تنگ دست مسلمانوں کی ضروریات پوری کرنے کے فضائل
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿إِن تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ ۖ وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَيُكَفِّرُ عَنكُم مِّن سَيِّئَاتِكُمْ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ﴾
”اگر تم صدقے خیرات کو ظاہر کرو تو وہ بھی اچھا ہے، اور اگر تم اسے پوشیدہ مسکینوں کو دے دو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اللہ تمہارے گناہوں کو مٹا دے گا، اور اللہ تمہارے تمام اعمال کی خبر رکھنے والا ہے۔“
(2-البقرة:271)
﴿وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِن قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِّمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ۚ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾
”اور (وہ مال) ان لوگوں کے لیے ہے، جو مہاجرینِ مکہ کی آمد سے پہلے ہی مدینہ میں مقیم تھے، اور ایمان لا چکے تھے، وہ لوگ مہاجرین سے محبت کرتے ہیں، اور ان مہاجرین کو جو مالِ غنیمت دیا گیا ہے، اس کے لیے وہ اپنے دلوں میں تنگی اور حسد محسوس نہیں کرتے ہیں، اور انہیں اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ وہ خود تنگی میں ہوں، اور جو لوگ اپنے نفس کی تنگی اور بخل سے بچا لیے جائیں، وہی کامیاب ہونے والے ہیں۔“
(59-الحشر:9)
ڈاکٹر لقمان سلفی حفظہ اللہ رقمطراز ہیں:
”اللہ تعالیٰ نے ان کے دینی بھائیوں، یعنی انصار کو کیا خوب ہی بنایا تھا۔ اور ایثار و قربانی کے جذبہ سے ایسا نوازا تھا کہ اس نے اس آیت کریمہ میں ان کے لیے ایمانِ صادق، اپنے مہاجر بھائیوں سے سچی محبت اور جذبہ ایثار و قربانی کی گواہی دی، اور فرمایا: کہ جو مؤمنین دار الہجرت (مدینہ) میں پہلے سے آباد ہیں، اور مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی ایمان و ایقان کی شمع ان کے دلوں میں روشن ہو چکی ہے، وہ تو اپنے مہاجر بھائیوں سے بڑی محبت کرتے ہیں، اور چاہے مہاجرین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے جو کچھ بھی دے دیا جائے وہ لوگ اپنے دل میں ذرا بھی تنگی محسوس نہیں کرتے ہیں۔ اور اپنے گھروں میں حاجت اور فاقہ کشی ہونے کے باوجود ہمیشہ یہی چاہتے ہیں کہ ان کے مہاجر بھائی آرام سے رہیں، اور ان کے بال بچوں کو تکلیف نہ پہنچے۔ اور ان کے انہی صفاتِ عالیہ اور اخلاقِ فاضلہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آیت کے آخر میں فرمایا کہ ان کے دلوں سے مال کی غیر شرعی محبت نکال دی گئی ہے، یہ لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے ذرا بھی نہیں کتراتے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا کہ وہ انہیں دونوں جہانوں میں سعادت و نیک بختی سے نوازے گا۔“ (تیسیر الرحمن: 1565/2)
عن ابن عمر رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: المسلم أخو المسلم لا يظلمه، ولا يسلمه – من كان فى حاجة أخيه، كان الله فى حاجته، ومن فرج عن مسلم كربة فرج الله عنه بها كربة من كرب يوم القيامة، ومن ستر مسلما ستره الله يوم القيامة
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ اس کی مدد چھوڑتا ہے، جو اپنے (مسلمان) بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہو، اللہ اس کی حاجت پوری فرمانے میں لگا ہوتا ہے۔ اور جو کسی مسلمان کی پریشانی دور کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کی قیامت کی پریشانیوں میں سے کوئی بڑی پریشانی دور فرما دے گا اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی، اللہ تعالیٰ قیامت والے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔“
صحيح البخاري، كتاب المظالم، باب لا يظلم المسلم المسلم ولا يسلمه، رقم: 2442۔ صحيح مسلم، کتاب البر والصلة، باب تحريم الظلم، رقم: 2580۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:
لقد رأيت رجلا يتقلب فى الجنة، فى شجرة قطعها من ظهر الطريق، كانت تؤذي الناس
”میں نے ایک شخص کو دیکھا، وہ جنت میں بڑے مزے سے گھوم پھر رہا تھا، اس کی نیکی یہ تھی کہ اس نے راہ گیروں کے لیے تکلیف کا باعث، راستے میں کھڑا ایک درخت کاٹ کر دور کیا تھا۔“
صحيح مسلم، کتاب البر والصلة، باب فضل ازالة الأذى عن الطريق، رقم: 1914۔
مندرجہ بالا حدیثِ پاک میں ایک شخص نے لوگوں کی ایک تکلیف کو دور کیا جس کی وجہ سے جنت میں اللہ کی رضا مل گئی، مگر ہمارے ہاں تو اُلٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ ہم لوگوں کو مشکلات میں پھنسا کر فخر محسوس کرتے ہیں، اور جتنی دیر تک کسی کو تکلیف میں نہ ڈال لیں، اور تکلیفوں میں گھرے ہوئے لوگوں پر خوشی محسوس نہ کر لیں چین نہیں آتا۔ یہ بہت بڑے بڑے گناہوں میں سے ایک گناہ ہے۔ اللہ ہمیں اس سے محفوظ فرمائے۔ آمین!
؎ حقیقت خرافات میں کھو گئی
امت روایات میں کھو گئی
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
من نفس عن مؤمن كربة من كرب الدنيا نفس الله عنه كربة من كرب يوم القيامة، ومن يسر على معسر يسر الله عليه فى الدنيا والآخرة، ومن ستر مسلما ستره الله فى الدنيا والآخرة، والله فى عون العبد ما كان العبد فى عون أخيه
”جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیوی مشکلات میں سے ایک مشکل آسان کی، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی مشکلات میں سے ایک مشکل دور فرما دے گا، اور جس شخص نے کسی تنگ دست پر آسانی کی، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس پر آسانی فرمائے گا اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ جب تک کوئی آدمی اپنے بھائی کی مدد کر رہا ہوتا ہے تب تک اللہ تعالیٰ اس کی مدد کر رہا ہوتا ہے۔“
صحيح مسلم، کتاب الذكر والدعاء، باب فضل الاجتماع على تلاوة القرآن وعلى الذكر، رقم: 2699۔
سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”جس کسی مسلمان نے اپنے مصیبت زدہ بھائی کو تسلی دی، تو اللہ تعالیٰ اسے روزِ قیامت عزت کا لباس پہنائے گا۔“
سنن ابن ماجه، كتاب الجنائز، باب ما جاء في ثواب من عزى مصاباً، رقم: 1601۔ سلسلة الصحيحة، رقم: 195۔
نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ؛
إن أول الناس يستظل فى ظل الله يوم القيامة لرجل أنظر معسرا حتى يجد شيئا، أو تصدق عليه بما يطلبه يقول: مالي عليك صدقة، ابتغاء وجه الله، ويحرق صحيفته
”سب سے پہلے جو شخص روزِ قیامت عرشِ الہیٰ تلے جاگزیں ہوگا، وہ آدمی ہے جو تنگ دست کو کوئی چیز ہاتھ لگنے تک مہلت دے دے، یا وہ اتنا قرض اس پر صدقہ کر دے جتنے کا وہ آرزومند ہے اور کہہ دے: جو مال میں نے تجھ سے لینا ہے وہ اللہ کی رضا کی خاطر تجھ پر صدقہ کرتا ہوں اور یہ کہہ کر قرض نامہ پھاڑ دے۔“
المعجم الكبير للطبراني: 167/19۔ مجمع الزوائد: 134/4۔ قال الهيثمي: واسناده حسن.
تنگ دست کے ساتھ نیکی صرف خالص اللہ کی رضا کے لیے کی جائے تو جس دن لوگ نفسی نفسی کر رہے ہوں گے، یہ شخص اللہ کے عرش کے سایہ کے نیچے ہوگا۔