عَنْ أَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ عَمِلَ حَسَنَةً فَسُرَّ بِهَا ، وَعَمِلَ سَيِّئَةً فَسَاءَتْهُ ; فَهُوَ مُؤْمِنٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ مَا خَلَا الْمُطَّلِبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَإِنَّهُ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ يُدَلِّسُ ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي مُوسَى ، فَهُوَ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص کوئی نیکی کرے اور پھر اس پر خوش ہو ، یا کوئی برائی کرے ، اور وہ اُسے بری لگے ، تو وہ مومن ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف مطلب بن عبداللہ کا معاملہ مختلف ہے ، وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرتا ہے ، اور اُس نے سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہوا ، تو یہ روایت منقطع ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف مطلب بن عبداللہ کا معاملہ مختلف ہے ، وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرتا ہے ، اور اُس نے سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہوا ، تو یہ روایت منقطع ہے ۔
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْإِيمَانُ ؟ قَالَ : " إِذَا سَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ ، وَسَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ ; فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایمان سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تمہاری اچھائی ، تمہیں اچھی لگے ، اور تمہاری برائی ، تمہیں بری لگے ، تو تم مؤمن ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : مَا الْإِثْمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مَا حَكَّ فِي صَدْرِكَ فَدَعْهُ " . قَالَ : فَمَا الْإِيمَانُ ؟ قَالَ : " مَنْ سَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ ، وَسَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ ; فَهُوَ مُؤْمِنٌ " . ¤ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ وَإِنْ كَانَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
انہی کے حوالے سے معجم اوسط میں یہ روایت میں منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ایک صاحب نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! گناہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو چیز تمہارے من میں کھٹکے ، تم اُسے چھوڑ دو ! اُس شخص نے دریافت کیا : ایمان کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص کو اُس کی برائی بری لگے ، اور اچھائی اچھی لگے ، وہ مؤمن ہو گا ۔
اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن ابوکثیر ہے ، وہ تدلیس کرتا ہے ، اگرچہ وہ صحیح کے رجال میں سے ہے ۔
اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن ابوکثیر ہے ، وہ تدلیس کرتا ہے ، اگرچہ وہ صحیح کے رجال میں سے ہے ۔
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ هَالِكٌ فِي الضَّعْفِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جس شخص کو اس کی برائی بری لگے ، وہ مؤمن ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، جو ضعیف ہونے کے حوالے سے ہلاکت کا شکار ہونے والا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، جو ضعیف ہونے کے حوالے سے ہلاکت کا شکار ہونے والا ہے ۔