کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: علم کے حصول کے لئے سفر کرنا
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : بَلَغَنِي عَنْ رَجُلٍ حَدِيثٌ سَمِعَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاشْتَرَيْتُ بَعِيرًا ، ثُمَّ شَدَدْتُ رَحْلِي ، فَسِرْتُ إِلَيْهِ شَهْرًا حَتَّى قَدِمْتُ الشَّامَ ، فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَنِيسٍ ، فَقُلْتُ لِلْبَوَّابِ : قُلْ لَهُ جَابِرٌ عَلَى الْبَابِ ، فَقَالَ : ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، فَخَرَجَ يَطَأُ ثَوْبَهُ ، فَاعْتَنَقَنِي وَاعْتَنَقْتُهُ ، فَقُلْتُ : حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْقِصَاصِ فَخَشِيتَ أَنْ تَمُوتَ أَوْ أَمُوتَ قَبْلَ أَنْ أَسْمَعَهُ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَحْشُرُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ - أَوْ قَالَ : الْعِبَادَ - عُرَاةً ، غُرْلًا ، بُهْمًا " قَالَ : قُلْنَا : وَمَا بُهْمًا ؟ قَالَ : " لَيْسَ مَعَهُمْ شَيْءٌ . ثُمَّ يُنَادِيهِمْ بِصَوْتٍ يَسْمَعُهُ مَنْ بَعُدَ كَمَا يَسْمَعُهُ مَنْ قَرُبَ : أَنَا الدَّيَّانُ ، أَنَا الْمَالِكُ ، لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ أَنْ يَدْخُلَ النَّارَ وَلَهُ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَقٌّ حَتَّى أَقْضِيَهُ مِنْهُ ، وَلَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ وَلِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ عِنْدَهُ حَقٌّ حَتَّى أَقْضِيَهُ مِنْهُ ، حَتَّى اللَّطْمَةُ " . قَالَ : قُلْنَا : كَيْفَ هَذَا وَإِنَّمَا نَأْتِي عُرَاةً غُرْلًا بُهْمًا ؟ قَالَ : " الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالله بن محمد بن عقیل بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : ایک صاحب کے بارے میں ، مجھے یہ اطلاع ملی کہ انہوں نے ایک حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ہے ، میں نے ایک اونٹ خریدا ، اُس پر پالان باندھا اور پھر ایک ماہ تک سفر کر کے شام آیا ، وہ صاحب سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ تھے ، میں نے دربان سے کہا: اُن سے کہو ! جابر دروازے پر موجود ہے ، دربان نے دریافت کیا : جو عبداللہ کے صاحبزادے ہیں ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو عبداللہ بن انیسں اپنے کپڑے کو پاؤں تلے دیتے ہوئے ( یعنی تیزی سے ) باہر آئے اور مجھ سے گلے ملے ، میں نے کہا: ایک حدیث کے بارے میں ، مجھے آپ کے حوالے سے یہ پتہ چلا ہے کہ آپ نے وہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ، وہ قصاص ( یعنی قیامت کے دن بدلہ دلوائے جانے ) کے بارے میں ہے ، تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ میرے اُس حدیث کو سننے سے پہلے کہیں آپ کا ، یا میرا انتقال نہ ہو جائے ، تو سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ لوگوں ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) بندوں کو برہنہ جسم ، ختنہ کے بغیر حالت میں ” بہم “ حالت میں اٹھائے گا ( راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے اپنے استاد سے پوچھا: لفظ ” بہم “ کا مطلب کیا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : وہ شخص جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو ) پھر اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کے ساتھ ایسی آواز میں خطاب کرے گا ، جسے دور کا شخص بھی اُسی طرح سن لے گا ، جس طرح پاس والا سن لے گا ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں دیان ( فیصلہ کرنے والا ) ہوں ، میں مالک ہوں ، اہل جہنم میں سے کسی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہو ، جبکہ اس نے کسی جنتی کا حق دینا ہو ، جب تک میں اُسے بدلہ نہیں دلوا دیتا ، اور اہل جنت میں سے ، کسی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جنت میں داخل ہو ، جبکہ اُس نے کسی جہنمی کا حق دینا ہو ، جب تک میں اُس کا فیصلہ نہیں کر دیتا ، خواہ وہ تھپڑ مارنے کا معاملہ ہی کیوں نہ ہو ، راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی ( قصاص یا بدلہ دیے جانے ) کا یہ معاملہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ جبکہ ہم ( جب میدان محشر میں ) آئیں گے ، تو برہنہ جسم ہوں گے ، ختنے کے بغیر ہوں گے ، اور کوئی چیز بھی پاس نہیں ہو گی ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ( قیامت کے دن ، بدلے کے طور پر ) نیکیوں اور برائیوں ( کا لین دین ہو گا ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں عبداللہ بن محمد نامی راوی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 561
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف بوجہ ضعف عبد اللہ بن محمد۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 495/3 أورده المؤلف فى زوائد المسند 209»
وَعَنْ مَكْحُولٍ أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ أَتَى مَسْلَمَةَ بْنَ مَخْلَدٍ ، وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَوَّابِ شَيْءٌ ، فَسَمِعَ صَوْتَهُ فَأَذِنَ لَهُ ، فَقَالَ : إِنِّي لَمْ آتِكَ زَائِرًا ، جِئْتُكَ لِحَاجَةٍ ، أَتَذْكُرُ يَوْمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عَلِمَ مِنْ أَخِيهِ سَيِّئَةً فَسَتَرَهَا سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : لِهَذَا جِئْتُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ هَكَذَا ، وَفِي الْأَوْسَطِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : خَرَجَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ - فَذَكَرَهُ مُخْتَصَرًا ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
مکحول بیان کرتے ہیں : سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ، سیدنا مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ کے گھر آئے ، تو اُن کے اور دربان کے درمیان تکرار ہو گئی ، سیدنا مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اُن کی آواز سنی ، تو انہیں اندر آنے کی اجازت دیدی ، سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے اُن سے کہا: میں آپ کے پاس آپ سے ملنے کے لئے نہیں آیا ہوں ، بلکہ میں ایک کام کے سلسلے میں آیا ہوں ، کیا آپ کو وہ دن یاد ہے ؟ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا : ” جو شخص اپنے بھائی کی کسی برائی سے واقف ہو اور پھر اس کی پردہ پوشی کرے ، تو قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ اُس شخص کی پردہ پوشی کرے گا“ ۔ سیدنا مسلمہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! تو سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں اسی لئے آیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ، اسی طرح نقل کی ہے ، جبکہ معجم اوسط میں یہ محمد بن سیرین سے منقول ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر انہوں نے اس روایت کو مختصر روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، معجم کبیر والی روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 562
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 104/4 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 1439/19 اخرجه الأمام الطبراني فى معجم الاوسط 5827»
وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُنِيبٍ ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ : بَلَغَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ] - أَنَّهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ سَتَرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فِي الدُّنْيَا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، وَرَحَلَ إِلَيْهِ وَهُوَ بِمِصْرَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْحَدِيثِ ، قَالَ : نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ سَتَرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فِي الدُّنْيَا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ : فَقَالَ : وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَمُنِيبٌ هَذَا إِنْ كَانَ ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
عبدالملک بن عمیر نے ، منیب کے حوالے سے ، اُن کے چچا کا یہ بیان نقل کیا ہے : صحابہ کرام میں سے ایک صاحب کو ایک اور صحابی کے بارے میں ، یہ بات پتہ چلی کہ وہ دوسرے صحابی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص دنیا میں اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے گا ، قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرے گا “ ۔ تو وہ صحابی ، اُس دوسرے صحابی کی طرف سفر کر کے گئے ، جو مصر میں رہتے تھے ، انہوں نے اُس صحابی سے اُس حدیث کے بارے میں دریافت کیا ؟ تو اُس دوسرے صحابی نے بتایا : جی ہاں ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص دنیا میں اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا “ ۔ تو اس صحابی نے ( یعنی جو سفر کر کے مدینہ منورہ سے مصر گئے تھے ، اُنہوں نے ) یہ بتایا : یہ بات میں نے بھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہوئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، منیب نامی اس راوی سے مراد ، اگر منیب بن عبداللہ ہے ، تو امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور مراد ہے ، تو پھر میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 563
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى زوائد المسند 210»
قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : وَرَكِبَ أَبُو أَيُّوبَ إِلَى عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ إِلَى مِصْرَ قَالَ : إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يَبْقَ مِمَّنْ حَضَرَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا أَنَا وَأَنْتَ ، كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي سَتْرِ الْمُسْلِمِ ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ سَتَرَ مُؤْمِنًا فِي الدُّنْيَا عَلَى عَوْرَةٍ سَتَرَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، فَرَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَمَا حَلَّ رَحْلَهُ حَتَّى تَحَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا مُنْقَطِعَ الْإِسْنَادِ . ¤
محمد محی الدین
ابن جریج بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سوار ہو کر ( یعنی مدینہ منورہ سے سفر کر کے ) سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لیے مصر گئے اور یہ کہا: میں آپ سے ایک ایسے معاملے کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو افراد موجود تھے ، اُن میں سے صرف میں اور آپ باقی رہ گئے ہیں ( میں یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں : مسلمان کی پردہ پوشی کے بارے میں ، آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ تو سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص دنیا میں کسی مؤمن کے پوشیدہ معاملے کی پردہ پوشی کرے گا ، قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ اُس شخص کی پردہ پوشی کرے گا “ ۔ تو سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ وہاں سے واپس مدینہ منورہ روانہ ہو گئے ، اُنہوں نے اپنا پالان تک نہیں کھولا ، جب تک سیدنا عقبہ نے انہیں یہ حدیث بیان نہیں کر دی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اسی طرح ” منقطع “ سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 564
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 159/4 اورده المؤلف فى زوائد المسند 211»
عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ قَالَ : سَمِعْتُ مَسْلَمَةَ بْنَ مَخْلَدٍ يَقُولُ : بَيْنَا أَنَا عَلَى مِصْرَ إِذْ أَتَى الْبَوَّابُ ، فَقَالَ : إِنَّ أَعْرَابِيًّا عَلَى الْبَابِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَأْذِنُ ، فَقُلْتُ : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ . قَالَ : فَأَشْرَفْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ : أَنْزِلُ إِلَيْكَ أَوْ تَصْعَدُ ؟ فَقَالَ : لَا تَنْزِلُ وَلَا أَصْعَدُ ، حَدِيثٌ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَرْوِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَتْرِ الْمُؤْمِنِ ، جِئْتُ أَسْمَعُهُ . قُلْتُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ سَتَرَ عَلَى مُؤْمِنٍ عَوْرَةً فَكَأَنَّمَا أَحْيَا مَوْءُودَةً " فَضَرَبَ بِعِيرَهُ رَاجِعًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو سِنَانٍ الْقَسْمَلِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ خِرَاشٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَالْبُخَارِيُّ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
رجاء بن حیوہ بیان کرتے ہیں : میں نے ، سیدنا مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : ” جب میں مصر کا گورنر تھا ، تو دربان میرے پاس آیا اور بولا: دروازے پر ایک دیہاتی اپنے اونٹ پر موجود ہے اور اندر آنے کی اجازت مانگ رہا ہے ، میں نے دریافت کیا تم کون ہو ؟ تو اُس نے بتایا : جابر بن عبداللہ انصاری ، سیدنا مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اوپر سے جھانک کر انہیں دیکھا اور دریافت کیا : میں نیچے آ جاؤں ؟ یا آپ اوپر آ رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : نہ تم نیچے آؤ نہ میں اوپر آؤں گا ، ایک حدیث کے بارے میں مجھے یہ اطلاع ملی ہے ، کہ تم اُسے اللہ کے رسول کے حوالے سے روایت کرتے ہو ، اور وہ حدیث مؤمن کی پردہ پوشی کے بارے میں ہے ، میں اُس کو سننے کے لیے آیا ہوں ( سیدنا مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) میں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جو شخص کسی مؤمن کے پوشیدہ معاملے کی پردہ پوشی کرتا ہے ، تو وہ گویا ایسی بچی کو زندگی دیتا ہے ، جسے زندہ دفن کیا جانا تھا “ ۔ تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے اپنے اونٹ کو مارا ، اور واپس روانہ ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوسنان قسملی ہے ، جسے ابن حبان نے اور ایک روایت کے مطابق ابن خراش نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام أحمد ، امام بخاری رحمہ اللہ اور یحیی بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 565
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 8103»
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ النَّاسُ مِنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ فَلَا يَجِدُونَ عَالِمًا أَعْلَمَ مِنْ عَالِمِ الْمَدِينَةِ - أَوْ عَالِمِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْأَكْثَرِينَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” لوگ علم کے حصول کے لیے ، مشرق و مغرب ( کے مختلف علاقوں ) سے نکلیں گے ، لیکن وہ کوئی ایسا علم نہیں پائیں گے جو مدینہ کے عالم ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اہل مدینہ کے عالم سے بڑا عالم ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، اور اکثر حضرات کے نزدیک وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 566
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف