کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ایسے شخص کا بیان جو اپنے علم کے ذریعے نفع حاصل نہ کرے
حدیث نمبر: 869
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَثَلُ الَّذِي يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ وَيَنْسَى نَفْسَهُ مَثَلُ الْفَتِيلَةِ ، تُضِيءُ لِلنَّاسِ وَتَحْرِقُ نَفْسَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ السُّحَيْمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِسُوءِ حِفْظِهِ وَاخْتِلَاطِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دے اور اپنے آپ کو بھول جائے ، اُس کی مثال چراغ کی بتی کی طرح ہے ، جو لوگوں کو روشنی فراہم کرتی ہے اور اپنے آپ کو جلا دیتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر سحیمی ہے اور وہ اپنے حافظے کی خرابی اور اختلاط کا شکار ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 869
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 870
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ غَيْرُ فَقِيهٍ ، وَمَنْ لَمْ يَنْفَعْهُ عِلْمُهُ ضَرَّهُ جَهْلُهُ ، اقْرَأِ الْقُرْآنَ مَا نَهَاكَ ، فَإِنْ لَمْ يُنْهِكْ فَلَسْتَ تَقْرَؤُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بعض اوقات کوئی علمی بات سیکھنے والا شخص عالم نہیں ہوتا ، اور جس شخص کا علم اسے نفع نہ دے ، اُس کی جہالت اسے نقصان پہنچاتی ہے ، تم قرآن کو اُس وقت تک پڑھو ، جب تک وہ تمہیں ( شرعی احکام کی خلاف ورزی سے ) روکے رکھے اگر وہ تمہیں ( شرعی احکام کی خلاف ورزی سے ) نہیں روکتا ، تو تم اُسے نہ پڑھو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، وہ ضعیف ہے ، تاہم اسے ثقہ بھی قرار دیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 870
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 871
وَعَنْ أَبِي تَمِيمَةَ ، عَنْ جُنْدُبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيُّ صَاحِبُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا وَهُوَ إِلَى الْبَصْرَةِ حَتَّى أَتَيْنَا مَكَانًا يُقَالُ لَهُ : بَيْتُ الْمِسْكِينِ ، وَهُوَ مِنَ الْبَصْرَةِ عَلَى مِثْلِ النَّوْبَةِ ، فَقَالَ : هَلْ كُنْتُ تُدَارِسُ أَحَدًا الْقُرْآنَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِذَا أَتَيْنَا الْبَصْرَةَ فَأْتِنِي بِهِمْ . فَأَتَيْتُهُ بِصَالِحِ بْنِ مِسْرَحٍ ، وَبِأَبِي بِلَالٍ وَبِجَدِّهِ ، وَنَافِعِ بْنِ الْأَزْرَقِ ، وَهُمْ فِي نَفْسِي يَوْمَئِذٍ مِنْ أَفَاضِلِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ جُنْدُبٌ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَثَلُ الْعَالِمُ الَّذِي يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ وَيَنْسَى نَفْسَهُ كَمَثَلِ السِّرَاجِ ، يُضِيءُ لِلنَّاسِ وَيَحْرِقُ نَفْسَهُ " . ¤ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَحُولَنَّ بَيْنَ أَحَدِكُمْ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَى أَبْوَابِهَا مِلْءُ كَفٍّ مِنْ دَمٍ أَهْرَاقَهُ ظُلْمًا " . قَالَ : فَتَكَلَّمَ الْقَوْمُ ، فَذَكَرُوا الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَهُوَ سَاكِتٌ يَسْمَعُ مِنْهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ قَطُّ ، قَوْمٌ أَحَقُّ بِالنَّجَاةِ إِنْ كَانُوا صَادِقِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَلَهُ طَرِيقٌ تَأْتِي فِي قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
ابوتمیمہ سیدنا جندب بن عبداللہ ازدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نقل کرتے ہیں ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، ابوتمیمہ بیان کرتے ہیں : میں اور وہ بصرہ کی طرف جا رہے تھے ، یہاں تک کہ ہم ایک جگہ کے پاس پہنچے جس کا نام ” بیت مسکین “ تھا ، وہ بصرہ سے اُتنی ہی دور تھی ، جس طرح ” نوبہ “ ہے ، انہوں نے دریافت کیا : کیا تم نے کبھی کسی کو قرآن پڑھایا ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! انہوں نے فرمایا : جب ہم بصرہ پہنچ جائیں گے ، تو تم اُن لوگوں کو میرے پاس لے کر آنا ، تو میں اُن کے پاس صالح بن مسرح ، ابوبلال اور اس کے دادا اور نافع بن ازرق کو لے کر آیا ، میرے نزدیک یہ لوگ اُس وقت اہل بصرہ کے فاضل ترین لوگ تھے ، تو انہوں نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے احادیث بیان کرنا شروع کیں ، سیدنا جندب رضی اللہ عنہ نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو عالم لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دیتا ہے اور خود کو بھول جاتا ہے ، اُس کی مثال چراغ کی طرح ہے ، جو لوگوں کو روشنی دیتا ہے اور اپنے آپ کو جلا لیتا ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ” ( کہیں ایسا نہ ہو ) کہ جب کوئی شخص جنت کے دروازوں کی طرف دیکھ رہا ہو ، اُس وقت اس شخص اور جنت کے درمیان مٹھی بھر خون حائل ہو جائے ، جسے اُس نے ظلم کے طور پر بہایا تھا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : پھر حاضرین نے بات چیت شروع کی اور اُن لوگوں نے نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کا ذکر کیا ، تو سیدنا جندب رضی اللہ عنہ خاموش رہ کر ان کی باتیں سنتے رہے ، پھر انہوں نے فرمایا : میں نے آج کے دن کی طرح کے لوگ کبھی نہیں دیکھے ، جو نجات کے زیادہ حقدار ہوں ، لیکن شرط یہ ہے کہ یہ سچے ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی اور بھی سند ہے جو باغیوں سے جنگ کرنے سے متعلق باب میں آئے گی ، اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 871
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 872
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَالِمٌ لَا يَنْفَعُهُ عِلْمُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ الْبُرِّيُّ ، قَالَ الْفَلَّاسُ : صَدُوقٌ لَكِنَّهُ كَثِيرُ الْغَلَطِ صَاحِبُ بِدْعَةٍ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارَقُطْنِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ سخت عذاب اُس عالم کو ہو گا ، جسے اُس کے علم نے فائدہ نہ دیا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بری ہے ، فلاس فرماتے ہیں : یہ صدوق ہے لیکن بکثرت غلطی کرتا ہے اور بدعتی ہے ، امام أحمد ، امام نسائی رحمہ اللہ اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 872
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الإمام الطبراني فى معجمه الصغير 182/1183»
حدیث نمبر: 873
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى حَيٍّ مِنْ قَيْسٍ أُعَلِّمُهُمْ شَرَائِعَ الْإِسْلَامَ ، فَإِذَا قَوْمٌ كَأَنَّهُمُ الْإِبِلُ الْوَحْشِيَّةُ ، طَامِحَةً أَبْصَارُهُمْ ، لَيْسَ لَهُمْ هَمَّ إِلَّا شَاةٌ أَوْ بَعِيرٌ ، فَانْصَرَفْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا عَمَّارُ ، مَا عَمِلْتَ ؟ " فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ قِصَّةَ الْقَوْمِ وَأَخْبَرْتُهُ بِمَا فِيهِمْ مِنَ السَّهْوَةِ . قَالَ : " يَا عَمَّارُ ، أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَعْجَبَ مِنْهُمْ ؟ قَوْمٌ عَلِمُوا مَا جَهِلَ أُولَئِكَ ، ثُمَّ سَهُوا كَسَهْوِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَزْرَمِيُّ ، قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قیس قبیلے کی ایک شاخ کی طرف بھیجا تاکہ میں اُن لوگوں کو اسلامی احکام کی تعلیم دوں ، وہ لوگ وحشی اونٹوں کی طرح تھے ، ان کی توجہ منتشر رہتی تھی ، اُن کی تمام تر پریشانی بکریوں ، یا اونٹوں کے بارے میں تھی ، میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے عمار ! تم نے کیا عمل کیا ؟ میں نے اُن لوگوں کا پورا واقعہ آپ کو بتایا ، ان لوگوں کی غیر دلچسپی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عمار ! کیا میں تمہیں ان سے زیادہ عجیب لوگوں کے بارے میں بتاؤں ؟ یہ وہ لوگ ہوں گے ، جنہیں ان چیزوں کا علم حاصل ہو گا ، جن کا علم ان لوگوں کو نہیں ہے اور پھر بھی وہ ( یعنی جنہیں علم ہو گا ) وہ اُن لوگوں کی طرح عدم دلچسپی کا اظہار کریں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن أحمد عزرمی ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 873
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «أورده المؤلف فى كشف الاستار 177»
حدیث نمبر: 874
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : تَعَرَّضْتُ - أَوْ قَالَ : تَصَدَّيْتُ - لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ النَّاسِ شَرٌّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ غَفْرَةً ، اسْأَلْ عَنِ الْخَيْرِ وَلَا تَسْأَلْ عَنِ الشَّرِّ ، شِرَارُ النَّاسِ شِرَارُ الْعُلَمَاءِ فِي النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْخَلِيلُ بْنُ مُرَّةَ ، قَالَ الْبُخَارِيُّ : مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ، وَرَدَّ ابْنُ عَدِيٍّ قَوْلَ الْبُخَارِيِّ ، وَقَالَ أَبُو زُرْعَةَ : شَيْخٌ صَالِحٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے ، میں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! سب سے زیادہ برا شخص کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! تجھ سے مغفرت کا سوال ہے ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے فرمایا : ) تم بھلائی کے بارے میں سوال کرو ، شر کے بارے میں سوال نہ کرو ! لوگوں میں برے لوگ وہ ہیں ، جو لوگوں کے درمیان برے علماء ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خلیل بن مرہ ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ منکر الحدیث ہے ، ابن عدی نے امام بخاری رحمہ اللہ کا قول مسترد کیا ہے ، ابوزرعہ کہتے ہیں یہ ایک نیک بزرگ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 874
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 167»
حدیث نمبر: 875
وَعَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَنْطَلِقُونَ إِلَى أُنَاسٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَيَقُولُونَ : لِمَ دَخَلْتُمُ النَّارَ ؟ فَوَاللَّهِ مَا دَخَلْنَا الْجَنَّةَ إِلَّا بِمَا تَعَلَّمْنَا مِنْكُمْ ، فَيَقُولُونَ : إِنَّا كُنَّا نَقُولُ وَلَا نَفْعَلُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَكِيمٍ الدَّاهِرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اہل جنت میں سے کچھ لوگ اہل جہنم سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کی طرف جائیں گے اور کہیں گے : تم لوگ جہنم میں کیوں داخل ہو گئے ؟ اللہ کی قسم ! ہم تو جنت میں صرف اس چیز کی وجہ سے داخل ہوئے ہیں ، جو ہم نے تم سے سیکھا تھا ، تو وہ جواب دیں گے : ہم لوگ کہا: کرتے تھے ، لیکن ( عمل ) نہیں کرتے تھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوبکر عبداللہ بن حکیم داہری ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 875
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 150/22»