مضمون کے اہم نکات
تعویذ لٹکانا شرک ہے؟
[1] سیدنا عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا که دم (شرکیہ الفاظ و منتر وغیرہ) تعویذ اور تولہ (محبت کا تعویذ) سب شرک ہے۔ [سنن ابی داؤد:3883]
بعض قسم کے دم جن میں شرکیہ الفاظ نہیں تھے نبیﷺ نے ان کی رخصت دے دی مگر تعویذ گنڈے کی اجازت نہیں دی، بلکہ اس کو شرک قرار دیا ہے۔ اور اسی طرح تعویذ محبت وغیرہ کو بھی شرک فرمایا۔ اللہ تعالی نے شرک کو ظلم عظیم فرمایا۔ (لقمان:13)
اور فرمایا: کہ شرک کرنے والے کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا، وہ ابدی جہنمی ہو گا۔ (النساء:48)
[2] رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے تعویذ لٹکایا اس نے شرک کیا۔ [مسند أحمد:ح17422]
[3] وكيع سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ جس شخص نے کسی آدمی کا تعویذ کاٹ دیا تو گویا اس نے ایک جان آزاد کرا دی۔ [مصنف ابن ابي شيبة، حدیث:25017]
[4] وکیع کہتے ہیں کہ ابراہیم نخعی مشہور تابعی (امام ابو حنیفہ کے استاد کے استاد) روایت کرتے ہیں: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین و تابعین عزام رحمہم اللہ ہر قسم کے تعویذوں کو نا جائز سمجھتے تھے۔ ان میں قرآن لکھا ہوتا یا غیر قرآن۔ [مصنف ابن ابي شيبة، حدیث:25011]
[5] قاضی ابو بکر فیصلہ فرماتے ہیں: کہ قرآن کا لٹکانا سنت کا طریقہ نہیں ہے، سنت تو یہ ہے کہ قرآن سے نصیحت حاصل کی جائے، اسے لکھ کر لٹکایا نہ جائے۔ (عون المعبود:6/4) نبیﷺ کا فرمان یہ ہے، اور آج امت محمدیہ میں جدھر نگاہ ڈالیے کڑے ہی کڑے، چھلے ہی چھلے نظر آتے ہیں، بلاؤں اور جنات سے بچنے کے لیے لوہے کے ٹکڑے بچوں کے پاس اور اپنے پاس رکھتے ہیں۔
[6] سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: کہ جن بھوت اتارنے کے عمل کے بارے (تعویذات وغیرہ سے) آپ کا کیا حکم ہے؟ ارشاد فرمایا: یہ شیطانی عمل ہے۔ [أبو داود، كتاب الطب، باب في النشرة:3868]
بسم اللہ کرنا:
بچوں کو قرآن مجید پڑھانا ہمارے فرائض میں شامل ہے۔ اس لیے کہ یہ قرآن اللہ تعالی نے اسی مقصد کے لیے نازل فرمایا ہے کہ ہم بھی اسے پڑھیں اور ہماری اولادیں بھی اور کبھی اس پر احادیث شریفہ کی تشریحات و توضیحات کی روشنی میں عمل کریں۔ ہمارے نام نہاد سنی احباب نے یہاں بھی ایک تقریب اور ایک بدعت ،،بسم اللہ،، کے نام سے ایجاد کر رکھی ہے۔ وہ یہ کہ جب بچہ چار سال چار ماہ اور چار دن کا ہو جائے تو اس کی ،،بسم اللہ،، کی جاتی ہے۔ کچھ فیشن ایبل گھرانوں میں سال و ماہ کا خیال نہیں رکھا جاتا، لیکن نام نہادسنی حضرات کے دیندار گھرانوں میں سال و ماہ و ایام کا نہایت شدت سے خیال رکھا جاتا ہے۔ بسم اللہ کی تقریب میں شرکت کرنا ثواب دارین کا حاصل کرنا ہوتا ہے، یہی دعوت ناموں پر لکھا جاتا ہے۔ کوئی مشہور قاری یا مولوی آکر بچے یا بچی کو ،،بسم اللہ،، شریف پڑھاتا ہے، اور ساتھ میں کوئی ایک آدھ آیت یا چھوٹی سی کوئی سورت پڑھاتا ہے، پھر مبارک سلامت کا شور اور میلا دوغیرہ شروع ہو جاتی ہے۔ میں نے احادیث کی تمام کتابیں اور تاریخ کی بھی تمام ہی کتابیں تقریباً دیکھ ڈالیں مگر مجھے کہیں بھی یہ نظر نہیں آیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے بڑے نواسے سیدنا علی بن زینب رضي اللہ عنہما اور نواسی امامہ بنت زینب رضي اللہ عنہما کی بسم اللہ کروائی ہو، یا اپنی منجھلی صاحبزادی رقیہ رضي اللہ عنہما کے صاحبزادے اور سیدنا عثمان رضي اللہ عنہ کے بیٹے عبداللہ بن عثمان رضي اللہ عنہما کی بسم اللہ کروائی ہو، یا آپ ﷺ کی تیسری صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضي اللہ عنہما کے بڑے بیٹے حسن رضي اللہ عنہ، بڑی بیٹی زینب رضي اللہ عنہما، ام کلثوم رضي اللہ عنہما اور چھوٹے بیٹے حسین رضي اللہ عنہ و غیرہ جو آپ ﷺ کے نواسے نواسیاں تھے، ان کی بسم اللہ کروائی ہو۔ اسی طرح نہ صحابہ کرام رضي اللہ عنہم اجمعین سے اس کا کوئی ثبوت ملتا ہے۔ تو پھر ہم کون ہوتے ہیں اپنی جانب سے بسم اللہ کی بدعت ایجاد کرنے والے۔
برادران اسلام! یا تو صاف صاف کہہ دیں کہ ہم شریعت خود بناتے ہیں یا پھر ان بدعات کو پاؤں کی ٹھوکر پر رکھ دیں اور صرف وہی کریں جس کا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے۔
آمین:
ایک آمین تو وہ جسے اگر امام کے پیچھے کوئی با آواز بلند کہہ دے تو لوگ اسے مارنے پر تیار ہو جاتے ہیں، حالانکہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ یہ آمین کہنا سنت رسول ﷺ اور سنت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہے۔ لیکن جس آمین کا ثبوت نہ رسول اللہﷺ سے ملتا ہے نہ آپﷺ کے صحابه کرام رضی اللہ عنہم سے۔ اسے ہمارے نام نہاد سنیوں نے اپنے دل سے لگا رکھا ہے، وہ یہ کہ جب بچه قرآن مجید پورا پڑھ لیتا ہے تو کوئی قاری یا مولوی بلوایا جاتا ہے، اہتمام تقریب ہوتا ہے، پھر قاری یا مولوی بچے کو سورہ فاتحہ پڑھاتا ہے جس کے آخر میں بچہ آمین کہتا ہے، اس طرح یہ محفل ثواب دارین انعقاد پذیر ہوتی ہے، اس محفل میں بھی بسا اوقات اہتمام میلاد شریف ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں ایک طریقہ یہ بھی جاہل گھرانوں میں ہے کہ لڑکی کی آمین اس کی شادی کے موقع پر کی جاتی ہے، قرآن ختم کرنے کے بعد نہیں کی جاتی، عین رخصتی کے موقع پر لڑکی کی استانی بلائی جاتی ہے، وہ لڑکی کو سورہ فاتحہ پڑھاتی ہے اور آخر میں لڑکی آمین کہہ دیتی ہے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ دونوں طریقے جہلاء اور پیٹ کے پجاریوں کے ایجاد کردہ ہیں، نہ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی اولاد کی آمین کی نہ اپنے صحابہ رضي اللہ عنہم کو اس کی تعلیم دی، نہ صحابہ کرام رضي اللہ عنہم نے ایسے عمل ایجاد کیے، نہ مقلدوں کے خود ساختہ اماموں سے ایسے احکام ثابت ہیں، پھر کون ہے جس نے یہ ساری خرافات دین کے نام پر ایجاد کی ہیں؟
میرے دوستو! یہ شیطان اور اس کے چیلوں کی ایجاد کردہ اور انھی کی پھیلائی ہوئی ہیں، کیا ان پر عمل کرنا شیطان کی فرماں برداری کرنا نہیں ہے؟
روزه کشائی:
روزہ رکھنا ہر عاقل و بالغ مسلمان پر فرض ہے لیکن فسادات کے اس دور میں یہ عبادت بھی اب ریاکاری میں بدلتی جا رہی ہے۔ اپنی دولت اور شان و شوکت کے اظہار کے لیے دین کے نام پر لوگوں نے جو نت نئی رسومات اور بدعات نکالی ہیں ان میں سے ایک روزہ کشائی بھی ہے، جس کی تقریب بڑی دھوم دھام سے منائی جاتی ہے۔ روزہ کشائی کرنے والے اپنے زعم باطل میں بہت بڑی نیکی کرتے ہیں، اس لیے آنے والے مہمان روزہ رکھنے والے بچے کے لیے تحفے تحائف وغیرہ لاتے ہیں، اس کے والدین کو ہار پہناتے ہیں اور مبارک باد دیتے ہیں که ماشاءاللہ آج ان کے بچے نے روزہ رکھا۔ ہماری گنہگار آنکھوں نے بارہا ان محافل میں یہ مشاہدہ کیا کہ مبارک باد دینے والے اور وصول کرنے والے زیادہ تر بے روزہ دار ہی ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں نمازوں سے تو بالکل بیگانے ہوتے ہیں الاماشاءاللہ۔ سوال یہ ہے کہ جب بچی یا بچہ پہلا روزہ رکھے تو اس کے لیے ایسی تقاریب لازمی ہیں؟ کیا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات یہی ہیں؟ جب بچہ پہلی بار کلمہ پڑھتا ہے تو پھر کلمہ کشائی، جب پہلی بار مسجد جائے تو مسجد کشائی، جب پہلی بار نماز پڑھتا ہے تو نماز کشائی، جب پڑھائی شروع کرتا ہے تو تعلیم کشائی ، جب سکول جانا شروع کرتا ہے تو مدرسہ کشائی، جب پہلی بار زکوۃ ادا کرتا ہے تو زکوة کشائی، جب پہلی بار جہاد کرتا ہے تو جہاد کشائی، جب پہلی بار عمرہ کرتا ہے تو عمرہ کشائی، جب پہلی بار حج کرتا ہے تو حج کشائی کیوں نہیں کی جاتی ہیں؟ کیا یہ کشائی صرف روزے ہی کے ساتھ لازم و ملزوم ہے؟ اگر ہے تو کرنے والے قرآن و حدیث سے اس کا ثبوت دیں، ور نہ اسے بدعت سمجھتے ہوئے فوراً ترک کر دیں۔
فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا:
جب بھی امام فرض نماز سے سلام پھیر کر فارغ ہوتا ہے تو وہ اور اکثر تمام نمازی مل کر دعا کرتے ہیں، امام دعا پڑھتا جاتا ہے اور مقتدی آمین آمین کہتے رہتے ہیں۔ یہ بات تقریباً تمام ہی مساجد میں نظر آتی ہے لیکن اس کا خصوصی اہتمام نام نہاد اہل سنت بالاستمرار اور بالتشد د کرتے گویا اگر اجتماعی دعائے نہ ہو تو ان کی نماز نہیں ہوتی۔ میں کہتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد عادت بنا کر اجتماعی دعا معمولات نبی ﷺ میں شامل نہیں ہے۔ نماز کے بعد اذکار مسنونہ تو البتہ احادیث سے ثابت ہیں جنھیں اجتماعی دعا پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، اس لیے یہ بات کہنے میں مجھے کوئی باک نہیں کہ روزانہ ہر نماز کے بعد اجتماعی دعا ایک بدعت اور اس کے مرتکب بدعتی ہیں، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مکتبہ فکر سے ہو۔ اجتماعی دعا کے بارے میں چند لوگ احادیث ضعیفہ سے دلیل پکڑتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ ان احادیث کی بنیاد پر کبھی کبھی اجتماعی دعا مانگی جاسکتی ہے، اسے بدعت نہیں کہا جا سکتا۔ اس لیے ان احادیث ضعیفہ سے کبھی کبھی اجتماعی دعا کا ثبوت ملتا ہے لیکن استمرار کا ثبوت نہیں ملتا اور میرا کہنا بھی یہی ہے کہ اجتماعی دعا پر ہمیشگی یعنی استمرار کرنا ہی بدعت ہے نہ کہ فی الذات اجتماعی دعا بدعت ہے۔
چھ کلمے پڑھنا اور پڑھانا:
نام نہاد سنی اپنے مدارس میں بچوں کو چھ کلموں کی تعلیم دیتے ہیں اور انھیں یہ چھ کلمے یاد کراتے ہیں۔ اول کلمہ طیب، دوسرا کلمہ شہادت، تیسرا کلمہ تمجید، چوتھا کلمہ توحید، پانچواں کلمہ استغفار اور چھٹا کلمہ ردکفر۔ نام نہاد سنی ان کلموں پر بڑا زور دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جس مسلمان کو یہ چھ کلمے یاد نہیں یا اس کا ان چھ کلموں پر ایمان نہیں اس کا یا تو ایمان نہیں یا پھر اس شخص کو کامل الایمان نہیں سمجھا جائے گا۔ میں کہتا ہوں کہ ان چھ کلموں کی یہ خاص ترتیب و ترکیب کی ایجاد، ان کی لازمی تعلیم اور ایمان کا لازمی جزو سمجھ کر یاد کرنا بدعت ہے۔ کسی حدیث سے ثابت نہیں کہ اللہ کے رسول سیدنا محمد مصطفی ﷺ نے ان چھ کلموں کی اس طرح سے تعلیم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دی ہو۔ یہ چھ کے چھ کلمے اس ترتیب سے اپنے ان ناموں سمیت کسی بھی حدیث کی کتاب موجود نہیں۔
مردوں اور عورتوں کا جدا جدا طریقے سے نماز پڑھنا:
نام نہاد سنی جب نماز پڑھتے ہیں تو اپنے ہاتھ ناف کے نیچے باندھتے ہیں اور ان کی عورتیں اپنے ہاتھ سینے پر باندھتی ہیں۔ اسی طرح جب نام نہاد سنی مرد سجدہ کرتے ہیں تو ناک، پیشانی، ہتھیلیاں، گھٹنے اور قدموں کے کنارے یعنی انگلیاں زمین پر رکھتے ہیں اور بقیہ بدن کو زمین سے بلند رکھتے ہیں لیکن ان کی عورتیں جب سجدہ کرتی ہیں تو اعضائے سجدہ کو زمین پر رکھنے کے ساتھ ساتھ بقیہ بدن کو زمین سے لگا لیتی ہیں اور بدن کو سکیٹر لیتی ہیں۔ نام نہاد سنی مرد اور عورتوں کی نماز میں یہ فرق بدعت ہے۔ اس لیے کہ نہ تو قرآن مجید میں ایسا کوئی حکم پایا جاتا ہے نہ احادیث شریفہ میں اس فرق کا ثبوت ملتا ہے۔ بلکہ احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عورت اور مرد کی نماز میں کوئی فرق نہیں سوائے لباس اور ستر پوشی کے۔ جن کے احکامات صاف الفاظ میں احادیث میں موجود ہیں۔ لہذا یہ بات ایک مضبوط دلیل کے طور پر کہی جاسکتی ہے کہ نام نہا دسنی مرد اور عورتوں کی نماز میں یہ فرق بدعت ہے اور اس فرق کے مطابق پڑھی جانے والی نماز خلاف سنت اور بدعت ہے نیز بدعت پر عمل پیرا لوگ بدعتی ہیں جن کی کوئی بھی عبادت عنداللہ ماجور و قبول نہیں۔ اگر آپ بدعات کی مکمل تفصیل معلوم کرنا چاہتے ہیں تو کتاب بدعات اور ان کا تعارف مصنف علامہ سعید بن عزیز یوسف زئی کا ضرور مطالعہ فرمائیں جو اردو بازار لاہور سے با آسانی دستیاب ہے۔ یہ کتاب 144 صفحات پر مشتمل ہے۔
لوگ آج کل عید میلاد النبی ﷺ بڑے زور شور سے مناتے ہیں، حالانکہ یہ ثابت نہیں ہے۔ مندرجہ ذیل نقشہ اسلام پنجاب (اسلام مکہ مدینہ نہیں) کی کچھ ضروری بدعات کے سن ایجاد بتاتا ہے۔ اب کچھ لوگوں نے ماہانہ محفل میلاد بھی منعقد کرنا شروع کر دی ہے، میرے سامنے اس وقت نوائے وقت لاہور مورخہ7فروری 2005ء موجود ہے جس میں لکھا ہے کہ جامعہ مسجد قادریہ شیر ربانی میں173 ویں ماہانہ محفل میلاد آج ہوگی۔ (اس سے پہلے ہم نے ماہانہ محفل میلاد کا وجود بھی نہ سنا تھا)
اسلام پنجاب کے ضروری ارکان
[1] قیام مجلس میلاد النبی ﷺ،،، 604ھ کی پیداوار ہے۔ کیفیت ملاحظہ ہو: [تاریخ ابن خلکان]
[2] گیارھویں شریف،،، 500ھ کے بعد کی پیداوار ہے۔
[3] رسول اللہ ﷺ کو بشر کہنے والے کافر ہیں،،،، یہ عقیدہ چودھویں صدی ہجری کی ایجاد معلوم ہوتی ہے۔
یاد رہے رسول اللہ ﷺ 11ہجری میں فوت ہوئے، ابو حنیفہ رحمہ اللہ 150ہجری میں فوت ہوئے۔ اور شیخ عبدالقادر جیلانی 561ہجری میں فوت ہوئے۔
حاصل بحث سنت و بدعت:
بدعت میں مبتلا ہونے کے بعد قلب کی نورانیت و صلاحیت زائل ہو جاتی ہے۔ آدمی حق و باطل (قرآن وحدیث اور بدعت) کی تمیز کھو بیٹھتا ہے۔ اس کی مثال اس اناڑی کی سی ہو جاتی ہے جس کو کسی نوسر باز نے روپیہ بڑھانے کا جھانسا دے کر اس سے اصلی نوٹ (قرآن و حدیث) چھین لیے ہوں اور جعلی نوٹوں (بدعات) کی گڈی اس کے ہاتھ میں تھما دی ہو۔ وہ احمق خوش ہے کہ اسے ایک کے بدلے میں سو مل گئے مگر یہ خوشی اسی وقت تک ہے جب تک وہ انھیں لے کر بازار کا رخ نہیں کرتا۔ بازار جاتے ہی اس کو نہ صرف کاغذ کے ان بے قیمت پرزوں کی حقیقت معلوم ہو جائے گی بلکہ جعلی کرنسی کے الزام میں اسے چھڑی بھی لگا دی جائے گی۔
خوب سمجھ لیجیے: کہ آخرت کے بازار میں صرف اور صرف رسول ﷺ کی سنت کا سکہ چلے گا۔ اور جن لوگوں نے بدعتوں کی جعلی کرنسیوں کے انبار لگا رکھے ہیں وہاں ان کی قیمت ایک کوڑی بھی نہ ہوگی، بلکہ سرکاری مہر والے سکہ محمدی کے مقابلے میں غیر سرکاری مہر والی جعلی کرنسی بنانے اور رکھنے کے الزام میں پابند سلاسل (دوزخ) کر دیے جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ کتب احادیث کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ صحابہ کرام رضي اللہ عنہم سختی سے سنت کے پابند تھے اور ہرنئی چیز سے سخت متنفر تھے۔
صحابہ کرام رضي اللہ عنہم اجمعین کے چند واقعات:
ایک دیہاتی صحابی رسول کائنات ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے ایسا عمل بتائیے کہ میں اس کو کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں۔ تو آپﷺ نے ارکان خمسہ کی تعلیم دی۔ سننے پر اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نہ اس سے زیادہ کروں گا اور نہ اس سے کم، جب وہ واپس ہوا تو رسول کائنات ﷺ نے فر مایا: جس شخص کی یہ خواہش ہو کہ جنت والوں میں سے کسی آدمی کو دیکھے تو اس کو دیکھ لے۔ [بخاری، کتاب الزكاة، باب وجوب الزكاة:1397]
اس سے معلوم ہوا کہ احکام دینی کو بلا کم و کاست قائم رکھ کر عمل کرنا بڑی سعادت اور وسیلہ نجات ہے اور ان میں ذاتی تصرف یا تحریف کرنا بڑی شقاوت اور عذاب ابدی کا ذریعہ ہے۔ اسی وجہ سے صحابہ رضي اللہ عنہم کو اتباع نبوی ﷺ کا پورا خیال اور کامل اہتمام تھا۔ چنانچہ فرائض و واجبات وغیرہ امور عظیمہ کا تو ذکر ہی کیا ہے خفیف خفیف باتوں بلکہ امور اتفاقیہ میں بھی مخالفت روا نہ رکھتے تھے، جیسا کہ مندرجہ ذیل واقعات سے اس کی تصدیق ہوتی ہے:
[1] آپ ﷺ نے ایک خاص ضرورت سے انگوٹھی بنوائی اور پہنی تو سب نے انگوٹھیاں بنوا لیں اور پہن لیں۔ جب آپ نے اس کو اتار کر پھینک دیا تو سب نے اتار کر پھینک دیں۔ [بخاری، کتاب اللباس، باب من جعل فص الخاتم في بطن كفه:5876]
[2] ایک مرتبہ آپ ﷺ نعلین پہنے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے تو آپ ﷺ نے نماز کے دوران کسی ضرورت سے نعلین اتار دیے تو صحابہ نے بھی آپ کو اتارتے دیکھ کر اتار دیے۔[أبو داود، كتاب الصلاة، باب الصلاة في النعل:650]
[3] ایک صحابی رضي اللہ عنہ نے رسول کائنات ﷺ کو اس حالت میں دیکھا کہ آپ کے قمیص کا بٹن کھلا ہوا تھا تو انھوں نے عمر بھر بٹن کھلا رکھا۔
[أبو داود، كتاب اللباس، باب في حل الأزار:4082]
[4] ایک دفعہ سیدنا علی رضي اللہ عنہ گھوڑے پر سوار ہو کر ہنسے، وجہ دریافت کرنے پر سیدنا علی رضي اللہ عنہ نے جواب دیا: کہ میں نے رسول اللہﷺ کو اس جگہ گھوڑے پر سوار ہو کر اسی طرح ہنستے دیکھا۔ [سنن ترمذی: ح 3446]،[سنن أبي داود: ح 2602]
[5] ایک مرتبہ سیدنا علی رضي اللہ عنہ نے وضو کے بعد کھڑے ہو کر پانی پیا اور کہا کہ رسول اللہﷺ نے ایسا ہی کیا تھا جیسا میں نے کیا۔
[نسائي، كتاب الطهارة، باب صفة الوضوء:95]
[6] ایک سفر میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضي اللہ عنہما کا ایک مقام پر راہ سے ہٹ کر چلنے لگے، ان سے دریافت کیا گیا تو انھوں نے کہا:کہ میں نے رسول اللہﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔ [سنن أبي داود، كتاب الأدب، باب كراهية الغناء والزمر:4924]
[7] اسی طرح نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہﷺ کے آثار کی اتباع کرتے تھے۔ اور جہاں کہیں آپ ﷺ سفر میں اترے تھے وہیں اترتے تھے۔ آپ ﷺ ایک درخت کے نیچے اترے تھے تو سیدنا عبد اللہ بن عمر رضي اللہ عنہما اس درخت کی آبیاری کرتے تھے، تاکہ سوکھ نہ جائے اور اسی درخت کے نیچے جا کر قیلولہ کرتے اور خبر دیتے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ [صحیح ابن حبان:ح 7074]
[8] سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے تھے میں نے تو اس کٹورے سے رسول اللہﷺ کو اتنی اتنی بار سےزیادہ پلایا ہے۔ عاصم نے کہا ابن سیرین کہتے تھے: اس کٹورے میں ایک کنڈا لوہے کا لگا تھا سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے چاہا کہ اس کے بدلے سونے یا چاندی کا کنڈا لگا دیں۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے ان کو سمجھایا کہ رسول اللہ ﷺ کی کوئی چیز مت بدل۔ تب انس رضی اللہ عنہ نے اسی طرح رہنے دیا۔ [بخاري، كتاب الأشربة، باب الشرب من قدح النبیﷺ وآنیته:5638، 3109]
[9] رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب تو اپنی سونے کی جگہ آئے تو نماز کا سا وضو کر پھر داہنی کروٹ لیٹ اور یہ دعا پڑھ (ترجمہ: یا اللہ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کر دی اور اپنا سارا کام بھی تجھ کو سونپ دیا۔ اور تجھی پر میں نے تیرے عذاب سے ڈر کر اور تیرے ثواب کی امید کر کے بھروسا کیا، تجھ سے بھاگ کر کہیں پناہ یا چھٹکارے کی جگہ تیرے سوا نہیں ہے۔ میں اس کتاب پر جو تو نے اتاری، ایمان لایا اور نبی (ﷺ) پر جن کو تو نے بھیجا۔ آپ نے فرمایا: جو شخص اس دعا کو پڑھ کر سو جائے اور پھر مر جائے تو اسلام پر مرے گا اور ایسا کر کہ یہ دعا سب باتوں کے اخیر میں پڑھ براء نے کہا : اے اللہ کے رسول (ﷺ) میں اس کو یاد کرلوں ، انھوں نے پڑھا تو یوں کہا: (وبرسولك الذي أرسلت) آپ ﷺنے فرمایا : نہیں یوں پڑھ (وبنبيك الذي أرسلت)۔ [بخاری، کتاب الوضوء، باب فضل من بات على الوضوء:247]
کیونکہ آپ ﷺ نے یہی الفاظ سکھائے تھے۔
[10] سیدنا ابن عمر رضي اللہ عنہ کے سامنے ایک آدمی کو چھینک آئی تو اس نے: [الحمد لله و السلام على رسول الله] کہا یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں بھی [الحمد لله والسلام على رسول الله] کہہ سکتا ہوں مگر رسول اللہﷺ نے اس موقع پر ہمیں یہ تعلیم نہیں دی، بلکہ فرمایا کہ چھینک آنے پر [الحمد لله على كل حال] پڑھا جائے۔ [ترمذى، كتاب الأدب، باب ما يقول العاطس إذا عطس:2738]
ثابت ہوا کہ رسول کائنات ﷺ کے بتائے ہوئے الفاظ میں ایک لفظ بھی بدلنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ دین کے معاملہ میں آپ کے منہ مبارک سے نکلی ہوئی بات وحی ہے، اور وحی میں رد و بدل نہیں ہو سکتا۔
حدیث نبوی ﷺ میں ارشاد ہے: میں حوض کوثر پر تم سے پہلے موجود ہوں گا، جو شخص میرے پاس آئے گا وہ اس کا پانی پئے گا اور جو ایک بار پی لے گا پھر اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔ کچھ لوگ میرے پاس وہاں آئیں گے جن کو میں پہچانتا ہوں گا (کیونکہ جہاں جہاں وضو کا پانی لگے گا وہ اعضاء قیامت کے دن چمکتے ہوں گے اور حدیث کے مطابق یہ کسی اور امت کی خصوصیت نہ ہوگی) اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے (کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو قیامت کے دن حوض کوثر دینے کا قرآن میں وعدہ فرمایا) مگر میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ پیدا کر دی جائے گی، میں کہوں گا: یہ تو میرے امتی ہیں۔ مجھے جواب ملے گا کہ آپ (ﷺ) نہیں جانتے، انھوں نے آپ کے بعد کیا کیا۔ یہ جواب سن کر میں کہوں گا: دور ہوں، دور ہوں وہ لوگ جنھوں نے میرے بعد میرا طریقہ بدل ڈالا۔
[صحیح البخاری:6583،6584]
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے رسول اللہﷺ کی سنت چھوڑ کر دین میں نئی نئی بدعتیں ایجاد کر لی ہیں وہ قیامت کے دن رسول اللہﷺ کے حوض کوثر سے محروم رہیں گے۔ ذرا سوچیے! کیا اس سے بڑی محرومی کوئی ہو سکتی ہے، حالانکہ وہ نمازی ہوں گے۔