کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ہر علم اس کے اہل ( یعنی ماہر فن ) سے حاصل کیا جائے
حدیث نمبر: 567
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ النَّاسَ بِالْجَابِيَةِ وَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ أَرَادَ أَنْ يَسْأَلَ عَنِ الْقُرْآنِ فَلْيَأْتِ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَسْأَلَ عَنِ الْفَرَائِضِ فَلْيَأْتِ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَسْأَلَ عَنِ الْفِقْهِ فَلْيَأْتِ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَسْأَلَ عَنِ الْمَالِ فَلْيَأْتِنِي ; فَإِنَّ اللَّهَ جَعَلَنِي لَهُ وَالِيًا وَقَاسِمًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ” جابیہ “ کے مقام پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! جو شخص قرآن کے بارے میں سوال کرنا چاہتا ہو ، وہ ابی بن کعب کے پاس جائے ، جو شخص وراثت کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہو ، وہ زید بن ثابت کے پاس جائے ، جو شخص فقہ کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہو ، وہ معاذ بن جبل کے پاس جائے ، جو شخص مال کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہو ، وہ میرے پاس آئے ، کیونکہ اللہ تعالی نے اس کے لیے مجھے ہی والی اور تقسیم کرنے والا بنایا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد بن حصین ہے ، میں نے کسی کو اُس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 567
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 3783»
حدیث نمبر: 568
وَعَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْجُمَحِيِّ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ السَّاعَةِ فَقَالَ : " مِنْ أَشْرَاطِهَا ثَلَاثٌ : إِحْدَاهُنَّ الْتِمَاسُ الْعِلْمِ عِنْدَ الْأَصَاغِرِ " . قَالَ مُوسَى : يُقَالُ : إِنَّ الْأَصَاغِرَ مِنْ أَهْلِ الْبِدَعِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامیہ جمحی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے بارے میں دریافت کیا : تو آپ نے ارشاد فرمایا : اُس کی تین نشانیاں ہیں ، اُن میں سے ایک یہ ہے : کہ چھوٹوں سے علم حاصل کیا جائے گا ۔ موئی نامی راوی بیان کرتے ہیں : یہ بات کہی جاتی ہے : یہاں چھوٹوں سے مراد ، بدعتی لوگ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جو ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 568
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 362/22 اخرجه الامام الطبراني فى معجم الأوسط 8140»
حدیث نمبر: 569
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَا يَزَالُ النَّاسُ صَالِحِينَ مُتَمَاسِكِينَ مَا أَتَاهُمُ الْعِلْمُ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمِنْ أَكَابِرِهِمْ ، فَإِذَا أَتَاهُمْ مِنْ أَصَاغِرِهِمْ هَلَكُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : لوگ اُس وقت تک نیک اور ( دین کی تعلیمات کو ) مضبوطی سے تھامے رکھیں گے ، جب تک اُن کے پاس سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اور اُن لوگوں کے اکابرین کی طرف سے علم آئے گا ، اور جب ان کے پاس علم ، تم لوگوں کے چھوٹوں کی طرف سے آئے گا ، تو وہ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 569
درجۂ حدیث محدثین: إسناده اس
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 19 8591 ، 8590 ، 8589 ، 8592 اخرجه الأمام الطبراني فى معجمه الاوسط 7590»