اہلِ خانہ کی جانب سے ایک قربانی کا کافی ہونا صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس پروفیسر ڈاکٹر فضل الٰہی کی کتاب مسائل قربانی سے ماخوذ ہے۔

سب اہل خانہ کی طرف سے ایک بکری کا کافی ہونا

متعدد احادیث شریفہ سے یہ بات ثابت ہے کہ قربانی کی غرض سے سارے اہل خانہ کی طرف سے ایک بکری ذبح کرنا کفایت کر جاتا ہے۔ اس بارے میں چھ روایات درج ذیل ہیں:
➊ امام مسلم کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بیان کردہ حدیث گزر چکی ہے جس میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مینڈھے کو ذبح کرنے کے لیے پچھاڑا اور کہا:
بسم الله اللهم تقبل من محمد وآل محمد ومن أمة محمدﷺ
”اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ، اے اللہ! محمد، آل محمد اور امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے قبول فرمائیے۔“
(تخریج حدیث کے لیے 36 ملاحظہ فرمائیے۔ )
اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اور اپنے آل کی طرف سے ایک ہی مینڈھے کو ذبح فرمایا، بلکہ امت کو بھی اس میں شامل فرما لیا۔ امام خطابی نے تحریر کیا ہے:
”وفي قوله تقبل من محمد وآل محمد ومن أمة محمد ﷺ
دليل على أن الشاة الواحدة تجزئ عن الرجل وأهله وإن كثروا“

”آپ کا فرمان [تقبل من محمد وآل محمد ومن أمة محمدﷺ] اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایک بکری [کی قربانی] آدمی اور اس کے گھر والوں سے کفایت کرتی ہے، اگرچہ ان کی تعداد زیادہ بھی ہو۔“
معالم السنن 228/2 .
➋ امام حاکم اور امام بیہقی نے حضرت عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا:
”كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يضحي بالشاة الواحدة عن جميع أهله“
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے سارے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کرتے تھے۔“
المستدرك على الصحيحين، كتاب الأضاحي، 229/4؛ والسنن الكبرى، كتاب الضحايا، باب الرجل يضحي عن نفسه وعن أهل بيته، رقم الحديث 450/9/19052 امام حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور حافظ ذہبی نے ان کی تائید کی ہے۔ (ملاحظہ ہو: المستدرك 229/4 ، والتلخيص 229/4).
➌ حضرات ائمہ مالک، ترمذی اور ابن ماجہ نے عطاء بن یسار سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ: ”میں نے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں لوگ قربانیاں کیسے کرتے تھے؟“
انہوں نے کہا:
”كان الرجل يضحي بالشاة عنه وعن أهل بيته فيأكلون ويطعمون حتى تباهى الناس فصارت كما ترى“
”آدمی اپنی طرف سے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک قربانی دیا کرتا تھا اور اس سے وہ کھاتے بھی تھے اور کھلاتے بھی تھے۔ پھر لوگ فخر کرنے لگے اور نوبت جہاں تک پہنچ گئی ہے وہ تم دیکھ رہے ہو۔“
الموطأ، كتاب الضحايا، الشركة فى الضحايا، وعن كم تُذْبَحُ البقرة والبدنة؟ رقم الرواية 486/2/10 وجامع الترمذي، أبواب الأضاحي، باب ما جاء أن الشاة الواحدة تجزىء عن أهل البيت، رقم الحديث 75/5،1541 و سنن ابن ماجه، أبواب الأضاحي، من ضحی بشاة عن أهله، رقم الحديث 3185، 208/2. الفاظ حدیث جامع الترمذی کے ہیں۔ امام ترندی نے اسے حسن صحیح اور شیخ البانی نے صحیح قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: جامع الترمذي 76/5؛ وإرواء الغليل 355/4)
➍ امام ابن ماجہ نے حضرت ابو سریحہ رضی اللہ عنہ [بیعت رضوان میں شریک ہونے والے صحابہ میں سے ہیں۔ ان کا اسم گرامی حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ ہے۔ ملاحظہ ہو : هامش المستدرك 228/4] سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا:
”حملني أهلي على الجفاء بعد ما علمت من السنة كان أهل البيت يضحون بالشاة والشاتين والآن يبخلنا جيراننا“
”میرے گھر والوں نے مجھے غلط روی پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، جب کہ مجھے اس سنت کا علم ہے کہ [عہد رسالت میں] ایک گھر والے ایک یا دو بکریاں [قربانی کے لیے] ذبح کیا کرتے تھے اور اب اگر ہم ایسا کریں تو ہمارے پڑوسی ہمیں بخیل ہونے کا طعنہ دینے لگتے ہیں۔“
سنن ابن ماجه، أبواب الأضاحي، من ضحى بشاة من أهله، رقم الحديث 3186، 208/2 – علامہ سندھی ، علامہ شوکانی اور شیخ البانی نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: عون المعبود 3/8، نيل الأوطار 210/5؛ وصحيح سنن ابن ماجه (202/2).
➎ امام بیہقی نے عکرمہ سے روایت نقل کی ہے کہ:
”كان أبو هريرة رضي الله عنه يجيء بالشاة فيقول أهله: وعنا فيقول: وعنكم“
”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (قربانی کے لیے) بکری لاتے تو ان کے گھر والے کہتے: ”اور ہماری طرف سے“ تو وہ جواب میں فرماتے: ”اور یہ بکری تمہاری طرف سے [بھی] ہے۔“
السنن الكبرى، كتاب الضحايا، باب الرجل يضحي عن نفسه وعن أهل بيته، رقم الرواية 450/9،19056
➏ امام بیہقی نے عبد اللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ ان کے والد[ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ] اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کرتے تھے۔
السنن الكبرى، رقم الرواية 19054، 450/9.
مذکورہ بالا روایات میں یہ بات واضح ہے کہ آدمی اور اس کے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری یا مینڈھے کو ذبح کرنا کفایت کر جاتا ہے۔

تنبیہ:

ثواب حاصل کرنے کی غرض سے ایک سے زیادہ قربانیاں دی جا سکتی ہیں، بلکہ ایسا کرنا افضل ہے۔