ختم نبوت پر سیدہ عائشہ، ابراہیم بن رسول اللہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم سے متعلق شبہات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری کی کتاب ختم نبوت سے ماخوذ ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان :

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
قولوا : خاتم النبيين ، ولا تقولوا : لا نبي : نبي بعده .
”خاتم النبیین کہو یہ نہ کہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔“
(مصنف ابن أبي شيبة : 109/9)
قول منقطع (ضعیف) ہے، جریر بن حازم کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع ولقا نہیں ہے۔ علما نے اس کا یہ معنی بیان کیا ہے کہ کوئی نبی شریعت محمدیہ کو منسوخ کرنے والا نہیں آئے گا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے والے نبی سیدنا عیسی علیہ السلام تشریف لائیں گے اور شریعت محمدیہ پر ہی عمل کریں گے، کوئی نئی شریعت نہیں لائیں گے۔
کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نئے نبی کی بعثت کا مطلب ہی یہ ہے کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو منسوخ کر دیا، جس طرح یہ عقیدہ رکھنا کفر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی شریعت کو منسوخ کرنے والا کوئی نبی آسکتا ہے، اسی طرح یہ عقیدہ رکھنا بھی کفر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی پیدا ہو سکتا ہے، جو آپ کی شریعت کو منسوخ نہ کرے، بلکہ شریعت محمدیہ کا ہی پیرو ہو۔

کیا ابراہیم رضی اللہ عنہ کو نبوت ملنا ممکن تھا ؟

امکان نبوت کی بحث میں ابراہیم بن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اس حدیث کو لایا جاتا ہے کہ ”ابراہیم اگر زندہ ہوتے، تو نبی ہوتے۔“ اس کا معنی و مفہوم کیا ہے؟ غور کیجئے !
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
لو بقي لكان نبيا ولكن لم يكن ليبقى لأن نبيكم صلى الله عليه وسلم آخر الأنبياء .
”ابراہیم رضی اللہ عنہ اگر زندہ ہوتے، تو نبی ہوتے لیکن انہیں زندہ رہنا ہی نہیں تھا، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔“
(تاريخ ابن عساکر : 135/3 وسنده حسن)
علامہ سندھی حنفی رحمہ اللہ (1138ھ) لکھتے ہیں :
معنى الحديث على هذا أنه لو قضى النبوة لأحد بعده صلى الله عليه وسلم، لأمكن حياة إبراهيم، لكن لما لم يقض لأحد تلك وقد قدر لإبراهيم أنه يكون نبيا على تقدير حياته لزم أن لا يعيش ويحتمل أنه بيان لفضل إبراهيم وحاصله : لو قدر نبي بعده صلى الله عليه وسلم، لكان إبراهيم أحق بذلك، فتعين أن يعيش حينئذ إلى أن يبعث نبيا لكن ما قدر بعده فلذلك ما لزم أن يعيش وعلى المعنيين فليس مبنى الحديث على أن ولد النبى صلى الله عليه وسلم يلزم أن يكون نبيا حتى يقال : إنه غير لازم، وإلا لكان كلنا أنبياء لكوننا من أولاد آدم ونوح .
”حدیث کا معنی یہ ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے لئے نبوت کا فیصلہ ہوتا، تو ابراہیم رضی اللہ عنہ کا زندہ رہنا ممکن ہوتا، لیکن نبوت کسی کو نہیں ملی۔ ابراہیم رضی اللہ عنہ کے زندہ رہنے کو ان کی نبوت سے مشروط کرنے کا مطلب ہے کہ انہیں زندہ رہنا ہی نہیں تھا۔ اس سے مراد ابراہیم رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان بھی ہوسکتا ہے، مطلب یہ کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبی ہونا ہوتا تو ابراہیم رضی اللہ عنہ اس کے زیادہ حق دار تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت ملنی ہی نہیں تھی اس لئے وہ زندہ نہیں رہے، اس کا یہ معنی نہیں کہ ہر نبی کے بیٹے کا نبی ہونا لازم ہے، اگر ایسا ہوتا، تو ہم سب نبی ہوتے، کیوں کہ ہم سیدنا آدم علیہ السلام اور سیدنا نوح علیہ السلام کی اولاد ہیں۔“
(حاشية السندهي على ابن ماجه : 459/1)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مثال :

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور اپنی مثال سیدنا ہارون علیہ السلام اور سیدنا موسی علیہ السلام سے بیان کی ہے، سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم على بن أبى طالب فى غزوة تبوك فقال : يا رسول الله تخلفني فى النساء والصبيان؟ فقال : أما ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى؟ غير أنه لا نبي بعدي .
”غزوہ تبوک کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو (مدینہ میں) اپنا جانشین مقرر کیا، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں پیچھے چھوڑ کر جارہے ہیں؟ فرمایا کیا آپ اس بات پر راضی نہیں کہ میرے ساتھ آپ کی وہی نسبت ہو، جو ہارون علیہ السلام کی موسیٰ علیہ السلام سے تھی، البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔“
(صحيح البخاري : 3706 ، صحيح مسلم : 2404 واللفظ له)
صحیح مسلم میں یہ الفاظ بھی ہیں :
”میرے بعد کوئی نبوت نہیں۔“
قاضی عیاض رحمہ اللہ (544ھ) اس کا معنی بیان کرتے ہیں :
قوله : أنت مني بمنزلة هارون من موسى، يريد فى تقديمه على من يخلفه، استثنى من حال هارون بعض صفاته، وهى النبوة، لأن هارون كان نبيا، وقد أعلم النبى عليه الصلاة والسلام أنه لا نبي بعده، ومعناه منذ بعث ، أى بعد مبعثه انقطعت النبوة، فلا نبي حتى تقوم الساعة .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : آپ کی اور میری مثال وہی ہے، جو ہارون علیہ السلام اور موسی علیہ السلام کی ہے۔ اس حدیث سے مقصود سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پیچھے چھوڑے گئے لوگوں پر فضیلت دینا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تشبیہ سے ہارون علیہ السلام کی صفت نبوت کو مستثنی کر دیا، کیوں کہ ہارون علیہ السلام تو نبی تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ کا معنی یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد نبوت کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے، اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔“
(إكمال المعلم : 413/7)
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (597ھ) لکھتے ہیں :
لما شبهه فى تخليفه إياه بهارون حين خلفه موسى، خاف أن يتأول متأول فيدعي النبوة لعلي عليه السلام، فقال : غير أنه لا نبي بعدي، وإنما كانت خلافة هارون فى وقت خاص فى حياة موسى .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنا قائم مقام بنانے کی تشبیہ سیدنا موسی علیہ السلام کے سیدنا ہارون علیہ السلام کو قائم مقام بنانے سے دی، تو یہ شبہ پیدا ہوا کہ کوئی اس فرمان سے دلیل لے کر نبوت کا دعوی ہی نہ کر دے، تو فرمایا کہ ہاں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ ہارون علیہ السلام کی خلافت موسی علیہ السلام کی زندگی کے ایک خاص حصے میں تھی۔“
(كشف المشكل : 236/1)

ایک شبہ اور اس کا ازالہ :

اس حدیث کے معنی میں ایک شبہ وارد کیا گیا ہے، ملاحظہ ہو ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا :
يا على أما ترضى أن تكون مني كهارون من موسى غير أنك لست بنبي ؟ قال : بلى يا رسول الله ، قال : فإنه كذلك .
”علی ! کیا آپ اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ میری اور آپ کی مثال موسی علیہ السلام و ہارون علیہ السلام والی ہو ؟ البتہ آپ نبی نہیں ہیں؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول! آپ نے سچ فرمایا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بات ہی یہ ہے۔“
(طبقات ابن سعد : 25/3)
یہاں شبہ اٹھایا جاتا ہے کہ اس روایت نے حدیث : لا نبي بعدي کا مطلب واضح کر دیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کی نفی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی نہیں بن سکتے، یہ مراد نہیں کہ کوئی اور بھی نہیں بن سکتا۔ یہ استدلال و شبہ منطقی عقلی اور اصولی دلائل کے اعتبار سے بالکل بے جان ہے، اس سے کسی بھی طور ثابت نہیں ہوتا کہ یہ روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص ہے، بلکہ یہ عمومی قاعدہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی نے نہیں آنا اور اس عموم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں، اس میں ان کی کوئی خصوصیت نہیں، مثلاً : میں کسی سے کہتا ہوں کہ آپ اللہ کے شریک نہیں ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ دوسرے لوگ اللہ کے شریک ہیں، بلکہ عمومی قاعدہ ہے کہ اللہ کا کوئی شریک نہیں، اب جس سے بھی کہا جائے گا کہ آپ اللہ کے شریک نہیں ہیں، تو عموم کا فرد ہونے کے ناطے کہا جائے گا، اس حدیث سے بھی یہی مراد ہے، دوسرے یہ کہ یہ روایت ضعیف ہے۔ کیونکہ میمون ابو عبد اللہ کندی ضعیف ہے۔
(تقریب التہذیب لابن حجر : 7051)