اغلام بازی کی ممانعت
① سیدنا عمرو بن ابی عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ملعون من عمل عمل قوم لوط
جو شخص عمل قوم لوط کا ارتکاب کرتا ہے وہ ملعون ہے۔
ابوداؤد، کتاب الحدود 4462۔ ترمذی، کتاب الحدود 1456۔
② سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من وجدتموه يعمل عمل قوم لوط فاقتلوا الفاعل والمفعول به
تم جس شخص کو عمل قوم لوط کا ارتکاب کرتا ہوا پاؤ تو فاعل اور مفعول کو قتل کر دو۔
ترمذی۔ اس کی تخریج گزر چکی ہے۔
③ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا ينظر الله عز وجل إلى رجل أتى رجلا أو امرأة فى دبرها
اللہ عز وجل اس آدمی کی طرف نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا، جو کسی مرد یا عورت کی پشت میں جماع کرے۔
ترمذی، کتاب الحدود 1456۔
اغلام بازی کرنے والے کی سزا
① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من وجدتموه يعمل عمل قوم لوط فاقتلوا الفاعل والمفعول به
تم جس شخص کو قوم لوط والا فعل (اغلام بازی) کرتے ہوئے دیکھو تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو۔
ابوداؤد، کتاب الحدود 4462۔ ترمذی، کتاب الحدود 1456۔ یہ روایت صحیح ہے۔
حدود میں سفارش کرنے کی ممانعت
① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مخزومی عورت جس نے چوری کی تھی، اس کی قریش کے ہاں بہت اہمیت تھی۔ انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے متعلق کون بات سفارش کرے؟ لیکن کسی کو آپ سے بات کرنے کی جرات نہ ہوئی تو سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے بات کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أتشفع فى حد من حدود الله
کیا تم اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے متعلق سفارش کرتے ہو؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے خطبہ دیا تو فرمایا:
إنما هلك الذين من قبلكم أنهم كانوا إذا سرق فيهم الشريف تركوه ، وإذا سرق فيهم الضعيف أقاموا عليه الحد، وأيم الله لو أن فاطمة بنت محمد سرقت لقطعت يدها
تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کہ اگر ان میں سے کوئی معزز شخص چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب ان میں سے کمزور آدمی چوری کرتا تو وہ اس پر حد قائم کر دیتے۔ اللہ کی قسم! اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی چوری کرتی تو میں ان کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔
بخاری، کتاب الحدود 2733۔ مسلم، کتاب الحدود 1688/10۔
② یحیی بن راشد بیان کرتے ہیں، ہم ایک دن سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا انتظار کر رہے تھے کہ آپ ہمارے پاس آئے تو میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من حالت شفاعته دون حد من حدود الله فقد ضاد الله عز وجل، ومن خاصم على باطل وهو يعلم لم يزل فى سخط الله حتى ينزع، ومن قال فى مؤمن ما ليس فيه أسكنه الله ردغة الخبال حتى يخرج مما قال
جس شخص کی سفارش اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے نفاذ میں حائل ہوگئی تو اس نے اللہ عز وجل کی مخالفت کی۔ اور جس نے جانتے بوجھتے جھوٹا مقدمہ لڑا تو وہ اللہ کی ناراضی میں رہتا ہے حتی کہ وہ اس سے دستبردار ہو جائے۔ اور جو شخص کسی مومن پر بہتان لگاتا ہے تو اللہ اسے پریشانی کی دلدل میں دھکیل دیتا ہے حتیٰ کہ وہ اپنی بات سے رجوع کرلے۔
اور ایک روایت میں یہ اضافہ کیا ہے:
ومن أعان على خصومة بظلم فقد باء بغضب من الله
جس نے کسی مقدمے میں ظلم پر مبنی اعانت کی تو وہ اللہ کے غضب کا مستحق بن جاتا ہے۔
ابوداؤد، کتاب الاقضیہ 3597۔ ابن ماجه، کتاب الاحکام 2320۔