نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کا ثواب
ذیل کی آیت کریمہ میں مؤمنین اور مؤمنات کی صفات حمیدہ کا بیان ہے جن میں سے ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے دل سے محبت کرتے ہیں، اور دینی معاملات میں ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَٰئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾
”اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہوتے ہیں، بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، اور نماز قائم کرتے ہیں، اور زکاۃ دیتے ہیں، اور اللہ اور اس کے رسول کی بات مانتے ہیں، اللہ انہی لوگوں پر رحم کرے گا۔ بے شک اللہ زبردست، بڑی حکمتوں والا ہے۔“
(9-التوبة:71)
مزید فرمایا کہ مسلمانوں کا شیوہ ہے کہ بھلائی اور تقوی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حکماً ارشاد فرمایا:
﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ﴾
” نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو۔“
(5-المائدة:2)
سیدنا جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
بايعت النبى صلى الله عليه وسلم على النصح لكل مسلم .
”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز قائم کرنے، زکوۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے پر بیعت کی تھی۔“
صحیح بخاری کتاب الایمان، باب بيان ان الدين النصيحة ، رقم: 200.
اچھی باتوں کی حمایت کرنا اور بری باتوں سے منع کرنا مسلمانوں پر فرض ہے جس سے صحت مند معاشرے کی تخلیق ہوتی ہے۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک سفر تھے کہ ایک آدمی اپنی سواری پر آیا، اور دائیں بائیں دیکھنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس فالتو سواری ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ اسے دے جس کے پاس سواری نہیں، اور جس کے پاس زائد زاد راہ ہو تو وہ اسے دے جس کے پاس زادِ راہ نہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ نے اس طرح مالوں کی مختلف اقسام کا ذکر کیا۔ یہاں تک کہ ہم نے سمجھا کہ ہم میں سے کسی شخص کا ضرورت سے زائد چیز پر کوئی حق نہیں۔
صحیح مسلم، كتاب اللقطة، باب استحباب الحسراساة بغضول ایمان، رقم: 1729/18.
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نیکی صدقہ ہے، اور تیرا اپنے بھائی کو خندہ پیشانی سے ملنا اور اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے برتن میں پانی ڈالنا بھی نیکی ہے۔“
سنن ترمذی ابواب والصلة، رقم 1970 – امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے ”حسن صحیح“ اور البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔