شہوات کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
حجبت النار بالشهوات وحجبت الجنة بالمكاره
”جہنم کے گرد شہوات کی باڑ لگا دی گئی ہے اور جنت کے گرد طبیعت پر گراں گزرنے والے مجاہدات کی باڑ لگا دی گئی ہے“۔
بخاری، کتاب الرقاق 6487، مسلم، کتاب صفة الجنة 1823۔
اور مسلم کی ایک روایت میں "حجبت” کے بجائے "حفت” کا لفظ استعمال کیا گیا، جس کا معنی ہے: "گھیر لیا گیا ہے”۔
درہم و دینار کی پوجا کرنے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تعس عبد الدينار ، وعبد الدرهم ، والقطيفة والخميصة ، إن أعطي رضي وإن لم يعط لم يرض
”درہم و دینار اور چادر و پوشاک کے پرستار ہلاک ہو جائیں، انہیں دیا جائے تو خوش اور اگر نہ دیا جائے تو ناراض ہو جائیں“۔
بخاری، کتاب الجهاد والسير 2886، ابن ماجه، کتاب الزهد 4136۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تعس عبد الدينار وعبد الدرهم وعبد الخميصة ، إن أعطي رضي وإن لم يعط سخط ، تعس وانتكس وإذا شيك فلا انتقش
”درہم و دینار اور لباس کے پرستار ہلاک ہو جائیں اگر انہیں دیا جائے تو راضی اور اگر نہ دیا جائے تو ناراض وہ سرنگوں ہو کر گر پڑیں اور جب انہیں کانٹا چبھے تو کوئی نہ نکالے“۔
بخاری، کتاب الجهاد والسير 2887، ابن ماجه، کتاب الزهد 4136۔
دل کی سختی کی ممانعت
① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تكثروا الكلام بغير ذكر الله عز وجل ، فإن كثرة الكلام بغير ذكر الله قسوة للقلب ، وإن أبعد الناس من الله تعالى القلب القاسي
”اللہ عز وجل کے ذکر کے بغیر زیادہ باتیں نہ کیا کرو کیونکہ اللہ کے ذکر کے بغیر زیادہ باتیں کرنا دل کی سختی کا باعث ہے اور سخت دل والا اللہ سے سب سے زیادہ دور ہوگا“۔
ترمذی، کتاب الزهد 2411۔
اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بننے والے کلام کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إن العبد ليتكلم بالكلمة من رضوان الله لا يلقي لها بالا ، يرفعه الله تعالى بها درجات ، وإن العبد ليتكلم بالكلمة من سخط الله لا يلقي لها بالا ، يهوي بها فى جهنم
”بندہ لا پروائی میں اللہ کی رضا مندی والا کلمہ بول دیتا ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس شخص کے درجات بلند کر دیتا ہے اور بندہ لا پروائی میں اللہ کی ناراضی والا کلمہ بول دیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ اسے جہنم میں گرا دیتا ہے“۔
بخاری، کتاب الرقائق 6478، موطا، کتاب الجامع 2/ 985۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إن العبد ليتكلم بالكلمة ما يتبين فيها ، يزل بها فى النار أبعد ما بين المشرق والمغرب
”بندہ ایسا کلمہ بول دیتا ہے جس کے انجام کا اسے پتہ نہیں ہوتا تو وہ جہنم میں اس قدر پھسل جاتا ہے جس قدر مشرق و مغرب کے درمیان دوری ہے“۔
بخاری، کتاب الرقاق 6477، مسلم، کتاب الزهد والرقائق 2988/49۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الرجل ليتكلم بالكلمة لا يرى بها بأسا يهوى بها سبعين خريفا فى النار
”آدمی ایسی بات کہتا ہے جس میں وہ کوئی حرج محسوس نہیں کرتا، لیکن اسے اس بات کی وجہ سے ستر سال تک جہنم میں گرا دیا جائے گا“۔
ترمذی، کتاب الزهد 2314، مسند احمد، باقی مسند المکشرین 2/ 316 حدیث 7234۔
④ سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الرجل ليتكلم بالكلمة من رضوان الله ما كان يظن أن تبلغ ما بلغت يكتب الله له بها رضوانه إلى يوم يلقاه ، وإن الرجل ليتكلم بالكلمة من سخط الله ما كان يظن أن تبلغ ما بلغت يكتب الله له بها سخطه إلى يوم يلقاه
”آدمی اللہ کی رضا مندی والا کلمہ بول دیتا ہے اسے گمان بھی نہیں تھا کہ یہ اس مقام تک پہنچ جائے گا جہاں یہ پہنچ چکا اللہ اس کلمے کی وجہ سے اس شخص کے لیے اپنی ملاقات کے دن تک کے لیے اپنی رضا مندی لکھ دیتا ہے اور آدمی اللہ کی ناراضی والا کلمہ بول دیتا ہے اسے گمان بھی نہیں تھا کہ اس مقام تک پہنچ جائے گا جہاں یہ پہنچ چکا اللہ اس کلمے کی وجہ سے اس شخص کے لیے اپنی ملاقات کے دن تک کے لیے اپنی ناراضی لکھ دیتا ہے“۔
ترمذی، کتاب الزهد 2319، موطا، کتاب الجامع 2/ 985 حدیث 5۔