توحید کا ثواب
کلمہ توحید کا اقرار دین اسلام کا بنیادی اور اہم رکن ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کا حاکم بنا کر روانہ کیا تو فرمایا:
”أدعهم إلى شهادة أن لا إله إلا الله وأني رسول الله فإن هم أطاعوا لذلك فأعلمهم أن الله قد افترض عليهم خمس صلوات فى كل يوم وليلة فإن هم أطاعوا لذلك فأعلمهم أن الله افترض عليهم صدقة فى أموالهم تؤخذ من أغنيائهم وترد على فقرائهم.“
”لوگوں کو (اولاً) لا إله إلا الله محمد رسول الله کی طرف دعوت دینا اگر وہ اسے مان لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر دن اور رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں اگر وہ اسے مان لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مالوں پر زکوۃ فرض کی ہے جو ان کے مال داروں سے وصول کی جائے گی اور ان کے فقراء کو دی جائے گی۔“
صحیح بخاری ، کتاب الزكاة، رقم: 1395.
غیر مسلم کلمہ توحید کا اقرار کر لے تو اس کی جان اور مال محفوظ ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ رسول ہاشمی علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد گرامی ہے:
”أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا: لا إله إلا الله فمن قال لا إله إلا الله عصم مني ماله ونفسه إلا بحقه وحسابه على الله.“
”مجھے حکم ہوا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک وہ کلمہ توحید لا إله إلا الله کا اقرار نہ کر لیں۔ جس شخص نے کلمہ توحید کا اقرار کر لیا اس نے مجھ سے اپنا مال اور جان بچالیا مگر اس کے حق کے ساتھ اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے۔“
صحیح مسلم، کتاب الايمان، رقم: 125 .
کلمہ توحید پر ایمان گناہوں کے کفارہ کا باعث بنے گا۔ چنانچہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
”يا ابن آدم إنك ما دعوتني ورجوتني غفرت لك على ما كان فيك ولا أبالي يا ابن آدم لو بلغت ذنوبك عنان السماء ثم استغفرتني غفرت لك ولا أبالي يا ابن آدم إنك لو أتيتني بقراب الأرض خطايا ثم لقيتني لا تشرك بي شيئا لأتيتك بقرابها مغفرة.“
”اے ابن آدم! تو جب تک مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے بخشش کی امید رکھے گا میں تجھ سے سرزد ہونے والا ہر گناہ بخشتا رہوں گا۔ اے ابن آدم! مجھے کوئی پرواہ نہیں اگر تمہارے گناہ آسمان کے کنارے تک پہنچ جائیں اور تو مجھ سے بخشش طلب کرے تو میں تجھے بخش دوں گا۔ اے ابن آدم! مجھے کوئی پرواہ نہیں اگر تو روئے زمین کے برابر گناہ لے آئے اور مجھے اس حال میں ملے کہ کسی کو میرے ساتھ شریک نہ کیا ہو تو میں روئے زمین کے برابر ہی تجھے مغفرت عطا کروں گا یعنی سارے گناہ معاف کر دوں گا۔“
سنن ترمذی، کتاب الدعوات، رقم: 3540 – سلسلة الصحيحة ، رقم: 128،127 – الروض النضير، رقم: 432 .
خلوص دل سے کلمہ توحید کا اقرار کرنے والا رسول اکرم ، شافع محشر علیہ السلام کی شفاعت کا مستحق قرار پاتا ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! قیامت کے دن آپ کی شفاعت سے سب سے زیادہ سعادت کسے حاصل ہو گی؟ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ہریرہ! مجھے یقین تھا کہ تم سے پہلے کوئی اس بارے میں مجھ سے دریافت نہیں کرے گا۔ کیونکہ میں نے حدیث کے متعلق تمہاری حرص دیکھ لی تھی۔ سنو!
”أسعد الناس بشفاعتي يوم القيامة من قال لا إله إلا الله خالصا من قلبه أو نفسه.“
”میری شفاعت سے قیامت کے دن سب سے زیادہ فیض یاب وہ شخص ہو گا جو سچے دل سے لا إله إلا الله کہے گا۔“
صحیح بخاری، کتاب العلم ، باب الحرص على الحديث رقم: 99- مسند أحمد : 273/2.
خالص اللہ تعالیٰ کی رضا مندی مقصود ہو تو کلمہ توحید کا اقرار کرنے والے پر جہنم حرام ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”لن يوافي عبد يوم القيامة يقول: لا إله إلا الله يبتغي بها وجه الله إلا حرم الله عليه النار.“
”کوئی بندہ جب روز قیامت اس حالت میں پیش ہو گا کہ اس نے کلمہ لا إله إلا الله کا اقرار کیا ہو گا اور اس سے مقصود اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا ہو گی تو اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ کو اس پر حرام کر دے گا۔“
صحیح بخاری، کتاب الرقاق، رقم: 6423 .
خلوص دل سے کلمہ توحید کی گواہی دینے والا جنت میں جائے گا۔ جیسا کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے یقیناً نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”من شهد أن لا إله إلا الله مخلصا من قلبه دخل الجنة.“
”جس شخص نے لا إله إلا الله کی گواہی دل کو خالص کرتے ہوئے دی وہ جنت میں داخل ہوگا۔“
صحيح ابن حبان : 280/1 ، رقم: 200 ـ سلسلة الصحيحة ، رقم: 2355.
بلکہ عقیدہ توحید کا اقرار عرش الہی سے قربت کا ذریعہ ہے۔ فقیہ الامہ، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”ما قال عبد لا إله إلا الله قط مخلصا إلا فتحت له أبواب السماء حتى تفضي إلى العرش ما اجتنب الكبائر.“
”جو بندہ سچے دل سے لا إله إلا الله کہتا ہے تو اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ عرش تک پہنچ جاتا ہے بشرطیکہ کبائر سے اجتناب کرتا رہے۔“
سنن ترمذی، کتاب الدعوات، رقم: 3590 – البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے۔المشكاة، رقم: 2314 – التعليق الرغيب : 238/2
عقیدہ توحید پر زندگی گزارنے والا شخص جب دنیا سے رخصت ہونے لگتا ہے تو اس وقت اسے یہ خوش خبری ملتی ہے کہ:
﴿يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ. ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً. فَادْخُلِي فِي عِبَادِي. وَادْخُلِي جَنَّتِي.﴾
”اے اطمینان پانے والی روح! اپنے رب کی طرف لوٹ چل (اس حالت میں کہ) تو اُس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔ تو میرے (ممتاز) بندوں میں شامل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا۔“
(89-الفجر:27 تا 30)
اور رسول ہاشمی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”من مات وهو يعلم أنه لا إله إلا الله دخل الجنة.“
”جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ وہ اس بات کا علم رکھتا تھا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے تو وہ آدمی جنت میں داخل ہوگا۔“
صحيح مسلم، کتاب الايمان، رقم : 43 – مسند أحمد: 69،65/1.
سیدنا نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت آیا تو اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”أوصيك بقول لا إله إلا الله فإنها لو وضعت فى كفة الميزان ووضعت السماوات والأرض فى كفة لرجحت.“
”میں تجھے لا إله إلا الله پر سختی سے کار بند رہنے کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ اگر ساتوں آسمان اور زمینیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھی جائیں اور لا إله إلا الله دوسرے پلڑے میں تو یہ وزنی ثابت ہوگا۔“
الادب المفرد، رقم: 548 – مسند البزار، رقم: 3029 ـ كتاب الزهد لأحمد ، رقم: 282 – سلسلة الصحيحة، رقم: 134.