مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ الرِّحْلَةِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ . باب: علم کے حصول کے لئے سفر کرنا
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : بَلَغَنِي عَنْ رَجُلٍ حَدِيثٌ سَمِعَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاشْتَرَيْتُ بَعِيرًا ، ثُمَّ شَدَدْتُ رَحْلِي ، فَسِرْتُ إِلَيْهِ شَهْرًا حَتَّى قَدِمْتُ الشَّامَ ، فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَنِيسٍ ، فَقُلْتُ لِلْبَوَّابِ : قُلْ لَهُ جَابِرٌ عَلَى الْبَابِ ، فَقَالَ : ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، فَخَرَجَ يَطَأُ ثَوْبَهُ ، فَاعْتَنَقَنِي وَاعْتَنَقْتُهُ ، فَقُلْتُ : حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْقِصَاصِ فَخَشِيتَ أَنْ تَمُوتَ أَوْ أَمُوتَ قَبْلَ أَنْ أَسْمَعَهُ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَحْشُرُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ - أَوْ قَالَ : الْعِبَادَ - عُرَاةً ، غُرْلًا ، بُهْمًا " قَالَ : قُلْنَا : وَمَا بُهْمًا ؟ قَالَ : " لَيْسَ مَعَهُمْ شَيْءٌ . ثُمَّ يُنَادِيهِمْ بِصَوْتٍ يَسْمَعُهُ مَنْ بَعُدَ كَمَا يَسْمَعُهُ مَنْ قَرُبَ : أَنَا الدَّيَّانُ ، أَنَا الْمَالِكُ ، لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ أَنْ يَدْخُلَ النَّارَ وَلَهُ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَقٌّ حَتَّى أَقْضِيَهُ مِنْهُ ، وَلَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ وَلِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ عِنْدَهُ حَقٌّ حَتَّى أَقْضِيَهُ مِنْهُ ، حَتَّى اللَّطْمَةُ " . قَالَ : قُلْنَا : كَيْفَ هَذَا وَإِنَّمَا نَأْتِي عُرَاةً غُرْلًا بُهْمًا ؟ قَالَ : " الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ضَعِيفٌ . ¤عبدالله بن محمد بن عقیل بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : ایک صاحب کے بارے میں ، مجھے یہ اطلاع ملی کہ انہوں نے ایک حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ہے ، میں نے ایک اونٹ خریدا ، اُس پر پالان باندھا اور پھر ایک ماہ تک سفر کر کے شام آیا ، وہ صاحب سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ تھے ، میں نے دربان سے کہا: اُن سے کہو ! جابر دروازے پر موجود ہے ، دربان نے دریافت کیا : جو عبداللہ کے صاحبزادے ہیں ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو عبداللہ بن انیسں اپنے کپڑے کو پاؤں تلے دیتے ہوئے ( یعنی تیزی سے ) باہر آئے اور مجھ سے گلے ملے ، میں نے کہا: ایک حدیث کے بارے میں ، مجھے آپ کے حوالے سے یہ پتہ چلا ہے کہ آپ نے وہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ، وہ قصاص ( یعنی قیامت کے دن بدلہ دلوائے جانے ) کے بارے میں ہے ، تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ میرے اُس حدیث کو سننے سے پہلے کہیں آپ کا ، یا میرا انتقال نہ ہو جائے ، تو سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ لوگوں ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) بندوں کو برہنہ جسم ، ختنہ کے بغیر حالت میں ” بہم “ حالت میں اٹھائے گا ( راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے اپنے استاد سے پوچھا: لفظ ” بہم “ کا مطلب کیا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : وہ شخص جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو ) پھر اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کے ساتھ ایسی آواز میں خطاب کرے گا ، جسے دور کا شخص بھی اُسی طرح سن لے گا ، جس طرح پاس والا سن لے گا ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں دیان ( فیصلہ کرنے والا ) ہوں ، میں مالک ہوں ، اہل جہنم میں سے کسی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہو ، جبکہ اس نے کسی جنتی کا حق دینا ہو ، جب تک میں اُسے بدلہ نہیں دلوا دیتا ، اور اہل جنت میں سے ، کسی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جنت میں داخل ہو ، جبکہ اُس نے کسی جہنمی کا حق دینا ہو ، جب تک میں اُس کا فیصلہ نہیں کر دیتا ، خواہ وہ تھپڑ مارنے کا معاملہ ہی کیوں نہ ہو ، راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی ( قصاص یا بدلہ دیے جانے ) کا یہ معاملہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ جبکہ ہم ( جب میدان محشر میں ) آئیں گے ، تو برہنہ جسم ہوں گے ، ختنے کے بغیر ہوں گے ، اور کوئی چیز بھی پاس نہیں ہو گی ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ( قیامت کے دن ، بدلے کے طور پر ) نیکیوں اور برائیوں ( کا لین دین ہو گا ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں عبداللہ بن محمد نامی راوی ضعیف ہے ۔