حدیث نمبر: 296
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ نَفْسِهِ ، وَأَهْلِي أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ ، وَعِتْرَتِي أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ عِتْرَتِهِ ، وَذَاتِي أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ ذَاتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ لَا يُحْتَجُّ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمان بن ابولیلی ، اپنے والد کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” آدمی اس وقت تک مؤمن نہیں ہوتا ، جب تک میں اس کے نزدیک ، اس کی اپنی ذات سے زیادہ محبوب نہیں ہو جاتا ، اور میرے اہل بیت اُس کے نزدیک ، اس کے اپنے اہل خانہ سے زیادہ محبوب نہیں ہو جاتے ، اور میری عترت ، اُس کے نزدیک اس کی اپنی اولاد سے زیادہ محبوب نہیں ہو جاتی ، اور میری ذات اُس کے نزدیک ، اس کی اپنی ذات سے زیادہ محبوب نہیں ہو جاتی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اُس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابولیلی ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، اُس سے استدلال نہیں کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اُس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابولیلی ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، اُس سے استدلال نہیں کیا جائے گا ۔
حدیث نمبر: 297
وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُؤْمِنُ الرَّجُلُ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” کوئی شخص اُس وقت تک مؤمن نہیں ہوتا ، جب تک میں ، اُس کے نزدیک ، اس کی اولاد ، اُس کے ماں باپ اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہیں ہو جاتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 298
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : أَتَى الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَتَيْتُ قَوْمًا يَتَحَدَّثُونَ ، فَلَمَّا رَأَوْنِي سَكَتُوا ، وَمَا ذَاكَ إِلَّا أَنَّهُمُ اسْتَثْقَلُونِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقَدْ فَعَلُوهَا ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا يُؤْمِنُ أَحَدُهُمْ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِحُبِّي ، أَتَرْجُونَ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِي وَلَا يَرْجُوهَا بَنُو عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ أَصْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : یا رسول اللہ ! میں کچھ لوگوں کے پاس آیا ، جو آپس میں بات چیت کر رہے تھے ، جب انہوں نے مجھے دیکھا ، تو وہ خاموش ہو گئے ، ایسا صرف اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے مجھے بوجھ محسوس کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا انہوں نے ایسا کیا ہے ؟ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اُن میں سے کوئی ایک ، اُس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا ، جب تک وہ مجھ سے محبت رکھنے کی وجہ سے آپ لوگوں سے محبت نہیں رکھتا ( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا : ) کیا تم لوگ یہ امید رکھتے ہو کہ میری شفاعت کی وجہ سے تم لوگ جنت میں داخل ہو جاؤ گے اور بنوعبدالمطلب کو اُس کی امید نہیں ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی اصرم بن حوشب ہے ، اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی اصرم بن حوشب ہے ، اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 299
وَعَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَادِقًا غَيْرَ كَاذِبٍ ، وَلَقِيَ الْمُؤْمِنِينَ فَأَحَبَّهُمْ ، وَكَانَ أَمْرُ الْجَاهِلِيَّةِ عِنْدَهُ كَمَنْزِلَةِ نَارٍ أُلْقِيَ فِيهَا - فَقَدْ طَعِمَ طَعْمَ الْإِيمَانِ " . أَوْ قَالَ : " فَقَدْ بَلَغَ ذُرْوَةَ الْإِيمَانِ " . الشَّكُّ مِنْ صَفْوَانَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ شُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ ، اخْتُلِفَ فِي سَمَاعِهِ مِنَ الصَّحَابَةِ لِتَدْلِيسِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص جھوٹا ہوئے بغیر ، سچا ہونے کے طور پر ، اللہ اور رسول سے محبت کرتا ہے ، اور جب وہ اہل ایمان سے ملتا ہے ، تو ان سے بھی محبت کرتا ہے اور زمانہ جاہلیت کا معاملہ اس کے نزدیک آگ میں ڈالے جانے کی مانند ہو ، تو اس شخص نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا“ ۔
راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ” وہ ایمان کی چوٹی تک پہنچ جاتا ہے “ یہ شک صفوان نامی راوی کو ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اُس کی سند میں ایک راوی شریح بن عبید ہے ، وہ ثقہ ہے ، اور تدلیس کرنے والا ہے ، اور اس کی تدلیس کے وجہ سے ، اُس کے صحابہ کرام سے سماع کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ” وہ ایمان کی چوٹی تک پہنچ جاتا ہے “ یہ شک صفوان نامی راوی کو ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اُس کی سند میں ایک راوی شریح بن عبید ہے ، وہ ثقہ ہے ، اور تدلیس کرنے والا ہے ، اور اس کی تدلیس کے وجہ سے ، اُس کے صحابہ کرام سے سماع کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔