اقامتِ دین: مفہوم اور طریقہ؟
بقلم: مولانا ابو الرضوان محمدی
انصاف کے فطری تقاضوں کو صرف اور صرف اللہ کا قانون ہی پورا کر سکتا ہے۔ انسان جو بھی قانون بنائے گا اس میں جھول اور کمزوری کا پایا جانا یقینی ہے، اس لئے انسانی قوانین میں لازمی طور پر ظلم ہو گا۔ اسی طرح انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے جملہ شعبوں میں صحیح اور معقول رہنمائی صرف اللہ کی نازل کردہ وحی (قرآن اور سنت) ہی کر سکتی ہے۔ دنیا کے سارے نظریات، نظام اور افکار چونکہ ناقص انسانی عقل اور محدود علم کی پیداوار ہیں اس لئے وہ انسان کی صحیح رہنمائی نہیں کر سکتے۔ اس اعتبار سے انسان کی سعادت و نجات کے لئے ضروری ہے کہ وحی کے نظام کو لاگو کیا جائے۔
جس شخص کے اندر سچا ایمان ہے وہ اس عقیدے کے خلاف نہیں ہو سکتا اور جو کوئی اللہ کے کسی قانون کے مقابل کسی دوسرے قانون کو بہتر سمجھتا ہے اللہ کے قانون میں کمزوری یا نقص تصور کرتا ہے اس کے کفر میں کسی صاحبِ علم کو انکار نہیں۔
مگر اس فکری بنیاد پر اقامتِ دین اور حکومت الٰہیہ کے نعرے کے تحت حکومتِ وقت کے خلاف مسلح کوشش کرنا، اور حکام کو واجب القتل مرتد و کافر کہہ کر انہیں نشانہ بنانا حکومت کو دعوتی کام کا ہدف بنانا اسلامی تعلیمات سے پوری طرح میل نہیں کھاتا۔
انبیاء کرام علیہم السلام اس دنیا میں اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لئے ہی آئے کہ لوگ معبودانِ باطلہ کی بندگی اور غلامی سے نکل کر الٰہ واحد کے پرستار ہوں اور "طاغوت” سے بچیں اور کسی صاحبِ ایمان کو اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ کسی نبی اور رسول نے اپنی ذمہ داری نبھانے میں کوئی کوتاہی اور مداہنت نہیں برتی۔ تمام پیغمبروں نے اپنا دعوتی وظیفہ اور تمام حجت کا فریضہ پورا کیا لیکن قرآن وسنت میں جن پیغمبروں کا تذکرہ ہے ان میں سے چند ہی ہیں جنہیں "حکومت” بھی ملی۔ سیدنا داؤد و سلیمان نبوت کے ساتھ ساتھ بادشاہت کے بھی مالک تھے۔ ذوالقرنین صاحبِ قوت و سطوت تھے (جو قرآنی سیاق کی روشنی میں محققین کے نزدیک نبی تھے)۔ سیدنا یوسف علیہ السلام ایک دوسرے بادشاہ کی حکومت میں معاون کار بنے اور ہجرت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں اسلامی نظام کے مطابق معاشرہ تشکیل دیا۔ یقیناً اس نظام میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم حاکم و قاضی کا درجہ بھی رکھتے تھے۔ وحی الٰہی کے مطابق تمام معاملات کا فیصلہ کرتے اور اس کی تنفیذ فرماتے تھے۔ پیغمبروں میں اکثریت ان کی ہے جنہیں اقتدار نہیں ملا۔ نہ انہوں نے حکومتی سطح پر دین قائم کیا۔ تو کیا وہ اپنے مشن میں ناکام رہے؟ ہر گز نہیں۔ وہ پورے کامیاب تھے کیونکہ انہوں نے اپنا حق ادا کر دیا۔ اپنی ذمہ داری سے بخوبی عہدہ برآ ہوئے۔ قرآن جسے غلبۂ دین کہتا ہے وہ یہی ہے کہ لوگوں پر حجت پوری کر دی جائے اور ہر نبی نے اتمامِ حجت کر دی۔
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مکہ کی زندگی میں کبھی "اقامتِ دین” کے نعرے کے تحت حکومت کے قیام کا اعلان نہیں کیا نہ اسے اپنا ہدف قرار دیا۔ اسی طرح کسی بھی نبی کی دعوتی سرگرمی میں قیامِ حکومت کا ذکر نہیں ملتا بلکہ ہر نبی اپنی قوم یا امت سے یہ کہتے کہ [فَمَا سَاَلۡتُکُمۡ مِّنۡ اَجۡرٍ ؕ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ] میں اپنی اس دعوت پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں چاہتا میرا اجر تو صرف اللہ پر ہے۔ [سورۃ یونس:72] وہ صاف صاف کہتے۔ [اِنِّیۡ لَکُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیۡنَ] میں تمہارا بھلا چاہنے والا ہوں۔ [سورۃ الاعراف:21]گویا انبیاء کرام علیہم السلام بے لوث اور بے غرض رہنمائی کا مظاہرہ کرتے۔ غرض تھی تو صرف اللہ کی خوشنودی۔ اب اگر دین کی نشر و اشاعت کے لئے حکومت و اقتدار کا حصول بنیاد بنایا جائے تو یہ چیز انبیاء کرام کے مذکورہ طرز و کردار سے پوری مطابقت نہیں رکھے گی۔ خصوصاً آج کے موجودہ ماحول میں کیونکہ کوئی بھی پارٹی یا فرد اگر عوامی اور معاشرتی سطح پر کچھ نیکیاں اور رفاہی کام کرتا ہے اور وہ حکومتی انتخاب کا امیدوار ہوتا ہے تو عام رجحان یہی ہوتا ہے کہ اس کی ساری نیکیاں اقتدار کے حصول کے لئے ہے۔ وہ اپنے کاموں کا بدلہ ووٹوں کی شکل میں بنا لے گا۔ چنانچہ آج جو لوگ "احیائے خلافت” کا عنوان دے کر اسلام کی دعوت کا کام کرنا چاہتے ہیں ان کا منہج اور طریقہ کار انبیاء کرام علیہم السلام کے طریقہ کار کے مطابق نظر نہیں آتا۔
انبیاء کرام اپنی دعوت میں اصل قوت ابتداء سے آخر تک افراد پر صرف کرتے تھے۔ مدینہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سلطنت آپ کی تیرہ سالہ دعوتی زندگی کا نتیجہ تھی اور اللہ نے یہی وعدہ کیا ہے کہ اگر تم ایمان و عملِ صالح کے تقاضوں کو پورا کرو تو تمہیں غلبہ حاصل ہو گا۔ اللہ تمہیں زمین میں تمکنت اور قوت سے نوازے گا۔ یہ قوت و تمکنت اللہ کا انعام ہے جو ایمان و عملِ صالح کا عوض ہے۔ اسے ہدفِ دعوت نہیں بنایا گیا بلکہ دعوت کا قدرتی نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔
پھر ہم دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں نے خلافت کے بعد سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے ملوکیت کا آغاز بتا کر انہیں ہدفِ لعنت بنایا ہے وہ غور نہیں کرتے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خود جلیل القدر صحابی تھے۔ آپ کے معاونین میں بھی اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی تعداد تھی اور جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے آپ سے مصالحت کر لی تو یہ عام الجماعة کہلایا، تمام لوگ متفق تھے تو کیا اس دور کے تمام صحابہ و تابعین پر الزام لگایا جائے گا کہ وہ غیر اسلامی اقتدار کے حامی و مدد گار تھے۔ اسلامی تعلیم کی خلاف ورزی ہو رہی تھی۔ اسلامی حکومت، غیر اسلامی طرز میں بدلتی رہی اور وقت کے تمام بزرگانِ دین خاموش تماشائی بنے رہے؟ یقیناً یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جس میں رفض و تشیع کے جراثیم موجود ہوں بلکہ حاوی و غالب۔
حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے عزم و استقامت کو دنیا جانتی ہے۔ جب حکومتِ وقت نے معتزلی فکر سے متاثر ہو کر قرآن کو مخلوق تسلیم کر لیا اور اسے بزورِ قوت منوانا چاہتا تو ایمان و عزیمت کی یہ عظیم چٹان آگے آئی۔ گرفتار ہوئے، سزا پائی مگر کلمۂ حق سے رجوع نہیں کیا۔ بالآخر سزاوں کے اثر سے جاں بحق ہوئے۔ آپ سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا ہم موجودہ حکمرانوں کو زکوۃ دیں؟ کہا ہاں۔ پوچھا ہم جانتے ہیں کہ وہ ہماری زکوۃ کی رقم غلط استعمال میں لائیں گے۔
آپ نے جواب دیا تب بھی انہیں کو زکوۃ دو۔ دراصل یہی اسلامی فکر ہے۔ حکومت میں اگر دستور کتاب وسنت ہے تو حکمران کی بعض غلطیاں اور ذاتی انحراف بھی گوارا ہے۔ اسلام کو اس سے بحث نہیں کہ حکومت کس کی ہے اور کیسے قائم ہوئی؟ بلکہ اسلامی نقطۂ نظر یہ ہے کہ حکمران اسلامی قوانین کا نفاذ کرے اور اسلام کی حفاظت و اشاعت کا فریضہ ادا کرے۔ خواہ حکمران میں ذاتی طور پر کوئی کمزوری پائی جائے۔
تعجب کی بات تو یہ ہے کہ جو لوگ آج بزورِ قوت حکومت کو اسلامی بنانے کی تحریک اختیار کر کے موجودہ اصطلاح کے مطابق "انقلاب” کے خواہاں ہیں وہ یہودیوں کی جمہوریت یا اشتراکیت کے راستے سے کامیابی چاہتے ہیں۔ بقول شخصے "جو لوگ قیادت کی تبدیلی کے لئے مغربی طرز کے انتخابات اور احتجاجی سیاست (جو دونوں جمہوری طریقے ہیں، یا تصادم اور کشمکش جو اشتراکیت نے دنیا کو سکھائی) پر بحث کرتے وقت اسلام کو اس میں کھینچ لاتے ہیں اور دراصل اقتدار ان ہاتھوں میں ہے اس سے زیادہ غرض نہیں (اگر چہ وہاں بھی بنیادی شرط نماز کی ہے اور صالح سے صالح تر قیادت پسندیدہ امر ہے لیکن فتنہ کے پیشِ نظر اس میں احتیاط اور عدمِ احتیاط کے پہلو سے فقہاء ترجیحات میں اختلاف کرتے ہیں) حاصل یہ ہے کہ ریاست میں نفاذِ شریعت کا پہلو راجح ہے اور حکومت میں کم از کم شرائط بھی گوارا ہیں۔ (محدث لاہور دسمبر 1992ء)
❀ اس معاملے کو ایک دوسرے پہلو سے دیکھئے! انبیاء علیہم السلام اپنی دعوت کا مرکز اس عقیدے کو بناتے جو ہر شخص انفرادی طور پر رکھتا۔ ایک شخص اور معاشرہ کسی اعتقادی گمراہی کا شکار ہوں اور ان کے درمیان کوئی نبی مبعوث ہو تو وہ اجتماعی دعوت اور انفرادی خطاب میں ان کی اعتقادی گمراہی کی اصلاح کرنے کی کوشش کرتے۔ لوگ عقیدے اور عمل میں کسی بھی قسم کا شرک کرتے تو نبی کی دعوت کا پہلا رخ اور بھر پور حملہ اس شرک کی تردید میں ہوتا اور توحیدِ پرستی کی دعوت پر پوری قوت صرف ہوتی۔ انبیاء کرام کی اس انفرادی کوشش بلکہ صحیح تعبیر میں دعوتی سنت کی پیروی کرنا ہر دور میں نسبتاً آسان اور ممکن رہی ہے خصوصاً آج کی آزادیِ رائے کے ماحول میں یہ طریقہ کار اختیار کرنا انتہائی آسان ہے۔ اب اگر انبیاء کرام کے اس طریقے کی ترتیب الٹ دی جائے یعنی انفرادی اصلاح کر کے اجتماعی قوت بنانے کی بجائے اجتماعی قوت یا حکومت حاصل کر کے افراد پر دینی احکام لاگو بلکہ مسلّط کئے جائیں تو معاملہ الٹ جاتا ہے اور اس کے نتائج بھی الٹ جائیں گے۔ کیونکہ جب حصولِ اقتدار نصب العین بنا تو لازماً قوت کی ضرورت پیش آئے گی قوت کیلئے اتحاد و اتفاق ضروری ٹھہرا اب اگر لوگوں میں عقیدے اور نقطۂ نظر کا اختلاف ہے تو حقیقی اتحاد کا حاصل ہونا نا ممکن ہے اور دو الگ الگ عقیدے کے ماننے والے ایک سمت میں زیادہ دور نہیں چل سکتے۔ اجتماعی آفت میں چند قدم ساتھ چلنا اتحاد نہیں ہے چنانچہ حکومت کو نصب العین بنانے والے اتحاد و اتفاق کی خاطر عقائد اور بنیادی اختلافات کو بھی ‘غیر اہم’ قرار دینے پر مجبور ہوں گے کیونکہ ان کے نزدیک اصل مقصد اقامتِ دین ہے خواہ وہ دین کوئی بھی ہو اس لئے ان کی دعوت میں توحید اور شرک کو اکٹھا کر کے ساتھ چلنے پر زور دیا جاتا ہے کہ فاتحہ نیاز کرو یا نہ کرو، میلاد پڑھو یا نہ پڑھو مگر متحد ہو جاؤ کوئی نبی کسی بھی قسم کا شرک برداشت نہیں کرتا تھا اور جس دین میں شرک ہو نبی اس کی "اقامت” کے لئے مبعوث نہیں ہوتے۔
یہیں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ جب آپ حکومت میں اللہ کے قانون کے علاوہ دوسرا قانون ماننا کفر مانتے ہیں اور اس طاغوتی نظام کے خلاف صف آراء ہونا چاہتے ہیں جبکہ انفرادی طور پر یہ کام آسان اور بعض حالات میں ممکن نہیں تو انفرادی امورِ دینی میں آپ اللہ کے قانون کے مقابل شخصیتوں یعنی مخصوص مذاہب اور اربابِ کشائی نہیں کرتے؟
جس طرح حکومتی سطح پر انسانی قانون کو ماننا کفر ہے اسی طرح حلال و حرام قرار دینے اور شریعت سازی کا کسی بزرگ، فقیہ، امام اور غیر نبی کو مجاز سمجھنا بھی تو انہیں رب بنانا ہے۔ اللہ کا شریک ٹھہرانا ہے۔ [اِتَّخَذُوۡۤا اَحۡبَارَہُمۡ وَ رُہۡبَانَہُمۡ اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ] [سورۃ التوبۃ:31] اور [اَمۡ لَہُمۡ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوۡا لَہُمۡ مِّنَ الدِّیۡنِ مَا لَمۡ یَاۡذَنۡۢ بِہِ اللّٰہُ] [سورۃ الشوری:21]جیسے قرآن کے اور احادیث کے نصوص اس پر شاہد ہیں۔ ظاہر ہے نیاز کرنا اور نہ کرنا، میلاد پڑھنا اور نہ پڑھنا دونوں اللہ کی شریعت نہیں ہو سکتی۔ ان میں سے ایک غیر اللہ کا بنایا ہوا طریقہ ہے اور جو غیر اللہ کا بنایا ہوا ہے اس کی تردید مخالفتِ توحید کا عین تقاضا ہے۔ اس کے ساتھ تعاون اور اتحاد دینداری نہیں ہو سکتی اور اس طرح اقامتِ دین کا کوئی معنی نہیں ٹھہرتا۔ اس ترتیب کے الٹنے سے بہت سے شرک و بدعات کو روا سمجھنے پر اکسایا جاتا ہے اور بہت سی سنتوں کو "حقیر” جانا جاتا ہے اور اگر کوئی شخص ان کی طرف توجہ دلائے تو جواب دیا جاتا ہے کہ کیا دین اسی میں رکھا ہے؟ جبکہ حقیقتاً دین اسی میں ہے کہ انسان خود کو پورے طور پر اللہ اور اس کے رسول کا تابع بنادے اور اسی دین کی اقامت مطلوب بھی ہے۔
انبیاء کے طریقے کی ترتیب الٹنے کا ایک نتیجہ یہ ہے جو دراصل مذکورہ حقیقت کا ہی ہے کہ جہاں دعوت و اصلاح کا کام ممکن ہے وہ محاذ چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔ مثلاً لوگ قبر پرستی، شخصیت پرستی، بدعات و خرافات میں مبتلا ہیں، یہاں قوت کے ساتھ ان کی اصلاح کی جا سکتی ہے۔ اس میں حکومت رکاوٹ بھی نہیں ڈالتی۔ مگر اس ممکن اور پیغمبرانہ عمل کو چھوڑ کر قوت وہاں لگائی جاتی ہے جہاں کامیابی کے امکان کم ہیں بلکہ کوششوں میں بھی رکاوٹیں آتی ہیں جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان و عمل یہ تھا کہ جب دو باتیں درپیش ہوتیں تو آپ ان میں آسان صورت اختیار فرماتے۔ اس کے برعکس یہاں معاملہ یہ ہے کہ آسان اور اہم محاذ کو چھوڑ کر یعنی مروجہ شرکیات کے خاتمے کی بجائے مشکل راہ اختیار کی جاتی ہے۔
اسلام کے نادان دوست:
اسلامی حکومت کے قیام کے نعرے میں اسلامی نہج اور علمی رنگ کی بجائے جذباتی ڈھنگ اختیار کرنے سے مزید کئی خرابیاں پیدا ہوئی ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کا سبب بھی بنتی ہیں۔
اسلامی تحریک کی مسلح کوششوں میں عالمِ اسلام کے متعدد ممالک میں حکومتی افراد اور قوتوں سے "تحریک” کے مسلح علمبرداروں کا تصادم اور کشمکش جاری رہی ہے۔ بہت سے افراد کو بلا تامل اس لئے قتل کر دیا گیا کہ وہ "غیر اسلامی” حکومت کے نمائندے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ حقیقی معنوں میں واجب القتل کافر تھے یا نہیں؟ اس کا فیصلہ کون کرے گا؟ اسلامی نظام میں یہ فیصلہ دلائل و شواہد اور قرآئن کو سامنے رکھ کر قاضی کرتا ہے اور قاضی اور حکومت ہی اسلامی سزاوں اور حدود کے خلاف نفاذ کی مجاز ہوتی ہے۔ کسی انفرادی شخص یا تنظیم کی ذمہ داری نہیں ہے۔ پھر کفر اور کفر میں بھی فرق ہے۔ کفر کے درجات ہیں۔ جس طرح ایمان کے درجات ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان مشہور ہے۔ کفر دون کفر (مستدرک حاکم:3219) اب کوئی کہے کہ اللہ کے رسول کا فرمان ہے [سباب المومن فسوق وقتاله کفر] کہ مومن کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔ تو کیا مسلمان سے جھگڑا کرنے والے شخص کو کوئی بھی یہ کہہ کر قتل کر دے گا کہ وہ کافر اور مرتد ہو گیا؟ اس طرح سے تو کوئی بھی کفر کا فتویٰ دے کر کسی کو بھی قتل کرنے لگے گا پھر اگر موجودہ مسلم حکومت اسلامی دستور اور قوانین سے منحرف ہیں تو اسلامی نہج یہ ہے کہ حکمرانوں کو نصیحت کی جائے۔ [الدين النصيحة] اور اہل علم ان کی رہنمائی کریں۔ جیسا کہ علماء سلف کا طریقہ رہا ہے۔ نیز اسلامی مزاج و فکر کے غلبے کے لئے میدانِ عوامی زندگی ہے تبدیلی نیچے سے آتی ہے اوپر سے نہیں۔
گزشتہ دنوں ایک خبر آئی کہ پاکستان میں ایک گروہ نے وزیر اعظم نواز شریف کے قتل کا منصوبہ بنایا ہے کیونکہ وہ اسلامی نظام کے قیام میں رکاوٹ ہیں۔ مسلم دنیا کے کئی ممالک میں برسرِ اقتدار شخصیات اور جماعتوں سے کچھ اسلام پسندوں کی اسی طرح کی کشمکش اور چپقلش جاری ہے۔ سعودی عرب میں تو دستور کتاب وسنت ہیں، حدود نافذ ہیں اس کے باوجود کچھ لوگ اس کے خلاف ہیں اور "جمہوری طور پر” اس کے خلاف سرگرم بھی رہتے ہیں۔ گویا وہ چاہتے ہیں کہ وہاں کی "بادشاہت” ختم ہو جائے اور مغربی طرز کی ووٹوں کی سیاست آجائے۔ وہاں بھی بدعنوانیوں اور سیاسی برائیوں کا دور شروع ہو۔ اس جمہوری اور اشتراکی طرز سے وہ اسلامی نظام کے خواہاں ہیں۔ نیز وہ چاہتے ہیں کہ ایک بنی بنائی عمارت میں کچھ "خامیاں” ہیں تو بجائے خامیوں کو دور کرنے کے پوری عمارت منہدم کر دی جائے اور موجودہ مسائل سے زیادہ بڑے مسائل پیدا ہوں۔ موجودہ حکومت اسلام اور مسلمانوں کے لئے جو کچھ کر رہی ہے وہ بھی نہ کر سکے۔ کیا یہ دانشمندانہ خیال اور اسلامی طرز ہے؟ ہرگز نہیں۔
مصر میں اسلام پسندوں اور حکومت میں ٹھنی ہوئی ہے، شام کے حافظ الاسد (نصیری) نے سالوں پہلے اقتدار کے لئے چیلنج بننے والے "تحریکِ مسلمانوں” کو بے تحاشا قتل کیا۔ (کسی بھی صاحبِ اقتدار کا یہ ردِ عمل فطری ہے کہ وہ اپنی حکومت کے "باغی” عناصر اور رجحانات کو کچل دے۔ اہل تحریک کو چاہئے کہ پہلے ذہن سازی کریں تاکہ خود بخود راہیں ہموار ہوں)۔ الجزائر میں 92ء، 93ء کے انتخابات میں اسلامک فرنٹ کی یقینی کامیابی کے بعد وہاں فوجی اقتدار نافذ کر دیا گیا اور مسلم دشمن طاقتوں نے کھلی غنڈہ گردی کی۔ مگر اس کے بعد سے وہاں مسلح کشمکش کے تحت بی بی سی لندن کے مطابق 65 ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ افغانستان میں روس کو بھگا کر خود مسلم دھڑے جو مجاہدین تھے باہم برسرِ پیکار ہیں۔ ظاہر ہے اس صورتِ حال سے عالمی نشر و اشاعت کے اداروں کو بھرپور موقع مل رہا ہے کہ وہ امن پسند اور امن کے پیامبر دین اسلام کو دہشت پسند، انتہا پسند اور جنگجو کا نام دیں۔ انہیں تو اسلام اور مسلمانوں کی خوبیوں میں بھی کیڑے نظر آتے ہیں۔ پھر ایسی غیر دانشمندانہ اور غیر اسلامی کارروائیوں پر جو اسلام کے نام پر ہو رہی ہیں وہ اسلام کو بدنام کرنے کا موقع کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔ لہٰذا "اسلامی دہشت گردی” کی گونج ہے۔
اسلامی حکومت کے قیام کی مسلح کوششوں نے اس الزام اور جھوٹے پروپیگنڈے میں قوت پیدا کر دی ہے اور داعیانِ اسلام کو صحیح صورت پیش کرنے میں نسبتاً زیادہ محنت و مشقت اٹھانا پڑتی ہے۔
اقامتِ دین کی راہ:
اسلامی دعوت کی کامیابی کا راز صرف اس بات میں پوشیدہ ہے کہ ہر معاملے کو اس کے مقام پر رکھا جائے۔ توحید کو اولیت دی جائے۔ اتباع کو اہمیت دی جائے۔ انبیاء کرام کے طریقِ کار کو اختیار کیا جائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ و حیاتِ طیبہ ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے۔ ذاتی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و کردار کا نمونہ بنیں، عملی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت و موعظت اختیار کریں۔ شرک و بدعات سے کسی بھی شکل میں سمجھوتہ نہ کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کا یہی عمل تھا اور اسی طرح صفوں میں اتحاد پیدا ہو سکتا ہے کہ سب کا عقیدہ ایک ہو۔
ایمان اور اعمال کو درست کر کے طریقِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر دعوت و اصلاح کے پروگرام کو آگے بڑھائیں، خلوص ہو گا تو یہ عمل نتیجہ لا کر رہے گا۔ اللہ کا وعدہ پورا ہو گا کہ تم ہی غالب رہو گے بشرطیکہ مومن رہو۔ صالحیت و صلاحیت پیدا ہو گی تو زمین کی وراثت بھی ملے گی۔ [اَنَّ الۡاَرۡضَ یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوۡنَ] [سورۃ الانبیاء:105] اور یہ فرمان بھی پیش رہے۔ [وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۪ وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَہُمۡ دِیۡنَہُمُ الَّذِی ارۡتَضٰی لَہُمۡ الآية] [سورۃ النور:55] جس کا مفہوم ہے کہ اللہ نے تم میں سے ایمان لانے والوں اور صالح عمل کرنے والوں سے وعدہ فرمایا ہے کہ انہیں زمین میں خلافت عطا کرے گا جس طرح تم سے پہلے کے لوگوں کو عطا کی اور ان کے لئے اس دین کو تمکنت عطا کرے گا جسے ان کے لئے پسند فرمایا ہے اور ان کے لئے خوف کے بعد امن (کا ماحول) پیدا کر دے گا۔
لہٰذا خلافت اور تمکنت کے حصول کے لئے چاہئے کہ "ایمان اور عملِ صالح” پر قوت صرف کی جائے۔ ایمان وہ جو کتاب وسنت کے موافق ہو، عمل وہ جو تعلیماتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہو۔ اس کی عملداری پر خلافت عطا کرنا اللہ کے ذمہ ہے۔ نیز اقامتِ دین کا نعرہ دینے سے قبل بھی یہ ضروری ہے کہ وہ ”دین” کون سا ہو گا جسے قائم کرنا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیش کردہ یا بعد میں لوگوں کا اختیار کردہ؟ جن میں لوگوں کی آراء کو اللہ کی شریعت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یا وہ دین قائم کرنا ہے جس میں شرک و بدعات کی بھی کوئی گنجائش ہو؟ ضرورت ہے کہ اسلامی نظام کے قیام کی تحریک خالص دین کو اختیار کرے اور خالص اسلامی طریقِ کار اختیار کرے۔ ایسی صورت میں حکومت نہ بھی ملی تو غلبۂ دین کا کام پورا ہوتا ہے۔ اتمامِ حجت کی شکل میں جو اکثر انبیاء کرام نے انجام دیا۔ امید ہے ان مخلصانہ معروضات پر غور کیا جائے گا تاکہ ہماری قوتِ صلاحیت صحیح رخ اختیار کریں۔