اسلامی نظامِ حکومت اور جمہوریت کا تقابلی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

اسلام اور جمہوریت کا تضاد

جمہوریت سے مراد ایسا نظامِ حکومت ہے جس میں عوام کے چنے ہوئے نمائندوں کی اکثریت رکھنے والی سیاسی جماعت حکومت چلاتی ہے اور عوام کے سامنے جواب دہ ہوتی ہے۔ قدیم یونانی مؤرخ ہیرو ڈوٹس نے جمہوریت کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے:یہ ایک ایسا طرزِ حکومت ہے کہ جس میں حاکمانہ اختیارات قانونی طور پر کسی ایک گروہ یا عوام کے کئی گروہوں کے پاس نہیں بلکہ مجموعی طور پر معاشرے کے جملہ ارکان کو حاصل ہوتے ہیں۔ سابق امریکی صدر ابراہیمو لنکن نے جمہوریت کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے: عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے۔

جمہوریت کے بارے میں ابراہیمولنکن کی تعریف جامع اور درست تصور کی جاتی ہے۔ اس تعریف میں عوام کو مرکزی حیثیت حاصل ہے یعنی عوام کی حکومت سے مراد ہے کہ اقتدارِ اعلیٰ عوام ہی کو حاصل ہے اور عوام کے ذریعے حکومت سے مراد یہ ہے کہ عوام صرف اقتدارِ اعلیٰ کے نظریاتی طور پر ہی مالک نہیں ہیں بلکہ وہ عملاً بھی اپنے آپ پر حکومت کرتے ہیں یعنی وہ حکومت کی باگ ڈور اپنے ایسے نمائندوں کے حوالے کرتے ہیں جن سے وہ جواب طلبی کر سکتے ہوں اور بوقتِ ضرورت انھیں مسندِ اقتدار سے ہٹا بھی سکتے ہوں اور عوام کے لیے حکومت سے مراد یہ ہے کہ حکومت عوام کے لیے ہے، اس کا مقصد بلا استثنا عوامی مفاد کی حفاظت ہے۔

جہاں تک جمہوریت کی اصل کا تعلق ہے، قطع نظر جدید جمہوریت کے بنیادی فرق سے، اس کا تصور قدیم یونان کی شہری ریاستوں میں بھی پایا جاتا تھا لیکن باقاعدہ طور پر دنیا میں جمہوریت کی ترقی کی راہ عالمی جنگوں کے بعد ہموار ہوئی۔ خاص کر دوسری جنگِ عظیم کے پیدا کردہ حالات جمہوریت کے فروغ کا سبب بنے، جب جاپان، جرمنی اور اٹلی وغیرہ کی جارحیت کوشکست ہوئی اور برطانیہ، فرانس اور ہالینڈ کی شہنشاہیت اور سامراجیت پر بھی ضرب پڑی۔ چنانچہ ان ممالک کی محکوم اقوام بھی آزادی حاصل کر کے جمہوریت کی راہ پر گامزن ہونے لگیں۔ اکثر اسلامی ممالک نے بھی آزادی کے بعد جمہوری طریق کار اپنا لیا۔ اسی طرح پاکستان میں بھی بحیثیت ایک سیاسی نظام کے جمہوری اصولوں کو اپنایا جاتا رہا ہے بلکہ پاکستان کے تمام دساتیر کی ہمیشہ پہلی دفعہ ہی یہ رہی ہے کہ ”مملکت پاکستان ایک وفاقی جمہوریہ ہو گی، جس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہو گا۔

ہمارے ملک کے اکثر سیاسی اور مذہبی زعماء بھی جمہوری اقدار کے فروغ پر زور دیتے رہے ہیں۔ بعض دانشور تو جمہوریت کو اسلام کے شورائی نظام کے عین مطابق قرار دیتے ہیں، حالانکہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں اور اسلامی تعلیمات میں کھلا تضاد موجود ہے۔ ذیل میں اسلامی تعلیمات اور جمہوریت کے اصولوں میں پائے جانے والے تضاد کے چند نمایاں پہلوؤں کو بیان کیا جا رہا ہے۔

عوام کی حاکمیت:

جمہوری نظامِ حکومت میں اصولی طور پر یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ آخری اقتدار یا آخری فیصلہ عوام کے پاس ہی ہے۔ یعنی اقتدارِ اعلیٰ عوام کو حاصل ہے لیکن اسلامی نقطۂ نظر سے اقتدارِ اعلیٰ نہ عوام کو حاصل ہے نہ سربراہِ مملکت کو اور نہ کسی خاندان یا ادارے کو بلکہ اقتدارِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔ قرآن میں بیان فرمایا گیا ہے: [فَسُبۡحٰنَ الَّذِیۡ بِیَدِہٖ مَلَکُوۡتُ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ]

پاک ہے وہ (ذات) جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا پورا اختیار ہے اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے۔ (یس:83)

[وَسِعَ کُرۡسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ ۚ وَ لَا یَـُٔوۡدُہٗ حِفۡظُہُمَا ۚ وَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡعَظِیۡمُ]

اس کی کرسی آسمانوں اور زمین پر پھیلی ہوئی ہے اور ان کی نگرانی اس کے لیے تھکان کا باعث نہیں۔ (البقرۃ:255)

[الَّذِیۡ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ لَمۡ یَتَّخِذۡ وَلَدًا وَّ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ شَرِیۡکٌ فِی الۡمُلۡکِ]

وہی جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا اور جس کے ساتھ بادشاہی میں کوئی شریک نہیں۔ (الفرقان:2)

[لَا یُسۡـَٔلُ عَمَّا یَفۡعَلُ وَ ہُمۡ یُسۡـَٔلُوۡنَ]

وہ جو کچھ کرتا ہے اس کے بارے میں (کسی کے آگے) جواب دہ نہیں، جب کہ سب لوگ (اس کے سامنے) جواب دہ ہیں۔ (الأنبیاء:23)

[وَ اللّٰہُ یَحۡکُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُکۡمِہٖ]

اللہ (جسے چاہتا ہے) حکم کرتا ہے، کوئی اس کے فیصلے کو رد کرنے والا نہیں۔ (الرعد:41)

[وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعۡجِزَہٗ مِنۡ شَیۡءٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ اِنَّہٗ کَانَ عَلِیۡمًا قَدِیۡرًا]

اور اللہ ایسا نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی چیز اس کو عاجز کر سکے، وہ علم اور قدرت رکھنے والا ہے۔ (فاطر:44)

[وَ اِلَی اللّٰہِ عَاقِبَۃُ الۡاُمُوۡرِ]

اور (تمام) معاملات کا انجام اللہ کی طرف ہے۔ (لقمان:22)

[رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا الرَّحۡمٰنِ لَا یَمۡلِکُوۡنَ مِنۡہُ خِطَابًا]

وہ جو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، سب کا مالک ہے، بڑا مہربان، کسی کو اس کے سامنے بولنے کا یارا نہ ہو گا۔ (النبأ:37)

[وَّ لَا یُشۡرِکُ فِیۡ حُکۡمِہٖۤ اَحَدًا]

اور وہ اپنے حکم (فیصلے) میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔ (الکہف:26)

[وَ لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا ۫ وَ اِلَیۡہِ الۡمَصِیۡرُ]

اور آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب پر اللہ ہی کی حکومت ہے اور سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ (المائدۃ:18)

ان آیات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اقتدار کسی محدود یا مجازی مفہوم میں نہیں بلکہ اپنے پورے مفہوم اور اس کے مکمل تصور کے لحاظ سے حقیقی اقتدارِ اعلیٰ ہے۔ در حقیقت اقتدارِ اعلیٰ جس چیز کا نام ہے وہ اگر کہیں پایا جاتا ہے تو صرف اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں پایا جاتا ہے۔ اس کے سوا اور جہاں بھی اس کے ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، خواہ وہ کسی بادشاہ یا ڈکٹیٹر کی ذات ہو یا کوئی طبقہ یا گروہ یا خاندان ہو، یا کوئی قوم ہو، اسے فی الواقع اقتدارِ اعلیٰ حاصل نہیں ہے کیونکہ اقتدارِ اعلیٰ سرے سے اس حکومت کو کہتے ہی نہیں جو کسی کا عطیہ ہو، جو کبھی ملے اور کبھی سلب ہو جائے، جسے کسی دوسری طاقت سے خطرہ لاحق ہو سکتا ہو، جس کا قیام و بقا عارضی یا وقتی ہو اور جس کے دائرۂ اقتدار کو بہت سی دوسری متصادم قوتیں محدود کرتی ہوں۔ یہاں اس امر کا اظہار بھی ضروری ہے کہ اسلام کا نظریۂ اقتدارِ اعلیٰ ایک دینی عقیدہ ہے اس کو سائنسی، منطقی یا عقلیاتی اصولوں اور دلیلوں سے نہیں پرکھا جا سکتا۔ نیز اقتدارِ اعلیٰ کی یہ موجودہ بحث ایک جدید بحث ہے جو باقاعدہ طور پر انقلابِ فرانس کے بعد منظرِ عام پر آئی۔

اکثریت کا فیصلہ:

جمہوریت کا سب سے نمایاں اصول یہ ہے کہ اس میں ہر معاملے میں فیصلے کثرتِ آراء یعنی اکثریت کی بنیاد پر ہوتے ہیں، خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہوں۔ گویا کہ جمہوریت میں حق و باطل میں تمیز کا پیمانہ بھی اکثریت کا فیصلہ ہے، مگر اس کے برعکس اسلامی تعلیمات میں حق و باطل میں تمیز کے لیے اکثریت کے فیصلے کو گمراہ قرار دیا گیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: [وَ اِنۡ تُطِعۡ اَکۡثَرَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ یُضِلُّوۡکَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ اِنۡ یَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَخۡرُصُوۡنَ]

اور اے نبی (ﷺ)! اگر تم زمین پر بسنے والے لوگوں کی اکثریت کا کہا مانو گے تو وہ تمھیں اللہ کے راستے سے پھیر دیں گے۔ یہ محض گمان کی پیروی کرتے اور اٹکل کے تیر چلاتے ہیں۔ (الأنعام:116)

اس لیے اسلامی تعلیمات میں عام اجتہادی فیصلے بھی کثرتِ آراء کی بنیاد پر نہیں ہوتے بلکہ قوتِ دلیل کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ عہدِ رسالت اور عہدِ خلافتِ راشدہ میں ایسی مثالیں ملتی ہیں جس میں قوتِ دلیل کی بنیاد پر محض ایک شخص کی رائے پر اجماع کر لیا گیا۔ اس کی چند مثالیں حسبِ ذیل ہیں:

[1] رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ بدر میں ایک خاص جگہ خیمہ زن ہونے کا فیصلہ کیا۔ اس پر ایک صحابی سیدنا حباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ (ﷺ)! کیا اس جگہ خیمہ زن ہونے کا فیصلہ وحی الہی پر مبنی ہے یا آپ (ﷺ) کا ذاتی فیصلہ ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:یہ میرا ذاتی فیصلہ ہے۔تو اس پر سیدنا حباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ یہ جگہ غیر موزوں ہے، یہاں سے لشکر کو لے کر فلاں جگہ خیمہ زن ہوں تاکہ مسلمان آسانی سے پانی حاصل کر سکیں۔ رسول اللہ ﷺ کو یہ مشورہ پسند آیا اور آپ ﷺ نے اس مشورہ کو قبول فرمایا۔

[مستدرک حاکم:3/ 326، 327، والنسخة الجديدة:3/ 382، ح:5801 وسندہ ضعیف]

[2] رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ بدر کے بعد اسیرانِ جنگ کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ لیا۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رائے دی کہ فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے۔ آپ ﷺ نے اس رائے کو پسند کیا اور فدیہ لے کر سب کو رہا کر دیا۔

[مسلم، کتاب الجہاد والسیر، باب الإمداد بالملائكة فی غزوۃ بدر…… الخ: 1763]

[3] غزوۂ احزاب کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ لیا۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ جو ایران کے رہنے والے تھے، نے مدینہ کے گرد خندق کھودنے کا مشورہ دیا اور آپ ﷺ نے یہ مشورہ قبول فرمایا۔

 [4] خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے شراب کی سزا مقرر کرنے کی بابت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ میری رائے میں شرابی کی سزا اسی کوڑے ہونی چاہیے۔ کیونکہ جب آدمی شراب پیتا ہے تو مست ہو جاتا ہے اور جب مست ہو جاتا ہے تو بے ہودہ بکتا اور بہتان لگاتا ہے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس مشورہ کو قبول فرمایا اور شراب پینے کی سزا اسی (80) کوڑے مقرر کر دی۔

[الموطأ للإمام مالك، كتاب الأشربة، باب الحد فی الخمر: 2 إسنادہ منقطع]

ان دلائل سے یہ مقصد نہیں ہے کہ اسلام میں اکثریت کی رائے کو ہر جگہ نظر انداز کیا گیاہے، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے بعض دفعہ اکثریت کے فیصلے کو بھی قبول کیا ہے۔ مثلاً غزوۂ احد کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا کہ شہر میں رہ کر مقابلہ کیا جائے یا باہر نکل کر۔ اکثر نے باہر نکلنے کی رائے دی، خاص کر ان لوگوں نے جو غزوۂ بدر میں حصہ نہ لے سکے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کی رائے کو منظور فرمایا، حالانکہ آپ ﷺ شہر میں رہ کر مقابلہ کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ کثرتِ آراء کو شریعتِ اسلامیہ نے نہ تو ہر جگہ حجت اور دلیل تسلیم کیا ہے اور نہ ہر موقع پر اسے اس درجہ سے محروم رکھا ہے، بعض مواقع پر اسے حجت مانا ہے اور بعض میں اسے حجت و دلیل تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ مجلسِ شوریٰ کا اصل کام یہ ہے کہ وہ امیر کو مشورہ دے لیکن تجاویز کو قانون کی منزل تک پہنچانا امیر کا کام ہے۔ یہی بات سورۂ آل عمران کی حسبِ ذیل آیت سے بھی ثابت ہے:

[وَ شَاوِرۡہُمۡ فِی الۡاَمۡرِ ۚ فَاِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُتَوَکِّلِیۡنَ]

اور (اے پیغمبر!) دین کے کام میں ان سے مشورہ لیا کرو۔ پھر جب تم (کسی کام کا) پکا ارادہ کر لو تو اللہ پر بھروسا رکھو، بے شک اللہ بھروسا رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ (آل عمران:159)

اس آیت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مشورہ کے بعد کسی ایک جانب کو ترجیح دینا اور اس کا عزم کرنا یہ فقط امیرِ مجلس کی رائے پر موقوف ہے۔ امیر اپنی دیانت اور فہم سے جس رائے کو زیادہ صائب سمجھے گا اس کو نافذ کر دے گا۔ چنانچہ اسلامی شورائی نظام میں امیرِ وقت کو فیصلے کا حتمی اختیار حاصل ہونے کی وجہ سے مجلسِ شوریٰ کے اندر گروپ بندی کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔ صرف ایک ہی نا قابلِ تقسیم جماعت ہوتی ہے جو منفرد انداز میں بیک وقت حزبِ اختلاف بھی ہوتی ہے اور حزبِ اقتدار بھی اور اس کا واحد مقصد اللہ کی زمین پر اللہ کی حکومت قائم کرنا ہوتا ہے۔ اس نسبت سے شوریٰ اللہ تعالیٰ کے قانون کی پابند ہے۔ مجلسِ شوریٰ میں کوئی ایسی تجویز پیش نہیں ہو سکتی جو کسی اسلامی قانون کے خلاف ہو۔ مجلسِ شوریٰ اس امر پر تو مشورہ کر سکتی ہے کہ نص کا صحیح مفہوم کیا ہے اور اس پر عمل درآمد کس طریقہ سے کیا جائے لیکن کسی ایسے معاملے پر کوئی مشورہ نہیں کر سکتی جس کا فیصلہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے کر دیا ہو۔

اس کا ثبوت خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اس طرزِ عمل سے بھی دیا جا سکتا ہے جو آپ نے منکرینِ زکوٰۃ و نماز کے معاملہ میں اختیار کیا تھا۔ آپ مشورہ کی طرف متوجہ نہیں ہوئے، کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس رسول اللہ ﷺ کا ان لوگوں کے بارے میں حکم موجود تھا۔ اس بارے میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان یہ ہے: کہ جو اپنے دین کو بدلے اسے قتل کر دو۔ چنانچہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے منکرینِ زکوٰۃ و نماز کے خلاف جہاد کیا۔

عورت کی سربراہی اور اس کی شہادت:

جمہوریت میں عورت ملک کی سربراہ بن سکتی ہے، یا اسی طرح کے کسی بڑے منصب پر فائز ہو سکتی ہے اور ہر مقدمہ میں اس کی شہادت مرد کے برابر تصور کی جاتی ہے ۔لیکن اسلامی تعلیمات کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کوئی عورت سربراہِ مملکت نہیں بن سکتی اور نہ ایسے کسی بڑے منصب پر فائز ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ]

مرد عورتوں پر قوام (یعنی حاکم) ہیں۔ (النساء:34)

صحیح بخاری میں سیدنا ابو بکرہ نفیع بن الحارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ خبر سنی کہ اہل فارس (ایران والوں) نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنا حکمران بنا لیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: وہ قوم ہرگز فلاح نہیں پا سکتی جس نے اپنے امور عورت کے سپرد کر دیے ہوں۔

[بخاری، کتاب المغازی، باب کتابۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم إلی کسریٰ و قیصر: 4425]

مذکورہ بالا نصوصِ شرعیہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ مملکت میں ذمہ داری کے مناصب، خواہ صدارت ہو یا وزارت یا مجلسِ شوریٰ کی رکنیت وغیرہ، عورتوں کے سپرد نہیں کیے جا سکتے۔ (اسلامی ریاست از سید ابو الاعلیٰ مودودی) اور اسی طرح اسلام کے قانونِ شہادت میں مقدمات کی نوعیت کے اعتبار سے گواہوں کی تعداد میں بھی فرق رکھا گیا ہے، مثلاً ثبوتِ زنا کے لیے چار مرد گواہ ہوں گے۔ (النور:13، النساء:15) قصاص، قتل اور فوجداری مقدمات میں ’’دو مرد گواہ ہوں گے۔‘‘ کیونکہ عموماً ایسے مقدمات میں عورت کی شہادت تسلیم نہیں کی جاتی، البتہ عام مقدمات میں ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت لی جا سکتی ہے، کیونکہ قرآن و سنت میں عورت کی گواہی مرد کی گواہی کا نصف قرار دی گئی ہے۔

[بخاری، کتاب الشہادات، باب شہادۃ النساء: 2658]

لیکن ایسے معاملات جن کی اطلاع مردوں کے لیے ممکن نہیں، وہاں عورتوں کی شہادت قبول کی جاتی ہے، مثلاً رضاعت (دودھ پلانا، دودھ شریک) کے سلسلہ میں صرف ایک عورت کی گواہی کافی ہو سکتی ہے۔

[بخاری، کتاب النکاح، باب شہادۃ المرضعۃ: 5104]

اس طرح کے معاملات میں عورت سے مشورہ بھی لیا جا سکتا ہے، خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ عورتوں سے بھی مشورہ لے لیا کرتے تھے۔ (تفسیر مظہری، حاشیہ آل عمران)

علماء اور جہلاء کی یکسانیت:

جمہوریت میں ہر بالغ مرد و عورت کے ووٹ کو یکساں قرار دیا جاتا ہے اور اسی طرح مجالسِ قانون ساز میں بھی عموماً ہر ممبر کی رائے کی اہمیت یکساں تصور کی جاتی ہے، خواہ وہ مومن ہو یا مشرک و کافر، عالم ہو یا جاہل، لیکن نصوصِ شرعیہ میں مومن اور مشرک، عالم اور جاہل، متقی اور فاجر و فاسق کو برابر و یکساں قرار نہیں دیا گیا۔ قرآن کی گواہی ملاحظہ ہو:

[اَفَمَنۡ کَانَ مُؤۡمِنًا کَمَنۡ کَانَ فَاسِقًا ؕؔ لَا یَسۡتَوٗنَ]

بھلا وہ شخص جو مومن ہو کیا اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو فاسق ہو؟ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ (السجدۃ:18)

[قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ]

(اے پیغمبر!) ان سے پوچھو! کیا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو علم نہیں رکھتے دونوں برابر ہو سکتے ہیں۔ (الزمر:9)

[قُلۡ لَّا یَسۡتَوِی الۡخَبِیۡثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوۡ اَعۡجَبَکَ کَثۡرَۃُ الۡخَبِیۡثِ]

(اے نبی!) کہہ دو کہ ناپاک اور پاک چیزیں برابر نہیں ہو سکتیں، اگرچہ ناپاک چیزوں کی کثرت تمہیں اچھی ہی لگے۔ (المائدۃ:100)

[اَمۡ حَسِبَ الَّذِیۡنَ اجۡتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنۡ نَّجۡعَلَہُمۡ کَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ سَوَآءً مَّحۡیَاہُمۡ وَ مَمَاتُہُمۡ ؕ سَآءَ مَا یَحۡکُمُوۡنَ]

جو لوگ برے کام کرتے ہیں کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں جیسا کر دیں گے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے (اور) ان کی زندگی اور موت یکساں ہوگی؟ یہ بڑا فیصلہ کرتے ہیں۔ (الجاثية:21)

[وَ مَا یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ ۬ۙ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الۡمُسِیۡٓءُ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَتَذَکَّرُوۡنَ]

اور اندھا اور آنکھ والا برابر نہیں اور نہ ایمان لانے والے نیکوکار اور بدکار برابر ہیں۔ (حقیقت یہ ہے کہ) بہت کم لوگ غور کرتے ہیں۔ (المؤمن:58)

[اَمۡ نَجۡعَلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَالۡمُفۡسِدِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ۫ اَمۡ نَجۡعَلُ الۡمُتَّقِیۡنَ کَالۡفُجَّارِ]

کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، ان لوگوں کی طرح کر دیں گے جو زمین میں فساد کرتے ہیں؟ کیا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں جیسا کر دیں گے؟ (ص:28)

رسول اللہ ﷺ کا فرمان بھی یہی ہے: اللہ کے نزدیک بزرگ و برتر وہ شخص ہے جو اللہ سے ڈرتا ہے یعنی متقی و پرہیزگار ہے۔

[بخاری، کتاب التفسیر، باب ﴿لقد كان في يوسف و إخوته آيات للسائلين﴾: 4689]،[ مسلم، کتاب الفضائل، باب من فضائل یوسف علیہ السلام: 2378]

آپ ﷺ نے مزید فرمایا: جو لوگ تم میں سے دورِ جاہلیت میں بہتر ہیں وہ تم میں سے دورِ اسلام میں بھی بہتر ہیں بشرطیکہ وہ دین کو سمجھ لیں۔

[بخاری، کتاب التفسیر، باب ﴿لقد كان في يوسف و إخوته آيات للسائلين﴾: 4689]،[ مسلم، کتاب الفضائل، باب من فضائل یوسف علیہ السلام: 2378]

اسی لیے قرونِ اولیٰ میں مجلسِ شوریٰ کا رکن عموماً انہی لوگوں کو بنایا جاتا تھا جو عالم اور متقی جانے جاتے تھے۔ خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جنگِ قادسیہ کے موقع پر ایک خطبہ میں فرمایاتھا: کہ مسلمانوں پر واجب ہے کہ ان کے کام ذی رائے اصحاب کے مشورہ سے انجام پذیر ہوں۔ عام لوگ اس شخص کے تابع ہوں جس کو انہوں نے والیِ حکومت قرار دیا ہے اور والیِ حکومت ذی رائے اصحاب کے تابع ہے۔ لہٰذا سب کو ان کی پیروی کرنی ہو گی۔ (تاریخ طبرانی:3/ 481)

سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے بھی ایک موقع پر فرمایا تھا: عابد (پرہیزگار، متقی) لوگوں کو جمع کر کے ان سے مشورہ لینا چاہیے۔

(روح المعانی فی تفسیر القرآن۔ سورۃ الشوریٰ تحت الآیہ:38)،(جامع بیان العلم وفضلہ:2/ 853، ح:1612)

کثیر جماعتی نظام:

عموماً ایک جمہوری ریاست میں متعدد سیاسی جماعتیں ہوتی ہیں۔ ہر جماعت اپنا الگ نظریہ رکھتی ہے اور عوام کے سامنے اپنا الگ منشور پیش کرتی ہے، لیکن اسلام میں مسلمانوں کے درمیان صرف ایک ہی جماعت کا وجود ثابت ہوتا ہے، کیونکہ قرآن میں تمام انسانیت کو دو گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک مسلم اور دوسرے کافر اور تمام مسلمانوں کا تعلق ایک ہی امت (جماعت) سے ظاہر کیا گیا ہے۔ فرمایا:

[ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ فَمِنۡکُمۡ کَافِرٌ وَّ مِنۡکُمۡ مُّؤۡمِنٌ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ]

وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا، پھر کوئی تم میں کافر ہے اور کوئی مومن اور اللہ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو۔ (التغابن:2)

[اِنَّ ہٰذِہٖۤ اُمَّتُکُمۡ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ۫ۖ وَّ اَنَا رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡنِ]،[وَ تَقَطَّعُوۡۤا اَمۡرَہُمۡ بَیۡنَہُمۡ ؕ کُلٌّ اِلَیۡنَا رٰجِعُوۡنَ]

[بے شک یہ ہے تمھاری امت جو ایک ہی امت ہے اور میں ہی تمھارا رب ہوں، سو میری عبادت کرو]،[ اور وہ اپنے معاملے میں آپس میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ سب ہماری ہی طرف لوٹنے والے ہیں] (الأنبیاء: 92، 93)

[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَ لَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ]،[وَ اعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوۡا]

[اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو، جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم ہرگز نہ مرو، مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو]،[ اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور جدا جدا نہ ہو جائو ] (آل عمران:102-103)

احادیثِ رسول ﷺ میں بھی اسلامی جماعت کے مقابلہ میں کسی دوسری جماعت کے بنانے کو سخت ناپسندیدہ فعل اور بغاوت کہا گیا ہے:

[1] جو شخص امیر کی اطاعت سے نکلا اور اسلامی جماعت سے جدا ہوا اور اسی حال میں مر گیا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی۔

[مسلم، کتاب الإمارة، باب وجوب ملازمة جماعة المسلمين عند ظهور الفتن في كل حال …… إلخ: 1848]

[2] عنقریب طرح طرح کے شر اور فسادات رونما ہوں گے، پس جو شخص اس امت کے اتحاد و ارتباط میں تفریق پیدا کرے اور مجتمع امت کے اجتماع کو توڑ دے اس کی گردن تلوار سے اڑا دو، خواہ وہ کوئی ہو۔

[مسلم، کتاب الإمارة، باب حکم من فرق أمر المسلمين و هو مجتمع: 1852]

[3] جو شخص تمہارے پاس آئے اور امامِ وقت کے خلاف خروج کا دعویٰ کرے اور حالت یہ ہو کہ تم سب ایک امیر اور ایک خلیفہ کی اطاعت پر متحد ہو اور وہ تمہارے اتحاد کو توڑنے کا ارادہ رکھتا ہو یا تمہاری جماعت کو متفرق کر دینا چاہتا ہو تو تم اس کو قتل کر دو۔

[مسلم، کتاب الإمارة، باب حکم من فرق أمر المسلمين و هو مجتمع: 60/1852]

[4] ایک دوسری حدیث میں سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے استفسار کیا کہ اگر میں ایسا زمانہ پاؤں جب مسلمان حالتِ شر (یعنی تفرقہ، فتنہ و فساد) میں مبتلا ہوں تو میں کیا کروں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے ساتھ رہنا۔میں عرض گزار ہوا کہ اگر ان کی کوئی معیت اور کوئی امام نہ ہو؟ فرمایا کہ تم فرقوں سے علیحدگی اختیار کر لینا، خواہ تمہیں کسی درخت کی جڑ ہی چبانی پڑے، یہاں تک کہ تمہیں موت آ جائے لیکن رہنا اسی حالت میں۔ [بخاری، کتاب الفتن، باب كيف الأمر إذا لم تكن جماعة: 7084]

اسلام میں سیاسی جماعتوں کے وجود کے حق میں جو دلائل پیش کیے جاتے ہیں، ان میں خصوصی طور پر سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کے عہدِ حکومت میں اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہدِ حکومت کے بعد مسلمانوں میں تفرقہ، خانہ جنگی اور نفاق سے متعلق جو واقعات پیش آئے ان کو بنیاد بنایا جاتا ہے، حالانکہ تاریخِ اسلام کے یہ مذکورہ ادوار مثالی دور نہیں کہلاتے بلکہ محدثین کتبِ احادیث میں ان ادوار کا ذکر ،،کتاب الفتن،، میں لائے ہیں۔ (کتاب الفتن، بخاری و مسلم وغیرہما) اس اعتبار سے سیاسی جماعتوں کے وجود کے حق میں یہ دلیل وزن نہیں رکھتی، چنانچہ اس دلیل کو اسلام میں سیاسی جماعتوں کے وجود کے سلسلہ میں بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ ان مذکورہ بالا نصوصِ شرعیہ کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مسلم امت پوری کی پوری ایک ہی جماعت ہے اور اس کا منشور صرف اور صرف شریعت کا نفاذ ہے۔

حکومت و منصب کی خواہش:

جمہوریت میں سیاسی لیڈر اور سیاسی جماعتیں حکومت حاصل کرنے کی خواہش رکھتی ہیں، اس لیے وہ انتخابات میں حصہ لیتے ہیں اور اپنے جلسوں میں عوام سے ووٹ کا سوال کرتے ہیں، تاکہ انتخابات جیت کر حکومت یا حکومت کا کوئی عہدہ حاصل کر سکیں، لیکن اسلامی تعلیمات میں حکومت و اقتدار کی خواہش کرنے سے منع کیا گیا ہے اور اسی طرح ایسے افراد کو بھی کوئی منصب دینا جائز نہیں ہے جو کسی منصب کی حرص رکھتے ہوں۔ اس بارے میں رسول اللہ ﷺ کے فرامین یہ ہیں: عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:کہ امارت و حکومت کی خواہش نہ کر، اس لیے کہ اگر تجھ کو مانگنے سے حکومت ملی تو تو حکومت کے حوالے کیا جائے گا اور اگر بے مانگے ملے تو اللہ کی طرف سے تجھ کو مدد دی جائے گی۔

[بخاری، کتاب الأحکام، باب من لم يسأل الإمارة …… إلخ : 7146]

ہم اس کو حاکم نہیں بناتے جو اس کی درخواست کرے یا اس کا حریص ہو۔

[بخاری، کتاب الأحکام، باب ما يكره من الحرص على الإمارة: 7149]

کلیدی مناصب پر غیر مسلموں کا تقرر:

ایک جمہوری حکومت میں اقلیتوں کو مجالسِ قانون ساز کا ممبر بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح انہیں وزیر، قاضی، سالار جیسے کلیدی اور اہم مناصب پر بھی فائز کیا جا سکتا ہے، لیکن ایک اسلامی حکومت میں کوئی غیر مسلم ایسے کلیدی مناصب کا اہل نہیں ہو سکتا، جہاں وہ حکومت کی پالیسی میں حصہ دار ہو، کیونکہ ایک اسلامی ریاست نظریاتی نوعیت کی ہوتی ہے۔ اس لیے اس کے چلانے والے بھی ایسے آدمی ہونے چاہئیں جو اس کے نظریات سے متفق ہوں۔ (اسلامی ریاست از سید ابو الاعلیٰ مودودی: 486)

اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو تعلیم فرماتا ہے:

[لَا یَتَّخِذِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡکٰفِرِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۚ وَ مَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ فَلَیۡسَ مِنَ اللّٰہِ فِیۡ شَیۡءٍ]

مومنوں کو چاہیے کہ مومنوں کے مقابلے میں کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں۔ (آل عمران:28)

[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَۃً مِّنۡ دُوۡنِکُمۡ لَا یَاۡلُوۡنَکُمۡ خَبَالًا ؕ وَدُّوۡا مَا عَنِتُّمۡ ۚ قَدۡ بَدَتِ الۡبَغۡضَآءُ مِنۡ اَفۡوَاہِہِمۡ ۚۖ وَ مَا تُخۡفِیۡ صُدُوۡرُہُمۡ اَکۡبَرُ ؕ قَدۡ بَیَّنَّا لَکُمُ الۡاٰیٰتِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ]

اے اہل ایمان! تم کسی غیر (مذہب کے آدمی) کو اپنا راز دار نہ بناؤ، یہ لوگ تمہاری خرابی (اور فتنہ انگیزی کرنے) میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ (جس طرح ہو) تمہیں تکلیف پہنچے۔ ان کی زبانوں سے تو بغض ظاہر ہو ہی چکا ہے اور جو ان کے سینوں میں مخفی ہے وہ کہیں زیادہ ہے۔ ہم نے اپنی آیات کھول کر تمہارے سامنے بیان کر دی ہیں، اگر تم عقل رکھتے ہو۔ (آل عمران:118)

[اِنۡ تَمۡسَسۡکُمۡ حَسَنَۃٌ تَسُؤۡہُمۡ ۫ وَ اِنۡ تُصِبۡکُمۡ سَیِّئَۃٌ یَّفۡرَحُوۡا بِہَا]

اگر تمہیں آسودگی حاصل ہو تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر تمہیں رنج پہنچے تو یہ خوش ہوتے ہیں۔ (آل عمران:120)

[اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُکُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَہۡلِہَا]

(مسلمانو!) اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کر دیا کرو۔ (النساء:58)

(یعنی) ذمہ داری کے مناصب ایسے لوگوں کے سپرد کرو جو ان مناصب کے اہل ہوں، جن میں بارِ امانت اٹھانے کی پوری پوری صلاحیت ہو۔ کلیدی اور اہم مناصب کے علاوہ دیگر عہدوں پر غیر مسلموں کو فائز کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح وہ مسائل جن کا تعلق ذمیوں سے ہو، اس میں غیر مسلموں سے مشورہ بھی لیا جا سکتا ہے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہمیشہ ان معاملات میں جن کا تعلق ذمیوں سے ہوتا تھا، ان سے مشورے بھی لیتے تھے۔ (الفاروق:283)

امام ابو حنیفہ کے نزدیک غیر مسلم اپنے ہم مذہبوں کا قاضی بھی ہو سکتا ہے لیکن اگر کوئی غیر مسلم مسلم قاضی سے اپنا فیصلہ کروانا چاہتا ہو تو وہ ایسا کر سکتا ہے۔ (الأحکام السلطانیہ از الماوردی)

اسلامی ریاست میں حکومت پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے علاقہ میں غیر مسلموں کے جان و مال، حقوق اور ان سے کیے گئے عہد کا پورا پورا خیال رکھے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: جو شخص کسی معاہد کو قتل کرے گا (یعنی اس کافر کو جس سے جنگ نہ کرنے کا عہد کیا گیا ہو) وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا۔ [بخاری، کتاب الدیات، باب إثم من قتل ذمياً بغير جرم: 6914]

خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت خلیفہ بننے والے شخص کے لیے ایک مفصل وصیت فرمائی تھی، اس کا آخری فقرہ یہ تھا: ذمیوں سے جو عہد کیے گئے ہوں انہیں پورا کیا جائے اور ان کی حمایت میں لڑا جائے اور ان کو ان کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دی جائے۔

[بخاری، کتاب الجہاد والسير، باب يقاتل عن أهل الذمة ولا يسترقون: 3052]

قرونِ اولیٰ میں عموماً اہلِ اسلام بلادِ مفتوحہ میں غیر مسلموں سے جو معاہدے کرتے تھے اس کی دفعات کا خلاصہ یہ تھا:عرب حکام اطاعت گزاری اور جزیہ کے بدلے میں رعایا کے جان و مال کی حفاظت کریں گے اور انہیں مذہبی آزادی دیں گے۔

(The Preaching of Islam by T.W Arnold)

اسلام قبول کرنے پر بھی کوئی ذمی مجبور نہیں کیا جاتا تھا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے غلام وثیق رومی کا بیان ہے کہ وہ اس کو ہمیشہ اسلام کی ترغیب دلاتے تھے لیکن اس نے انکار کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دین کے معاملہ میں کوئی زور زبردستی نہیں۔

(کنز العمال فی سنن الأقوال والأفعال: ج5)

جب آپ رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے اس کو آزاد کر دیا اور فرمایا کہ جہاں تیرا جی چاہے چلا جا۔ مشہور مؤرخ اور نقاد آرنلڈ لکھتا ہے: اگر ذمیوں پر چند پابندیاں عائد تھیں تو ان کا مقصد فقط یہ تھا کہ مقابل مذاہب کے پیروؤں کی باہمی کشمکش کا انسداد ہو سکے یا اس مذہبی جنون اور تعصب کو روکا جائے جو مسلمانوں کے لیے ناپسندیدہ تھا۔ (The Preaching of Islam: 56)

سیکولرازم:

جمہوریت کا ایک نمایاں اصول سیکولرازم (Secularism) ہے یعنی مذہب اور سیاست کی علیحدگی، اس اصول کے تحت ملک کا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہوتا۔ البتہ شہریوں کو اپنی انفرادی زندگی میں مذہبی آزادی حاصل ہوتی ہے۔ مگر اجتماعی، تمدنی اور سیاسی معاملات میں مذہب کو داخل نہیں کیا جاتا۔ آج دنیا کی تقریباً تمام جمہوریتوں نے سیکولرازم کو اپنے دستورِ اساسی میں شامل کر لیا ہے۔ (اسلامی ریاست از گوہر الرحمن:81)

جمہوریت کے اس تصور کے برعکس اسلامی تعلیمات میں دین و سیاست کو جدا قرار نہیں دیا گیا، بلکہ حکومت کے قیام کا مقصد ہی شریعت کا نفاذ ہوتا ہے۔ گویا کہ اسلامی حکومت مسلمانوں کی اس جماعت کا نام ہے جو شرعی استحقاق کی بنا پر اسلامی احکام کو زور و قوت کے ساتھ نافذ کر سکے۔

(اسلام کا سیاسی نظام از محمد اسحاق صدیقی:89)

قرآن میں اقتدار کے فرائض کو مختصرًا اس طرح بیان کیا گیا ہے:

[اَلَّذِیۡنَ اِنۡ مَّکَّنّٰہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَ اَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ نَہَوۡا عَنِ الۡمُنۡکَرِ]

یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو زمین میں تمکن عطا کریں تو وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے۔ (الحج:41)

اکثر مسلم فقہاء نے اپنی تصانیف میں خلیفہ کے فرائض میں سے دینی امور سے متعلق فرائض کو نمایاں اہمیت دی ہے۔ (الاحکام السلطانیہ از الماوردی)

اسلام کی سربلندی و اشاعت کی ذمہ داری صرف اربابِ اقتدار ہی پر نہیں ڈالی گئی، بلکہ تمام مسلمانوں پر بھی یہ فرض ہے کہ وہ اسلام کی سربلندی کے لیے اپنے ذاتی مفادات کو قربان کر دیں۔ اس سلسلے میں قرآن کی دلیل ملاحظہ ہو:

[قُلۡ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمۡ وَ اَبۡنَآؤُکُمۡ وَ اِخۡوَانُکُمۡ وَ اَزۡوَاجُکُمۡ وَ عَشِیۡرَتُکُمۡ وَ اَمۡوَالُۨ اقۡتَرَفۡتُمُوۡہَا وَ تِجَارَۃٌ تَخۡشَوۡنَ کَسَادَہَا وَ مَسٰکِنُ تَرۡضَوۡنَہَاۤ اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ جِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ]

(اے نبی!) کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں اور تمہارے عزیز و اقارب اور وہ مال جو تم کماتے ہو اور تمہارے تجارتی کاروبار جن کے مندے کا تم کو خوف ہے اور تمہارے مکانات جو تم کو پسند ہیں، اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے تمہیں زیادہ عزیز ہیں تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ لے آئے اور اللہ فاسق لوگوں کو رہنما ئی نہیں دیا کرتا۔ (التوبة:24)

مذکورہ بالا دلائل سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ جمہوریت خالصتاً ایک غیر اسلامی نظریہ ہے۔ اسلامی تعلیمات اور اس کے اصولوں میں کھلا تضاد اور بعد ہے، لہٰذا مسلمانوں کے لیے یہ بات زیبا نہیں کہ وہ اسلامی تعلیمات و اقدار کے مقابلے میں کسی غیر اسلامی و طاغوتی نظام کو اپنائیں یا اس کے قیام و استحکام میں کسی طرح کا تعاون کریں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

[ثُمَّ جَعَلۡنٰکَ عَلٰی شَرِیۡعَۃٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ فَاتَّبِعۡہَا وَ لَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ]،[اِنَّہُمۡ لَنۡ یُّغۡنُوۡا عَنۡکَ مِنَ اللّٰہِ شَیۡئًا ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ۚ وَ اللّٰہُ وَلِیُّ الۡمُتَّقِیۡنَ]،[ہٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ لِّقَوۡمٍ یُّوۡقِنُوۡنَ]

[پھر ہم نے تجھے (دین کے) معاملے میں ایک واضح راستے پر لگا دیا، سو اسی پر چل اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چل جو نہیں جانتے ]،[ بلاشبہ وہ اللہ کے مقابلے میں ہرگز تیرے کسی کام نہ آئیں گے اور یقینا ظالم لوگ، ان کے بعض بعض کے دوست ہیں اور اللہ متقی لوگوں کا دوست ہے]،[ یہ لوگوں کے لیے سمجھ کی باتیں ہیں اور ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں ہدایت اور رحمت ہے] (الجاثية:18تا20)