زینت میں غلو کے لیے خلق اللہ میں تغیر :
زینت میں ایسا غلو کہ اللہ کی پیدا کردہ ساخت میں تغیر واقع ہو اسلام کے نزدیک مردود ہے۔ قرآن نے اسے شیطان کی وحی سے تعبیر کیا ہے اور قرآن نے شیطان کا یہ قول اس کے پیروکاروں کے بارے میں نقل کیا ہے :
وَلَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِ
”اور میں انہیں ضرور حکم دوں گا تو وہ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت میں ردو بدل کریں گے۔“
سورة النساء : 119
گودنا، دانتوں کو نوکدار بنانا اور خوبصورتی کے لیے آپریشن کرانا :
منجملہ ان ممنوعات کے بدن کا گودنا اور دانتوں کو نوکدار بنانا بھی ہے۔
لعن الرسول عليه الصلاة والسلام الواشمة والمستوشمة والواشرة والمستوشرة
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے : گودنے والی پر، گودوانے والی پر، دانتوں کو نوکدار بنانے والی پر اور اُس پر جو دانتوں کو نوکدار بنوائے۔“
بخاری كتاب اللباس : باب الموصولة ح : 5922، 5940 – مسلم، كتاب اللباس والزينة: باب تحريم فعل الواصلة والمستوصلة ح : 2124 – لكن ليس فيه الواشرة والمستوشرة، وفي مسند عمر بن عبد العزيز لابن الباغندي، ص: 26 في حديث معاوية : لعن الواشرة والمستوشرة وإسناده ضعيف، وأخرجه أحمد من حديث عبد الله بن مسعود رضي الله عنه وفيه النهي عن النامصة والواشرة، 415/1
گودنے کے لیے نیلا رنگ استعمال کیا جاتا ہے اور بدنما نقوش بنائے جاتے ہیں، جس سے چہرے اور ہاتھوں میں مضحکہ خیز بدصورتی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس معاملہ میں بعض عربوں نے اور خاص طور سے عورتوں نے تو حد کر دی ہے کہ اپنے پورے جسم پر نقوش بنا لیتے ہیں اور بعض اہل مذاہب تو اپنے دیوی دیوتاؤں اور مذہبی شعائر کی تصویریں بنا لیتے ہیں، چنانچہ نصاری اپنے ہاتھ اور سینہ پر صلیب کی تصویر بناتے ہیں۔
ان مفاسد کے علاوہ ایک بڑا مفسدہ یہ بھی ہے کہ بدن میں سوئی چبھونے سے انسان کو سخت تکلیف ہوتی ہے۔ اس لیے یہ کام کرنا، کرانا موجب لعنت ہونے کے ساتھ ساتھ باعث اذیت بھی ہے۔
رہا ”وشر“ یعنی دانتوں کو نوک دار اور کوتاہ بنانا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام کو انجام دینے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے اور اس عورت پر بھی جو کسی سے یہ خدمت لے۔ اگر کوئی مرد یہ خدمت انجام دے تو وہ لعنت کا بدرجہ اولی مستحق ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح اس بات کو حرام کر دیا کہ دانتوں کو نوکدار بنایا جائے، اسی طرح اس بات کو بھی حرام ٹھہرایا کہ دانتوں کے درمیان درزیں بنائی جائیں۔
ولعن المتفلجات للحسن المغيرات خلق الله
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوبصورتی فیشن کے لیے دانتوں میں درزیں بنانے والیوں پر جو در حقیقت اللہ کی بنائی ہوئی ساخت میں ردو بدل کرتی ہیں، لعنت فرمائی ہے۔“
بخاری كتاب اللباس : باب الموصولة ح : 5943، 5948 – مسلم، كتاب اللباس والزينة: باب تحريم فعل الواصلة والمستوصلة ح : 2125
درزیں بنانے سے مقصود دانتوں کے درمیان فاصلہ پیدا کرنا ہے۔ بعض عورتوں کے دانتوں کے درمیان فاصلہ ہوتا ہے اور بعض کے نہیں۔ تو جن کے دانتوں کے درمیان فاصلہ نہیں ہوتا وہ مصنوعی طور پر درزیں بنا لیتی ہیں۔ یہ جعل سازی اور آرائش فیشن میں غلو ہے جس سے اسلام کا مزاج انکاری ہے۔
مذکورہ بالا حدیثوں کے ذریعہ جو صحیح ہیں ہم خوبصورتی پیدا کرنے کی غرض سے کیے جانے والے آپریشنوں کا حکم بھی معلوم کر سکتے ہیں جسے جسم و شہوت کی پرستار تہذیب نے رائج کیا ہے یعنی دور حاضر کی مادہ پرستانہ مغربی تہذیب نے۔ چنانچہ اپنی ناک یا پستان وغیرہ کی شکل درست کرانے پر مرد ہو یا عورت ہزاروں روپے خرچ کر ڈالتے ہیں۔ یہ سب کام موجب لعنت ہیں، کیونکہ یہ تکلیف دہ بھی ہیں اور اللہ عزوجل کی بنائی ہوئی ساخت میں بلاضرورت ردو بدل کے مترادف بھی۔ پھر یہ تبدیلی عارضی ہوتی ہے حقیقی نہیں اور یہ ردو بدل جسم میں ہوتا ہے روح میں نہیں۔
”البتہ اگر کسی شخص کے جسم میں کوئی ایسا عیب موجود ہو جو ایک زائد چیز کی حیثیت رکھتا ہو اور اس سے تکلیف محسوس ہوتی ہو یا اس سے ذہنی کوفت ہوتی ہو تو اس کا علاج کرانے میں کوئی مضائقہ نہیں، بشرطیکہ مقصود اس حرج کو دور کرنا ہو جس میں وہ مبتلا ہے اور جس سے عرصہ حیات اس پر تنگ ہو رہا ہے، کیونکہ اللہ تعالٰی نے ہمارے لیے دین میں کوئی مشقت حرج نہیں رکھا۔“
المرأة بين البيت والمجتمع ص : 105
اس کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ حدیث : لعن المتفلجات للحسن (خوبصورتی پیدا کرنے کے لیے دانتوں میں درزیں بنانے والیوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے) کے الفاظ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ کام اس صورت میں مذموم ہے جب یہ جھوٹی خوبصورتی پیدا کرنے کے لیے کیا جائے، لیکن اگر کسی تکلیف یا ضرر کو دور کرنے کی غرض سے واقعی اس کی ضرورت ہو، تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ والله اعلم
بھوئیں باریک کرنا :
غلو آمیز زینت کی ایک شکل جسے اسلام نے حرام کیا ہے نمص (بال نوچنا) ہے۔ نمص سے مراد بھوؤں کے بال نکال ڈالنا ہے تاکہ ان کو صاف یا ہموار کیا جا سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر لعنت فرمائی ہے :
لعن رسول الله النامصة والمتنمصة
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال نوچنے والی پر اور اُس عورت پر جو کسی سے یہ خدمت لے لعنت فرمائی ہے۔“
ابو داود كتاب الترجل : باب في صلة الشعر ح : 4170 بلفظ لعنت … النامصہ حديث ابن مسعود رضي الله عنه السابق شاهد له۔ شرح صحيح مسلم 106/14
بال نوچنے کی حرمت اس صورت میں اور شدید ہو جاتی ہے جبکہ یہ بدکار عورتوں کا شعار ہو۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ چہرے کے بال صاف کرنا، سرخی لگانا، نقش و نگار بنانا اور ناخنوں کو پالش لگانا، جائز ہے بشرطیکہ شوہر کی اجازت سے یہ کام کیے جائیں، کیونکہ یہ چیزیں بھی زینت میں شامل ہیں۔ لیکن امام نووی رحمہ اللہ نے چہرے کے بال صاف کرنے کی شدید مخالفت کی ہے اور اس کا شمار نمص میں کیا ہے، جو حرام ہے۔
تنبیہ :
سنن ميں وارد امام ابو داود كے اس قول سے مصنف رحمه الله نے استدلال كيا هے كه نامصه (چهرے كے بال اكهاڑنے والي) وه عورت هے جو اپنے ابروؤں كي تراش خراش كرتي هے حتيٰ كه انهيں باريك كر ديتي هے. اس كي زد ميں داڑهي كے پراگنده بال داخل نهيں اور نه هي چهره كے بال دور كرنا شامل هے.
◈ ميں كهتا هوں مجهے اس ميں چند باتوں پر اعتراض هے. يه موقف اس كے خلاف هے جس پر مطلق احاديث دلالت كرتي هيں ان ميں سے ايك سيده عائشه رضي الله عنها والي حديث هے جسے ميں نے ابهي ابهي ذكر كيا هے (جو كه نامصه اور متنمصه والي هے). يه حديث جسم كي هر اس جگه كو مشتمل هے جس سے بهي بال اكهاڑے جائيں. اور اس قسم كے اثر (قول) كے ساته اس كي تخصيص كرنا جائز نهيں كيونكه يه اثر پايه ثبوت تك نهيں پهنچتا.
◈ دوسري بات يه هے كه يه تفسير لغت عرب كے بهي خلاف هے، قاموس ميں هے نمص كا معنى بال اكهاڑنا هے اور جس نامصه پر لعنت كي گئي هے، نامصه وه عورت هے جو بال اكهاڑ كر عورتوں كو آراسته كرتي هے، متنمصه وه عورت هے جو بال اكهاڑ كر آراسته هوتي هے.
◈ تيسري بات يه هے كه ابو داود كا مذكوره قول عام رواج كے تحت بيان هوا هے اس ميں نمص (بال اكهاڑنا) صرف ابروؤں كو بنانے تك هي محدود نهيں. اپني كتاب سنن ميں ابو داود كي مكمل گفتگو هماري اس توجيه پر دلالت كرتي هے جو مصنف نے اس سے نقل كيا هے. وه بيان كرتے هيں كه بعض كهتے هيں: واشمه (گودنے والي) وه عورت هے جو اپنے چهرے ميں سرمه يا كيميكل كے ذريعه تل بناتي هے. آپ كا كيا خيال هے جب وه يه تل اپنے هاته ميں بنائے گي تو گودنا بنانے والي شمار نه هوگي؟ كيوں نهيں ضرور شمار هوگي؟ اس كي تائيد حافظ ابن حجر رحمه الله نے فتح الباري ميں فرمائي هے. ابو داود كا قول ذكر كرنے كے بعد فرماتے هيں : گودنا بنانے ميں چهرے كا ذكر غلبه كے طور پر كيا گيا هے حالانكه يه گودنے كا تل زياده تر هونٹ پر بناتي هيں. (313/10)
اس كے بعد والے باب سے سيدنا نافع رحمه الله كا بيان آئے گا كه گودنا زياده تر مسوڑهے ميں بناتي هيں، چهرے پر گودنا بنانے كي قيد نهيں، يه كبهي جسم كے ديگر اعضاء پر بنتا هے مثلا هاته وغيره پر بهي بنا ليتے هيں.
اس وضاحت كے بعد نامصه (بال اكهاڑنے والي) كے بارے ميں ابو داود كے گزشته قول اور ابن اثير كے نهايه ميں آنے والے قول كے درميان كوئي اختلاف نهيں، نامصه وه جو اپنے چهرے كے بال اكهاڑتي هے. اس ميں حصر و قيد نهيں بلكه اس ميں ابرو كے بال اور چهرے كے بال اكهاڑنا مراد هے. يهي وجه هے كه حافظ ابن حجر رحمه الله نے بهي فتح الباري ميں اس بات كو ضعيف قرار ديا هے جس ميں نمص سے مراد صرف ابرو كے بال اكهاڑنا ليے گئے هيں. جو نهايه كے حواله سے ميں نے ذكر كيا هے اسے ذكر كرنے كے بعد حافظ ابن حجر رحمه الله فرماتے هيں :
ايك قول يه هے كه نمص (بال اكهاڑنا) صرف ابروؤں كے بالوں كو زائل كرنے كے ساته خاص هے انهيں اوپر كو اٹهائيں يا برابر كريں. (317/10)
پهر آگے ابو داود والا قول نقل كيا جس ميں اس (النمص) كو ابرو كے بال برابر كرنے كے ساته خاص كيا گيا هے.
اگر حافظ صاحب مرحوم ابو داود كے اس قول كے بارے ميں يه كهتے كه ابرو كے بال اكهاڑنے كا ذكر بطور قيد نهيں، جس طرح چهرے كے بارے ميں كها هے تو يه زياده بهتر تها كيونكه علمائے كرام كي گفتگو كو صحيح معنى پر قياس كرنا هي بهتر هے، غلط معنى پر قياس كر كے ان كو خطا كار قرار دينے پر مجبور هونے سے يهي بهتر هے كه معنى هي صحيح مراد ليا جائے. مختصر بات يه هے كه مصنف نے جو امام نووي سے چهرے كے بال اور داڑهي كے بال كٹوانے ناجائز هونے كا جو حكم بيان كيا هے، اگرچه بعض مابعد اس سے اختلاف ركهتے هيں، بهرصورت علمي تحقيق كا تقاضا يه هے كه جائز نه هونا هي صحيح هے. والله الموفق (ناصر الدين الباني رحمه الله)
شرح صحیح مسلم : 106/14
البتہ ابو داود نے سنن میں نامصہ کی یہ تعریف بیان کی ہے کہ اس سے مراد وہ عورت ہے جو بھوؤں میں نقش و نگار بنا کر اسے باریک کر دیتی ہے۔ اس سے امام نووی رحمہ اللہ کی رائے کی تردید ہوتی ہے کیونکہ نمص کے مفہوم میں چہرہ کے بال صاف کرنا شامل نہیں ہے۔ طبری کی روایت ہے کہ ابو اسحاق کی بیوی جو نوجوان تھی اور خوبصورتی کی شائق تھی، سیدہ عائشہ رضي اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی اور پوچھا، عورت اپنے شوہر کے لیے اپنے رخسار کے بال صاف کر سکتی ہے؟ سیدہ عائشہ رضي اللہ عنہا نے فرمایا : ”اذیت کو ممکن حد تک دور کرو۔“
فتح الباري : 317/10