فوت شدہ روزے کی ادائیگی
① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے روزہ رکھا ہوا تھا کہ ہمیں کھانے کا ہدیہ بھیجا گیا۔ تو ہم نے اس میں سے کھا لیا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے گفتگو میں مجھ سے سبقت کرتے ہوئے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں اور عائشہ نے نفلی روزہ رکھا ہوا تھا کہ ہمیں ہدیہ کھانا بھیجا گیا، تو ہم نے اس سے افطار کر لیا۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اقضيا مكانه يوما
”اس کے بدلے میں ایک دن کی قضا کرو۔“
كتاب الصيام 306/1۔ ابو داؤد، کتاب الصوم 2457۔ ترمذى، كتاب الصوم 735۔ روایت صحیح ہے۔
میت کی طرف سے روزے کی قضا کی ادائیگی
① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری والدہ فوت ہو گئی ہیں اور ان پر ایک ماہ کے روزے ہیں، تو کیا میں ان کی طرف سے قضا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أرأيت لو كان على أمك دين أكنت تقضيه؟
”مجھے بتاؤ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتی؟“
اس نے عرض کیا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فدين الله أحق بالقضاء
”اللہ کا قرض تو زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس کو ادا کیا جائے۔“
بخاری، کتاب الصوم 1953۔ مسلم كتاب الصيام 1148۔ ابوداؤد، کتاب الصوم 3310۔
② سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من مات وعليه صيام صام عنه وليه
”جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمے روزے ہوں تو اس کا ولی (سرپرست) اس کی طرف سے روزے رکھے گا۔“
بخاری 1952۔ مسلم 1147۔ ابوداؤد 2400۔
ہمیشہ روزے رکھنے کی ممانعت
① سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، پوچھا گیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جو مسلسل ہمیشہ روزے رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا صام ولا أفطر ، أو لم يصم ولم يفطر
”اس نے روزہ رکھا نہ افطار کیا۔“
مسلم، كتاب الصيام 1162/196۔ ابوداؤد، کتاب الصوم 2425۔ ترمذی، کتاب الصوم 767۔
② سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صام الأبد فلا صام ولا أفطر
”جو شخص ہمیشہ روزے رکھتا ہے تو وہ ایسے ہے جیسے اس نے کوئی روزہ رکھا نہ افطار کیا (اس کا عمل قبول نہیں، یہ اس کے لیے ایک طرح کی بددعا ہے)۔“
النسائی، کتاب الصيام 4 / 175۔