حدیث 37: عائشہ رضی اللہ عنہا کا دو مردوں کے سامنے غسل کرنا
ابو سلمہ بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں:
دخلت على عائشة رضي الله عنها أنا وأخوها من الرضاعة فسألها عن غسل النبى صلى الله عليه وسلم من الجنابة فدعت بإناء قدر الصاع فاغتسلت وبيننا وبينها ستر فأفرغت على رأسها ثلاثا قال وكان أزواج النبى صلى الله عليه وسلم يأخذن من رؤوسهن حتى تكون كالوفرة
”میں اور عائشہ رضی اللہ عنہا کا رضاعی بھائی عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو آپ کے رضاعی بھائی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے تقریباً ایک صاع پانی منگوایا اور غسل کیا، جبکہ ہمارے اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا۔ آپ نے تین مرتبہ اپنے سر پر پانی ڈالا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اپنے سر کے بال کترتی تھیں حتیٰ کہ وہ وفرہ کی طرح ہو جاتے۔“
صحيح البخاري، الغسل، باب الغسل بالصاع ونحوه، حديث: 251؛ وصحيح مسلم، الحيض، باب القدر المستحب من الماء، حديث: 320 واللفظ له. وفرة بال جو کانوں کو ڈھانپے اس وفرة کہتے ہیں۔ امہات المؤمنین کے بارے میں فرمایا گیا کہ کاٹنے کے بعد ان کے بال وفرہ کی طرح ہو جاتے جس کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ بال کانوں کی لو تک نہیں بلکہ اس سے لمبے ہوتے تھے۔
اس حدیث پر منکرین کا پہلا اعتراض یہ ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان مردوں کے سامنے غسل کیوں کیا۔ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اگر ان کے درمیان پردہ حائل تھا تو پھر طریقہ غسل کیسے بتایا، اور تیسرا اعتراض یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اپنے سر کے بال وفرہ رکھتی تھیں۔
جواب :
پہلے اعتراض کا جواب تو واضح ہے کہ درمیان میں پردہ حائل تھا جیسا کہ حدیث سے واضح ہے، نیز مسئلہ دریافت کرنے والے دونوں مردوں میں سے ایک ان کا بھتیجا تھا اور دوسرا رضاعی بھائی جن کے سامنے زینت ظاہر کرنا جائز ہے لیکن برہنہ ہونا حرام ہے۔
دوسرے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ انہوں نے طریقہ غسل نہیں پوچھا تھا کہ آپ نے انہیں غسل کر کے دکھایا اور پردے کی اوٹ سے طریقہ کیسے معلوم ہوا بلکہ پانی کی مقدار بتانا مقصود تھا کہ عورت ایک صاع پانی سے غسل کر سکتی ہے تو مرد لامحالہ اتنی مقدار سے غسل کر سکتا ہے۔ امام مسلم نے ”قدر المستحب من الماء“ اور امام بخاری نے ”الغسل بالصاع“ کے عنوان کے تحت یہ حدیث ذکر کی ہے جو پانی کی مقدار پر دلالت کرتا ہے، طریقہ غسل پر نہیں۔ اگر سر پر پانی ان کے سامنے ڈالا ہے تو وہ اس وجہ سے جائز ہے کہ یہ دونوں آدمی ایسے تھے کہ ان کے سامنے زینت ظاہر کرنا جائز ہے اور سر کے بال زینت میں شامل ہیں۔
تیسرے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ عورت کا مذکورہ مقدار تک سر کے بال کاٹنے کے متعلق اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض علماء کے نزدیک یہ مسلم کی روایت کے مطابق جائز ہے جبکہ بعض اسے جائز نہیں کہتے اور اسے امہات المؤمنین کا اپنا فعل قرار دیتے ہیں۔ یہ بات واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ازواج مطہرات بال نہیں کاٹتی تھیں، اس کی دلیل ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:
إني امرأة أشد ضفر رأسي أفأنقضه لغسل الجنابة
”میں اپنے سر کی مینڈھیاں خوب باندھا کرتی ہوں، کیا میں غسل کے وقت انہیں کھول دیا کروں؟“
جامع الترمذي، الطهارة، باب هل تنقض المرأة شعرها عند الغسل، حدیث:105، وسنن النسائي، الطهارة، باب ذكر ترك المرأة نقض ضفر حديث : 242
دوسری حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہیں احرام کے وقت حیض آگیا جب کہ حج قریب تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا:
انقضي رأسك وامتشطي
”اپنے سر کے بال کھول دو اور کنگھی کرو۔“
صحيح البخاري ، الحيض ، باب امتشاط المرأة عند غسلها من المحيض، حديث: 316
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ازواج مطہرات کے سر کے بال پورے تھے، تاہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد امہات المؤمنین کے بارے میں تذکرہ ملتا ہے، بعض علماء اسے ترک زینت پر حمل کرتے ہیں کہ امہات المؤمنین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ترک زینت کے لیے یہ کام کیا، جبکہ بعض دوسرے عدم مشابہت بالرجال والفاسقات والكافرات اور شوہر کی اجازت کے ساتھ اتنی مقدار میں بال کاٹنے کو درست سمجھتے ہیں۔