اللہ کی طرف غلط مسئلہ منسوب کرنا حرام ہے
ائمہ اسلام کا معمول تھا کہ وہ کتاب و سنت کی تعلیمات کے بغیر کسی چیز کے بارے میں نہ عبادت و اطاعت کا حکم دیتے اور نہ اسے قرب الہی کا ذریعہ بتلاتے، کیونکہ بغیر علم کے فتویٰ دنیا قرآن کریم کی رو سے حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ﴿٣٣﴾
”اے نبی! ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں: بے شرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی اور یہ کہ اللہ کے ساتھ تم کسی ایسے کو شریک کرو جس کے لیے اس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور یہ کہ اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو جس کے متعلق تمہیں علم نہ ہو۔“
(7-الأعراف:33)