حدیث نمبر: 562
وَعَنْ مَكْحُولٍ أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ أَتَى مَسْلَمَةَ بْنَ مَخْلَدٍ ، وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَوَّابِ شَيْءٌ ، فَسَمِعَ صَوْتَهُ فَأَذِنَ لَهُ ، فَقَالَ : إِنِّي لَمْ آتِكَ زَائِرًا ، جِئْتُكَ لِحَاجَةٍ ، أَتَذْكُرُ يَوْمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عَلِمَ مِنْ أَخِيهِ سَيِّئَةً فَسَتَرَهَا سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : لِهَذَا جِئْتُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ هَكَذَا ، وَفِي الْأَوْسَطِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : خَرَجَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ - فَذَكَرَهُ مُخْتَصَرًا ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

مکحول بیان کرتے ہیں : سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ، سیدنا مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ کے گھر آئے ، تو اُن کے اور دربان کے درمیان تکرار ہو گئی ، سیدنا مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اُن کی آواز سنی ، تو انہیں اندر آنے کی اجازت دیدی ، سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے اُن سے کہا: میں آپ کے پاس آپ سے ملنے کے لئے نہیں آیا ہوں ، بلکہ میں ایک کام کے سلسلے میں آیا ہوں ، کیا آپ کو وہ دن یاد ہے ؟ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا : ” جو شخص اپنے بھائی کی کسی برائی سے واقف ہو اور پھر اس کی پردہ پوشی کرے ، تو قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ اُس شخص کی پردہ پوشی کرے گا“ ۔ سیدنا مسلمہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! تو سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں اسی لئے آیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ، اسی طرح نقل کی ہے ، جبکہ معجم اوسط میں یہ محمد بن سیرین سے منقول ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر انہوں نے اس روایت کو مختصر روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، معجم کبیر والی روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 562
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 104/4 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 1439/19 اخرجه الأمام الطبراني فى معجم الاوسط 5827»