مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ الرِّحْلَةِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ . باب: علم کے حصول کے لئے سفر کرنا
وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُنِيبٍ ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ : بَلَغَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ] - أَنَّهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ سَتَرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فِي الدُّنْيَا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، وَرَحَلَ إِلَيْهِ وَهُوَ بِمِصْرَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْحَدِيثِ ، قَالَ : نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ سَتَرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فِي الدُّنْيَا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ : فَقَالَ : وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَمُنِيبٌ هَذَا إِنْ كَانَ ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤عبدالملک بن عمیر نے ، منیب کے حوالے سے ، اُن کے چچا کا یہ بیان نقل کیا ہے : صحابہ کرام میں سے ایک صاحب کو ایک اور صحابی کے بارے میں ، یہ بات پتہ چلی کہ وہ دوسرے صحابی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص دنیا میں اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے گا ، قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرے گا “ ۔ تو وہ صحابی ، اُس دوسرے صحابی کی طرف سفر کر کے گئے ، جو مصر میں رہتے تھے ، انہوں نے اُس صحابی سے اُس حدیث کے بارے میں دریافت کیا ؟ تو اُس دوسرے صحابی نے بتایا : جی ہاں ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص دنیا میں اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا “ ۔ تو اس صحابی نے ( یعنی جو سفر کر کے مدینہ منورہ سے مصر گئے تھے ، اُنہوں نے ) یہ بتایا : یہ بات میں نے بھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہوئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، منیب نامی اس راوی سے مراد ، اگر منیب بن عبداللہ ہے ، تو امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور مراد ہے ، تو پھر میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔