کیا عورت کا طریقۂ نماز مرد سے مختلف ہے؟ دلائل کا تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ کی کتاب "کیا عورتوں کا طریقۂ نماز مردوں سے مختلف ہے؟” سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

کیا عورتوں کا طریقہ نماز مردوں سے مختلف ہے؟

(ایک حنفی مفتی صاحب کے دلائل کا جائزہ)

اس مضمون میں کراچی کے ایک حنفی مفتی شیخ الحدیث مولانا سبحان محمود صاحب کے مذکورہ بالا عنوان پر دلائل کا جائزہ لیا گیا ہے جس میں مرد، عورت کا طریقۂ نماز علیحدہ علیحدہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ حالانکہ نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ [صلوا کما رأیتمونی اصلی] تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ [صحیح بخاری:6008]

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم عام ہے جس میں ہر مسلمان مرد عورت شامل ہے۔ اس لحاظ سے جو طریقۂ نماز مردوں کا ہے وہی عورتوں کا ہے۔ بجز ان چیزوں کے جن کی صراحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دی ہے۔

❀ مثلاً عورتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اوڑھنی کے بغیر نماز نہ پڑھیں۔

❀ مسجد میں جا کر نماز پڑھنا عورتوں پر فرض نہیں، وغیرہ وغیرہ

❀ باقی عورتیں ہاتھ کہاں باندھیں اور کہاں تک اُٹھائیں؟

❀ قعدہ و قیام ان کا کس طرح ہو؟

سجدہ کیسے کریں؟

ان کے بارے میں جو حکم مردوں کے لیے صحیح احادیث سے ثابت ہے وہی حکم عورتوں کے لیے ہے۔ ان چیزوں میں اس وقت تک مرد و عورت کے درمیان فرق کرنے کی کوئی معقول وجہ اور بنیاد نہیں ہے۔ جب تک صحیح احادیث سے ثابت نہ کر دیا جائے۔ اس سلسلے میں جو فتویٰ مفتی صاحب مذکور کا شائع ہوا ہے، ذیل میں اس کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے جس سے واضح ہو جائے گا کہ برادرانِ احناف کے پاس اپنے مسلک کے اثبات میں کوئی مضبوط دلیل (حدیث صحیح) نہیں ہے۔

تمہید ہی میں ’’دلائل‘‘ کی کمزوری کا اعتراف:

سب سے پہلے مفتی صاحب نے ’’دلائل‘‘ ذکر کرنے سے پہلے بطور تمہید یہ ارشاد فرمایا کہ ’’فقہاء حضرات جو بھی مسئلہ بیان کرتے ہیں اس کی اصل قرآنِ کریم اور حدیث سے ہوتی ہے۔ البتہ یہ معلوم کرنا کہ قرآن و حدیث میں اس کی اصل کہاں ہے؟ یہ ہر کس و ناکس کا کام نہیں ہے بلکہ اس کے لیے مجتہدانہ صلاحیت کی ضرورت ہے۔ اس لیے عام لوگوں کے لیے یہی حکم ہے کہ وہ اپنے مسلک کے فقہاء اور امام کے بیان کئے ہوئے مسائل پر عمل کریں۔ اسی میں ان کے لیے عافیت ہے کیونکہ عوام خود قرآن و حدیث کو صحیح طریقے سے سمجھ کر مسائل معلوم نہیں کر سکتے۔ البتہ مجتہدین اور فقہاء حضرات اس کی اصل کو تلاش کرتے ہیں اور اصل کے بغیر کچھ نہیں۔ (روزنامہ ’’جسارت‘‘ کراچی 30 اکتوبر 1981ء)

قبل اس کے کہ مفتی صاحب کی ان تمہیدی گزارشات پر کچھ عرض کیا جائے اس عورت کا سوال بھی پڑھ لیا جائے جس کے جواب میں مفتی صاحب نے یہ کچھ ارشاد فرمایا ہے: سوال یہ تھا۔ مولانا اشرف علی تھانوی اور بعض دیگر علمائے دین نے یہ فرمایا ہے کہ مرد نیت باندھتے وقت کان کی لو تک انگوٹھے لے جائے اور عورت صرف کندھے تک مرد زیر ناف ہاتھ باندھیں اور عورتیں سینے پر۔ رکوع میں مرد انگلیاں یوں رکھیں اور خواتین اس طرح مرد کمر کو اُٹھا کر سجدہ کریں اور عورتیں بالکل دَب کر اور زمین سے چپک کر سجدہ کریں۔ میں نے یہی مسئلہ معلوم کرنے کے لیے حدیث بخاری اور مشکوٰۃ شریف میں باب الصلوٰۃ کا خاص طور پر مطالعہ کیا۔ مجھے تو ان میں کوئی حدیث اس بارے میں نہیں ملی۔ سنا ہے کہ ’’درمنثور‘‘ میں ایک حدیث اس بارے میں وارد ہے۔ آج کل یہاں عورتوں میں یہ بحث چل رہی ہے۔ اگر واقعی مرد صاحبان اور خواتین کی نماز کی ہیئت میں اتنا بڑا فرق ہوتا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جنہوں نے دو ہزار سے زائد حدیثیں بیان فرمائی ہیں۔ (جن میں خواتین کے متعلق حدیثیں خاص ہیں) تو آنجنابہ اس بارے میں ضرور واضح طور پر حدیثیں بیان فرماتیں، ممکن ہے آپ نے بیان فرمائی ہوں جو میری نظر سے نہ گزری ہوں۔ (بیگم عبدالغنی، کراچی)

ہماری گزارشات:

① محترمہ کے جواب میں مفتی صاحب کو چاہیے تھا کہ وہ ایسی احادیث نقل کر دیتے جن میں عورتوں کو نماز کی بابت مردوں سے مختلف حکم دیا گیا ہے تاکہ بات بالکل واضح ہو جاتی لیکن مفتی صاحب موصوف نے ’’دلائل‘‘ ذکر کرنے سے پہلے تو یہ ’’وعظ‘‘ فرمایا کہ عوام قرآن و حدیث کے سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔ اس لیے ان کو چاہیے کہ ان کے علماء جو کچھ بتلائیں آنکھیں بند کرکے ان پر عمل کرتے رہیں۔ حالانکہ عوام کی بابت مطلقاً یہ فیصلہ بالکل غلط ہے۔ بلاشبہ قرآن و حدیث کو سمجھنے کے لیے مطلوبہ کسی قابلیت و علم کی ضرورت ہے۔ لیکن عوام کو یہ نشاندہی تو کرائی جا سکتی ہے کہ فلاں مسئلے کی بابت قرآن کی فلاں آیت یا فلاں حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ عوام اتنے غَبِی اور کَودن نہیں ہیں کہ وہ حدیث کا ترجمہ بھی پڑھ کر اس کا مطلب نہ سمجھ سکیں یا علماء کے سمجھانے سے بھی ان کے پلے کچھ نہ پڑے۔

② یہ کہنا کہ: عام لوگوں کے لیے یہی حکم ہے کہ وہ اپنے مسلک کے فقہاء اور امام کے بیان کئے ہوئے مسائل پر عمل کریں۔ اس کی بابت مفتی صاحب سے یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ یہ حکم کس نے دیا ہے؟ قرآن حکیم نے تو بار بار اللہ اور رسول کی اطاعت ہی کا حکم دیا ہے۔ اطاعتِ فقہاء و ائمہ کا حکم تو کہیں بھی نہیں دیا ہے۔ مسلمان عوام اگر پابند ہیں تو صرف قرآن و حدیث کے ہیں، نہ کہ اقوال و آرائے رجال کے۔ عوام علماء کی طرف رجوع بھی اسی نقطۂ نظر سے کرتے ہیں کہ انہیں قرآن و حدیث سے مسئلہ بتائیں۔ ان کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہوتا کہ مفتی کسی فقیہ یا امام کے قول کا حوالہ دے کر مسئلہ ثابت کرے۔ ایسے مسلمان عوام کو قرآن و حدیث سے بالکل غافل اور بے خبر رکھنا بلکہ قرآن و سنت کے خلاف مسائل پر عمل کرنے کا ان کو حکم دینا، کیا دیانت و انصاف پر مبنی ہے؟

③ تیسری بات مفتی صاحب نے یہ بیان فرمائی ہے کہ فقہاء حضرات جو کچھ کہتے ہیں ان کی اصل قرآن یا حدیث سے ہی ہوتی ہے اور اصل کے بغیر کچھ نہیں کہتے۔ سوال یہ ہے کہ اس مقام پر اس ’’صراحت‘‘ کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے؟ اگر ان کا یہ دعویٰ ہے کہ فقہاء کی کوئی بات قرآن و حدیث کے خلاف نہیں ہے تو اس امر کی وضاحت کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ اصل دلائل پیش کرنے سے متعلق فقہاء کی بابت اس امر کی صراحت ہی اس بات کی نشاندہی کر دیتی ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ محترمہ سائلہ نے جو سوال مفتی صاحب سے کیا ہے اس کا کوئی جواب مفتی صاحب کے پاس نہیں۔ کسی بھی حدیثِ صحیح میں عورتوں کو مردوں سے مختلف رکوع، سجود، وضع یدین و رفع یدین کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ اسی لیے محترم مفتی صاحب مذکورہ تمہیدی ارشادات پر مجبور بھی ہوئے۔ بمصداق

خشتِ اوّل چوں نہد معمار کج

تاثریا می رود دیوار کج

اس کے بعد مفتی صاحب لکھتے ہیں: چنانچہ فقہاء حضرات نماز میں عورتوں کی ہیئت کے بارے میں جو مخصوص صورتیں بیان کرتے ہیں۔ وہ سب احادیث سے ثابت ہیں۔ لیکن ہم عرض کریں گے کہ مفتی صاحب کا یہ دعویٰ یکسر بے بنیاد ہے کیونکہ وہ ایک بھی صحیح حدیث اس کی بابت پیش نہیں کر سکے۔ جیسا کہ آگے چل کر معلوم ہوگا۔

شریعت سازی؟:

پھر لکھتے ہیں: اس سے قبل کہ ہم وہ حدیثیں ذکر کریں یہ بات سمجھ لی جائے کہ عورتوں کے بارے میں شریعت کا منشاء یہ ہے کہ وہ حتی الامکان ستر اور پردے سے رہیں خواہ گھر میں رہیں یا کمرے میں، تنہا ہوں یا دوسروں کے سامنے حتی کہ نماز جو اہم ترین عبادت ہے اس میں بھی اس کا لحاظ کیا گیا ہے۔ اس طرح نماز کی بعض صورتوں میں جو مخصوص ہئیتیں بیان کی گئی ہیں۔ اس کی علت بھی علماء نے سَتر اور پردہ ہی بتائی ہے۔ بلاشبہ عورتوں کے پردے اور ستر کی بابت شریعت کا جو منشاء مفتی صاحب نے بتلایا ہے، اس سے مجال انکار نہیں۔ لیکن اس سے مقصود اگر نماز کے خود ساختہ طریقے کا جواز مہیا کرنا ہے تو یہ محل نظر ہے۔ شریعت نے جو طریقۂ نماز بتلایا ہے۔ (جس میں مرد و عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا گیا ہے) اس طریقے سے خواتین بے پردہ اور بے ستر نہیں ہوتیں۔ اگر ایسا ہوتا تو شریعت از خود عورتوں کو مردوں سے مختلف طریقۂ نماز کا حکم دے دیتی۔ جیسا کہ بعض احکام عورتوں کے لیے الگ ہیں۔ ان کے علاوہ اگر کوئی مختلف طریقۂ نماز عورتوں کے لیے یہ کہہ کر ایجاد کریں گے کہ اس میں پردہ اور ستر کا زیادہ اہتمام ہے تو یہ بہت بڑی جسارت ہے اور [لَا تُقَدِّمُوۡا بَیۡنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ] (الحجرات:1) کے صریحاً خلاف ہے۔ اس کے معنی تو یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تو یہ معلوم نہ ہوا کہ عورتوں کے لیے فلاں طریقۂ سجدہ یا طریقۂ رکوع استر (زیادہ با پردہ) ہے اور اس سے شریعتِ اسلامیہ کا منشا زیادہ صحیح طریقے سے پورا ہوتا ہے۔ تاہم بعد کے فقہاء کو یہ نکتہ سوجھ گیا اور انہوں نے اس ’’خلاء‘‘ کو پر کرکے شریعت کے منشاء کی تکمیل کر دی ہے۔ نعوذ باللّٰہ ثم نعوذ باللّٰہ کیا مفتی صاحب کی بیان کردہ علت سے یہی کچھ واضح نہیں ہوتا؟

مفتی صاحب کی بیان کردہ احادیث کا جائزہ: اب مفتی صاحب کی نقل کردہ احادیث کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ وباللّٰہ التوفیق۔

نیت باندھتے وقت ہاتھ اُٹھانے میں فرق؟:

مفتی صاحب لکھتے ہیں: اب اس سلسلے میں احادیث ذکر کی جاتی ہیں کہ عورتیں ہاتھ کہاں تک اُٹھائیں [معجم طبرانی:ج22 ص19 رقم28] میں وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ابن حجر جب تو نماز پڑھے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کے برابر کر لے اور عورت اپنے ہاتھوں کو اپنے سینے کے برابر کر لے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک مستقل رسالے میں جو رفع الیدین کے متعلق ہے، نقل کیا ہے کہ عبد ربہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ ام الدرداء رضی اللہ عنہ (جو مشہور صحابیہ ہیں) کو نماز میں کندھوں کے برابر ہاتھ اُٹھاتے دیکھا ہے۔ دونوں حدیثوں پر عمل اس طرح ہوگا کہ کندھوں تک ہاتھ اُٹھانے میں ہاتھ کا کچھ حصہ سینے کے برابر بھی ہو جاتا ہے۔ [جزء رفع اليدين للإمام البخاري: حدیث: 24]

جواب:یہ ہیں مفتی صاحب کے دلائل اس بارے میں کہ نیت باندھتے وقت عورتیں ہاتھ کہاں تک اُٹھائیں۔ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی روایت سے موصوف نے ثابت کیا ہے کہ مرد اپنے دونوں ہاتھ کانوں تک اُٹھائیں اور عورت سینے تک۔ لیکن حضرت! واضح رہے کہ سیدنا وائل رضی اللہ عنہ کی یہ روایت حسب تصریحات محدثین ضعیف ہے جیسا کہ مجمع الزوائد میں بحوالہ طبرانی یہ روایت مع سند موجود ہے اور وہاں حافظ ہیثمی رحمہ اللہ نے صراحت کی ہے کہ اس میں ام یحییٰ بنت عبدالجبار ایک راویہ ہے جو مجہول ہے [لم اعرفھا] میں اسے نہیں جانتا۔ (مجمع الزوائد: ج2 ص103)

مفتی صاحب کا اصل مدارِ استدلال اسی روایت پر ہے جو استدلال و حجت کے قابل ہی نہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ کے رسالہ ’’جزء رفع الیدین‘‘ سے عبد ربہ کی جو روایت نقل کی ہے۔ اس سے مرد و عورت کے درمیان فرق کا وہ پہلو نکلتا ہی نہیں جو مفتی صاحب اس سے کشید فرما رہے ہیں۔ اس لیے اس پر استدلال کی جو عمارت کھڑی کی گئی ہے وہ بے بنیاد ہے۔ بہرحال مرد و عورت کے درمیان، رفع الیدین میں فرق کی بابت احناف کے پاس کوئی صحیح حدیث موجود نہیں ہے۔ جیسا کہ ابن حجر اور قاضی شوکانی رحمۃ اللہ علیہما نے بھی لکھا ہے۔ جن کی نظر احادیث پر بڑی گہری اور وسیع ہے۔

چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

[لم یرد ما یدل علی التفرقۃ فی الرفع بین الرجل والمرأۃ وعن الحنفیۃ یرفع الرجل الی الاذنین والمرأۃ الی المنکبین لانہ استرلھا] یعنی ’’حنفیہ جو یہ کہتے ہیں کہ مرد ہاتھ کانوں تک اُٹھائے اور عورت کندھوں تک، مرد و عورت کے درمیان فرق کرنے کا یہ حکم کسی حدیث میں وارد نہیں۔ (فتح الباری: باب85 ص287 حدیث:738، ج2 طبع دارالسلام الریاض)

اور امام شوکانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

[واعلم ان ھذہ السنۃ تشترک فیھا الرجال والنساء ولم یرد ما یدل علی الفرق بین الرجل والمرأۃ فی مقدار الرفع و روی عن الحنفیۃ ان الرجل یرفع الی الاذنین والمرأۃ الی المنکبین لانہ استرلھا ولا دلیل علی ذلک کما عرفت] یعنی’’ یہ رفع الیدین ایسی سنت ہے جو مرد و عورت دونوں کے درمیان مشترک ہے (یعنی دونوں کے لیے یکساں ہے) اس کی بابت دونوں کے درمیان فرق کرنے کا کوئی حکم نہیں ہے۔ اسی طرح مقدارِ رفع میں بھی فرق کرنے کی کوئی صراحت منقول نہیں ہے۔ جیسا کہ حنفیہ کا مذہب ہے کہ مرد ہاتھ کانوں تک اُٹھائے اور عورت کندھوں تک۔ حنفیہ کے اس مسلک کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ (نیل الاوطار: ج2 ص198)

ہاتھ باندھنے میں فرق؟:

اس کے بعد مفتی صاحب فرماتے ہیں: ہاتھ باندھنے میں بھی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے دونوں طریقے ثابت ہیں، مردوں کے ناف سے نیچے ہاتھ باندھنے اور عورتوں کے سینے پر ہاتھ باندھنے سے دونوں قسم کی روایات پر عمل ہو جاتا ہے۔ یہاں پر مفتی صاحب نے دو روایتیں نقل فرمائی ہیں، ایک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی، جس میں زیرِ ناف ہاتھ باندھنے کا بیان ہے اور دوسری سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی، جس میں انہوں نے فرمایا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینے پر ہاتھ باندھے۔

مفتی صاحب نے دونوں روایات میں یہ تطبیق دی ہے کہ تحت السرۃ (زیر ناف) والی روایات پر مرد عمل کریں اور علی الصدر (سینے پر ہاتھ باندھنے) والی روایت پر عورتیں عمل کریں۔ حالانکہ جمع و تطبیق کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب کہ دونوں روایات (جو بظاہر متعارض ہوں) سنداً صحیح ہوں۔ اگر دو متعارض روایات ایسی ہوں کہ سنداً ایک صحیح ہو اور دوسری ضعیف، تو محدثین کے اصول کے مطابق عمل صحیح السند روایت پر ہوگا۔ ضعیف روایت کو صحیح روایت کے مقابلے میں ترک کر دیا جائے گا۔ اس لیے مفتی صاحب کا پہلا فرض یہ تھا کہ ہاتھ باندھنے والی دونوں قسم کی روایتوں کے متعلق یہ ثابت کرتے کہ سنداً دونوں صحیح اور یکساں حیثیت کی حامل ہیں۔ لہٰذا تطبیق کے بغیر چارہ نہیں۔ اس کے بعد موصوف کی مذکورہ تطبیق قابل تسلیم ہو سکتی ہے۔

بنا بریں تطبیق سے پہلے دونوں روایتوں کی سندی حیثیت دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایت سنن ابو داؤد:756 کے اس نسخے میں نہیں ہے جو پاک و ہند میں متداول ہے۔ تاہم ابو داؤد کے ایک نسخے (ابن الاعرابی) میں یہ روایت موجود ہے لیکن وہاں امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اس کے ضعف کی بھی صراحت کر دی ہے (ملاحظہ ہو عون المعبود: ج1 ص275)

یہ بھی مفتی صاحب کی علمی دیانت کا ایک شاہکار ہے کہ روایت کے لیے تو سنن ابوداؤد کا حوالہ دیا ہے لیکن روایت کے ساتھ ہی اس کے ضعف کی جو صراحت اس میں ہے اسے گول کر گئے۔ اس کے برعکس سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی روایت صحیح ابن خزیمہ میں ہے اور بلوغ المرام میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے نقل کیا اور اُسے صحیح قرار دیا ہے، فتح الباری میں بھی انہوں نے اسے صحیح بتلایا ہے۔ نیز دیگر محدثین نے بھی اس کی تصحیح و توثیق کی ہے۔ حتی کہ کئی حنفی علماء نے بھی حدیث علی رضی اللہ عنہ کی تضعیف اور حدیث وائل کی تصحیح و توثیق کی ہے۔

چنانچہ چند حوالے ملاحظہ ہوں:

① علامہ عینی حنفی عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں لکھتے ہیں:

[واحتج صاحب الھدایۃ لا صحابنا فی ذلک بقولہ صلی اللَّہ علیہ وسلم ان من السنۃ وضع الیمنی علی الشمال تحت السرۃ قلت ھذا قول علی بن ابی طالب و اسنادہ الی النبی صلی اللَّہ علیہ وسلم غیر صحیح…… فیہ مقال لان فی سندہ عبدالرحمن بن اسحٰق الکوفی قال احمد لیس بشیء منکر الحدیث] یعنی’’ صاحب ہدایہ نے ہمارے احناف کے مسلک پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اس قول سے استدلال کیا ہے جس میں زیر ناف ہاتھ باندھنے کو سنت کہا گیا ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اس قول کی اسناد نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک صحیح ثابت نہیں ہے اس روایت میں مقال ہے اس لیے کہ اس کی سند میں عبدالرحمن بن اسحاق کوفی ہے جس کے متعلق امام احمد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ وہ کچھ نہیں اور وہ منکر الحدیث ہے۔ [عمدہ القاری: ج5، ص279، طبع جدید]

② شیخ ابراہیم حلبی

غنیۃ المستملی فی شرح منیۃ المصلی (المعروف شرح کبیری) میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زیر بحث روایت کے بارے میں لکھتے ہیں: [قال النووی اتفقوا علی تضعیفہ لانہ من روایۃ عبدالرحمن بن اسحٰق مجمع علی تضعیفہ] یعنی’’ بقول امام نووی رحمہ اللہ اس روایت کے ضعیف ہونے پر سب کا اتفاق ہے کیونکہ اس میں عبدالرحمن بن اسحاق واسطی راوی ہے جو بالاتفاق ضعیف ہے۔ (کبیری: ص29۔ طبع مجتبائی دہلی1898ء)

③ مولانا محمد حیات سندھی حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

[بما تقدم و تقرران وضع الایدی علی الصدور فی الصلوٰۃ اصلاً اصیلاً و دلیلاً جلیلاً فلا ینبغی لاھل الایمان الاستنکاف عنہ و کیف یستنکف المسلم عما ثبت عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الذی قال لا یؤمن احدکم حتی یکون ھواہ تبعا لما جئت بہ بل ینبغی ان یفعل ذلک]

بیان متذکرہ بالا سے بخوبی واضح ہو گیا کہ نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے کی بنیاد (روایت) مضبوط اور دلیل واضح ہے اور ہر اہل ایمان کے لیے یہ ہرگز مناسب نہیں ہے کہ اس سے روگردانی کرے اور مسلمان ایسی چیز سے روگردانی کیونکر کر سکتا ہے جو کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بھی ہے کہ، تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک ایماندار نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہش میری لائی ہوئی شریعت کے مطابق نہ ہوجائے۔ پس ہر مسلمان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر عمل کرنا چاہیے۔ [فتح الغفور: ص 8 طبع ملتان]

④ شاہ نعیم اللہ بہرانچی، مرزا مظہر جان جاناں رحمہ اللہ حنفی کے معمولات میں لکھتے ہیں:

[ودست را برابر سینہ می بستند و می فرمودند کہ ایں روایت ارجح است از روایات زیر ناف] یعنی’’ مرزا مظہر نماز میں سینے پر ہاتھ باندھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ سینے پر ہاتھ باندھنے کی روایت زیر ناف باندھنے کی روایت سے زیادہ راجح ہے۔ (ص 75)

خود حنفی علماء کی تصریحات سے جب یہ ثابت ہوتا ہے کہ تحت السرۃ والی روایت ضعیف اور سینے پر ہاتھ باندھنے والی روایت صحیح اور راجح ہے تو اس کے بعد مفتی صاحب کی مذکورہ تطبیق کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ بہر حال اس تفصیل سے یہ بات واضح ہو گئی کہ مرد و عورت کے درمیان نماز میں ہاتھ باندھنے کے حکم میں کوئی فرق نہیں ہے۔ صحیح روایات کی رو سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں ہاتھ سینے پر باندھے ہیں اور اس کی بابت عورتوں کے لیے کوئی الگ حکم بھی ثابت نہیں ہے۔ اس لیے مرد و عورت دونوں کے لیے مسنون طریقہ یہی ہے کہ وہ سینے پر ہاتھ باندھیں۔

نماز میں عورتوں کے سجدے کی ہیئت؟:

① نماز میں عورتوں کے سجدے کی ہیئت کے بارے میں مفتی صاحب لکھتے ہیں: اسی طرح جب عورتیں سجدہ کریں تو ستر کو باقی رکھتے ہوئے خوب اچھی طرح سکڑ کر کریں۔ اس کی دلیل میں دو حدیثیں پیش کی ہیں۔ ان میں ایک مراسیل ابو داؤد میں ہے اور دوسری سنن بیہقی میں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دو عورتوں کو نماز پڑھتے دیکھا تو آپ نے ان سے فرمایا کہ جب تم سجدہ کرو تو جسم کو زمین سے ملاؤ۔

②[واخرج البیھقی اذا سجدت المرأۃ الصقت بطنھا بفخذھا کا ستر ما یکون لھا]

جواب: لیکن ہم عرض کریں گے کہ اوّل الذکر حدیث مرسل ہے جو محدثین اور راجح مذہب کے مطابق قابل حجت نہیں۔ علاوہ ازیں اس کی سند میں ایک راوی ’’سالم‘‘ بھی متروک ہے۔

دوسری روایت سنن بیہقی میں ہے جس کا ترجمہ مفتی صاحب نے نقل نہیں کیا ہے صرف عربی عبارت نقل کی ہے تاہم اس کا مفہوم بھی وہی ہے۔ یہ روایت بلاشبہ سنن بیہقی (ج2 ص223) میں موجود ہے لیکن مفتی صاحب کی اس جسارت اور ’’دیانت علمی‘‘ پر سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے کہ امام بیہقی رحمہ اللہ نے تو یہ روایت متنبہ کرنے کے لیے درج کی ہے کہ یہ روایت ایسی ضعیف ہے کہ ان جیسی روایتوں سے استدلال نہیں کیا جا سکتا لیکن مفتی صاحب موصوف نے اسے بطور استدلال پیش کیا ہے۔

ناطقہ سربگر یباں ہے، اسے کیا کہیے؟

اور یہ قعدہ والی حدیث؟:

مفتی صاحب لکھتے ہیں: اسی طرح قعدہ کے سلسلے میں بیہقی کی روایت ہے کہ ایک ران پر دوسری ران رکھ کر بیٹھے۔ [عن عبداللّٰہ بن عمر قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اذا جلست المرأۃ فی الصلٰوۃ وضعت فخذھا علی فخذھا] لیکن آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ یہ بھی اسی حدیثِ مذکور کا ایک ٹکڑا ہے جسے امام بیہقی رحمہ اللہ نے صرف لوگوں کو متنبہ کرنے کے لیے اپنی کتاب میں درج کیا ہے کہ یہ روایت کسی کام کی نہیں ہے، اس سے استدلال نہیں کیا جا سکتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ مفتی صاحب نے از خود سنن بیہقی کا مطالعہ نہیں کیا اور اپنے کسی ہم مذہب پیشرو کا کوئی فتویٰ یا مضمون دیکھ کر مکھی پر مکھی دے ماری ہے ورنہ اتنی صریح خیانت کا تصور ایک اتنے بڑے دارالعلوم کے شیخ الحدیث اور مفتی کے متعلق نہیں کیا جاسکتا۔ بہرحال مذکورہ حدیث نقل کرنے کے بعد مفتی صاحب فرماتے ہیں: ان احادیث سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ عورتوں کی نماز کے بارے میں فقہاء نے جو مخصوص صورتیں بیان فرمائی ہیں وہ احادیث سے ثابت ہیں۔ لیکن موصوف کی بیان کردہ ’’احادیث‘‘ کی حقیقت اوپر بیان کر دی گئی ہے جس سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ فقہائے احناف نے عورتوں کے لیے مردوں سے الگ جو صورتیں بیان کی ہیں وہ ان کی اپنی ایجاد کردہ ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا۔

کچھ اور دلائل اور وضاحتیں:

اس کے بعد مفتی صاحب فرماتے ہیں: یہ بات واضح رہے کہ عورتوں کے بارے میں حکم شرعی کے ثبوت کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے ثابت ہو بلکہ کسی اور صحابی سے بھی ثابت ہو سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کوئی حدیث ثابت ہو لیکن ہمیں نہ مل سکی ہو۔ بلاشبہ حکم شرعی کے اثبات کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی کی حدیث ضروری نہیں، بلکہ کسی بھی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث (صحیح) سے حکم شرعی ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن سائلہ کا یہ سوال بہرحال ضرور قابل غور ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دو ہزار سے زائد احادیث مروی ہیں، اگر عورتوں کے لیے نماز کا طریقہ مردوں سے مختلف ہوتا‘ تو یقینا ان سے اس انداز کی کوئی حدیث ضرور مروی ہوتی۔ اسی طرح یہ بھی قابل غور پہلو ہے کہ اتنا اہم اور عامۃ الورود مسئلہ لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سمیت کسی بھی صحابی سے اس کی بابت کوئی حدیث ثابت نہیں۔ یہ کہنا کہ، ممکن ہے کہ اس بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کوئی حدیث ثابت ہو لیکن ہمیں نہ مل سکی ہو۔ استدلال کا یہ کون سا انداز ہے؟ اس طرح تو ہر من گھڑت مسئلے کو یہ کہہ کر ثابت کیا جا سکتا ہے کہ ممکن ہے اس بارے میں حدیث تو ہو، لیکن ہمیں نہ مل سکی ہو۔

’’تعامُلِ امت‘‘ سے استدلال؟:

پھر لکھتے ہیں: اس کے علاوہ تعامل امت سے بھی عورتوں کی نماز کی مذکورہ بالاکیفیات ثابت ہیں اور تعامل امت بھی دلیل شرعی ہے۔ لیکن مفتی صاحب سے ہم یہ پوچھنا چاہیں گے کہ ’’تعامل امت‘‘ سے ان کی کیا مراد ہے؟ موجودہ لوگوں (امت) کا تعامل یا عہد صحابہ کا تعامل۔ عہد صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں تو دلیل شرعی کی بات ہو سکتی ہے اور اسے ہی تعامل امت کہا جاتا ہے۔ لیکن بعد کے ادوار کا تعامل بھی کیا اس ’’تعامل امت‘‘ کے ضمن میں آتا ہے جس کو دلیل شرعی قرار دیا جا سکے؟ اگر مفتی صاحب موصوف کے نزدیک ’’تعامل امت‘‘ سے مراد تعامل صحابہ رضی اللہ عنہم ہے (جیسا کہ یہی اس کا صحیح مفہوم ہے) تو کیا موصوف اس امر کا کوئی ثبوت پیش فرما سکیں گے کہ عہدِ صحابہ رضی اللہ عنہم میں مسلمان خواتین اسی طرح مردوں سے مختلف طریقے سے نماز پڑھتی تھیں۔ جس طرح آج کل کی حنفی اور شریعت سے ناواقف عورتیں پڑھتی ہیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر مسئلہ ضرور قابل غور بن جاتا ہے۔ اور اگر تعامل امت سے مراد عہدِ صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے بعد کے لوگوں کا تعامل ہے تو محترم مفتی صاحب اسے بطور ’’دلیل شرعی‘‘ پیش کرنے سے پہلے یہ سوچ لیں کہ پھر مسئلہ زیر بحث ہی ثابت نہیں ہوگا۔ بے شمار بدعتیں بھی ثابت ہو جائیں گی۔ جن پر آج کل ’’تعامل امت‘‘ ہے۔ کیا مفتی صاحب اس کے لیے تیار ہیں؟ کیا ان تمام بدعتوں کو اس ’’دلیل شرعی‘‘ کی رو سے سند جواز عطا کیا جاسکتا ہے؟

مارآہ المسلمون۔۔۔ سے استدلال؟:

اسی تعامل امت کے سلسلے میں مفتی صاحب موصوف نے اس مشہور روایت سے بھی استدلال کیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہے یعنی [مارآہ المسلمون حسنا فھو عند اللٰہ حسن] جس عمل کو مسلمان اچھا سمجھیں وہ اللہ کے ہاں بھی اچھا ہے۔

① حالانکہ اوّل تو یہ حدیث مرفوع ثابت ہی نہیں ہے۔ یہ ایک موقوف قول ہے۔

② یہ کسی درجہ میں قابل حجت بھی ہو تب بھی اس سے مراد عہدِ صحابہ ہی ہوگا اور قرنِ اوّل کے مسلمانوں کا تعامل ہی حَسن اور قابل عمل کہلائے گا۔ نہ کہ بعد کے مسلمانوں کا عمل، جو عموماً اعتقاد و عمل کی متعدد گمراہیوں میں مبتلا چلے آ رہے ہیں۔

❀ یہی بات مولانا عبدالحی لکھنوی حنفی مرحوم نے بھی التعلیق الممجد میں بڑی تفصیل سے لکھی ہے جو قابل مطالعہ ہے۔ ہم بغرض اختصار یہاں صرف اس کے حوالے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ [التعلیق الممجد: ص144]

اسی طرح موصوف نے [لا تجتمع امتی علی ضلالۃ] بھی پیش فرمائی ہے اس کی اسنادی حیثیت سے قطع نظر بفرض صحت و حجت اس امت سے بھی مراد قرنِ اوّل کی امت یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی ہیں نہ کہ آج کل کی امت۔ جس کا سارا دین، بجز ایک گروہ حق کے، خود ساختہ ہے اور جس کے اندر شرک و بدعت کی گرم بازاری ہے اگر مفتی صاحب آج کل کی امت کے متعلق بھی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ گمراہی پر مجتمع نہیں ہو سکتی تو وہ کیوں اپنے ہی حنفی بھائیوں (بریلویوں) سے برسرِ پیکار ہیں؟ اکثریت ان کی ہے۔ کیا اس ’’دلیل‘‘ کی رو سے بریلوی عقائد و اعمال کو سندِ جواز عطا نہیں کیا جا سکتا؟ بہرحال مفتی صاحب جو مختلف قسم کے سہارے اپنے موقف میں پیش فرما رہے ہیں اس سے از خود یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ موصوف کے پاس اپنے موقف (کہ عورت کا طریقۂ نماز مردوں سے مختلف ہے) کے ثبوت کے لیے کوئی واضح دلیل اور مرفوع حدیث نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو مفتی صاحب سہارے نہ ڈھونڈتے، حدیث صحیح پیش فرمانے پر ہی اکتفا کر لیتے۔ لیکن مذکورہ بحث سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ گئی ہے کہ موصوف کے پاس فقہ حنفی کے زیر بحث مسئلے کے ثبوت میں ایک بھی مرفوع متصل روایت نہیں ہے۔

[ھا توا برھانکم ان کنتم صادقین]

اگر سچے ہو‘ تو دلیل پیش کر کے دکھاؤ۔

[منقول از ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘ لاہور22- 29جنوری1982ء]