، ان کا معاملہ مختلف ہے ، میں نے کسی کو ان کی توثیق یا اُن پر جرح کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 878
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 27/2528»