عَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : أَحَبُّ مَا يَعْبُدُنِي بِهِ عَبْدِي إِلَيَّ النُّصْحُ لِي . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرا بندہ جن طریقوں سے میری عبادت کرتا ہے ، اُن میں میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ چیز یہ ہے کہ میری خیرخواہی کی جائے ( یعنی کسی کو میرا شریک قرار نہ دیا جائے ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : کہ اسے عبیداللہ بن زحر نے علی بن یزید کے حوالے سے نقل کیا ہے اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : کہ اسے عبیداللہ بن زحر نے علی بن یزید کے حوالے سے نقل کیا ہے اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الدِّينُ النَّصِيحَةُ " . قَالُوا : لِمَنْ ؟ قَالَ : " لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُؤْمِنِينَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَقَالَ : " وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ " . ¤ قَالَ أَحْمَدُ : عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَمُقْتَضَى رِوَايَةِ أَحْمَدَ الِانْقِطَاعُ بَيْنَ عَمْرٍو وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَمَعَ ذَلِكَ فِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ وَقَدْ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ ، وَقَالَ : أَحَادِيثُهُ مَنَاكِيرُ . وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَلَفْظُ أَبِي يَعْلَى : قَالُوا : لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لِكِتَابِ اللَّهِ وَلِنَبِيِّهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” دین ، خیرخواہی کا نام ہے ، لوگوں نے دریافت کیا : کس کی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کی ، اُس کے رسول کی ، اور اہل ایمان کے حکمرانوں کی “ ۔ یہ روایت امام أحمد ، امام بزار نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” مسلمانوں کے حکمرانوں اور ان کے عام افراد کی “ ۔
امام أحمد نے اس کی سند میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : عمرو بن دینار سے یہ منقول ہے : وہ کہتے ہیں : مجھے اُس شخص نے یہ بات بیان کی ہے : جس نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، جبکہ امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں ، یہ روایت عمرو بن دینار کے حوالے سے ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے ، امام أحمد کی روایت کا تقاضا یہ ہے کہ عمرو بن دینار اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے درمیان انقطاع پایا جاتا ہے ، اس کے ہمراہ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان ہے ، اُسے امام أحمد نے ضعیف قرار دیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : اس کی نقل کی ہوئی روایات منکر ہوتی ہیں ،
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام ابویعلیٰ کے نقل کردہ الفاظ یہ ہیں : ” لوگوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کس کی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی کتاب کی ، اُس کے نبی کی ، اور مسلمانوں کے حکمرانوں کی “ ۔
امام أحمد نے اس کی سند میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : عمرو بن دینار سے یہ منقول ہے : وہ کہتے ہیں : مجھے اُس شخص نے یہ بات بیان کی ہے : جس نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، جبکہ امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں ، یہ روایت عمرو بن دینار کے حوالے سے ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے ، امام أحمد کی روایت کا تقاضا یہ ہے کہ عمرو بن دینار اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے درمیان انقطاع پایا جاتا ہے ، اس کے ہمراہ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان ہے ، اُسے امام أحمد نے ضعیف قرار دیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : اس کی نقل کی ہوئی روایات منکر ہوتی ہیں ،
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام ابویعلیٰ کے نقل کردہ الفاظ یہ ہیں : ” لوگوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کس کی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی کتاب کی ، اُس کے نبی کی ، اور مسلمانوں کے حکمرانوں کی “ ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَرَنِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِالنُّصْحِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جبرائیل نے مجھے خیرخواہی کی ہدایت کی تھی “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن علی ہاشمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن علی ہاشمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الدِّينُ النَّصِيحَةُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” دین ، خیرخواہی ( کا نام ) ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ ثَوْبَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " رَأْسُ الدِّينِ النَّصِيحَةُ " . قَالُوا : لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَلِدِينِهِ ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ ، وَلِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” دین کا سر ( یعنی بنیادی تعلیم ) خیرخواہی ہے ، لوگوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کس کی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کی ، اُس کے دین کی ، مسلمان حکمرانوں کی اور مسلمانوں کے عام افراد کی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن سوید ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن سوید ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا ۔
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَا يَهْتَمُّ بِأَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَلَيْسَ مِنْهُمْ ، وَمَنْ لَمْ يُصْبِحْ وَيُمْسِي نَاصِحًا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِإِمَامِهِ وَلِعَامَّةِ الْمُسْلِمِينَ ; فَلَيْسَ مِنْهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، ضَعَّفَهُ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَأَبُو زُرْعَةَ وَابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص مسلمانوں کے معاملے کا اہتمام ( یعنی اس کی صحیح دیکھ بھال ) نہیں کرتا ، وہ ان میں سے نہیں ہے ، اور جو شخص ایسے عالم میں صبح یا شام نہیں کرتا کہ وہ اللہ تعالیٰ اس کے رسول ، اُس کی کتاب ، اُس کے مقرر کردہ حکمران ، اور عام مسلمان افراد کا خیرخواہ ہو ، تو وہ بھی اُن میں شمار نہیں ہو گا “ ،
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ابوجعفر رازی ہے ، جسے محمد بن حمید نے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ ابوحاتم ، ابوزرعہ اور ابن حبان نے اس کی توثیق کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ابوجعفر رازی ہے ، جسے محمد بن حمید نے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ ابوحاتم ، ابوزرعہ اور ابن حبان نے اس کی توثیق کی ہے ۔
وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ رَجَعْتُ ، فَدَعَانِي فَقَالَ : " لَا أَقْبَلُ مِنْكَ حَتَّى تُبَايِعَ عَلَى النُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ " فَبَايَعْتُهُ . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی ، جب میں واپس مڑ گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا اور ارشاد فرمایا : میں ( اس بیعت کو ) تمہاری طرف سے ، اُس وقت تک قبول نہیں کروں گا ، جب تک تم ہر مسلمان کے لیے خیرخواہی کی بیعت نہیں کرتے ، راوی بیان کرتے ہیں : تو میں نے اس بات پر بھی آپ کی بیعت کر لی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے ( یعنی سیدنا جریر رضی اللہ عنہ ) کے حوالے سے ” صحیح “ میں حدیث منقول ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے ( یعنی سیدنا جریر رضی اللہ عنہ ) کے حوالے سے ” صحیح “ میں حدیث منقول ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔