ایک اعتراض کا جواب
ایک مشہور روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أربع لا تجوز فى الأضاحي العوراء بين عورها والمريضة بين مرضها والعرجاء بين ظلعها والكسير التى لا تنقي
(سنن ابی داود: 2809، حدیث کے ترجمہ کے لیے دیکھئے یہی کتاب ص 117)
عصر حاضر کے ایک معترض نے اس روایت کو اسنادہ ضعیف قرار دیا۔ دیکھئے ان کا مضمون: ”خصی جانور کی قربانی سنت نہیں“ (ص 4)۔ یہی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ: ”اس حدیث کی تضعیف پر امام علل و رجال علی بن عبداللہ المدینی اور امام المحدثین امام بخاری اور دیگر محدثین کے اقوال کو راقم اپنی نئی کتاب ’خصی جانور کی قربانی سنت نہیں‘ میں تفصیلی دلائل کے ساتھ ذکر کروں گا، ان شاء اللہ۔ لہٰذا اب یہ حدیث اصول حدیث و محدثین ضعیف ہے۔“
الجواب:
معترض مذکور کے مزعوم تفصیلی دلائل کا جواب بشرط صحت و فرصت ان کی کتاب شائع ہونے پر ہی دیا جائے گا، ان شاء اللہ۔ مختصراً عرض ہے کہ اس روایت کو درج ذیل ائمہ محدثین نے صحیح قرار دیا ہے:
1: امام ابن خزیمہ (2912)
2: امام ترمذی (1572) وقال: هذا حديث حسن
3: امام ابن الجارود (975، 529)
4: امام ابن حبان (5922)
5: امام حاکم (المستدرک: 1/ 468 ح 1718) وقال: هذا حديث صحيح ووافقه الامام الذهبي.
6: امام بغوی (شرح السنہ: 4/ 340 ح 1128) وقال: هذا حديث صحيح
7: امام نووی (شرح صحیح مسلم: 13/ 120) وقال: ”صحيح“.
8: امام ابن الملقن (البدر المنیر: 9/ 286) وقال: هذا الحديث صحيح وهو حديث عظيم
سردست اتنا ہی کافی ہے، ان کے علاوہ مزید ائمہ محدثین کی تصحیح بھی تلاش کی جا سکتی ہے۔ اس حدیث کے بارے میں امام علی بن المدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سلیمان بن عبد الرحمن الدمشقی کا عبید بن فیروز سے سماع نہیں ہے۔
(دیکھئے السنن الکبری للبیہقی: 9/ 284)
اس حدیث کی علت کو درج ذیل نقاط میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
1: امام شعبہ بن الحجاج رحمہ اللہ اور امام لیث بن سعد رحمہ اللہ کا اختلاف۔
2: امام لیث بن سعد رحمہ اللہ کے تلامذہ کا اختلاف۔
اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
امام شعبہ بن الحجاج رحمہ اللہ اور امام لیث بن سعد رحمہ اللہ کا اختلاف:
امام شعبہ بن الحجاج رحمہ اللہ اس کی سند بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
سمعت سليمان بن عبد الرحمن قال سمعت عبيد بن فيروز قال قلت للبراء بن عازب
(سنن ابن ماجہ: 3144 وسندہ صحیح، مسند احمد: 4/ 284 ح 18510، مسند علی بن الجعد: 873 مسند ابوداود الطیالسی: 311/2 ح 785، وغیره )
اس صحیح سند سے بالکل عیاں ہے کہ سلیمان بن عبد الرحمن نے یہ روایت عبید بن فیروز سے سنی ہے۔ جب امام لیث بن سعد رحمہ اللہ اسے بیان کرتے ہیں تو امام شعبہ رحمہ اللہ کے برعکس سلیمان بن عبدالرحمن اور عبید بن فیروز کے درمیان قاسم ابو عبدالرحمن کا واسطہ ذکر کرتے ہیں۔
لیث بن سعد رحمہ اللہ کے تلامذہ کا اختلاف:
امام لیث رحمہ اللہ کے تلامذہ میں سے ایک شاگرد عثمان بن عمر جب امام لیث رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں تو سلیمان بن عبدالرحمن اور عبید بن فیروز کے درمیان قاسم کا واسطہ ذکر کرتے ہیں۔ اس واسطے کی تخریج کے لیے درج ذیل کتب دیکھئے:
امام رویانی رحمہ اللہ اس کی سند بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
نا محمد بن بشار نا عثمان بن عمر نا الليث عن سليمان بن عبد الرحمن عن القاسم مولى يزيد بن معاوية عن عبيد بن فيروز عن البراء
(مسند الرویانی: 1/ 272 ح 204، التاریخ الکبیر للبخاری: 1/ 6 ت 1383، السنن الکبری للبیہقی: 9/ 274 وغیره )
اور امام لیث بن سعد رحمہ اللہ کے تین شاگرد عبد اللہ بن وہب المصری رحمہ اللہ، ابوالولید الطیالسی رحمہ اللہ اور یحییٰ بن عبد اللہ بن بکیر رحمہ اللہ (وغیرہ) قاسم کا واسطہ ذکر نہیں کرتے ہیں۔
ان کی روایات کی ترتیب وار مختصر تخریج درج ذیل ہے:
1: عبداللہ بن وہب المصری: (سنن النسائی: 4371، السنن الکبریٰ: 4/ 339 ح 4445، شرح معانی الآثار: 4/ 168 ح 6187 مسند الموط الجوہری ص 79 ح 208)
2: ابوالولید الطیالسی: (صحیح ابن حبان، الاحسان: 5919)
3: یحییٰ بن عبد اللہ بن بکیر: (السنن الکبریٰ للبیہقی: 9/ 274)
اس تخریج سے معلوم ہوا کہ یہ روایت سلیمان بن عبد الرحمن نے عبید بن فیروز سے بلا واسطہ بھی سنی ہے اور قاسم عن عبید کے واسطہ سے بھی سنی ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کا رجحان بھی اسی طرف معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ سلیمان بن عبدالرحمن کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
سمع عبيد بن فيروز والقاسم أبا عبد الرحمن
(التاریخ الکبیر: 4/ 23)
یعنی سلیمان بن عبد الرحمن نے عبید بن فیروز سے بھی سنا ہے اور قاسم ابو عبد الرحمن سے بھی سنا ہے۔
بصورت دیگر امام لیث بن سعد رحمہ اللہ کے مقابلے میں امام شعبہ رحمہ اللہ کو ترجیح ہوگی کیونکہ حفظ و اتقان، رجال و علل میں جو مقام امام شعبہ رحمہ اللہ کو حاصل ہے، امام لیث رحمہ اللہ ثقہ و متقن ہونے کے باوجود اس مقام پر فائز نہیں ہیں۔ پھر امام لیث بن سعد رحمہ اللہ کے اپنے تلامذہ میں سے تین شاگردوں کی روایت کو یقیناً ترجیح ہوگی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ امام ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وشعبة موضعه من الإتقان والبحث موضعه وابن وهب أثبت فى الليث من عثمان بن عمر ولم يذكر ما ذكر عثمان بن عمر فاستدللنا بهذا أن عثمان بن عمر وهم فى ذلك والله أعلم
”امام شعبہ کا حفظ و اتقان کے میدان میں بھی ایک مقام و مرتبہ ہے اور رجال و علل کی بحث و تمحیص کے حوالے سے بھی ان کا ایک مقام ہے، اور امام عبداللہ بن وہب، عثمان بن عمر کی نسبت امام لیث بن سعد کی روایت میں زیادہ مضبوط ہیں۔ اور ابن وہب وہ واسطہ ذکر نہیں کرتے جو عثمان ذکر کرتا ہے۔ سو اس سے ہم یہ دلیل لے سکتے ہیں کہ عثمان کو اس روایت میں وہم لاحق ہوا ہے۔ واللہ اعلم۔“
(التمہید: 20/ 166-167)
امام ابو احمد الحاکم الکبیر رحمہ اللہ ”قاسم مولٰي خالد عن عبيد بن فيروز“ والی روایت کے بارے میں فرماتے ہیں: ولا أراه محفوظا ”میں نہیں سمجھتا کہ یہ روایت محفوظ ہے۔“ (الاسامی والکنی: 4/ 351 ت 3524)
معترض موصوف کا امام علی بن المدینی رحمہ اللہ اور ان کے ساتھ امام بخاری رحمہ اللہ کو اس روایت کو ضعیف کہنے والوں میں ذکر کرنا درست نہیں۔ امام علی بن المدینی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو مطلقاً ضعیف نہیں قرار دیا ہے۔ ان کے کلام سے جو بات واضح ہوتی ہے وہ صرف اتنی ہے کہ انہوں نے اس کے طرق میں سے امام شعبہ عن سلیمان بن عبد الرحمن عن عبید بن فیروز کے مقابلہ میں امام لیث بن سعد عن سلیمان بن عبد الرحمن عن قاسم ابی عبد الرحمن عن عبید بن فیروز کے طریق کو صحیح قرار دیا ہے۔ اس میں روایت پر مطلقاً جرح نہیں بلکہ ایک طریق کے مقابلے میں دوسرے طریق کو زیادہ صحیح قرار دیا گیا ہے۔ وہ اس روایت کو امام لیث عن سلیمان عن قاسم عن عبید بن فیروز کی سند سے درست و صحیح سمجھتے ہیں۔ سو اس قول کی بنا پر اس روایت کو مطلقاً اسنادہ ضعیف قرار دینا معترض موصوف کا اپنا وہم و گمان ہے، امام علی بن المدینی رحمہ اللہ سے ہمارے علم کے مطابق ایسا کچھ ثابت نہیں ہے۔ اللہ ہی جانے کہ موصوف نے اس روایت پر امام بخاری کی جرح کہاں دیکھی ہے۔ بطور الزامی جواب عرض ہے کہ اگر ان کی مراد علل الکبیر للترمذی ہے تو اس میں عبارت یوں ہے:
كان على بن عبد الله يذهب إلى أن حديث عثمان بن عمر أصح قال محمد ما أرى هذا بشيء لأن عمرو بن الحارث ويزيد بن أبى حبيب رويا عن سليمان بن عبد الرحمن عن عبيد ابن فيروز عن البراء قال محمد وهذا عندنا أصح
”امام علی بن عبد اللہ المدینی کا رجحان یہ تھا کہ عثمان بن عمر کی روایت زیادہ صحیح ہے، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات درست نہیں کیونکہ عمرو بن الحارث اور یزید بن ابی حبیب دونوں یہی روایت سلیمان بن عبد الرحمن عن عبید بن فیروز عن البراء کی سند سے بیان کرتے ہیں، امام بخاری فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔“
(العلل الکبیر المنسوب الی الترمذی: 446 نیز دیکھئے معرفته السنن والآثار 18972)
یہی عبارت امام بیہقی بلغني عن أبى عيسى کے الفاظ کے ساتھ یوں نقل کرتے ہیں:
محمد بن إسماعيل البخاري أنه كان يميل إلى تصحيح رواية شعبة ولا يرضى رواية عثمان بن عمر والله أعلم
امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ کا میلان اس طرف تھا کہ امام شعبہ رحمہ اللہ کی روایت صحیح ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ، عثمان بن عمر رحمہ اللہ کی روایت سے راضی نہیں تھے، واللہ اعلم۔
(السنن الکبریٰ للبیہقی: 9/ 275)
یہ بات ان لوگوں کے اصول پر صحیح ہے جو بے سند اقوال پیش کرتے ہیں۔