حدیث نمبر: 876
عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَظْهَرُ الدِّينُ حَتَّى يُجَاوِزَ التُّجَّارُ ، وَتُخَاضَ الْبِحَارُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ثُمَّ يَأْتِي مِنْ بَعْدِكُمْ أَقْوَامٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ ، يَقُولُونَ : قَدْ قَرَأْنَا الْقُرْآنَ ، مَنْ أَقْرَأُ مِنَّا ؟ وَمَنْ أَفْقَهُ مِنَّا ؟ وَمَنْ أَعْلَمُ مِنَّا ؟ " ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : " هَلْ فِي أُولَئِكَ مِنْ خَيْرٍ ؟ " قَالُوا : لَا . قَالَ : " أُولَئِكَ مِنْكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ ، وَأُولَئِكَ هُمْ وَقُودُ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” دین غالب آ جائے گا ، یہاں تک کہ تاجر لوگ ( دور دراز کے علاقوں ) تک جائیں گے اور اللہ کی راہ میں سمندروں میں سفر کیا جائے گا ، پھر تمہارے بعد ایسے لوگ آئیں گے ، جو قرآن سیکھیں گے ، اور پھر وہ یہ کہیں گے : ہم سے زیادہ اچھا قرآن اور کس کو آتا ہے ؟ ہم سے زیادہ سمجھ بوجھ اور کس کو حاصل ہے ؟ ہم سے زیادہ علم کس کے پاس ہے ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : کیا اُن لوگوں میں کوئی بھلائی ہو گی ؟ لوگوں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ لوگ تم میں سے ( یعنی اس اُمت میں سے ) ہوں گے اور وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام بزار ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربزی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 876
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 6668 اورده المؤلف فى كشف الاستار 174»