مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ كَرَاهِيَةِ الدَّعْوَى . باب: دعوی کرنے کا ناپسندیدہ ہونا
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَظْهَرُ الْإِسْلَامُ حَتَّى يَخْتَلِفَ التُّجَّارُ فِي الْبَحْرِ ، وَحَتَّى تَخُوضَ الْخَيْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ثُمَّ يَظْهَرُ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ ، يَقُولُونَ : مَنْ أَقْرَأُ مِنَّا ؟ مَنْ أَعْلَمُ مِنَّا ؟ مَنْ أَفْقَهُ مِنَّا ؟ " ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ : هَلْ فِي أُولَئِكَ مِنْ خَيْرٍ ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " أُولَئِكَ مِنْكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ ، وَأُولَئِكَ هُمْ وَقُودُ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ مُوَثَّقُونَ . ¤سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اسلام غالب آ جائے گا ، یہاں تک کہ تاجر لوگ سمندروں میں سفر کریں گے اور گھوڑے اللہ کے راہ میں جائیں گے ، پھر ایک قوم ظاہر ہو گی ، جو قرآن پڑھیں گے اور یہ کہیں گے : ہم سے زیادہ قرآن کس کو آتا ہے ؟ ہم سے زیادہ علم کس کے پاس ہے ؟ ہم سے زیادہ ( دین کی ) سمجھ بوجھ کس کے پاس ہے ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے دریافت کیا : کیا اُن لوگوں میں کوئی بھلائی ہو گی ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ لوگ تم میں سے ( یعنی اس اُمت میں سے ) ہوں گے اور وہ لوگ جہنم کا ایندھن ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔