مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي النَّصِيحَةِ . باب: خیر خواہی کا بیان
حدیث نمبر: 293
وَعَنْ ثَوْبَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " رَأْسُ الدِّينِ النَّصِيحَةُ " . قَالُوا : لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَلِدِينِهِ ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ ، وَلِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” دین کا سر ( یعنی بنیادی تعلیم ) خیرخواہی ہے ، لوگوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کس کی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کی ، اُس کے دین کی ، مسلمان حکمرانوں کی اور مسلمانوں کے عام افراد کی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن سوید ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا ۔