قربانی کو احسن طریقے سے ذبح کرنا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کے جانور کو عمدہ اور اچھے طریقے سے ذبح کرنے کا حکم دیا ہے۔ امام مسلم نے حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا:
ينتان حفظتهما عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”إن الله تعالى كتب الإحسان على كل شيء فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة وإذا ذبحتم فأحسنوا القتلة، وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبح، وليحد أحدكم شفرته، فليرح ذبيحته
میں نے دو باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد کی ۔ آپ نے فرمایا: ”یقیناً اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر احسان کرنا فرض ٹھہرایا ہے، لہذا جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم (کسی جانور کو) ذبح کرو تو عمدہ طریقے سے ذبح کرو۔ تم میں سے ایک [یعنی ذبح کرنے والا] اپنی چھری کو تیز کرے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے۔“
صحیح مسلم كتاب الصيد والذبائح، باب الأمر بإحسان الذبح والقتل، وتحديد الشفرة، رقم الحديث57۔ (1955)، 1548/3
امام نووی نے تحریر کیا ہے: ”اپنے ذبیحہ کا آرام چھری تیز کرنے، تیزی سے چلانے وغیرہ میں ہے اور یہ بھی مستحب ہے کہ چھری ذبیحہ کے سامنے تیز نہ کی جائے، نہ ہی ایک جانور کے سامنے دوسرے جانور کو ذبح کیا جائے اور نہ ہی جانور کو گھسیٹ کر ذبح کرنے کی جگہ لے جایا جائے۔“
شرح النووي 107/13.
رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی ذبح کرنے سے پیشتر چھری کو تیز کرنے کا اہتمام فرمایا۔ یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ جب آپ کے پاس قربانی کے لیے مینڈھا لایا گیا تو آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو پتھر کے ساتھ چھری تیز کرنے کا حکم دیا۔ جب وہ چھری تیز کر کے لائیں تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مینڈھے کو ذبح فرمایا۔
ملاحظہ ہو: اس کتاب کا ص 36