مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ الرِّحْلَةِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ . باب: علم کے حصول کے لئے سفر کرنا
قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : وَرَكِبَ أَبُو أَيُّوبَ إِلَى عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ إِلَى مِصْرَ قَالَ : إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يَبْقَ مِمَّنْ حَضَرَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا أَنَا وَأَنْتَ ، كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي سَتْرِ الْمُسْلِمِ ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ سَتَرَ مُؤْمِنًا فِي الدُّنْيَا عَلَى عَوْرَةٍ سَتَرَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، فَرَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَمَا حَلَّ رَحْلَهُ حَتَّى تَحَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا مُنْقَطِعَ الْإِسْنَادِ . ¤ابن جریج بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سوار ہو کر ( یعنی مدینہ منورہ سے سفر کر کے ) سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لیے مصر گئے اور یہ کہا: میں آپ سے ایک ایسے معاملے کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو افراد موجود تھے ، اُن میں سے صرف میں اور آپ باقی رہ گئے ہیں ( میں یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں : مسلمان کی پردہ پوشی کے بارے میں ، آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ تو سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص دنیا میں کسی مؤمن کے پوشیدہ معاملے کی پردہ پوشی کرے گا ، قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ اُس شخص کی پردہ پوشی کرے گا “ ۔ تو سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ وہاں سے واپس مدینہ منورہ روانہ ہو گئے ، اُنہوں نے اپنا پالان تک نہیں کھولا ، جب تک سیدنا عقبہ نے انہیں یہ حدیث بیان نہیں کر دی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اسی طرح ” منقطع “ سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔