وضو کرنے کے فضائل
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ۚ وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا ۚ وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ ۚ مَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾
”اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے چہروں کو، اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھولو، اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھولو، اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو غسل کر لو، ہاں اگر تم بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی حاجت ضروری سے فارغ ہو کر آیا ہو، یا تم عورتوں سے ملے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو تم پاک مٹی سے تیمم کر لو، اسے اپنے چہروں پر اور ہاتھوں پر ملو، اللہ تعالیٰ تم پر کسی قسم کی تنگی ڈالنا نہیں چاہتا، بلکہ اس کا ارادہ تمہیں پاک کرنے کا اور تمہیں بھرپور نعمت دینے کا ہے، تا کہ تم شکر ادا کرتے رہو۔“
(5-المائدة:6)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”إذا توضأ العبد المسلم أو المؤمن فغسل وجهه خرج من وجهه كل خطيئة نظر إليها بعينيه مع الماء أو مع آخر قطر الماء فإذا غسل يديه خرج من يديه كل خطيئة كان بطشتها يداه مع الماء أو مع آخر قطر الماء فإذا غسل رجليه خرجت كل خطيئة مشتها رجلاه مع الماء أو مع آخر قطر الماء حتى يخرج نقيا من الذنوب“.
”جب مسلمان یا مومن بندہ وضو کرتا ہے، اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے پانی کے استعمال کے ساتھ ہی یا آخری قطرہ آب کے ساتھ وہ تمام گناہ جھڑ جاتے جو اس نے اپنی آنکھوں سے کیے تھے۔ پھر جب اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں سے پانی کے استعمال کے ساتھ ہی یا آخری قطرہ آب کے ساتھ، وہ سب گناہ نکل جاتے ہیں جو اس نے ہاتھوں کو استعمال کر کے کیے تھے۔ پھر جب وہ اپنے قدم دھوتا ہے تو پانی کے استعمال کے ساتھ ہی یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ، اس کے وہ تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں جو اس نے پیروں سے چل کر کیے تھے، یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک صاف ہو جاتا ہے۔“
صحیح مسلم کتاب الطهارة، باب خروج الخطايا مع ماء الوضوء، رقم: 244 .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”سمعت خليلي ﷺ يقول: تبلغ الحلية من المؤمن حيث يبلغ الوضوء“.
”میں نے اپنے خلیل ﷺ سے سنا کہ فرماتے ہیں: (جنت میں) مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا، جہاں تک وضو پہنچے گا۔“
صحيح مسلم، كتاب الطهارة، باب تبلغ الحلية حيث يبلغ الوضوء، رقم: 250 .
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”رأيت رسول الله ﷺ توضأ مثل وضوئي هذا ثم قال: من توضأ هكذا غفر له ما تقدم من ذنبه وكانت صلاته ومشيه إلى المسجد نافلة“.
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اس وضو کی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اس طرح وضو کرے تو اس کے پہلے (صغیرہ) گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور اس کی نماز اور اس کے مسجد کی طرف چل کر جانے کا ثواب ایک زائد چیز ہے۔“
صحيح مسلم، كتاب الطهارة، باب فضل الوضوء والصلاة عقبه، رقم: 229.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
أن رسول الله أتى المقبرة فقال: السلام عليكم دار قوم مؤمنين . وإنا، إن شاء الله بكم لاحقون، وددت أنا قد رأينا إخواننا . قالوا أولسنا إخوانك يا رسول الله؟ قال: أنتم أصحابي، وإخواننا الذين لم يأتوا بعد فقالوا: كيف تعرف من لم يأت بعد من أمتك يا رسول الله؟ فقال: أرأيت لو أن رجلا له خيل غر محجلة بين ظهري خيل دهم بهم، ، ألا يرف خيله؟ قالوا بلى يا رسول الله! قال: فإنهم يـاتون غرا محجلين من الوضوء ، وأنا فرطهم على الحوض .
پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بقیع) قبرستان تشریف لائے اور فرمایا: ” تم پر سلام ہو اے ایمان دار گھر والو! اور ہم، اگر اللہ نے چاہا تو تمہیں ملنے والے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھیں۔“ صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میرے ساتھی ہو، اور ہمارے بھائی وہ ہیں جو ابھی تک نہیں آئے ۔ صحابہ نے کہا، اللہ کے رسول ! آپ کی امت کے وہ لوگ جو ابھی تک نہیں آئے ، آپ انہیں کیسے پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا: ” یہ بتلاؤ ، اگر ایک آدمی کے ایسے گھوڑے، جن کی پیشانی اور ٹانگیں سفید ہوں اور خالص سیاہ رنگ کے گھوڑوں کے درمیان ہوں، کیا وہ اپنے گھوڑے نہیں پہچان لے گا؟ صحابہ نے عرض کیا، کیوں نہیں یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا: ” ( میری امت کے بعد میں آنے والے لوگ بھی) اس حال میں (میدان محشر میں ) آئیں گے کہ وضو کی وجہ سے ان کی پیشانیاں اور ہاتھ پاؤں روشن ہوں گے اور میں حوض (کوثر) پر ان کا میر سامان ہوں گا۔ (یعنی پہلے پہنچا ہوا ہوں گا)۔
صحيح مسلم، كتاب الطهارة، باب استحباب إطالة الغرة والتحجيل، رقم: 249
سخت سردی کے موسم میں مکمل وضو کرنا بھی گناہوں کے مٹنے اور درجات کی بلندی کا باعث ہے۔ چنانچہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے کام نہ بتاؤں جن کے باعث اللہ تعالیٰ گناہ ختم کر دیتا ہے اور درجات بلند کرتا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! ضرور بتائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گرمی اور تکلیف کے وقت مکمل وضو کرنا، مسجد کی طرف زیادہ قدم چل کر آنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، یہی رباط ہے، یہی رباط ہے، یہی رباط ہے۔
صحيح مسلم كتاب الطهارة، باب فضل اتباع الوضوء على المكاره، رقم: 251/41.
فائدہ: تنگی سے مراد سخت سردی اور جسمانی تکلیف وغیر کیفیات ہیں، جن میں انسان وضو کو مشکل سمجھتا ہے۔ چونکہ مذکورہ بالا کاموں کو باقاعدگی سے کرنے والا اللہ تعالیٰ سے گناہوں سے مغفرت، نیکیوں میں اضافے اور جنت میں داخل ہونے کی امید کر رہا ہوتا ہے، اس لیے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں دشمن کے ساتھ جہاد کرنے والوں سے تشبیہ دی ہے، کیونکہ وہ بھی شہادت اور مغفرت کی امید لے کر دشمن کو ختم کرنے کے لیے اپنے آپ کو پابند کرتا ہے۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ ان کاموں کو رباط اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ کام لوگوں کو گناہوں اور نا فرمانیوں سے باز رکھتے ہیں ۔ واللہ اعلم
المتجر الرابح : 58/1-59 .
◈وضو پر محافظت کرنے کا ثواب
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”استقامت اختیار کرو، تم کبھی نیک اعمال کا احاطہ نہیں کر سکتے اور یہ جان لو کہ سب سے افضل عمل نماز ہے۔ ہمیشہ مومن ہی وضو پر محافظت رکھتا ہے۔“
سنن ابن ماجه، كتاب الطهارة وسننها، باب المحافظة على الوضوء، رقم: 277 ـ صحيح الترغيب والترهيب، رقم: 192.
◈وضو کرنے کے بعد دعا پڑھنے کی فضیلت
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے جو شخص مکمل وضو کرنے کے بعد یہ دعا پڑھے:
أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله
”تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، وہ جس میں سے چاہے گا داخل ہو گا۔“
صحيح مسلم، كتاب الطهارة ، باب الذكرا لمستحب عقب الوضوء، رقم: 234/17.
◈وضو کے بعد دو رکعت نماز پڑھنے کا ثواب
سیدنا زید بن خالد الجهنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بہترین وضو کرے، پھر دو رکعت نماز پڑھے، اس دوران غافل نہ ہو، اس کے پہلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
سنن ابوداؤد، کتاب الصلواة، باب كراهية الوسوسة، وحديث النفس، رقم: 905 – البانی رحمہ اللہ نے اسے ”حسن “ کہا ہے۔