حدیث 38: جنت میں اکثر فقیر لوگ جائیں گے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اطلعت فى الجنة فرأيت أكثر أهلها الفقراء
”میں نے جنت میں جھانکا تو میں نے دیکھا کہ اس میں اکثریت فقراء کی تھی۔“
صحيح البخاري ، الرقاق، باب صفة الجنة والنار ، حديث: 6546
ایک دوسری حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ألا أخبركم بأهل الجنة قالوا بلى قال صلى الله عليه وسلم كل ضعيف متضعف لو أقسم على الله لأبره
”کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں؟ صحابہ نے عرض کیا، کیوں نہیں، ضرور بتائیں، آپ نے فرمایا: ”ہر کمزور شخص اور جسے کمزور سمجھا جائے، اگر وہ (بھروسا کرتے ہوئے) اللہ پر قسم ڈال دے تو وہ ضرور اسے پورا کر دے۔“
صحيح مسلم، الجنة ونعيمها، باب النار يدخلها الجبارون ، حديث : 2853
اس مضمون کے متعلق اور بھی احادیث ہیں، پرویز صاحب اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں: اسلام غلبہ اور قوت کا دین ہے۔
فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ
”بے شک اللہ کی جماعت ہی غالب رہے گی۔“
(5-المائدة:56)
قرآن بار بار مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ اتنی قوت جمع رکھو کہ مخالفین پر تمہارا رعب چھا جائے اور مخالفین یہ جانتے تھے کہ جب تک مسلمانوں کے دل سے یہ خیال نہ نکال دیا جائے کہ قوت و سطوت خدا کے ہاں برگزیدگی کا موجب ہے ان پر غالب آنا ناممکن ہے، لہذا انہوں نے اس قسم کی احادیث وضع کرنا شروع کر دیں کہ خدا کے مقرب بندے وہ ہیں جو ضعیف و ناتواں ہیں، جن پر محتاجی و مفلسی چھائی رہتی ہے، جو کمزور اور بے چارگی کے مجسمے ہیں اور جو دنیا میں ذلیل و خوار ہوں۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ حضور نے فرمایا: ”میں نے جنت میں دیکھا کہ اس میں اکثریت سے وہ لوگ ہیں جو دنیا میں فقیر تھے۔“
مقام حدیث، ص: 224
اس تحریر میں پرویز صاحب نے کوشش کی کہ ان احادیث کو قرآن کے مقابل لا کھڑا کرے اور ان احادیث پر وضع کا حکم لگائے۔
جواب :
➊ پہلی بات تو یہ ہے کہ پرویز صاحب کی یہ بات غلط ہے کہ اسلام غلبے اور قوت کا دین ہے بلکہ اسلام اس لیے ہے کہ اسے غالب کیا جائے اور اسے تقویت پہنچائی جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ
”وہی ذات ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے تا کہ وہ اسے تمام ادیان پر غالب کرے۔“
(9-التوبة:33)
➋ دوسری بات یہ ہے کہ یہ احادیث قرآن کریم کے مطابق ہیں کیونکہ ہر دور کے سرداروں اور وڈیروں نے اپنے اپنے نبی کی مخالفت کی۔ نوح علیہ السلام کی قوم کے متعلق فرمایا:
قَالَ الْمَلَأُ مِن قَوْمِهِ إِنَّا لَنَرَاكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
”ان کی قوم کے سرداروں نے کہا: بے شک ہم تمہیں کھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں۔“
(7-الأعراف:60)
ہود علیہ السلام کی قوم کے سرداروں کے متعلق فرمایا:
قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَوْمِهِ إِنَّا لَنَرَاكَ فِي سَفَاهَةٍ
”ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا: بے شک ہم تمہیں حماقت میں دیکھتے ہیں۔“
(7-الأعراف:66)
صالح علیہ السلام کی قوم کے سرداروں کے متعلق فرمایا:
قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِن قَوْمِهِ
”ان کی قوم کے متکبر سرداروں نے کہا۔“
(7-الأعراف:75)
ان اقوام میں جو ایمان والے تھے جنہوں نے اپنے نبی کی حمایت کی وہ سب ضعیف لوگ تھے۔ فرمایا:
لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِمَنْ آمَنَ مِنْهُمْ
”(متکبر سرداروں نے کہا) ان کمزور لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لے آئے تھے۔“
(7-الأعراف:75)
بنی اسرائیل کے بارے میں فرمایا:
وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا
”اور ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنایا جس میں ہم نے برکت رکھی ہے۔“
(7-الأعراف:137)
نوح علیہ السلام کی قوم کے جو افراد ایمان لائے تھے ان کے متعلق متکبرین نے کہا:
وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْيِ وَمَا نَرَىٰ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍ
”ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے تیری پیروی ان لوگوں نے کی ہے جو رذیل ہیں اور سرسری نظر رکھتے ہیں، اور ہم تو تم لوگوں میں اپنے سے کوئی برتری نہیں پاتے۔“
(11-هود:27)
اسی طرح خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم پر مکہ میں ابتدائی طور پر وہی لوگ ایمان لائے تھے جو معاشرے کے کمزور افراد تھے۔
➌ تیسری بات یہ ہے کہ مال دار اور خوش حال لوگ اسلام کی مصیبتوں کو برداشت نہیں کر سکتے اور فرار کے لیے بہانے بناتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ وَهُمْ أَغْنِيَاءُ
”گناہ صرف انہی لوگوں پر ہے جو آپ سے باوجود غنی ہونے کے پیچھے رہنے کی اجازت چاہتے ہیں۔“
(9-التوبة:93)
جب کہ فقراء اور مساکین جہاد میں اکثر اخلاص کے ساتھ اور شجاعت کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔
➍ چوتھی بات یہ ہے کہ قیامت کے دن مال داروں سے مال کے متعلق دو سوال کیے جائیں گے کہ مال کہاں سے کمایا، اور کہاں خرچ کیا؟ جو مال دار اس سوال میں کامیاب ہوں گے وہ جنت میں جائیں گے جب کہ فقراء و مساکین پانچ سو سال پہلے جنت میں جائیں گے کیونکہ وہ اکثر سوالات سے بری الذمہ ہوں گے۔
باقی فقراء اور مساکین پر یہ کوئی پابندی نہیں کہ وہ مال نہ کمائیں بلکہ وہ فقیری میں جو کماتے ہیں اس میں سے خرچ بھی کرتے ہیں اور اسلام کے غلبہ کے لیے کوشاں رہتے ہیں، پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ فقراء فقر کی حالت میں ایسے اعمال میں مشغول رہتے ہیں کہ ان اعمال صالحہ کی وجہ سے ان کی تعداد جنت میں زیادہ ہوگی۔