کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی ہو سکتے تھے؟ روایات کا تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری کی کتاب ختم نبوت سے ماخوذ ہے۔

عقیدہ ختم نبوت پر وارد اعتراضات کا جائزہ

ہر مسلمان کا ختم نبوت پر ایمان ہے، جوختم نبوت پر یقین نہیں رکھتا، وہ مسلمان نہیں ہے، یہ عقیدہ نصوص صریحہ اور اجماع امت سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے، اس میں ذرہ بھر بھی شک کی گنجائش نہیں ہے، مگر اس عقیدے پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، اس لئے مناسب جانا گیا کہ اعتراضات ذکر کر کے ان کا علمی جائزہ پیش کر دیا جائے، تاکہ مسلمان شکوک و شبہات سے نکل کر ختم نبوت کے حیات آفریں عقیدے کی چھاؤں میں جئیں :

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا نبی ہونا :

سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لو لم أبعث فيكم، لبعث عمر .
”میری بعثت نہ ہوتی، تو عمر بن خطاب مبعوث ہوتے۔“
(الكامل لابن عدي : 175/4 ، اللآلي المصنوعة للسيوطي : 277/1)
روایت جھوٹی ہے۔
زکریا بن یحییٰ الوقار ابو یحییٰ مصری سخت مجروح ہے۔
امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
يضع الحديث .
”احادیث وضع کرتا تھا۔“
(الكامل في ضعفاء الرجال : 174/4)
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
منكر الحديث، متروك .
”متروک منکر الحدیث ہے۔“
(سنن الدارقطني : 333/1)
امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
سمعت مشايخ أهل مصر يتنون عليه فى باب العبادة والإجتهاد والفضل وله حديث كثير بعضها مستقيمة وبعضها ما ذكرت وغير ما ذكرت موضوعات وكان يتهم الوقار بوضعها لأنه يروي عن قوم ثقات أحاديث موضوعات والصالحون قد رسموا بهذا الرسم إن يرووا فى فضائل الأعمال موضوعة بواطيل ويتهم جماعة منهم بوضعها .
”میں نے مصر کے شیوخ کو دیکھا، وہ اس کی عبادت، ریاضت اور فضل کی تعریف کرتے تھے، اس نے بہت سی احادیث بیان کی ہیں، بعض سچی ہیں، بعض موضوع ہیں، جن میں سے کچھ کا تذکرہ میں نے کیا ہے اور کچھ کا نہیں کیا، یہ احادیث گھڑنے کا الزام وقار نامی راوی پر رکھا جاتا ہے، یہ ثقہ راویوں سے موضوع روایات بیان کرتا تھا۔ صالحین فضائل اعمال میں موضوع اور باطل روایات بیان کرنے میں مشہور ہیں، ان کی ایک جماعت پر وضع حدیث کا الزام لگا ہے۔“
(الكامل في ضعفاء الرجال : 176/4 – 178/4)
امام ابن حبان رحمہ اللہ نے (الثقات : 254/8) میں ذکر کرنے کے بعد فرمایا :
يخطئ ويخالف .
”غلطی کھاتا ہے اور ثقات کی مخالفت کرتا ہے۔“
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ليس هو بالقوي فى الحديث، ضعفه أبو سعيد بن يونس .
”حدیث میں قومی نہیں ہے، اسے ابن یونس نے ضعیف قرار دیا ہے۔“
(تاريخ الإسلام : 84/6)
نیز کذاب کہا ہے۔
(دیوان الضعفاء : 145)
ابوبکر بن عبد اللہ بن ابی مریم غسانی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ضعیف کہا ہے۔
(تقریب التهذيب : 7974)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
ليس حديثه بصحيح، ضعفه أحمد وغيره لكثرة حديثه .
”اس کی حدیث صحیح نہیں ہے، امام احمد وغیرہ نے کثرت سے (منکر) روایات بیان کرنے کی وجہ سے ضعیف قراردیا ہے۔“
(دیوان الضعفاء : 463)
اس روایت کے بارے میں امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
هذا عن بلال بهذا الإسناد غير محفوظ وإنما يروى هذا عن عقبة بن عامر وبلال عن النبى صلى الله عليه وسلم ومع هذا ما قلب متنه لأن الرواية لو كان بعدي نبي لكان عمر .
”سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے منسوب یہ سند غیر محفوظ ہے، یہ روایت سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ہے، جس کا متن محفوظ ہے۔“
(الکامل في ضعفاء الرجال : 176/4)
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت ثابت نہیں۔“
(الموضوعات : 320/1)
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لو لم أبعث فيكم لبعث فيكم عمر .
”اگر میں آپ میں مبعوث نہ ہوتا، تو عمر بن خطاب مبعوث ہوتے۔“
(الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي : 334/5)
روایت جھوٹی ہے۔
عبداللہ بن واقد ابو قتادہ حرانی جمہور کے نزدیک ضعیف اور متروک ہے۔
امام مسلم رحمہ اللہ نے متروک الحدیث کہا ہے۔
(الکنی : 696/2)
امام ابو زرعہ رحمہ اللہ نے ضعیف الحدیث کہا ہے۔
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم : 192/5)
امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ليس به بأس إلا أنه كان يختلط فى الحديث .
”اس میں کوئی حرج نہیں، البتہ یہ حدیث میں اختلاط کا شکار ہے۔“
(تاریخ ابن معين برواية الدوري : 383/4)
امام بخاری رحمہ اللہ نے منکر الحدیث کہا ہے۔
(التاريخ الكبير : 219/5)
امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
تكلموا فيه، منكر الحديث، وذهب حديثه .
”اس پر محدثین نے جرح کی ہے، منکر الحدیث ہے، اس کی حدیث ضعیف ہے۔“
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم : 192/5)
امام نسائی رحمہ اللہ نے ”متروک الحدیث“ کہا ہے۔
(الضعفاء والمتروكين : 337)
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
كان أبو قتادة من عباد أهل الجزيرة وقرائهم ممن غلب عليه الصلاح حتى غفل عن الإثقان فكان يحدث على التوهم فيرفع المناكير فى أخباره والمقلوبات فيما يروي عن العقات حتى لا يجوز الاحتجاج بخبره وإن اعتبر بما وافق الرقات من الأحاديث معتبر .
”ابوقتادہ اہل جزیرہ کے عابدوں اور قاریوں میں سے تھا، اس پر نیکی کا رنگ غالب تھا، لیکن بیان حدیث میں غفلت برتنے لگا تھا، وہم کا شکار تھا، منکر روایات کو مرفوع بیان کر دیتا اور ثقات سے بیان کرتے ہوئے مقلوب روایات کو بھی مرفوع بیان کر دیتا تھا، اس کی روایت قابل حجت نہیں، البتہ اگر ثقات سے موافق ہو، تو معتبر ہے۔“
(کتاب المجروحين : 29/2)
امام دار قطنی رحمہ اللہ نے ”ضعیف“ کہا ہے۔
(العلل، نقلا عن موسوعة أقوال الدارقطني : 382/2)
حافظ ابن سعد رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
لم يكن فى الحديث بذاك .
”یہ حدیث میں کچھ بھی نہیں تھا۔“
(طبقات ابن سعد : 486/7)
حافظ بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
لم يكن بالحافظ … وكان يعلط فيلقن الصواب فلا يرجع .
”حافظ نہیں تھا ، غلطی کر جاتا تلقین کی جاتی تو رجوع نہیں کرتا تھا۔“
(مسند البزار : 4855)
امام ابوعروبہ حرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
كان يتكل على حفظه، فيغلط .
”اپنے حافظے پر بھروسہ کرتا تھا اور غلطی کھا جاتا تھا۔“
(تهذيب التهذيب لابن حجر : 67/6)
امام صالح جزرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ضعيف مهين .
”وہ سخت ضعیف ہے۔“
(تهذيب التهذيب لابن حجر : 67/6)
امام جریری رحمہ اللہ کہتے ہیں :
غيره أوثق منه .
”دوسرے اس سے زیادہ ثقہ ہیں۔“
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
هذه العبارة، يقولها الجريري فى الذى يكون شديد الضعف .
”جریری رحمہ اللہ یہ جملہ سخت ضعیف راوی کے بارے استعمال کرتے ہیں۔“
(تهذيب التهذيب لابن حجر : 67/6)
حافظ ابو احمد حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
حديثه ليس بالقائم .
”اس کی حدیث حجت نہیں ہے۔“
(تهذيب التهذيب لابن حجر : 67/6)
حافظ جوزجانی رحمہ اللہ کہتے ہیں :
غير مقنع .
”اس کی روایات قابل التفات نہیں۔“
(أحوال الرّجال : 308)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
أحد الضعفاء .
”ضعیف ہے۔“
(تاريخ الإسلام : 104/5)
نیز ”متروک“ بھی کہا ہے۔
(تلخیص الموضوعات : 100/1)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ”متروک“ کہا ہے۔
(تقریب التهذيب : 3687)
نیز فرماتے ہیں :
متفق على ضعفه .
”اس کے ضعف پر اتفاق ہے۔“
(طبقات المدلسين : 55)
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اس کی توثیق کے بعد فرماتے ہیں :
أظنه كان يدرس ، ولعله كبر واختلط .
”میرا خیال ہے کہ یہ تدلیس بھی کرتا تھا، شاید بڑھاپے کی وجہ سے مختلط ہو گیا ہو۔“
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم : 192/5)
امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
هو عندي كما قال فيه أحمد بن حنبل .
”میرے نزدیک اس کا درجہ وہی ہے، جو احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے بتایا ہے۔“
(الكامل في ضعفاء الرجال : 325/5)
علامہ معلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
كان أولا متماسكا، حتى أثنى عليه بعض الأئمة، ثم فسد جدا فترك، فليس بشيء ألبتة .
”ابتدا میں اس کا معاملہ بہتر تھا، بعض ائمہ نے اس کی تعریف بھی کی لیکن پھر حافظہ کی شدید خرابی کے باعث متروک قرار پایا، لہذا یہ قطعا ضعیف ہے۔“
(الفوائد ص : 485)
مصعب بن سعید ابوخیثمہ اگر چہ صدوق، حسن الحدیث ہے، لیکن صاحب مناکیر بھی ہے، یہ اس کی منکر روایات میں سے ہے۔
امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
يحدث عن النقات بالمناكير، ويصحف عليهم … والضعف على حديثه بين .
”ثقات سے منکر روایات بیان کرتا ہے اور ان میں تصحیف کر دیتا ہے۔ اس کی حدیث میں ضعف واضح ہے۔“
(الكامل في ضعفاء الرجال : 91,89/8)
امام صالح جزرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
لا يعقل ما يقول .
”اسے اپنے کہے کی سمجھ بھی نہیں ہوتی تھی۔“
(لسان الميزان لابن حجر : 44/6)
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ربما أخطأ يعتبر حديثه إذا روى عن الثقات وبين السماع فى خبره لأنه كان مدلسا وقد كف فى آخر عمره .
”کبھی خطا کھا جاتا تھا، یہ مدلس تھا، آخر عمر میں نابینا ہو گیا تھا، سماع کی تصریح کر دے تو اس کی روایت معتبر ہوگی۔“
(الثقات : 175/9)
حافظ ابن قطان فاسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
يضعف .
”اس کی تضعیف کی گئی ہے۔“
(بيان الوهم والإيهام : 86/2)
حافظ ہیثمی رحمہ اللہ نے ”ضعیف“ کہا ہے۔
(مجمع الزوائد : 101/3)
امام ابو حاتم رحمہ اللہ نے ”صدوق“ کہا ہے۔
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم : 309/8)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ”صدوق“ کہا ہے۔
(المغني في الضعفاء : 660/2)
نیز اس کی چند روایات ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
ما هذه إلا مناكير وبلايا .
”یہ روایات منکر اور پریشان کن ہیں۔“
(ميزان الاعتدال في نقد الرّجال : 120/4)
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
”یہ روایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔“
(الموضوعات : 320/1)
عبداللہ بن جبیر حضرمی سے منسوب ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا :
لو لم أبعث لبعثت .
”اگر میں مبعوث نہ ہوتا، تو آپ مبعوث ہوتے۔“
(اللآلي المصنوعة في الأحاديث الموضوعة : 277/1)
روایت جھوٹی ہے۔
◈ عبد اللہ بن واقد حرانی سخت مجروح، مختلط اور مدلس ہے۔ جیسا کہ گزر چکا۔
◈ ابو عبد اللہ محمد بن عتبہ رملی کی توثیق نہیں ملی۔
نیز روایت مرسل بھی ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لو لم أبعث فيكم لبعث عمر، أيد الله عمر بملكين يوفقانه ويسيدانه فإذا أخطأ صرفاه حتى يكون صوابا .
”اگر آپ میں میری بعثت نہ ہوتی، تو عمر مبعوث ہوتے ، اللہ نے عمر رضی اللہ عنہ کی تائید دو فرشتوں سے کی ہے، وہ انہیں حق کی رہنمائی کرتے ہیں، اگر خطا کرنے لگیں، تو انہیں راستی کی طرف پھیر دیتے ہیں۔“
(اللآلي المصنوعة في الأحاديث الموضوعة : 277/1)
روایت جھوٹی ہے۔
◈ اسحاق بن نجیح بالاتفاق دجال، کذاب متروک اور منکر الحدیث ہے۔
◈ عطاء خراسانی کی کسی صحابی سے ملاقات یا سماع نہیں، یہ کثیر الارسال ہے۔
◈ حسین بن عبد الرحمن بن حمران۔
◈ عیسی بن مروان۔
◈ عبداللہ بن عیسی بن ہارون۔
تینوں کی توثیق درکار ہے۔
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
لو لم أبعث فيكم نبيا لبعث عمر بن الخطاب نبيا .
”آپ میں میری بعثت نہ ہوتی تو عمر بن خطاب نبی ہوتے۔“
(الكامل في ضعفاء الرجال : 80/4)
سخت ضعیف ہے۔
◈ ابو بکر محمد بن عبد اللہ بن سعید غزی، عرف ابن نوبی کے حالات نہیں ملے۔
◈ عبداللہ بن لہیعہ ضعیف مدلس اور مختلط ہے۔
◈ رشدین بن سعد جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
قال ابن عدي : قلب رشدين متنه، إنما متنه لو كان بعدي نبي لكان عمر .
”رشدین بن سعد نے اس کے متن کو بدل دیا ہے، اس کا اصل متن یوں ہے : اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوتے۔“
(ميزان الاعتدال : 50/2)
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لو لم أبعث فيكم لبعث عمر بن الخطاب .
”اگر میں آپ میں مبعوث نہ ہوتا، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مبعوث ہوتے۔“
(زوائد فضائل الصحابة للقطيعي : 676)
اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے، جس کی وجہ سے ضعیف ہے۔
حافظ ابن عدی رحمہ اللہ نے اسے ”مقلوب“ کہا ہے۔
(الكامل في ضعفاء الرجال : 175/4)
حافظ عراقی رحمہ اللہ نے اسے ”منکر“ کہا ہے اور حدیث : لو كان بعدي نبي لكان عمر کو معروف کہا ہے۔
(المغني عن حمل الأسفار : 1054)
علامہ صغانی رحمہ اللہ (650ھ) نے ”موضوع“ (من گھڑت) کہا ہے۔
(الموضوعات : 77)
علامہ ابن بطال رحمہ اللہ (449ھ) لکھتے ہیں :
إن العرب تقول فى لو : إنها تجيء لامتناع الشيء لامتناع غيره، كقوله صلى الله عليه وسلم : لو كان بعدي نبي لكان عمر، ولا سبيل أن يكون بعده نبي كما لا سبيل أن يكون عمر نبيا .
عرب لفظ لو کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ دو چیزیں ایک دوسرے کا لازمہ ہیں، یعنی اگر ایک چیز نہ ہوگی، تو دوسری بھی نہ ہوگی۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ”میرے بعد کوئی نبی ہوتا، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوتے۔“ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہی نبی نہیں، تو کوئی دوسرا بھی نبی نہیں ہو سکتا۔
(شرح صحيح البخاري : 42/3)
علامہ ابن العربی رحمہ اللہ (543ھ) لکھتے ہیں :
إن العرب تقول فى لو : إنها تجيء لامتناع الشيء بامتناع غيره، كقوله عليه السلام : لو كان بعدي نبي لكان عمر، ولا سبيل أن يكون بعده نبي ، كما لا سبيل أن يكون عمر نبيا .
عرب لفظ لو کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ دو چیزیں ایک دوسرے کا لازمہ ہیں، یعنی اگر یہ چیز نہ ہوگی، تو دوسری بھی نہ ہوگی۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ”میرے بعد کوئی نبی ہوتا، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوتے۔“ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہی نبی نہیں، تو کوئی دوسرا بھی نبی نہیں ہو سکتا۔
(المسالك في شرح موطأ مالك : 293/3)