حدیث 20: سورج کا عرش کے نیچے سجدہ کرنا
مقام حدیث، ص : 228
ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غروب آفتاب کے وقت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں تھا تو آپ نے فرمایا: ”ابو ذر! کیا تم جانتے ہو کہ سورج کہاں جاتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا:
فإنها تذهب حتى تسجد تحت العرش فتستأذن فيؤذن لها ويوشك أن تسجد فلا يقبل منها وتستأذن فلا يؤذن لها يقال لها ارجعي من حيث جئت فتطلع من مغربها فذلك قوله تعالى
”وہ جا کر عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے اور پھر طلوع ہونے کی اجازت طلب کرتا ہے تو اسے اجازت دی جاتی ہے۔ اور قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے اور وہ قبول نہ ہو اور وہ اجازت طلب کرے اور اسے اجازت نہ ملے اور اسے کہہ دیا جائے کہ جہاں سے آئے ہو واپس لوٹ جاؤ، پس وہ مغرب سے طلوع ہوگا۔“ اس آیت کریمہ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (36-يس:38)کا یہی مطلب ہے۔
صحيح البخاري، بدء الخلق، باب صفة الشمس والقمر، حديث: 3199
اس حدیث کے متعلق منکرین حدیث پوری دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کی نظر میں یہ حدیث جدید نظریہ سائنس کے خلاف ہے۔ جدید نظریہ سائنس کے مطابق سورج اپنی جگہ پر قائم ہے اس میں طلوع و غروب کی صفت نہیں بلکہ زمین اس کے گرد گھومتی ہے۔ اسی طرح اس حدیث میں حرکت شمس کے ساتھ ساتھ اس کا تحت العرش سکون بھی معلوم ہوتا ہے اور یہ متضاد صفات ہیں۔ سورج میں یہ صفت ثابت نہیں کہ وہ کسی وقت کسی خاص جگہ حرکت بند کر دیتا ہے۔
جواب :
سورج کا طلوع و غروب قرآن کریم سے ثابت ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ
”بے شک اللہ تو سورج کو مشرق کی طرف سے نکالتا ہے، تو مغرب کی طرف سے نکال کر دکھا تو یہ بات سن کر وہ کافر لا جواب ہو گیا۔“
(2-البقرة:258)
نیز فرمایا:
حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ
”یہاں تک کہ جب وہ سورج کے غروب ہونے کی جگہ تک پہنچ گیا تو اسے ایک دلدل کے چشمے میں ڈوبتا ہوا پایا۔“
(18-الكهف:86)
اس طرح قرآن کریم میں مشرق و مغرب، مشرقین و مغربین اور مشارق و مغارب کے الفاظ بھی اس بات کی صریح دلیل ہیں کہ سورج طلوع و غروب ہوتا ہے۔ یہ طلوع و غروب اللہ تعالیٰ نے سورج کی صفات میں بیان کیا ہے، لہذا ہم سائنس کے اس نظریے کو ماننے کے لیے تیار نہیں جو قرآن کریم کے خلاف ہو کیونکہ سائنسی نظریات بدلتے رہتے ہیں۔ سورج اور زمین کی حرکت کے متعلق اب تک چار نظریات بدل چکے ہیں۔ کبھی زمین ساکن اور سورج متحرک اور کبھی اس کے برعکس تو سورج کے متعلق اس حدیث میں جو صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ کہاں جا رہا ہے اور یہ کہ وہ عرش کے نیچے سجدہ کرنے جاتا ہے تو اس سے انکار نہیں ہو سکتا۔ مزید برآں سورج کے سجدہ کرنے سے اس کا کسی خاص جگہ پر ساکن ہونا لازم نہیں آتا۔ مختلف چیزوں کا سجدہ ان کی اپنی حیثیت کے مطابق ہی ہوتا ہے، لہذا سورج سجدہ کرتا ہے جس طرح اس کے مناسب حال ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ
”اور بیلیں اور درخت سجدہ کرتے ہیں۔“
(55-الرحمن:6)
نیز فرمایا:
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ
”کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اللہ کے حضور آسمان و زمین کی کل کائنات، سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے اور بہت سے لوگ سجدہ بجا لاتے ہیں۔“
(22-الحج:18)
اس آیت میں ہر چیز کا سجدہ اس کی شان کے مطابق مراد ہے۔ سورج کا تحت العرش سجدہ کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ کہیں رک جاتا ہے۔ وہ تو ہر وقت رب العرش کے حکم کے مطابق چلتا ہے، لہذا قرآن کریم میں جو مستقر مذکور ہے اس حدیث کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا درست ہے کہ سورج کے اپنے مستقر کی طرف جانے سے مراد تحت العرش سجدہ کرنا ہے۔