مضمون کے اہم نکات
خواتین کا طریقۂ نماز؟
گزشتہ مضمون میں آپ نے دارالعلوم کراچی کے مفتی اور شیخ الحدیث کے مضمون پر تبصرہ پڑھا۔ شیخ الحدیث ہونے کے باوجود موصوف نے جس امانت و دیانت کا مظاہرہ کیا ہے, قارئین اسے ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ اب ایک اور کتابچہ ہمیں برائے تبصرہ ملا ہے, اس کی بابت بتلایا گیا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ علوم اسلامیہ (شیخ زائد اسلامک سینٹر نیوکیمپس) لاہور میں زیر تعلیم اسلامیات کی طالبات میں اسے تقسیم کیا گیا ہے۔ وہیں کی ایک طالبہ کے والد محترم کے ذریعے سے یہ ہم تک پہنچا ہے اور ساتھ ہی انہوں نے اس میں پیش کردہ دلائل کی حقیقت واضح کرنے پر اصرار کیا۔ راقم نے جب اسے ایک نظر دیکھا تو نہایت تعجب ہوا کہ اس میں بھی نہایت بے خوفی سے علمی امانت و دیانت کا اسی طرح خون کیا گیا ہے۔ جیسے اس سے قبل کے مضمون میں کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلا مضمون دارالعلوم کراچی کے شیخ الحدیث اور مفتی صاحب کا تحریر کردہ ہے جو آج سے تقریباً 22 سال قبل روزنامہ ’’جسارت‘‘ کراچی میں شائع ہوا تھا۔ اور یہ دوسرا مضمون جو اس کتابچے میں شامل ہے اور جو ’’خواتین کا طریقۂ نماز‘‘ کے نام سے ایچ ایم سعید کمپنی کراچی کی طرف سے شائع ہوا ہے۔ یہ غالباً مذکورہ شیخ الحدیث مولانا سبحان محمود صاحب کے شاگرد اور تربیت یافتہ ہیں۔ کیونکہ اس میں ’’تصدیق‘‘ کے عنوان سے کتابچے کے شروع میں ان کی تائید و تقریظ شامل ہے جس میں انہوں نے انہیں ’’عزیز موصوف سلمہ‘‘ کے لفظ سے یاد فرمایا ہے۔ علاوہ ازیں ان کے نام "عبدالرؤف سکھروی کے ساتھ نائب مفتی جامعہ دارالعلوم کراچی” تحریر ہے۔ یہ گویا ایک استاذ ہے تو دوسرے صاحب شاگرد۔ ایک دارالعلوم کے مفتی اور ناظم ہیں تو دوسرے ان کے نائب مفتی ایک بزرگ ہیں تو دوسرے ان کے عزیز موصوف۔ لیکن شاگرد نائب اور عزیز نے بددیانتی اور علمی خیانت کے ارتکاب میں استاذ اور بزرگ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اور یوں آنچہ پدر نہ تواند، پسر تمام کند کے مقولے پر عمل ہو گیا ہے۔
یہ وضاحت اگرچہ ہمارے لیے نہایت ناخوشگوار اور سخت روح فرسا ہے۔ بالخصوص موجودہ حالات میں جب کہ ملک و ملت کو اتحاد و یکجہتی کی سخت ضرورت ہے، لیکن جب جانتے بوجھتے دن کی روشنی میں اتنے بڑے جرم کا ارتکاب کیا جائے اور اس کا ارتکاب بھی ان لوگوں کی طرف سے ہو جو منبر رسول کے وارث کہلاتے ہیں، مدعیانِ زہد و تقویٰ ہیں اصحابِ جُبّہ و دستار ہیں۔ حاملینِ علم نبوت ہیں، مسند نشینانِ افتاء و تحقیق ہیں اور شیخ الحدیث جیسے منصب جلیلہ پر فائز ہیں۔ لیکن کام بازی گروں والا علمی دیانت کا خون کر کے دھوکہ و فریب دینا حدیث رسول کے نام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی باتیں منسوب کرنا جو آپ سے ثابت ہی نہیں ہیں۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ گرامی ہے: [من کذب علی متعمدا فلیتبوأ مقعدہ من النار] جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔ (صحیح بخاری:3461)
اور وہ حدیث جس کو اپنی کتاب میں درج کرنے والا اس لیے درج کر رہا ہے تاکہ لوگوں کے علم میں آ جائے کہ یہ سخت ضعیف ہے ناقابل حجت ہے، اس سے استدلال نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اتنی واضح صراحت کے باوجود ایک شیخ الحدیث کہلانے والا صاحب کتاب محدث کی اس صراحت کو تو نقل نہیں کرتا لیکن اسے اپنے مسلک کے اثبات کے لیے حدیث رسول کہہ کر نقل کرتا ہے اور اس سے استدلال کرتا ہے۔ فرمائیے! کیا اس کا اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا صحیح ہے؟ اس سے استدلال کرنا صحیح ہے؟ کیا یہ دھوکہ اور فریب نہیں؟ دھوکہ اور فریب کے متعلق ذرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل اور آپ کا فرمان تو دیکھیے۔ آپ غلے کی ایک ڈھیری کے پاس سے گزرے آپ نے اس میں ہاتھ ڈالا تو آپ کی انگلیوں کو تری محسوس ہوئی۔ آپ نے اس کے مالک سے پوچھا اس کے اندر والے حصے میں یہ تری کیوں ہے؟ اس نے کہا: بارش کی وجہ سے۔ آپ نے فرمایا: تو نے اس تر حصے کو اوپر کیوں نہیں رکھا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیں۔ پھر فرمایا: [من غش فلیس منی] جس نے دھوکہ دیا اس کا تعلق مجھ سے نہیں۔ (صحیح مسلم:102)
یہ بات نہایت قابل غور ہے کہ دنیا کے معمولی سامان میں دھوکہ دینے والے کی بابت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی سخت وعید بیان فرمائی تو جو شخص دین و ایمان کے بارے میں دھوکے اور جعل سازی سے کام لے وہ کتنا بڑا مجرم ہو گا؟ بہ ایں دعویٰ زہد و تقویٰ اور ادعائے علم و فضل اس کا کوئی تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو سکتا ہے؟ راقم اس کی نفی نہیں کرتا لیکن مذکورہ حدیث رسول کی روشنی میں یہ نکتہ ضرور قابل غور ہے؟ اور راقم علمی خیانت (دھوکہ دہی) کرنے والے علماء کو دونوں حدیثوں پر غور و فکر کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ کیا ان کا طرز عمل [من کذب علی متعمدا] (صحیح المسلم:3) اور [ومن غشنا، فليس منا] (صحیح المسلم:101) کی وعید کا مستحق نہیں ہے؟ اگر نہیں ہے تو قابل اطمینان بات ہے لیکن اس کی وضاحت فرمائیں کہ کیوں نہیں ہے؟ ان تمہیدی گزارشات کے بعد ہم اب مولانا عبدالرؤف سکھروی صاحب نائب مفتی دارالعلوم کراچی کے کتابچے ’’خواتین کا طریقۂ نماز‘‘ کا جائزہ [بعون اللہ و توفیقہ] لیتے ہیں اور ان کی علمی خیانتوں کو واضح کرتے ہیں جن کا ارتکاب اس کتابچے میں کیا گیا ہے۔ مولانا سکھروی صاحب اپنے تمہیدی کلمات میں فرماتے ہیں: "خواتین کا طریقۂ نماز” آگے آ رہا ہے اس سے پہلے ایک سوال اور تفصیلی جواب لکھا جاتا ہے جس میں خواتین کے طریقۂ نماز کا مَردوں کے طریقۂ نماز سے جدا ہونا احادیث طیبہ اور آثارِ صحابہ سے (ثابت) کیا گیا ہے اور یہ اس بنا پر لکھا جا رہا ہے کہ اکثر غیر مقلد مسلمانوں کو خصوصاً خواتین کو یہ تاثر دیتے رہتے ہیں کہ عورتوں اور مردوں کے نماز ادا کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے۔ چنانچہ ان کی غیر مقلد عورتیں مردوں کی طرح نمازیں ادا کرتی ہیں اور یہ محض ناواقفیت پر مبنی ہے۔ لہٰذا اس تفصیلی وضاحت کے بعد غیر مقلد عورتوں کو ان احادیث و آثار کی پیروی کرنی چاہیے اور حق کو قبول کرنا چاہیے اور حنفی مذہب رکھنے والی خواتین کو پورا اطمینان رکھنا چاہیے کہ ان کا طریقہ بالکل صحیح ہے اور شریعت کے مطابق ہے۔
لیجیے سوال و جواب پڑھیے۔
سوال:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ لڑکی حنفی مذہب سے تعلق رکھتی ہے اس کا شوہر غیر مقلد ہے اور وہ اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تم مردوں کی طرح نماز پڑھا کرو۔ عورتوں کی نماز کا طریقہ مردوں سے جدا ہونا بالکل ثابت نہیں ہے۔ اب آپ بتائیے کہ حنفی لڑکی کو شوہر کے مطابق اپنی نماز مردوں کی طرح پڑھنی چاہیے یا نہیں؟ اور نیز حنفی مذہب میں عورت کی نماز کا طریقہ مردوں کی نماز کے طریقے سے جدا ہونا احادیث سے ثابت ہے یا نہیں؟ مفصل اور مدلل جواب دے کر مطمئن فرمائیں۔ جزاکم اللّٰہ تعالیٰ۔ احقر عبدالحلیم ‘ڈھرکی سندھ‘ (خواتین کا طریقۂ نماز‘ صفحہ36-37)
جواب:
اس کے جواب میں مولانا سکھروی صاحب فرماتے ہیں: مذکورہ صورت میں اہل حدیث شوہر کا اپنی حنفی بیوی کو مردوں کے طریقے سے نماز پڑھنے پر مجبور کرنا جائز نہیں۔ کیونکہ عورتوں کی نماز کا طریقہ بالکل مردوں کی طرح ہونا کسی بھی حدیث سے صراحۃً ثابت نہیں، بلکہ خواتین کا طریقۂ نماز مردوں کے طریقے سے جدا ہونا بہت سی احادیث اور آثارِ صحابہ و تابعین سے ثابت ہے اور چاروں ائمہ فقہ امام اعظم ابوحنیفہ، امام مالک، شافعی اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہم اس پر متفق ہیں۔ تفصیل ذیل میں ہے۔
ہمارا جواب:
اس میں مولانا موصوف نے ایک بات یہ لکھی ہے کہ "عورتوں کی نماز کا طریقہ” بالکل مردوں کی طرح ہونا کسی بھی حدیث سے صراحۃً ثابت نہیں ہے۔
❀ دوسری بات لکھی ہے: بلکہ خواتین کا طریقۂ نماز مردوں کے طریقے سے جدا ہونا بہت سی احادیث و آثارِ صحابہ و تابعین سے ثابت ہے۔
❀ تیسرا دعویٰ یہ کیا ہے کہ چاروں ائمہ فقہ اس پر متفق ہیں۔
❀ اس سلسلے میں ہماری پہلی گزارش یہ ہے کہ موصوف کو احادیث کے ساتھ آثار صحابہ و تابعین کے ذکر کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے؟ ہمارے نزدیک اس کی وجہ محض وزن بڑھانا یا رعب ڈالنا ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ صحیح سند سے مروی ایک حدیث بھی اس مسئلے میں علمائے احناف کے پاس نہیں ہے اور ایسا ہی معاملہ آثارِ صحابہ و تابعین کا ہے۔ جیسا کہ آگے چل کر ہمارے دعوے کی صداقت روز روشن کی طرح واضح ہو جائے گی۔ بعون اللّٰہ و توفیقہ
❀ دوسری گزارش یہ ہے کہ موصوف نے فرمایا ہے: عورتوں کی نماز کا طریقہ بالکل مردوں کی طرح ہونا کسی بھی حدیث سے صراحۃً ثابت نہیں ہے۔ یہ بات ایک حد تک صحیح ہے لیکن اس کا مطلب غلط لیا گیا ہے۔ یعنی [کلمۃ الحق ارید بھا الباطل] بات صحیح ہے لیکن اس سے مراد باطل لیا گیا ہے۔ کے مصداق اس بات کو سمجھنے کے لیے ایک بنیادی نکتے کو سمجھنا ضروری ہے۔ اسلام کی رُو سے عورت کا دائرئہ کار گھریلو امور خانہ حمل و رضاعت اور بچوں کی نگرانی و حفاظت تک محدود ہے۔ اور مرد کا دائرہ کار معاشی جدوجہد اور تمام بیرونی معاملات (سیاست‘ امور جہانبانی‘ جہاد و قتال وغیرہ) تک وسیع ہے۔ اس لیے شریعت نے مرد و عورت دونوں کو ان کی الگ الگ ذمے داریوں اور طبعی اوصاف کا لحاظ کرتے ہوئے ایک دوسرے سے مختلف احکام بھی دیے ہیں۔ لیکن جہاں جداگانہ صلاحیتوں اور اسی کے حساب سے مختلف فرائض کا مسئلہ نہیں ہے۔ وہاں ان دونوں کے لیے مشترکہ احکام بھی دیے ہیں۔ اس اعتبار سے احکام کی تین صورتیں بنتی ہیں۔
① وہ احکام، جن کا تعلق مرد کے دائرئہ عمل اور اس کی منفرد خصوصیات اور صلاحیتوں اور اس کے خاص فرائض و واجبات سے ہے۔
② وہ احکام، جن کا تعلق عورت کے دائرئہ عمل اور اس کی صنفی خصوصیات اور اس کے خاص فرائض و واجبات سے ہے۔
③ وہ احکام، جن کا تعلق کسی بھی خصوصی صنف یا اس پر مبنی مسائل سے نہیں ہے۔ بلکہ وہ عام ہیں جن کو مرد و عورت دونوں یکساں طور پر کر سکتے ہیں۔ کسی کی بھی صنفی خصوصیات ان کے کرنے میں رکاوٹ نہیں بنتیں۔ اس لیے شریعت نے بھی ان کے لیے الگ الگ احکام تجویز نہیں کیے۔
❀ اوّل الذکر قسم کے احکام کے مکلف صرف مرد ہیں اور ان میں مخاطَب بھی وہی سمجھے جائیں گے۔
❀ ثانی الذکر قسم کے احکام کی مکلف صرف عورتیں ہیں اور ان میں مخاطَب وہی سمجھی جائیں گی۔
❀ البتہ ثالث الذکر قسم کے احکام کے دونوں ہی مکلف اور دونوں ہی ان کے مخاطَب سمجھے جائیں گے۔
ایمان و اعتقاد، عبادات اور اخلاقیات کی تمام تعلیمات، اسی تیسری قسم میں داخل ہیں اور دونوں ہی ان کے یکساں طور پر مکلف اور مخاطَب ہیں۔ الا یہ کہ شریعت ان میں سے کسی حکم سے کسی ایک کو مستثنیٰ کر دے۔ جب تک کوئی استثناء کسی صحیح دلیل (قرآن کی آیت یا صحیح حدیث) سے ثابت نہیں ہو گا، مرد و عورت دونوں کے لیے ایک ہی حکم ہو گا۔ جیسے [اقیموا الصلوۃ و آتوا الزکوٰۃ] میں نماز و زکوٰۃ کا حکم ہے، اس میں مرد و عورت دونوں شامل ہیں۔ اس لیے دونوں ہی اس کے مکلف ہیں اور ان کا طریقۂ ادائیگی بھی دونوں کے لیے یکساں ہو گا جب تک کسی ایک صنف کے لیے کوئی خاص استثناء ثابت نہیں ہو گا۔ جیسے عورت کے لیے استثناء ہے کہ حیض و نفاس کے ایام میں اس کے لیے نماز معاف ہے، نماز میں سر کا ڈھانپنا اس کے لیے ضروری ہے۔ امام بھول جائے تو امام کو متنبہ کرنے کے لیے مرد سبحان اللہ کہے اور عورت تصفیق کرے (یعنی ہتھیلی پر ہتھیلی مارے، سبحان اللہ نہ کہے) یا اور بھی جو استثناء ثابت ہے، اس میں فرق ہو گا۔ اس کے علاوہ کوئی فرق نہیں ہو گا۔ [یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ] اے ایمان والو! تم پر روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے۔ [آمنوا اور علیکم] دونوں جمع مذکر کے صیغے ہیں، اس کے باوجود اس کے مخاطب صرف مومن مرد ہی نہیں، مومن عورتیں بھی ہیں۔ دونوں کے لیے رمضان المبارک کے روزے فرض ہیں۔ الایہ کہ کسی کے لیے استثناء ثابت ہو۔ اس حکم صیام میں عورت کے لیے یہ استثناء ثابت ہے کہ وہ حیض و نفاس کے ایام میں روزے نہیں رکھ سکتی۔ اس کے علاوہ وہ روزے کے دیگر احکام میں مرد کے ساتھ شامل ہو گی۔ [یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَاتِلُوا الَّذِیۡنَ یَلُوۡنَکُمۡ مِّنَ الۡکُفَّارِ] اے ایمان والو! ان کافروں سے لڑو جو تمہارے آس پاس ہیں۔ (التوبۃ:123)
اس میں اہل ایمان سے خطاب کر کے ان کو جہاد کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ لیکن یہ حکم چونکہ مرد کے دائرئہ عمل سے تعلق رکھتا ہے، اس لیے اس حکم کی مخاطَب مومن عورتیں نہیں ہیں۔ وعلیٰ ھذا القیاس دیگر احکام و مسائل ہیں۔ اس بنیادی نکتے کی روشنی میں ہم عرض کریں گے کہ نماز ایک عبادت ہے۔ اس کا حکم مرد و عورت دونوں کو ہے، دونوں اس کو ادا کرنے کے پابند ہیں۔ یہ دونوں نماز کس طرح ادا کریں گے؟ بالکل اس طرح، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ادا کیا ہے یا ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کی ادائیگی کے طریقے میں دونوں کے درمیان کوئی فرق کرنا جائز نہیں ہو گا۔ سوائے اس فرق کے جس کی وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں ملے گی۔ اور حدیث رسول میں ہمیں سوائے اِن فروق کے اور کوئی فرق نہیں ملتا۔ وہ فرق حسب ذیل ہیں۔
① عورت، سر ڈھانپ کر نماز پڑھے۔
② عورت سبحان اللہ کہنے کی بجائے تصفیق کرے۔
③ عورت کے لیے مسجد میں آ کر باجماعت نماز پڑھنا ضروری نہیں ہے۔
④ عورت مردوں کی امامت نہیں کرا سکتی۔
اس لیے مولانا سکھروی صاحب کا یہ کہنا کہ "عورتوں کی نماز کا طریقہ” بالکل مردوں کی طرح ہونا کسی بھی حدیث سے صراحۃً ثابت نہیں ہے۔ بڑا عجیب ہے۔ کیونکہ اس کی صراحت کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ جب شریعت نے دونوں کے درمیان فرق کیا ہی نہیں ہے، تو صاحب شریعت یہ کس طرح فرما سکتے تھے کہ عورتوں کا طریقۂ نماز بالکل مردوں کی طرح ہے۔
اس کی مثال اس طرح سمجھی جا سکتی ہے، شریعت نے مرد اور عورت دونوں کو رمضان المبارک کے روزے رکھنے کا حکم دیا ہے۔ لیکن ان دونوں کے احکام کے درمیان کوئی فرق بیان نہیں کیا ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جس طرح ایک مومن مرد روزہ رکھے گا، بالکل اسی طرح ایک مومن عورت بھی روزہ رکھے گی۔ لیکن کچھ لوگ عورت کے لیے مرد سے مختلف احکام گھڑ لیں۔ اس کی دلیل ان سے پوچھی جائے تو وہ کہیں کہ عورتوں کے روزے رکھنے کا طریقہ بالکل مردوں کی طرح ہونا کسی بھی حدیث سے صراحۃً ثابت نہیں ہوتا۔ ایمانداری سے فرمائیے یہ کوئی دلیل ہے؟ یا اس ’’دلیل‘‘ سے مرد و عورت کے درمیان خود ساختہ فرق ثابت ہو جائے گا؟ فرق تو تب ثابت ہو گا جب آپ نصوصِ شریعت (قرآن کریم یا احادیث) سے اس فرق کو ثابت کریں گے۔ بنابریں اگر مولانا موصوف کا یہ دعویٰ صحیح ہوتا کہ "خواتین کا طریقۂ نماز” مردوں کے طریقے سے جدا ہونا بہت سی احادیث اور آثار صحابہ و تابعین سے ثابت ہے۔ تو پھر ان کو الفاظ کے یہ طوطا مینا اڑانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ لیکن چونکہ ان کو اپنی پیش کردہ احادیث کی حقیقت کا علم ہے، گو وہ اپنے عوام کو اندھیرے میں رکھے ہوئے ہیں۔ اس لیے وہ مختلف قسم کی سخن سازی پر مجبور ہیں۔
❀ تیسرا دعویٰ ان کا ہے کہ چاروں ائمہ فقہ اس بات پر متفق ہیں۔ اس دعوے کو بھی ثابت کرنے کے لیے موصوف نے جو کرتب دکھائے ہیں اور جس بازی گری کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کو ہم اس کے مقام پر جب اس دعوے کی حقیقت پر گفتگو ہو گی واضح کریں گے۔
احادیث و آثارِ صحابہ و تابعین کی اصل حقیقت
اب ہم سب سے پہلے ان دلائل کا جائزہ لیتے ہیں جو انہوں نے احادیث و آثارِ صحابہ کے نام سے پیش کیے ہیں۔ لیجیے ملاحظہ فرمائیے اور ان کی خوفِ الٰہی سے بے نیازی پر بھی خون کے آنسو روئیے۔
مولانا سکھروی صاحب کے دلائل:
[پہلی دلیل]:
[عن ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ انہ سئل کیف کان النساء یصلین علٰی عھد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال کن یتربصن (یتربعن؟) ثم اُمرن ان یحتفزن]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ خواتین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں کس طرح نماز پڑھتی تھیں تو انہوں نے فرمایا کہ پہلے چار زانو ہو کر بیٹھتی تھیں پھر انہیں حکم دیا گیا کہ خوب سمٹ کر نماز ادا کریں۔ (جامع المسانید: ص200 ج1) (خواتین کا طریقۂ نماز: ص38)
اولاً: موصوف نے مذکورہ حوالے کے ساتھ یہ پہلی حدیث پیش کی ہے۔ اس میں پہلے چار زانو ہو کر بیٹھنے کا کیا مطلب اور کیا طریقہ ہے؟ اسی طرح خوب سمٹ کر نماز ادا کریں کا کیا مطلب ہے؟ کب سمٹنا ہے؟ کس طرح سمٹنا ہے؟ موصوف نے ان چیزوں کی کوئی وضاحت نہیں کی۔ کم از کم ہماری سمجھ میں دونوں باتیں نہیں آئیں۔
ثانیاً: تلاش بسیار کے باوجود ہمیں یہ حدیث نہیں ملی ‘محولہ بالا’ کتاب میں نہ دیگر مظان میں۔ اگر موصوف اس کا مکمل حوالہ پیش کر دیں تو ہم ان کے ممنون ہوں گے۔ کیونکہ جب تک یہ کسی کتاب میں نہیں ملے گی، اس کی اسنادی حیثیت واضح نہیں ہو گی اور اس کی اسنادی حیثیت کی وضاحت کے بغیر یہ کسی کام کی نہیں۔ نہ اسے حدیث رسول ہی تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ اگر واقعی یہ حدیث ہے تو اس کا ماخذ اور حوالہ کیا ہے؟ گویا پہلی دلیل ہی حوالے اور اتے پتے کے بغیر ہے یوں موصوف کی ساری کاوش سچ مچ اس شعر کی مصداق ہے۔
خشت اوّل چوں نہد معمار کج
تاثریا می رود دیوار کج
[دوسری دلیل]:
[وعن وائل بن حجر رضی اللّٰہ عنہ قال، قال لی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: یا وائل بن حجر! اذا صلّیت فاجعل یدیْکَ حذاء اذنیک والمرأۃ تجعل یدیھا حذاء ثدییھا]
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا طریقہ سکھایا، تو فرمایا کہ اے وائل بن حجر! جب تم نماز شروع کرو تو اپنے ہاتھ کانوں تک اٹھاؤ اور عورت اپنے ہاتھ چھاتیوں تک اٹھائے۔ (مجمع الزوائد: ص103 ج2)-(خواتین کا طریقۂ نماز)
جواب:
یہ حدیث، واقعی محولہ کتاب میں موجود ہے۔ لیکن وہاں اس حدیث کے بعد یہ الفاظ بھی موجود ہیں۔ (وفیہ) ام یحییٰ بنت عبدالجبار لم اعرفھا۔ اس روایت کی سند میں ایک راویہ ام یحییٰ ہے جسے میں نہیں جانتا۔ موصوف کی علمی دیانت دیکھیے کہ وہاں جہاں سے انہوں نے یہ نقل کی ہے۔ یہ صراحت موجود ہے کہ اس میں ایک راویہ مجہول ہے۔ اس کے بعد اسے حدیث رسول کہہ کر بیان کر دیا ہے۔ حالانکہ جس سند میں ایک راوی بھی مجہول ہو، وہ حدیث ناقابل حجت ہوتی ہے۔ اس کو استدلال میں پیش کیا ہی نہیں جا سکتا۔ اور یہ اصول موصوف کو بھی معلوم ہے، اسی لیے انہوں نے یہ چابک دستی کی کہ صاحب کتاب علامہ ہیثمی نے تو اس کی اسنادی حیثیت کو واضح کر دیا، لیکن موصوف نے اسے حذف کر دیا۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے کہا گیا ہے۔
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا
اسے حدیث رسول کہنا اور اس سے مسئلہ ثابت کرنا، بڑی دیدہ دلیری اور نہایت شوخ چشمانہ جسارت ہے۔
ع یہ انہی کا کام ہے جن کے حوصلے ہیں زیاد
[تیسری دلیل]:
[عن یزید بن حبیب ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مَرّ علی امرأتین تصلّیان فقال اذا سجدتما فضما بعض اللحم الی الارض فان المرأۃ لیست فی ذلک کالرجل]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو عورتوں کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھ کر فرمایا: کہ جب تم سجدہ کرو تو اپنے جسم کے بعض حصوں کو زمین میں چمٹا دو، اس لیے کہ ان میں عورت مرد کے مانند نہیں ہے۔ [السنن، للبیھقی: ص223، ج2]،[اعلاء السنن بحوالہ مراسیل ابی داود: ص19، ج3]
جواب:
یہ روایت مرسل ہے اور وہ بھی سنداً صحیح نہیں۔ اوّل تو محدثین کے نزدیک مرسل روایت ہی ناقابل حجت ہوتی ہے۔ کیونکہ اس میں تابعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست روایت کرتا ہے حالانکہ اس نے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ حدیث نہیں سنی ہوتی۔ اس تابعی نے وہ حدیث کس سے سنی؟ اس کا وہ ذکر نہیں کرتا۔ اس میں بھی یزید بن حبیب تابعی ہے لیکن وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کر رہا ہے، درمیان کے واسطے کا وہ ذکر ہی نہیں کر رہا۔ اسی لیے محدثین مرسل روایت کو منقطع بھی کہتے ہیں۔ اور منقطع روایت نامقبول ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں اس میں ایک راوی سالم ہے جو متروک ہے۔ بنابریں یہ روایت بھی محدثانہ اصول کی روشنی میں ناقابل اعتبار اور ناقابل حجت ہے۔ اسی لیے خود امام بیہقی نے بھی اسے منقطع کہہ کر ہی اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔
[چوتھی دلیل]:
[عن عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہما قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اذا جلست المرأۃ للصلٰوۃ وضعت فخذھا علی فخذھا الاخریٰ و اذا سجدت الصقت بطنھا فی فخذیھا کا سترما یکون لھا وان اللّٰہ تعالیٰ ینظر الیھا ویقول یا ملائکتی اشھدکم انی قدغفرت لھا]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ نماز کے دوران میں جب عورت بیٹھے تو اپنی ایک ران کو دوسری ران پر رکھے اور جب سجدہ میں جائے تو اپنے پیٹ کو اپنی دونوں رانوں سے ملا لے اس طرح کہ اس سے زیادہ سے زیادہ ستر ہو سکے اور اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھتے ہیں اور فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ اے فرشتو! تم گواہ رہو، میں نے اس عورت کی بخشش کر دی۔ (خواتین کا طریقۂ نماز: ص40-41)
جواب:
سبحان اللہ! اس حنفی طریقۂ نماز کی کتنی فضیلت ہے؟ لیکن مولانا سکھروی صاحب نے اتنی ،،اہم حدیث،، کا کوئی حوالہ ہی نہیں دیا اور اسے بغیر حوالے کے اس کتاب میں نقل کر دیا ہے۔ ایسا کیوں کیا گیا ہے؟ ہمارے خیال میں اس کی وجہ اس کا حدیث رسول نہ ہونا ہے۔ کیونکہ یہ روایت سنن الکبریٰ للبیہقی میں موجود ہے لیکن امام بیہقی نے اس کی بابت کہا ہے۔ [لا یحتج بامثالھا] یہ سخت ضعیف ہے اس جیسی روایت سے استدلال نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے بعد انہوں نے اس روایت کے سب سے اہم راوی ابو مطیع الحکم بن عبداللہ کی بابت کہا ہے: اس کی حدیثیں واضح طور پر ضعیف ہوتی ہیں اور اس کی اکثر روایت کردہ حدیثوں کی متابعت نہیں کی جاتی۔ اسے امام یحییٰ بن معین وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ اس روایت کی بابت یہ ساری تفصیل اسی جگہ پر موجود ہے جس جگہ سے اسے نقل کیا گیا ہے اور وہ ہے امام بیہقی کی [السنن الکبریٰ: ج2 ص222-223 طبع قدیم اور طبع جدید کا صفحہ ہے 314-315 ج2]
لیکن مولانا سکھروی صاحب نے اس کا حوالہ دینا ہی مناسب نہیں سمجھا۔ اس کی وجہ وہی ہے جو ہم نے بیان کی۔
[پانچویں دلیل]:
[عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم التسبیح للرجال والتصفیق للنساء]
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے (کہ اگر نماز کے دوران کوئی ایسا امر پیش آ جائے جو نماز میں حارج ہو تو) مردوں کے لیے یہ ہے کہ وہ تسبیح کہیں اور عورتیں صرف تالی بجائیں۔ (ترمذی: ص85، سعید کمپنی، مسلم شریف: ص181، ج1)
جواب:
یہ حدیث صحیح ہے، اس لیے اس میں مرد اور عورت کے لیے جو فرق بتلایا گیا ہے، اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ لیکن یہ اس صورت میں ہے کہ جب عورتیں بھی مسجد میں مردوں کے ساتھ جماعت کے ساتھ نماز پڑھیں۔ جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں بھی مسجد نبوی میں آ کر جماعت کے ساتھ نماز پڑھتی تھیں۔ مردوں کی صفیں آگے ہوتی تھیں اور عورتوں کی صفیں پیچھے۔ اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ امام بھول جائے تو اسے متنبہ کرنے کے لیے مرد سبحان اللہ کہیں۔ اور مردوں میں سے کوئی نہ بولے تو عورتیں تالی بجا کر امام کو متنبہ کریں۔
لیکن ہم مولانا سکھروی صاحب سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ اس حدیث کو مانتے ہیں؟ ہمارا دعویٰ ہے کہ وہ اس صحیح حدیث کو نہیں مانتے۔ کیونکہ اس حدیث کو ماننے کا مطلب یہ ہے کہ عورتوں کو بھی مسجد میں آ کر نماز باجماعت پڑھنے کی اجازت ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ اجازت دی ہے، اسی لیے آپ نے مذکورہ حکم بھی بیان فرمایا۔ لیکن فقہ حنفی میں یہ اجازت ہی نہیں ہے کہ عورت مسجد میں آ کر باجماعت نماز پڑھے۔ جب ایسا ہے تو اس کا واضح مطلب ہے کہ احناف اس حدیث کو نہیں مانتے۔ لیکن اہلحدیث الحمدللہ مانتے ہیں۔
[چھٹی دلیل]:
[قال ابوبکر بن ابی شیبۃ سمعتُ عطاء سئل عن المرأۃ کیف ترفع یدیھا فی الصلاۃ قال حذو ثدییھا (وقال ایضا بعد اسطر) لا ترفع بذلک یدیھا کالرجل و اشار فخفض یدیہ جداً وجمعھا الیہ جدا وقال ان للمرأۃ ھیئۃ لیست للرجل]
امام بخاری رحمہ اللہ کے استاذ ابوبکر بن ابی شیبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے سنا کہ ان سے عورت کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ نماز میں ہاتھ کیسے اٹھائے؟ تو انہوں نے فرمایا: کہ اپنی چھاتیوں تک۔ اور فرمایا نماز میں اپنے ہاتھوں کو اس طرح نہ اٹھائے جس طرح مرد اٹھاتے ہیں اور انہوں نے اس بات کو جب اشارہ سے بتلایا تو اپنے ہاتھوں کو کافی پست کیا اور ان دونوں کو اچھی طرح ملایا اور فرمایا کہ نماز میں عورت کا طریقہ مردوں کی طرح نہیں ہے۔ (المصنف لابی بکر بن ابی شیبۃ: ص239، ج1)۔ (خواتین کا طریقۂ نماز: ص41-42)
جواب:
یہ دو اثر ہیں، یعنی تابعی کے دو قول ہیں۔ لیکن مولانا سکھروی نے ان دونوں کو ایک بنا کر پیش کیا ہے۔ حالانکہ ان دونوں اثروں کی سند الگ الگ ہے۔ موصوف نے ان کی سندیں حذف کر دی ہیں۔ تاکہ ان کی اصل حقیقت واضح نہ ہو سکے۔ اس سے قبل اُن روایات میں بھی، انہوں نے تلبیس اور کتمان سے کام لیا تھا، جو انہوں نے احادیث رسول کے نام سے پیش کیں، جن کی حقیقت ہم واضح کر آئے ہیں۔ اس سلسلے میں بھی پہلی گزارش یہ ہے کہ جب مرد و عورت کے درمیان وہ فرق، جو موصوف بیان کرتے ہیں، کسی بھی صحیح حدیث سے وہ ثابت نہیں کر سکے، تو کسی صحابی یا تابعی کے قول سے وہ کس طرح ثابت ہو سکتا ہے؟ دوسری بات یہ ہے کہ سند کے اعتبار سے بھی یہ دونوں قول ضعیف ہیں۔
① پہلے قول کی پوری سند اس طرح ہے۔ [حدثنا ھشیم قال انا شیخ لنا قال سمعت عطاء] ابوبکر بن ابی شیبۃ کہتے ہیں کہ ہمیں ہشیم نے بیان کیا، ہشیم نے کہا، ہمیں ہمارے ایک شیخ (استاذ) نے خبر دی، اس شیخ نے کہا، میں نے عطاء سے سنا… اس سلسلۂ سند سے واضح ہے کہ ابوبکر بن ابی شیبہ (صاحب کتاب "المصنف”) نے یہ بات عطاء (تابعی) سے نہیں سنی۔
جب کہ مولانا سکھروی صاحب نے لکھا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کے استاذ ابوبکر بن ابی شیبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے سنا…،، درمیان کے دو واسطے موصوف نے چھوڑ دیے۔ ہشیم اور اس کے ایک شیخ کا، عطاء سے سننے والے وہ شیخ ہیں نہ کہ ابوبکر بن ابی شیبہ- اب وہ شیخ کون ہیں؟ اور وہ کیسے ہیں؟ ثقہ ہیں یا ضعیف؟ جب تک اس شیخ کی بابت یہ تفصیل معلوم نہیں ہو گی، یہ قول ضعیف اور پایۂ اعتبار سے ساقط ہو گا۔
② دوسرے اثر کی سند ہے۔ [حدثنا محمد بن بکر عن ابن جریج قال قلت لعطاء] یعنی صاحب کتاب (المصنف) امام ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ ہمیں محمد بن بکر نے بیان کیا، انہوں نے ابن جریج سے، ابن جریج نے کہا، میں نے عطاء سے کہا۔ آگے وہ قول ہے جو سکھروی صاحب نے نقل کیا ہے۔ اس میں ابن جریج اگرچہ ثقہ راوی ہے۔ لیکن محدثین نے اس کی بابت دو باتوں کی صراحت کی ہے۔
❀ ایک تو یہ کہ ابن جریج اگر کہے "سمعت” میں نے سنا، یا "سألت” میں نے سوال کیا یا "اخبرنی” اس نے مجھے خبر دی۔ تو وہ روایت صحیح ہے۔ لیکن جب وہ کہے کہ "فلاں نے کہا” یا "مجھے خبر دی گئی ہے” تو ایسی روایات منکر ہیں۔
❀ دوسرے امام ابوبکر کہتے ہیں کہ میں نے امام علی بن مدینی کی کتاب میں دیکھا، میں نے یحییٰ بن سعید سے ابن جریج کی اس حدیث کی بابت پوچھا جو وہ عطاء سے عن سے روایت کرے؟ تو انہوں نے کہا، وہ حدیث ضعیف ہے۔ میں نے یحییٰ سے کہا، وہ اسے [اخبرنی] کے لفظ سے روایت کرتا ہے، انہوں نے کہا پھر بھی وہ کچھ نہیں، عطاء سے بیان کردہ سب روایات ضعیف ہیں۔ (تہذیب الکمال للمزی: ج12، ص60-63، دارالفکر، بیروت، لبنان)
اس صراحت کی رُو سے یہ دوسرا اثر (قول تابعی) بھی غیر صحیح ہے کیونکہ یہ ایک تو لفظ قال سے ہے۔ دوسرے، یہ عطاء سے بیان کرتا ہے، اور ابن جریج کی وہ روایت جو وہ عطاء سے کرے، چاہے [اخبرنی] سے ہی کرے، وہ کسی کام کی نہیں۔ علاوہ ازیں اسی بات اور اسی صفحے پر دو اثر اور ہیں، ان سے عورت کے لیے بھی ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھانے ہی کا اثبات ہوتا ہے، ملاحظہ فرمائیے!
❀ حضرت عبدربہ بن زیتون کہتے ہیں:
[رأیت ام الدرداء ترفع کفیھا حذو منکبیھا حین تفتتح الصلاۃ فاذا قال الامام، سمع اللّٰہ لمن حمدہ رفع یدیھا، قالت اللھم ربنا لک الحمد]
میں نے سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ جب وہ نماز شروع کرتیں تو اپنی ہتھیلیاں، اپنے کندھوں تک اٹھاتیں۔ اور جب امام (رکوع سے اٹھتے ہوئے) [سمع اللّٰہ لمن حمدہ] کہتا، تو اپنے ہاتھ (کندھوں تک) اٹھاتیں (یعنی رفع الیدین کرتیں) اور کہتیں، [اللّٰہم ربنا لک الحمد]۔
دیکھیے اس اثر میں ایک صحابیہ کا وہ عمل بیان ہو رہا ہے جس میں اہلحدیث کے موقف کی واضح تائید ہے۔ دوسرا اثر ہے۔ اس میں امام اوزاعی، امام زہری سے روایت کرتے ہیں کہ امام زہری نے کہا۔ [ترفع یدیھا حذو منکبیھا] عورت اپنے ہاتھ اپنے کندھوں تک اٹھائے۔ اس میں بھی اہلحدیث ہی کی تائید ہے۔ یہ دونوں اثر مصنَّف ابن ابی شیبہ کے اسی صفحے پر موجود ہیں جن سے حدیث رسول [صلواکما رأیتمونی اصلی] کی تائید ہو رہی ہے۔ علاوہ ازیں صحیح بخاری میں سیدہ ام درداء کا یہ عمل بھی موجود ہے کہ وہ نماز میں مردوں ہی کی طرح بیٹھتی تھیں [وکانت ام الدردا تجلس فی صلاتھا جلسۃ الرجل] [صحیح بخاری: 826 کے بعد]
❀ سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا اپنی نماز میں اس طرح بیٹھتی تھیں جیسے مرد بیٹھتے ہیں (اور وہ فقیہہ تھیں۔) اس سے مراد تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت ہے۔ یعنی تشہد وغیرہ میں عورت اور مرد دونوں میں سے کوئی بھی چار زانوں نہیں بیٹھے گا بلکہ دونوں ہی سنت کے مطابق بیٹھیں گے اور سنت کے مطابق بیٹھنا کس طرح ہے؟ وہ امام بخاری نے اس باب کے تحت احادیث سے بیان کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ پہلے تشہد میں بیٹھ کر دائیں پیر کو کھڑا رکھنا ہے اور بائیں پیر کو اندر کی طرف موڑنا ہے اور آخری تشہد میں بائیں پیر کو آگے نکالنا ہے اور دائیں پیر کو کھڑا رکھنا اور چوتڑوں پر بیٹھنا ہے۔ اس کو حدیث میں تورُّک سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کو امام بخاری رحمہ اللہ کا ترجمۃ الباب میں لانے سے مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اس مسئلے میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔
[ساتویں دلیل]:
[حدثنا ابو الاحوص عن ابی اسحاق و عن الحارث عن علی رضی اللّٰہ عنہ قال اذا سجدت المرأۃ فلتحتفز ولتضم فخذیھا]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا: جب عورت سجدہ کرے تو سرین کے بل بیٹھے اور اپنی رانوں کو ملا لے۔
[آٹھویں دلیل]:
[عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ انہ سئل عن صلاۃ المرأۃ فقال تجتمع و تحتفز]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عورت کی نماز کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: کہ (سب اعضاء کو) ملا لے اور سرین کے بل بیٹھے۔ (خواتین کا طریقۂ نماز: ص42-43)
جواب نمبر: 7 اور 8:
سیدنا علی کا پہلا اثر سنن بیہقی کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے۔ لیکن وہاں صرف [فلتضم فخذیھا] کے الفاظ ہیں [فلتحتفز] نہیں ہے۔
ثانیاً اس روایت میں سیدنا علی سے روایت کرنے والا حارث بن عبداللہ الاعور ہے، جس کی بابت حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ رفض کے ساتھ متہم ہے، علاوہ ازیں اس کی حدیث میں ضعف ہے اور بعض محدثین نے اس کو کَذَّاب کہا ہے۔ (تقریب و تہذیب الکمال: ترجمہ حارث بن عبداللہ الاعور)
گویا یہ اثر سند کے اعتبار سے ضعیف اور ناقابل حجت ہے۔
آٹھواں اثر:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے جس کا کوئی حوالہ درج نہیں۔ ہم نے اپنے طور پر کچھ مظان دیکھے، لیکن یہ اثر نہیں ملا۔ ظاہر بات ہے ایسے اثر کی کیا حیثیت ہے؟ علاوہ ازیں اس میں کس کیفیت کا بیان ہے؟ اس کی بھی وضاحت نہیں۔ عربی کے جو الفاظ ہیں اس کا ترجمہ تو ہے "وہ مجتمع ہو جائے اور سکڑ جائے” لیکن وہ کب مجتمع ہو اور کب سکڑے؟ اس کی کوئی وضاحت نہیں ہے۔ مولانا سکھروی صاحب نے اس کا ترجمہ کیا ہے۔ (سب اعضاء کو) ملا لے اور سرین کے بل بیٹھے۔ لیکن یہ ترجمہ الفاظ سے مطابقت نہیں رکھتا۔ بہرحال ترجمے اور اس کے مفہوم پر بحث تو بعد کی بات ہے، پہلے اس کا حدیث یا صحابی کا اثر (قول) ہونا تو ثابت کیا جائے۔
سجدے کی کیفیت کے بارے میں بالکل واضح فرمانِ رسول اور عمل نبوی:
مذکورہ غیر مستند آثارِ صحابہ کے مقابلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان دیکھیے جس میں نہایت واضح الفاظ میں سجدے کی مذکورہ کیفیت سے منع فرمایا گیا ہے جس کا اثبات احناف کی طرف سے عورتوں کیلئے کیا جا رہا ہے۔ ذرا ملاحظہ فرمائیے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
[اعتدلوا فی السجود: ولا ینبسط احدکم ذراعیہ انبساط الکلب] سجدے میں اعتدال اختیار کرو، اور تم میں سے کوئی شخص اپنے بازو (زمین پر) اس طرح نہ بچھائے جیسے کتا بچھاتا ہے۔ [صحیح بخاری: 822]،[صحیح مسلم:493]
اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو خطاب کر کے سجدے کی حالت میں اپنے بازؤں کو زمین پر بچھانے سے نہ صرف منع فرمایا بلکہ اس طرح کرنے کو کتے کے بیٹھنے کے ساتھ تشبیہ دی۔ آپ کے اس خطاب میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔
ہاں اگر عورتوں کے لیے سجدے کی الگ کیفیت حدیث سے ثابت ہو گی، تو پھر عورتیں اس میں شامل نہیں ہوں گی۔ لیکن کسی بھی حدیث میں عورتوں کے لیے سجدے کے احکام مردوں سے الگ اور مختلف بیان نہیں کیے گئے ہیں۔ جیسا کہ گزشتہ گفتگو سے واضح ہے۔ اس حدیث پر امام بخاری اور مسلم میں امام نووی نے جو باب باندھے ہیں، اس سے سجدے کی کیفیت بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے پہلے سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی حدیث سے، جس میں انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری نماز صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ایک مجمع میں بیان فرمائی، سجدے کی کیفیت والا یہ ٹکڑا بیان کیا ہے۔
❀ [وقال ابو حمید: سجد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ووضع یدیہ غیر مفترش ولا قابضھما] سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور اپنے ہاتھ (زمین پر اس طرح رکھے کہ) وہ نہ بچھے ہوئے تھے اور نہ پہلوؤں کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ (صحیح بخاری:822)
امام نووی نے صحیح مسلم میں اس حدیث پر جو باب باندھا ہے، جو پہلے حوالے میں درج ہے، اس سے سجدے کی مطلوبہ کیفیت بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ اس کا ترجمہ حسب ذیل ہے۔ سجدے میں اعتدال کا بیان، نیز سجدے میں دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھنے، کہنیوں کو پہلوؤں سے بلند رکھنے اور پیٹ کو دونوں رانوں سے اٹھا کر رکھنے کا بیان۔
سجدے میں اعتدال کا کیا مطلب ہے؟ حافظ ابن حجر نے کہا: یعنی ،،افتراش،، (بازو زمین پر بچھا دینے) اور قبض (کہنیوں کو پہلوؤں کے ساتھ ملانے) کے درمیان اعتدال و توسط اختیار کرو۔
اور امام ابن دقیق العید کہتے ہیں:
یہاں اعتدال سے مراد شاید، سجدے کو اس ہیئت اور کیفیت کے مطابق کرنا ہے جس کا حکم دیا گیا ہے۔ [فتح الباری: ج2، ص390، باب مذکور، مطبوعہ دارالسلام- الریاض]
اس مختصر تفصیل سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدے کی کیفیت بھی واضح ہو جاتی ہے اور آپ کا وہ حکم بھی، جس میں آپ نے بلا تفریق مرد و عورت، سب کو اسی طرح سجدہ کرنے کا حکم دیا ہے جیسے آپ خود کیا کرتے تھے۔
بے بنیاد دعویٰ
مذکورہ آٹھ دلائل ذکر کرنے کے بعد (جن کی حقیقت ہم نے واضح کر دی ہے) مولانا سکھروی صاحب فرماتے ہیں: مذکورہ بالا احادیث اور آثارِ صحابہ و تابعین سے عورتوں کی نماز کا طریقہ مردوں کی نماز سے واضح طور پر مختلف ہونا ثابت ہوا۔ اب اس بارے میں ائمہ فقہ کے مسلک ملاحظہ فرمائیں۔ (ص:43) لیکن ہم عرض کریں گے کہ احادیث تو کجا، موصوف مسئلہ زیر بحث میں ایک حدیث بھی پیش نہیں کر سکے۔ احادیث کے نام سے انہوں نے جو کچھ پیش کیا ہے، انہیں احادیث کہنا اور احادیث باور کرانا، جہنم کی وعید کا مستحق بننا ہے۔ اس لیے ہم پورے اخلاص اور خیر خواہانہ جذبے سے عرض کریں گے کہ ان کا مسلک کسی حدیث پر قطعاً مبنی نہیں ہے۔ وہ اس مسئلے میں حدیث کا حوالہ دینا چھوڑ دیں اور یہ باور کرانا ترک کر دیں کہ احناف کا یہ مسئلہ احادیث کے مطابق ہے۔ یہی صورت حال آثارِ صحابہ و تابعین کی ہے کہ سند کے اعتبار سے وہ بھی ضعیف اور ناقابل حجت ہیں۔
عالم عرب کے حنفی علماء کی علمی دیانت یا اعترافِ عجز
گزشتہ چند سالوں میں عالم عرب سے تین کتابیں چھپ کر آئی ہیں۔ تینوں کتابوں کا موضوع یہ ہے کہ حنفی فقہ کے سارے مسائل قرآن و حدیث کے مطابق ہیں۔ تینوں مؤلفین نے اس بات کے اثبات پر پورا زور صرف کیا ہے۔ ہم نے ان تینوں کتابوں میں مرد و عورت کی نماز کے فرق کے دلائل بطور خاص کوشش کر کے دیکھے، کیونکہ تینوں مؤلفین کا مقصد ہی اس تأثر یا حقیقت کی نفی کرنا ہے کہ فقہ حنفی کا کوئی مسئلہ قرآن یا حدیث کے خلاف ہے۔ لیکن تینوں کتابیں دیکھنے کے بعد ہمیں سخت مایوسی ہوئی۔ کیونکہ تینوں نے مرد و عورت کی نماز کے درمیان فرق تو بیان کیا ہے۔ لیکن سوائے ایک مرسل روایت کے اور کوئی حدیث ان میں سے کسی نے بیان نہیں کی۔ سب نے صرف ایک عقلی دلیل کا سہارا لیا ہے کہ عورت کے لیے اس میں پردہ زیادہ [اَسْتَر] ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ عالم عرب سے تعلق رکھنے والے حنفی علماء نے اس بات کو تسلیم کر لیا ہے کہ اس مسئلے میں کوئی حدیث نہیں ہے۔ اگر ہوتی تو یقینا وہ اسے پیش کرتے، کیونکہ ان کا تو مقصد تألیف ہی حنفی فقہ کے مسائل کو قرآن و حدیث کے مطابق ثابت کرنا ہے۔
دوسری بات یہ واضح ہوئی کہ عرب کے حنفی علماء پاک و ہند کے حنفی علماء کے مقابلے میں امین اور دیانت دار ہیں، ان عربی علماء کی یہ ضرورت تھی کہ وہ عورتوں کے حنفی طریقۂ نماز کو حدیث سے ثابت کرتے۔ لیکن چونکہ واقعہ یہ ہے کہ حدیث کی کتابوں میں ایسی ایک بھی صحیح حدیث نہیں ہے، اس لیے انہوں نے سرے سے کوئی حدیث ہی پیش نہیں کی۔ ان کے برعکس ہمارے پاک و ہند کے مرصّع و مقطّع، اصحابِ جُبّہ و دستار علماء امانت و دیانت علمی سے عاری ہیں اور اِفتاء و حدیث کی مسند پر بیٹھ کر جھوٹی اور بالکل ضعیف (بے سرو پا) روایات کو احادیث باور کرنے پر اپنا زور قلم صرف کر رہے ہیں۔ فإنا للّٰہ و إنا الیہ راجعون کیا یہ وہی یہودیانہ تلبیس نہیں ہے جس کا ذکر قرآن میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان الفاظ میں کیا ہے۔ [فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ یَکۡتُبُوۡنَ الۡکِتٰبَ بِاَیۡدِیۡہِمۡ ٭ ثُمَّ یَقُوۡلُوۡنَ ہٰذَا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ] ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں اور پھر کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ (البقرۃ:79)
بہرحال اب ان تینوں کتابوں کے نام (مع مکمل تعارف) اور ان کے اقتباسات ملاحظہ فرمائیں۔ ان میں سے ایک کتاب ہے، جس کا نام ہے۔
① الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید
② صیاغۃ جدیدۃ و میسَّرۃ للاحکام الشرعیۃ علی مذھب الامام أبی حنیفۃ مع ذکر الدلیل من الکتاب والسنۃ [5 جلدیں]
اس کا ترجمہ حسب ذیل ہے: فقہ حنفی، نئے قالب میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مذہب کے مطابق شرعی احکام کی تسہیل اور آرائشِ نو، کتاب و سنت کے دلائل کے ساتھ۔
[مصنف کا نام ہے، عبدالحمید محمود طہماز مطبوعہ الدارالشامیۃ بیروت، طبع اُولی1998ء]
اس کتاب کے مؤلف نے مرد و عورت کی نماز کے درمیان پانچ فرق بیان کیے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں، ہم صرف ترجمہ پیش کر رہے ہیں:
نماز کی پہلی سنت: تکبیر تحریمہ سے پہلے رفع الیدین کرنا، مرد کانوں کے برابر تک دونوں ہاتھ اٹھائے۔ اور عورت کندھوں کے برابر تک، اس لیے کہ اس میں عورت کے لیے زیادہ پردہ ہے۔ برصغیر کے علمائے احناف چھاتی تک ہاتھ اٹھانا بیان کرتے ہیں۔ ان صاحب نے کندھوں تک بیان کیا ہے۔ بہرحال دلیل کے طور پر مصنف نے جو حدیث پیش کی ہے، اس کا ترجمہ حسب ذیل ہے۔
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اللہ اکبر کہتے، تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں کے برابر تک اٹھاتے۔ (صحیح مسلم:391)۔(الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ص215، ج1)
یہ دلیل تو مردوں کے رفع الیدین کرنے کی ہو گئی۔ لیکن عورتیں کس دلیل کی رُو سے کندھوں تک رفع الیدین کریں؟ یہ دلیل فاضل مصنف نے پیش نہیں کی۔
دوسرا فرق:
نماز کی چوتھی سنت یہ ہے کہ مرد اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھے اور عورت اپنے ہاتھ اپنی چھاتیوں کے نیچے سینے پر رکھے، بغیر ہاتھوں کے پکڑے، بلکہ ہتھیلی کے اوپر ہتھیلی رکھے، اس لیے کہ اس میں اس کے لیے زیادہ پردہ ہے۔
اس کی دلیل میں حسب ذیل حدیث پیش کی ہے۔ [سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ نماز میں مرد اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں بازو پر رکھیں۔ [صحیح بخاری740]
اس حدیث میں مرد کے لیے اس حد تک تو دلیل ہے کہ وہ حالت قیام میں اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں بازو پر رکھے۔ لیکن وہ یہ ہاتھ جسم کے کس حصے پر رکھے؟ اس کی کوئی صراحت نہیں۔ اس کے لیے فاضل مصنف نے مسند احمد اور ابوداود کے حوالے سے زیر ناف والا سیدنا علی کا اثر نقل کیا ہے، لیکن اس کی بابت خود ہی صراحت کر دی ہے کہ اس کی سند میں کچھ گفتگو ہے۔ [وفی سندہ مقال] (الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ص217، ج:1)
لیکن عورت کے لیے ہاتھ باندھنے کا جو طریقہ بیان کیا گیا ہے، اس کی کوئی دلیل سوائے استر (زیادہ باپردہ) ہونے کے، کوئی اور بیان نہیں کی۔
تیسرا فرق:
مرد رکوع میں مضبوطی سے اپنے ہاتھوں سے اپنے گھٹنوں کو پکڑ لے اور کمر کو توڑ دے، یعنی اسے ہموار رکھے، نہ وہ اونچی ہو نہ نیچی۔ ایک روایت میں ہے کہ اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر مضبوطی سے رکھ لے، ایک اور روایت میں ہے کہ اپنی انگلیاں کشادہ کر لے۔ یہ سارے احکام مردوں کے لیے ہیں۔ لیکن عورت اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو کشادہ کرے، نہ اپنے گھٹنے پکڑے، بلکہ اپنی انگلیوں کو ملا لے اور اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھے اور اپنے گھٹنوں کو خم دے اور اپنے بازؤں کو اپنے ساتھ ملا کر رکھے۔ اس لیے کہ اس میں اس کے لیے زیادہ پردہ ہے۔ [الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ج1 ص221]
چوتھا فرق:
مرد کے لیے سجدے کی کیفیت بیان کرنے کے بعد لکھا ہے۔ لیکن عورت سجدہ سمٹ اور دبک کر کرے، اپنے پیٹ کو اپنی رانوں کے ساتھ ملا لے اور اپنے بازؤں کو بھی پہلوؤں کے ساتھ ملا لے۔ اس لیے کہ عورت کے معاملے کی بنیاد ستر (پردے) پر ہے، بنابریں اس کے حق میں وہ طریقہ سنت ہے جو سب سے زیادہ پردے والا طریقہ ہے۔ اس کی دلیل یہ مرسل روایت ہے (جو پہلے گزر چکی ہے) جسے امام بیہقی رحمہ اللہ نے بھی منقطع حدیث کہہ کر نقل کیا ہے۔ یزید بن ابی حبیب (تابعی) بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو عورتوں کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہی تھیں ، آپ نے فرمایا: جب تم سجدہ کرو تو اپنا کچھ گوشت (یعنی پیٹ) زمین سے ملا لیا کرو، اس لیے کہ عورت اس معاملے میں مرد کی طرح نہیں ہے۔
[ابوداود فی المراسیل:87]۔[الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ص223، ج1]
پانچواں فرق:
آخری تشہد میں بیٹھنے کی بابت سیدنا ابوحمید ساعدی کی حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا بایاں پیر آگے نکال لیتے اور دایاں پیر کھڑا رکھتے اور اپنی سرینوں (چوتڑوں) پر بیٹھ جاتے۔ اس کو تورُّک کر کے بیٹھنا کہتے ہیں۔ یہ صحیح بخاری کی روایت ہے، لیکن [الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید] کے مؤلف نے اسے مضطرب الاسناد والمتن کہہ کر رد کر دیا ہے۔ گویا ان کے نزدیک مرد آخری تشہد میں بھی تشہد اوّل ہی کی طرح بیٹھے گا۔ اس کے بعد وہ لکھتے ہیں۔ لیکن عورت آخری تشہد میں تورُّک کر کے اپنے چوتڑوں پر بیٹھے (یعنی جس کو صحیح حدیث کے باوجود مَردوں کے لیے ردّ کر دیا گیا ہے، اب اسے عورتوں کے لیے عقل کی بنیاد پر ثابت کیا جا رہا ہے) اور ران کو ران پر رکھ لے اور اپنے پیروں کو دائیں چوتڑ کے نیچے سے باہر نکال لے، اس لیے کہ یہ اس کے لیے زیادہ باپردہ ہے۔
[الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:، ص226، ج1]
❀ اس حنفی عالم نے عورت کے لیے پانچ فرق بیان کیے ہیں اور کسی بھی فرق کے لیے کوئی حدیث سرے سے پیش ہی نہیں کی۔ صرف سجدے کی کیفیت کے لیے ایک مرسل روایت پیش کی ہے جو محدثین کے نزدیک ناقابل حجت ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں اس روایت میں ایک راوی سالم بھی متروک ہے۔ اس اعتبار سے اس کی سند بھی ضعیف ہے۔ پھر اس میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ تم سجدے میں کچھ گوشت زمین کے ساتھ ملا لیا کرو۔ ان الفاظ کا صحیح مفہوم کیا ہے؟ یہ واضح ہی نہیں ہوتا۔ لیکن عورت کے سجدے کے لیے جو تین باتیں بیان کی گئی ہیں اور کی جاتی ہیں کہ
① عورت جھک کر سجدہ کرے۔
② اپنے پیٹ کو اپنی رانوں کے ساتھ ملا لے۔
③ اور اپنے بازؤں کو جمع کر لے۔
کیا یہ تینوں باتیں کچھ گوشت زمین کے ساتھ ملا لو میں آتی ہیں؟ آتی ہیں تو کس طرح آتی ہیں؟ اس کی وضاحت مطلوب ہے۔ بہرحال ہم عرض یہ کر رہے ہیں کہ الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید کے مؤلف نے چار فرقوں کے لیے تو یہ تسلیم کر لیا ہے کہ ان کے پاس ان کی کوئی دلیل کتاب و سنت میں موجود نہیں ہے۔ اگر ہوتی تو وہ ضرور پیش کرتے، کیونکہ ان کا تو مقصد تالیف ہی فقہ حنفی کے ہر مسئلے کو کتاب و سنت کے مطابق ثابت کرنا ہے۔ ان چاروں باتوں کے اثبات کے لیے انہیں یہ عقلی سہارا لینا پڑا ہے کہ عورت کے لیے یہ کیفیتیں اَسْتَر (زیادہ باپردہ) ہیں۔ لیکن ان کو یہ توفیق نہیں ملی کہ پہلے وہ یہ اعتراف کرتے کہ ان چاروں (بلکہ پانچوں) مسئلوں کے لیے کتاب و سنت میں کوئی دلیل نہیں ہے لیکن ہماری عقلوں نے یہ تجویز کیا ہے کہ عورت ان مسئلوں میں اس طرح عمل کرے، کیونکہ ان میں ان کے لیے زیادہ پردہ ہے۔ کیا عقل و قیاس کی بنیاد پر کسی چیز کو فرض و واجب یا سنت و مستحب قرار دیا جا سکتا ہے؟ ہم حنفی علماء سے پوچھتے ہیں کہ جس چیز کی بابت قرآن و حدیث میں کوئی حکم اور کوئی صراحت نہ ہو، کیا اسے عقل و قیاس کی بنیاد پر فرض و واجب یا سنت و مستحب قرار دیا جا سکتا ہے؟ اگر کیا جا سکتا ہے، تو اس کی کیا دلیل ان کے پاس ہے؟ اور اگر نہیں کیا جا سکتا ہے تو انہوں نے آخر کس بنیاد پر یہ فرق تجویز کیا ہے؟ احناف کے پاس صرف سجدے کی کیفیت میں ایک مرسل (اور وہ بھی ضعیف و منقطع) روایت ہے اور وہ بھی نہایت مبہم۔ اس میں وہ ساری کیفیات ہرگز نہیں آتیں جو عورت کے لیے ضروری قرار دی جاتی ہیں۔ سجدے کی یہ کیفیات بھی گویا خانہ ساز ہیں جن کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں۔
❀ دوسرے حنفی عالم کی کتاب اور اس کا تعارف:
اس کا نام ہے۔ "الفقہ الحنفی و ادلّتہ” حنفی فقہ اور اس کے دلائل مؤلف کا نام ہے، الشیخ اسعد محمد سعید الصاغرجی مطبوعہ دارالکلم الطیب، دمشق، بیروت- طبع اُولیٰ 2000ء
یہ تین جلدوں میں ہے۔ اس کتاب میں عورت کے لیے تین فرق بیان کیے گئے ہیں۔
① مرد اپنے ہاتھ ناف کے نیچے رکھے اور عورت ہتھیلی پر ہتھیلی چھاتی کے نیچے رکھے۔ (ص173)
② عورت سجدہ جھک کر کرے اور اپنا پیٹ اپنی رانوں کے ساتھ ملا لے، اس لیے کہ اس کے لیے اس میں زیادہ پردہ ہے۔ (ص174)
③ عورت اپنی بائیں سرین پر بیٹھے اور اپنا بایاں پیر دائیں سرین کے نیچے سے نکال لے۔ اس لیے کہ یہ طریقہ اس کے لیے زیادہ باپردہ (استر) ہے۔ (ص175)
دیکھ لیجیے! اس حنفی عالم نے بھی ان فروق کے لیے کتاب و سنت سے کوئی دلیل پیش نہیں کی۔ حالانکہ اس کتاب کا موضوع بھی فقہ حنفی کے مسائل کے دلائل بیان کرنا ہے۔
❀ تیسری کتاب اور اس کا تعارف:
اس کا نام ہے "ارکان الاسلام فقہ العبادات علی مذھب الامام ابی حنیفۃ النعمان” مؤلف کا نام ہے، وھبی سلیمان غاؤجی۔ یہ دو جلدوں میں ہے۔ مطبوعہ دارالبشائر الاسلامیہ، بیروت، طبع اُولی 2002ء اس میں بھی صرف تین فرق بیان کیے گئے ہیں۔
① مرد تکبیر تحریمہ کے وقت، کانوں کے برابر تک رفع الیدین کرے۔ لیکن عورت کندھوں کے برابر تک رفع الیدین کرے۔ اس لیے کہ اس کی زندگی اور نماز کی بنیاد پردے پر ہے۔
② مرد اپنا دایاں ہاتھ بائیں پر، ناف کے نیچے رکھے۔ لیکن عورت اپنا دایاں ہاتھ بائیں پر، سینے پر رکھے۔ بغیر تحلیق کے (حلقہ بنائے بغیر) اس لیے کہ اس میں اس کے لیے زیادہ پردہ ہے۔
③ عورت اپنی سرین (چوتڑ) پر بیٹھے۔ اس لیے کہ اس میں اس کیلئے زیادہ پردہ ہے۔ اس حنفی عالم نے بھی ان فروق کے لیے کوئی دلیل کتاب و سنت سے نہیں دی ہے۔ صرف یہ عقلی دلیل دی ہے کہ اس میں پردہ زیادہ ہے۔
حنفی علماء سے دو سوال
اس مقام پر ہم حنفی علماء سے دو سوال اور کرنا چاہتے ہیں۔
① پہلا سوال
ایک یہ کہ عورت اگر کندھے تک ہاتھ اٹھانے کی بجائے، دو انچ اور زیادہ ہاتھ اٹھا کر کانوں کے برابر تک (مردوں کی طرح) ہاتھ اٹھا لے، تو اس میں بے پردگی کس طرح ہوگی؟ آخر اس میں بے پردگی کا کون سا پہلو ہے؟ اگر یہ فرق نص پر مبنی ہوتا، تو پھر یہ سوال کرنے کا مجاز کوئی مسلمان نہیں ہو سکتا تھا۔ لیکن یہ سوال ہم اسی لیے کر رہے ہیں کہ اس کی بنیاد عقل و قیاس ہے۔ اس لیے ہمیں بھی عقل و قیاس کی بنیاد پر سوال کرنے کا حق حاصل ہے تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ واقعی اس کی کوئی عقلی و قیاسی بنیاد ہے۔ ورنہ ہمارے نزدیک تو اس کی عقلی و قیاسی بنیاد بھی نہیں ہے۔ شرعی بنیاد تو پہلے ہی نہیں ہے، جیسا کہ تفصیل سے وضاحت کی جا چکی ہے۔ اسی طرح دوسری کیفیات کی بابت بھی یہی سوال ہے کہ ان میں پردے کا پہلو کس طرح ہے؟ اور اگر عورت، مرد ہی کی طرح وہ کام کرے، تو اس میں بے پردگی کیسے اور کس طرح ہے؟
② دوسرا سوال
یہ ہے کہ شریعتِ اسلامیہ نے عورت کے لیے پردے کے احکام دیے ہیں اور بے پردگی کی صورتوں سے روکا ہے۔ اگر ان کیفیات و ہیئات میں واقعی عورت کے لیے پردہ اور بصورت دیگر بے پردگی ہوتی۔ تو کیا شریعت اس کا اہتمام کرنے کا حکم نہ دیتی؟ کیا اللہ تعالیٰ بھول گیا؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسئلے کو اس طرح واضح نہیں کر سکے جیسا کہ بعد میں فقہائے احناف نے واضح کیا؟
چاروں مذاہب کے متفق ہونے کا دعویٰ اور اس کی حقیقت:
اس کے بعد مولانا سکھروی صاحب نے چاروں ائمہ فقہ کے مسالک اور ان کی فقہی کتابوں سے چند عربی عبارتیں نقل کر کے یہ تأثر دیا ہے کہ چاروں مذاہب بھی اس معاملے میں متفق ہیں۔ ہم فی الحال اس پر زیادہ گفتگو نہیں کرتے، اس لیے کہ ہمارے نزدیک اصل ماخذ صرف کتاب و سنت ہیں۔ اس لیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کا قائل و فاعل کون ہے یا کون کون ہیں؟ اصل بات یہ ہے کہ ان کے پاس اپنے اس قول یا عمل کی کوئی دلیل بھی ہے یا نہیں؟ اور ہم پورے اذعان و یقین بلکہ تحدّی سے یہ عرض کرتے ہیں کہ احناف کے علاوہ بھی اگر کوئی اس مسئلے میں احناف کا ہم نوا ہے تو جیسے احناف کوئی دلیل پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ [ولوکان بعضھم لبعض ظھیرا] اسی طرح دوسرے اہل فقہ بھی اس مسلک کی صحت کی کوئی دلیل پیش نہیں کر سکتے۔ [ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین] اگر سچے ہو، تو دلیل پیش کر کے دکھاؤ۔
شوافع کا اعترافِ عجز:
یہی وجہ ہے کہ شافعی حضرات بھی احناف کی طرح، عورتوں کے لیے الگ طریقۂ نماز تجویز کرتے ہیں لیکن ان کے سمجھ دار لوگ یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ اس سلسلے میں جن روایات کا حوالہ دیا جاتا ہے وہ سب ضعیف ہیں۔ ان میں اگر کوئی روایت کچھ کام کی ہے تو وہ صرف ایک مرسل روایت ہے۔ چنانچہ مولانا سکھروی صاحب نے مذہب شافعی کے ضمن میں جس کتاب کا حوالہ دیا ہے، وہاں سجدے کی کیفیت میں مرد اور عورت کے لیے فرق کیا گیا ہے۔ لیکن اس مقام کو نکال کر دیکھ لیجیے۔ وہاں امام نووی رحمہ اللہ نے مرد کے لیے تو دلیل کے طور پر حدیث پیش کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں اپنے بازو اپنے پہلوؤں سے الگ رکھتے تھے اور اپنے ہاتھوں کے درمیان اتنی کشادگی رکھتے تھے کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔ لیکن عورت چمٹ کر سجدہ کیوں کرے؟ اس کی کوئی دلیل انہوں نے پیش نہیں کی۔ بلکہ "المہذب” (فقہ شافعی کی کتاب) کے متن میں جو وجہ بیان کی گئی ہے کہ اس میں عورت کے لیے زیادہ پردہ ہے، اس کی شرح میں وہ خاموشی سے گزر گئے ہیں۔ [المجموع شرح المہذب: ج3، ص405-406]
اسی طرح اس سے قبل بھی ایک جگہ وہ لکھتے ہیں:
[والمعتمد فی استحباب ضم المرأۃ بعضھا الی بعض کونہ استرلھا وذکر البیھقی بابا ذکر فیہ احادیث ضعفھا کلھا واقرب مافیہ حدیث مرسل فی سنن ابی داود] شافعیہ کے اس مسلک کی کہ عورت کا نماز میں سمٹنا مستحب ہے۔ ساری بنیاد اس بات پر ہے کہ یہ کیفیت اس کے لیے زیادہ باپردہ ہے۔ (اس کے لیے ان کے پاس کوئی حدیث نہیں ہے۔) امام بیہقی رحمہ اللہ نے (السنن الکبریٰ میں) ایک باب میں کچھ حدیثیں ذکر کی ہیں، ان سب کو انہوں نے ضعیف قرار دیا ہے۔ ان میں ایک وہ مرسل حدیث کچھ غنیمت ہے جو مراسیل ابی داود میں ہے۔ [المجموع: ج3، ص381]
حنبلی مذہب کے بیان میں بدترین خیانت کا ارتکاب:
حنبلی مذہب کے بارے میں بھی مولانا سکھروی صاحب نے فرمایا ہے کہ وہ بھی اس مسئلے میں احناف کے مطابق ہے۔ لیکن اس سلسلے میں انہوں نے جو عبارت پیش کی ہے، وہ بدترین خیانت کی ذیل میں آتی ہے، غالباً اسی لیے انہوں نے عربی عبارت نقل کرنے پر اکتفا کی ہے، اس کا ترجمہ نہیں دیا۔ ہم موصوف کی پیش کردہ عربی عبارت اور اس کا ترجمہ عرض کرتے ہیں۔ آپ اسے ملاحظہ فرما کر ان کی امانت و دیانت کی داد دیجیے۔ لکھتے ہیں: [وفی مذھب الحنابلۃ: و فی المغنی: و ان صلت امرأۃ بالنساء قامت معھن فی الصف و سطاً، قال ابن قدامۃ فی شرحہ اذا ثبت ھذا فانھا اذا صلت بھن قامت فی وسطھن، لا تعلم فیہ خلافا بین من رأی لھا ان تؤمھن ولان المرأۃ یستحب لھا التستر ولذلک لایستحب لھا التجا فی۔۔۔۔ الخ]
اس کا ترجمہ انہوں نے تو نہیں کیا، ہم کرتے ہیں: اور حنابلہ کا مذہب: (فقہ حنبلی کی کتاب) المغنی میں ہے۔ اگر عورت، عورتوں کو نماز پڑھائے (یعنی عورت عورتوں کی امامت کرے) تو وہ عورتوں کے ساتھ صف کے درمیان میں کھڑی ہو (یعنی مرد کی طرح آگے نہ کھڑی ہو) ابن قدامہ نے اس کی شرح میں کہا ہے۔ جب یہ بات (کہ عورت عورتوں کی امامت کرا سکتی ہے) ثابت ہو گئی، تو جب وہ ان (عورتوں) کو نماز پڑھائے تو ان کے درمیان میں کھڑی ہو۔ جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ عورت عورتوں کی امامت کرا سکتی ہے، ان کے درمیان اس کی بابت کوئی اختلاف ہمارے علم میں نہیں کہ ایسی صورت میں عورت صف کے درمیان میں کھڑی ہو گی۔ (اس لیے کہ یہی طریقہ سیدہ عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ یہ عبارت موصوف نے نقل نہیں کی ہے، لیکن یہ اصل کتاب میں موجود ہے۔ ہم نے یہ اس لیے نقل کی ہے کہ اگلی عبارت کا تسلسل اس کے بغیر قائم نہیں ہوتا) اور اس لیے کہ عورت کے لیے پردہ پوشی مستحب ہے، اسی لیے اس کے لیے علیحدہ (آگے کھڑا ہونا) مستحب نہیں ہے (اور اس کا صف کے درمیان میں کھڑا ہونا اس کے لیے اَسْتَر (زیادہ باپردہ) ہے، پس اس کے لیے یہی مستحب ہے)
[المغنی مع الشرح الکبیر: ج2، ص82، و طبع جدید: ج2، ص17]
بتلائیے!
اس عبارت میں کہیں بھی اس فرق کی تفصیل ہے جو زیربحث ہے اور جس کی بابت مولانا سکھروی نے دعویٰ کیا ہے کہ حنبلی مذہب میں بھی ایسا ہی ہے۔ وہ پانچ باتیں یا آٹھ فرق اس میں کہاں ہیں جن کا اس عبارت میں ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس میں تو ایک بالکل مختلف مسئلہ بیان کیا گیا ہے اور وہ ہے عورت کا عورتوں کی امامت کرانے کا۔ اس کی بابت احادیث میں تو کوئی صراحت نہیں ملتی۔ البتہ سیدہ عائشہ و ام سلمہ رضی اللہ عنہما کا عمل ملتا ہے کہ انہوں نے عورتوں کی امامت کرائی، تو وہ صف کے درمیان میں کھڑی ہوئیں۔ اسی سے استدلال کرتے ہوئے مذکورہ عربی عبارت میں یہی بات بیان کی گئی ہے کہ ایسی صورت میں عورت درمیان میں کھڑی ہو گی نہ کہ آگے، جیسے مردوں کا امام آگے کھڑا ہوتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس میں بھی تو مرد و عورت کے درمیان ایک فرق ہی بیان کیا گیا ہے، اس لیے اسے غیر متعلق نہیں کہا جا سکتا لیکن ہم عرض کریں گے کہ یہ فرق بھی اگرچہ بعض علماء کے نزدیک صحیح ہے۔ لیکن جن فروق پر بحث ہو رہی ہے، اس کا تو اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ان فروق میں تو حنابلہ احناف کے مطابق نہیں ہیں۔ پھر حنابلہ کو بھی اس مسئلے میں اپنا ہمنوا قرار دینا کیوں کر صحیح ہے؟ علاوہ ازیں یہاں ایک اور سوال ہے کہ کیا فقہ حنفی میں عورت کا عورتوں کی امامت کرانا جائز ہے؟ ان کے ہاں تو عورت عورتوں کی امامت ہی نہیں کرا سکتی۔ ان کے نزدیک یہ مکروہ عمل ہے۔ جب عورت کا امامت کرانا ہی مکروہ ہے تو پھر اس میں مرد و عورت کے درمیان فرق کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔ اس اعتبار سے بھی مولانا موصوف کا مذکورہ اقتباس نقل کرنا بے محل بھی ہے اور علمی خیانت بھی۔ اور نتیجہ اس کا [ضلوا فاضلوا] کا مصداق بننا ہے۔ اعاذنا اللٰہ منہ۔
پانچ دعوے اور ان کی حقیقت:
مولانا سکھروی صاحب لکھتے ہیں: مذکورہ بالا احادیث طیبہ، آثارِ صحابہ و تابعین اور چاروں مذاہب فقہ حقہ کے حضرات فقہائے کرام کی عبارات سے جو عورتوں کی نماز کا مسنون طریقہ ثابت ہوا، وہ مردوں کے طریقۂ نماز سے جدا ہے۔ عورتوں کے طریقۂ نماز میں زیادہ سے زیادہ پردہ اور جسم سمیٹ کر ایک دوسرے کے ملانے کا حکم ہے اور یہ طریقہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک سے آج تک اس امت میں متفق علیہ اور عملاً متواتر ہے۔ آج تک کسی صحابی یا تابعی یا دیگر فقہائے امت کا کوئی ایسا فتویٰ نظر نہیں آیا جس میں عورتوں کی نماز کو مردوں کی نماز کے مطابق قرار دیا ہو۔ نیز خود اکابر اہلحدیث حضرات اس مسئلے میں مذکورہ بالا احادیث کے مطابق فتویٰ دیتے رہے ہیں۔ (اس کے بعد مولانا عبدالجبار غزنوی رحمہ اللہ کا فتویٰ نقل کیا گیا ہے جو حنفی فقہ کے مطابق ہے۔) (خواتین کا طریقۂ نماز: ص45-46)
جواب:
اس میں موصوف نے اپنے چند دعووں کو دہرایا ہے جن کی حقیقت اللہ کی توفیق سے ہم واضح کر آئے ہیں۔ تاہم پھر مختصر وضاحت کی جاتی ہے تاکہ اتمامِ حجت ہو جائے۔ [لِّیَہۡلِکَ مَنۡ ہَلَکَ عَنۡۢ بَیِّنَۃٍ وَّ یَحۡیٰی مَنۡ حَیَّ عَنۡۢ بَیِّنَۃٍ] (الانفال:42)
① پہلا دعویٰ:
کہ احادیث و آثار اور چاروں مذاہب سے عورتوں کی نماز کا جو مسنون طریقہ ثابت ہوا، وہ مردوں کے طریقۂ نماز سے جدا ہے۔ لیکن اس دعوے کی پوری حقیقت ہم [الحمدللہ] واضح کر آئے ہیں۔ اس دعوے کی پشت پر ایک بھی صحیح حدیث نہیں ہے۔ اس لیے نماز کا وہی طریقہ مسنون ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور وہ مرد ہو یا عورت، دونوں کے لیے ایک ہی طریقہ ہے، سوائے بعض ہدایات کے۔ جب تک علمائے احناف صحیح احادیث سے وہ فرق ثابت نہیں کر دیتے، انہیں یہ دعویٰ کرنے کا قطعاً کوئی حق نہیں۔
② دوسرا دعویٰ:
کہ عورتوں کے طریقۂ نماز میں زیادہ سے زیادہ پردہ کرنے اور جسم سمیٹ کر ایک دوسرے کے ملانے کا حکم ہے۔ لیکن یہ حکم کہاں ہے؟ ہمیں تو کسی حدیث میں یہ نہیں ملا۔ [هاتوا۟ برۡهـٰنكمۡ إن كنتمۡ صـٰدقین] (اگر سچے ہو، تو دلیل پیش کرو!)
③ تیسرا دعویٰ:
کہ یہ طریقہ حضور کے عہد مبارک سے آج تک متفق اور متواتر ہے۔ یہ محض لاف زنی ہے۔ جب یہ طریقہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بھی حدیث سے ثابت نہیں، تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک سے آج تک کس طرح اسے متفق علیہ اور متواتر قرار دیا جا سکتا ہے؟ اس کے خلاف سیدہ ام درداء کے دواثر تو ہم نقل کر آئے ہیں، ایک صحیح بخاری میں ہے اور ایک مصنف ابن ابی شیبہ میں۔ یہ دونوں اثر ہی اتفاق و تواتر کے دعوے کی نفی کر دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں جب خواتین کا یہ طریقۂ نماز ہی کسی حدیث سے ثابت نہیں، تو یہ کس طرح باور کیا جا سکتا ہے کہ عہد رسالت و عہد صحابہ و تابعین میں عورتیں اس طرح نماز پڑھتی تھیں۔ [سبحانک ھذا بھتان عظیم]
④ چوتھا دعویٰ:
ہے کہ کسی صحابی یا تابعی یا دیگر فقہائے امت کا کوئی ایسا فتویٰ نظر نہیں آیا جس میں عورتوں کی نماز کو مردوں کے مطابق قرار دیا ہو۔ اس کا جواب ہم پہلے دے آئے ہیں کہ جو مسئلہ واضح ہو، اس میں کوئی ابہام ہو نہ اختلاف۔ اس کی بابت کوئی فتویٰ دیتا ہے نہ کوئی پوچھتا ہی ہے۔ اس کی مثال ہم نے عرض کی تھی کہ رمضان المبارک کے روزے مرد اور عورت دونوں پر فرض ہیں اور دونوں کے لیے اس کے آداب و فرائض بھی یکساں ہیں۔ اب ایک شخص عورتوں کے لیے کچھ نئے آداب گھڑ لیتا ہے، اس سے اس کی دلیل مانگی جائے، تو کہے کہ آج تک کسی صحابی یا تابعی یا فقہائے امت سے کسی کا فتویٰ نظر سے نہیں گزرا جس میں مرد اور عورت کے لیے روزہ رکھنے کا ایک ہی طریقہ قرار دیا گیا ہو۔ بتلائیے! یہ کوئی معقول دلیل ہے؟ جو چیز مسلمہ ہو اور اس کی بابت قرآن یا حدیث کی واضح تصریحات موجود ہوں، تو وہاں کسی کے فتویٰ کی ضرورت ہوتی ہے نہ کوئی دیتا ہی ہے۔ جو مسلمہ مسئلے کے خلاف کوئی چیز پیش کرے، تو یہ اس کی ذمے داری ہے کہ وہ اس کی دلیل پیش کرے اور اسے ثابت کرے۔ اسی طرح عورتوں کا مردوں کی طرح نماز پڑھنے کا مسئلہ بالکل واضح ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: [صلواکما رأیتمونی اصلی] (صحیح بخاری:631) پر مبنی ہے۔ اب جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ عورتوں کا طریقۂ نماز مردوں سے مختلف ہے، اس کا یہ دعویٰ اس حدیث کے خلاف ہے۔ اس لیے اپنے دعوے کے اثبات کے لیے دلیل پیش کرنا اس کی ذمے داری ہے۔
⑤ پانچویں دعویٰ:
اکابر اہلحدیث کی بابت دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن اقتباس صرف مولانا عبدالجبار غزنوی رحمہ اللہ کا دیا ہے۔ کیا صرف ایک بزرگ کو اہل حدیث کے اکابر کہا جا سکتا ہے؟ مولانا عبدالجبار غزنوی یقینا اکابر اہلحدیث میں سے ہیں لیکن وہ ،،اکابر،، نہیں ہیں، ایک اکبر ہیں۔ وہ ہمارے ایک بڑے اور عظیم بزرگ ہیں۔ لیکن اہلحدیث کو تو آپ خود غیر مقلد کہتے ہیں تو پھر ہمارے سامنے ہمارے کسی بزرگ کا قول یا فتویٰ نقل کرنے کا کیا فائدہ؟ عدم تقلید کی برکت سے [الحمدللہ] ہم اکابر پرستی سے محفوظ ہیں۔ اس لیے مولانا غزنوی کا یہ فتویٰ بھی ہمارے نزدیک اسی طرح غلط ہے جس طرح آپ کی ساری کتاب غلط، بلکہ اغلوطات کا مجموعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمائے اہلحدیث میں کسی نے مولانا غزنوی کی تائید نہیں کی۔ اہلحدیث کا جو مسلک ہے، وہ اسی فتاوی علمائے حدیث میں دوسری جگہ موجود ہے جہاں سے مولانا غزنوی کا فتویٰ نقل کیا گیا ہے۔ لیجیے ملاحظہ فرمائیے! سوال میں احناف ہی کے پیش کردہ دلائل دیے گئے ہیں۔
جواب:
عورت مرد دونوں کا نماز پڑھنے کا ایک ہی طریقہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: [صلواکما رأیتمونی اصلی] (صحیح البخاری:631) اور بخاری ،،باب سنۃ الجلوس في التشھد،، میں ہے: [کانت ام الدرداء تجلس فی صلوتھا جلسۃ الرجل و کانت فقیھۃ] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں بھی مردوں کی طرح بیٹھیں۔ اور جو حدیثیں بیہقی اور ابوداود کی مذکور فی السوال ہیں، وہ ضعیف ہیں قابل حجت نہیں۔ (فتاویٰ علمائے حدیث: ج2، ص175)
یہ ہے اہلحدیث کا مسلک، جو حدیث نبوی [صلواکما رأیتمونی اصلی] (صحیح البخاری:631) پر مبنی ہے۔ اس حکم [صلوا] میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ دونوں کے لیے طریقۂ نبوی کے مطابق نماز پڑھنا ضروری ہے۔ اور وہ طریقہ دونوں کے لیے ایک ہی ہے۔ سوائے ان مخصوص باتوں کے جن کی بابت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے لیے الگ ہدایات دی ہیں۔ اور احناف نے ان کے لیے جو الگ طریقۂ نماز مقرر کر رکھا ہے، وہ کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے، اس لیے عورت کے لیے وہ طریقہ اختیار کرنا اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک اس طریقے کو احادیث سے ثابت نہیں کر دیا جاتا ہے۔ اور ہمارا دعویٰ ہے کہ علمائے احناف اسے قیامت تک ثابت نہیں کر سکتے۔ ،،میں نہ مانوں،، کا علاج تو کسی کے پاس نہیں ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ ان کے پاس اپنے موقف کے حق میں ایک بھی صحیح حدیث نہیں ہے۔ جیسا کہ گزشتہ صفحات کے مباحث سے واضح ہے۔
ایک بے بنیاد دعوے یا اصول کا بار بار حوالہ:
مولانا سکھروی صاحب لکھتے ہیں: جہاں تک اہلحدیث حضرات کے دعوے کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں نہ تو ان کے پاس کوئی قرآنی آیت ہے اور نہ کوئی حدیث اور نہ ہی کسی خلیفۂ راشد کا فتوی۔ البتہ اگر وہ سیدہ ام درداء کا اثر استدلال میں پیش کریں جو یہ ہے کہ "سیدہ ام درداء نماز میں مردوں کی طرح بیٹھتی تھیں”۔ (المصنف ابن ابی شیبہ: ج1، ص20)
تو اس اثر کے بارے میں عرض یہ ہے کہ اس اثر سے استدلال کرنا کئی وجہ سے درست نہیں۔ (صفحہ:47)
جواب:
مولانا موصوف کا یہ اصول، جو یہاں پھر پیش کیا گیا ہے، یکسر غلط ہے جس کا بودا پن ہم اس سے قبل دو مرتبہ واضح کر آئے ہیں ۔ بات یہ ہے کہ قرآنی آیت، یا حدیث پیش کرنا تو علمائے احناف کی ذمے داری ہے کیونکہ انہوں نے ایک خود ساختہ طریقہ اپنایا ہوا ہے۔ اہلحدیث کے پاس تو ایک نہایت واضح حدیث موجود ہے۔ جیسے رمضان کے روزے رکھنے کا حکم عام ہے، اس میں مرد و عورت دونوں شامل ہیں۔ اب جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ عورت روزے میں فلاں فلاں کام نہ کرے یا فلاں کام کرے، جب کہ مردوں کے لیے ان کو وہ ضروری قرار نہ دے۔ جب اس کو ایسا کرنے سے روکا جائے، تو وہ کہے کہ میرے سامنے قرآن کی آیت پیش کرو، یا کوئی حدیث یا کسی خلیفۂ راشد کا فتوی۔ فرمائیے یہ ہٹ دھرمی ہے یا علمی استدلال؟ آخر آپ عورتوں کے لیے روزے کے نئے احکام تجویز کرنے والے کو کیا جواب دیں گے؟ کیا اس کا جواب اس کے سوا کوئی اور بھی ہے، یا ہو سکتا ہے کہ قرآن کا حکم عام ہے، اس میں عورتوں کے لیے الگ طریقہ تجویز نہیں کیا گیا ہے۔ اس لیے جس طرح مرد روزہ رکھے گا، عورت بھی اسی طرح روزہ رکھے گی، روزے کے جو آداب و احکام مرد کے لیے ضروری ہیں، عورتوں کے لیے بھی وہی ہوں گے۔ کیا یہ دلیل نہیں ہے؟ اس دلیل کے علاوہ کیا آپ قرآن کی کوئی آیت یا حدیث یا خلیفۂ راشد کا فتویٰ پیش کر سکتے ہیں؟ اگر کر سکتے ہیں تو کر کے دکھائیں، ہم بھی آپ کو دکھا دیں گے۔ پہلے اس اصول کو۔ اگر یہ کوئی اصول ہے؟ آپ استعمال کر کے دکھلائیں۔
[ما ھو جوابکم فھو جوابنا] ہمارے موقف کی اصل بنیاد حدیث رسول ہے۔ پھر یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اہلحدیث کے پاس ان کے مؤقف پر کوئی حدیث نہیں ہے؟ جب اس مسئلے کی بنیاد ہی حدیث رسول پر ہے۔ تو پھر قرآنی آیت کا مطالبہ یا خلیفہ ٔراشد کا فتوی مانگنا ہٹ دھرمی کے سوا کیا ہے؟ ہاں کوئی مطالبہ ہو سکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ اس حدیث کی صحت ثابت کرو۔ اور وہ [الحمدللہ] ثابت ہے۔
❀ دوسرا مطالبہ یہ ہو سکتا ہے کہ اس حدیث سے مرد اور عورت دونوں کی نماز کا ایک ہی طریقہ کس طرح ثابت ہوتا ہے؟
تو اس کے جواب میں ہم عرض کریں گے۔ وہ اس طرح کہ اللہ کے رسول نے عورتوں کے لیے نماز کا الگ طریقہ "سوائے چند باتوں کے” تجویز نہیں کیا۔ اس لیے اس حکم میں کہ "تم نماز اس طرح پڑھو” جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ مردوں کے ساتھ عورتیں بھی شامل ہوں گی۔ دونوں کے لیے وہی احکام ہوں گے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔ ان میں سے مرد یا عورت کے لیے وہی چیز مستثنیٰ ہو گی جس کا استثناء حدیث رسول سے ثابت ہو گا۔ اور مرد کانوں تک رفع الیدین کرے اور عورت کندھوں تک۔ مرد سجدہ اس طرح کرے اور عورت اس طرح، وغیرہ مرد اور عورت کے درمیان یہ فرق کسی حدیث میں بیان نہیں ہوا۔ اس لیے اس فرق کا کوئی جواز نہیں۔ حدیث رسول سے ان کو ثابت کر دیا جائے، تو ہمیں ماننے میں ہرگز تامل نہیں ہو گا۔ ہمارے استدلال کی بنیاد صرف اور صرف حدیث رسول ہے۔ سیدہ ام درداء یا کسی اور کا اثر نہیں۔ وہ تو عہد صحابہ کا عمل بتلانے کے لیے نقل کیا جاتا ہے۔ اس لیے موصوف نے سیدہ ام درداء کے اثر کے جو تین جواب پیش کیے ہیں، اس پر بحث کرنا ہم غیر ضروری سمجھتے ہوئے آگے چلتے ہیں۔
حدیث رسول کو کنڈم (ناقابلِ حجت قرار دینے) کرنے کی مذموم سعی:
البتہ اس کے بعد موصوف نے حدیث، [صلواکما رأیتمونی اصلی] کو کنڈم کرنے کی کوشش کی ہے، ہم اس پر بحث کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ پہلے آپ موصوف کی عبارت ملاحظہ فرمائیں۔ لکھتے ہیں: نیز اگر یہ حضرات [صلواکما رأیتمونی اصلی] سے استدلال کریں کہ عورتوں کی نماز مردوں کے مطابق ہے، تو یہ استدلال صحیح نہیں۔
اوّل تو اس جملے کا سیاق و سباق ایک خاص واقعہ ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک خاص وفد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیس دن قیام کے لیے آیا تھا، واپسی پر آپ نے ان کو کچھ نصیحتیں فرمائیں ان میں سے ایک نصیحت یہ بھی تھی کہ [صلواکما رأیتمونی اصلی] [صفحہ:49-50]
جواب:
یہ بات تو صحیح ہے کہ ایک وفد آپ کے پاس آیا جس میں تقریباً سب جوان تھے۔ لیکن انہوں نے 20 دن جو آپ کے پاس قیام کیا، تو اس کا مقصد دین کی تعلیم و تربیت حاصل کرنا تھا یا کچھ اور؟ ظاہر بات ہے وہ آپ کے پاس دین سیکھنے ہی کے لیے آئے تھے اور واپسی پر آپ نے دیگر نصیحتوں کے ساتھ یہ نصیحت بھی فرمائی کہ: تم نماز اس طرح پڑھنا، جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ [صحیح بخاری:631]
اس سیاق و سباق میں کیا آپ کا یہ فرمان غیر اہم ہو گیا کہ اس سے استدلال صحیح نہیں؟ اس سیاق و سباق میں ایسی کون سی چیز ہے جس نے آپ کے اس فرمان کو (نعوذ باللہ) کنڈم (ناقابلِ حجت) کر دیا؟ بلکہ یہ سیاق و سباق تو اس فرمان کی اہمیت کو مزید واضح کرتا ہے کہ جو لوگ دور دراز سے آپ کے پاس دین سیکھنے کے لیے آئے تھے، آپ نے ان کو نماز کی بابت خاص صور پر سنت کے مطابق پڑھنے کی تاکید فرمائی۔ اور تعلیم و تربیت کا یہ موقع ایسا تھا کہ اگر عورتوں کے لیے نماز کا طریقہ الگ ہوتا تو وہ آپ ان کو اس موقعے پر ضرور بتلاتے۔ اس لیے کہ جب آپ نے دیکھا کہ گھر سے دوری کی وجہ سے یہ نوجوان اداس ہو گئے ہیں، تو آپ نے فرمایا: اپنے گھر والوں کے پاس واپس جاؤ اور انہی کے پاس قیام کرو اور ان کو (دین کی باتیں) سکھلاؤ اور (ان کا) ان کو حکم دو۔ اس موقعے پر نماز کی بابت ایک عام حکم دینا اور اس میں کسی کو الگ نہ کرنا، اس بات کی قوی دلیل ہے کہ نماز کے اس حکم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک مرد اور عورت دونوں ہی شامل تھے، نہ کہ صرف مرد۔ پھر یہ کہنا کہ یہ صرف ایک نصیحت تھی، بڑی عجیب بات ہے۔ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحتیں قابل عمل یا قابل استدلال نہیں؟ کیا ان سے احکام و مسائل کا استنباط صحیح نہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نصیحت کا مقصد ان کو عمل کی تاکید تھا یا کچھ اور؟ ظاہر بات ہے عمل کی تاکید تھا۔ عمل کی تاکید سے اس حکم کی اہمیت واضح ہوتی ہے یا وہ حکم غیر اہم ہو جاتا ہے؟ حدیث رسول کو کنڈم کرنے کے لیے اس استدلال میں کوئی معقولیت ہے؟
بنیادی اور مسلمہ اصول کا اعتراف اور ہمارا مطالبہ:
آگے فرماتے ہیں: بہرحال اگر اس جملے کو سیاق و سباق سے ہٹ کر دیکھیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس حدیث کی عمومیت میں مرد و عورت سمیت پوری امت شریک ہے اور پوری امت پر لازم ہے کہ جو طریقہ آن سیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ہے وہی طریقہ امت کا ہو۔ لیکن یہ واضح ہو کہ اس عمومیت پر عمل اس وقت تک ہی ضروری ہے جب تک کوئی شرعی دلیل اس کے معارض نہ ہو۔ اور اگر کوئی دلیل خصوص کی بعض عمل یا افراد میں اس حکم کے معارض ہو تو اس دلیل خصوص کی وجہ سے وہ بعض افراد یا وہ عمل اس امر کی تعمیل سے مستثنیٰ ہوں گے۔ چنانچہ ضعفاء اور مریض ان احادیث سے جن میں ان کے لیے تخفیف کی گئی ہے اور عورتیں ان تمام احادیث سے جس میں ان کو سترپوشی اور اختفاء کا حکم دیا گیا ہے اس حکم سے مستثنیٰ ہوں گے۔ لہٰذا مستثنیات کی موجودگی میں اس جملہ سے عورت اور مرد کی نماز میں مجموعی کیفیت اور طریقہ پر مطابقت کا استدلال درست نہیں۔ (صفحہ:50-51)
جواب:
الحمدللّٰہ، اس اقتباس میں مولانا موصوف نے وہ اصول تسلیم کر لیا ہے جو مسلمہ ہے، جسے ہم پچھلے مباحث میں بیان کرتے آ رہے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: [صلواکما رأیتمونی اصلی]عام ہے جس میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں، اس کے مطابق دونوں کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق نماز پڑھنی ضروری ہے۔ البتہ اس سے وہ چیزیں مستثنیٰ ہوں گی جن کا استثناء احادیث سے ثابت ہو گا۔
متفق گردید رائے بو علی بارائے من
اب ہمارا سوال صرف یہ ہے کہ اس مسلمہ اصول کو جب آپ نے تسلیم کر لیا ہے تو اب اس ذمے داری کو پورا کیجیے کہ عورتوں کے لیے جو جو باتیں آپ مردوں کے طریقۂ نماز سے مختلف باور کراتے ہیں، انہیں احادیث صحیحہ سے ثابت کر دیں۔ جیسے آپ کے بقول۔
① مرد تکبیر تحریمہ کے رفع الیدین میں کانوں تک ہاتھ اٹھائے اور عورت کندھوں یا چھاتیوں تک۔
② مرد ناف کے نیچے ہاتھ باندھے اور عورت سینے پر۔ اس طرح کہ داہنے ہاتھ کی ہتھیلی بائیں ہاتھ کی پشت پر آ جائے۔
③ مرد سجدے میں اپنے بازو زمین پر بھی نہ رکھے اور اپنے پہلوؤں کے ساتھ بھی نہ ملائے۔ لیکن عورت سمٹ کر اور زمین سے اس طرح چمٹ کر سجدہ کرے کہ پیٹ رانوں سے بالکل مل جائے۔ نیز پاؤں کو کھڑا کرنے کی بجائے انہیں دائیں طرف نکال کر بچھا دے۔ خواتین کہنیوں سمیت پوری باہیں بھی زمین پر رکھیں۔
④ خواتین پہلے سجدے سے اٹھ کر بائیں کولہے (کو زمین) پر رکھیں اور دونوں پاؤں دائیں طرف کو نکال دیں اور دائیں پنڈلی کو بائیں پنڈلی پر رکھیں۔
⑤ قعدے میں بیٹھنے کا طریقہ وہی ہو گا جو سجدوں کے بیچ میں بیٹھنے کا ذکر کیا گیا ہے۔
⑥ خواتین رکوع میں معمولی جھکیں کہ دونوں ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائیں، مردوں کی طرح خوب اچھی طرح نہ جھکیں۔
⑦ خواتین گھٹنوں پر ہاتھ کی انگلیاں ملا کر رکھیں۔ مردوں کی طرح کشادہ کر کے گھٹنوں کو نہ پکڑیں اور گھٹنوں کو (ذرا آگے) کو جھکا لیں اور اپنی کہنیاں بھی پہلو سے خوب ملا کر رکھیں۔
⑧ خواتین رکوع میں دونوں پاؤں کے ٹخنے ایک دوسرے سے ملا کر رکھیں۔ یہ وہ آٹھ فرق ہیں جو مولانا عبدالرؤف سکھروی صاحب نے "خواتین کا طریقۂ نماز” میں بیان کیے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ان سے اور تمام علمائے احناف سے یہ ہے کہ یہ آٹھ فرق احادیث سے ثابت کر دیں۔ اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے (اور ہمارا دعویٰ ہے کہ وہ قیامت تک نہیں کر سکتے) تو ہماری ان سے یہی التجا ہے کہ وہ عورتوں کو سنت کے مطابق نماز پڑھنے سے محروم نہ کریں اور مذکورہ آٹھ صورتیں ان کے لیے بیان کرنا اور ان کو ان کے لیے ضروری قرار دینا بند کر دیں۔ جب یہ صورتیں احادیث سے ثابت ہی نہیں تو علمائے احناف کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ ان کو عورتوں کے لیے ضروری قرار دیں؟ [هَاتُوا۟ بُرۡهَـٰنَكُمۡ إِن كُنتُمۡ صَـٰدِقِینَ]
ایک دلچسپ لطیفہ:
ایک اور لطیفہ یا نمونۂ عبرت یہ ہے کہ عورتوں کے لیےعلمائے احناف جو فرق تجویز کرتے ہیں، اس میں وہ سب متفق نہیں۔ چنانچہ گزشتہ مباحث میں یہ بات گزر چکی ہے کہ "الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید” کے مؤلف نے 5 فرق بیان کیے ہیں۔ اور "الفقہ الحنفی وادلّتہ” کے مؤلف اور "ارکان الاسلام علی مذھب الامام ابو حنیفۃ النعمان” کے مؤلف دونوں نے تین تین فرق بیان کیے ہیں۔ اور "خواتین کا طریقۂ نماز” کے مؤلف نے آٹھ فرق بیان کیے ہیں۔ اگر یہ فرق حدیث میں بیان کیے گئے ہیں، تو تعداد میں یہ اختلاف کیوں ہے؟ یہ اختلاف ہی اس بات کی وضاحت کے لیے کافی ہے کہ عورتوں کے لیے نماز کا الگ طریقہ حدیث نبوی سے ثابت نہیں ہے، بلکہ فقہائے احناف کا گھڑا ہوا ہے اور اس کا مبنیٰ قیاس ورائے ہے۔ حالانکہ عبادات میں اصل توقیف (اللہ رسول کا حکم) ہے، قیاس ورائے کی اس میں قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔