چغلی کھانے سے بچنے کا ثواب
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿لَّا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَن ظُلِمَ ۚ وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا . إِن تُبْدُوا خَيْرًا أَوْ تُخْفُوهُ أَوْ تَعْفُوا عَن سُوءٍ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيرًا﴾ .
”اللہ کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ کوئی شخص بُرائی با آواز بلند کہے سوائے اس آدمی کے جس پر زیادتی ہوئی ہو، اور اللہ بڑا جاننے والا ہے۔ تم چاہے کسی بھلائی کو ظاہر کرو، یا اسے چھپاؤ یا کسی بُرائی کو معاف کر دو، تو بے شک اللہ بڑا معاف کرنے والا بڑی قدرت والا ہے۔“
(4-النساء:148،149)
شیخ عبد الرحمن السعدی رحمہ اللہ آیت مذکورہ کی تفسیر میں رقمطراز ہیں:
اللہ تبارک و تعالی آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی علانیہ بری بات کہے، یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص سے ناراض ہوتا ہے، اور اسے سزا دیتا ہے۔ اس میں وہ تمام برے اقوال شامل ہیں جو تکلیف دہ اور صدمہ پہنچانے والے، مثلاً گالی گلوچ، قذف اور سب و شتم کرنا، اس لیے کہ ایسے تمام اقوال سے منع کیا گیا ہے۔ جنھیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اچھی بات کو پسند کرتا ہے۔ مثلاً ذکر الہی، اچھا اور نرم پاکیزہ کلام وغیرہ۔“ (تفسیر السعدی: 1/621)
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: مر رسول الله صلى الله عليه وسلم على قبرين، فقال: أما إنهما ليعذبان وما يعذبان فى كبير . أما أحدهما فكان يمشي بالنميمة ، وأما الآخر فكان لا يستتر من بوله
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دو قبروں سے گزر ہوا تو ارشاد فرمایا: ”ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور ان کو یہ عذاب کسی بڑی بات پر نہیں ہو رہا۔ ان میں سے ایک تو چغلی کھایا کرتا تھا اور دوسرا پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا۔“
صحیح البخاري، كتاب الوضوء، باب ماجاء في غسل البول، رقم: 218 ـ صحیح مسلم، کتاب الطهارة، باب الدليل على نجاسة البول ووجوب الاستبراء منه، رقم: 292.
قال حذيفة رضى الله عنه سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا يدخل الجنة قتات
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“
سنن الترمذي، كتاب البر والصلة، باب ماجاء في النمام، رقم: 2026 ـ سلسلة الصحيحة، رقم: 1034.
ان احادیث سے یہ معلوم ہوا کہ عذاب قبر کا سبب اور دخول جنت سے مانع امور میں سے چغل خوری بھی ہے۔ یعنی جو شخص اس کا مرتکب ہوگا وہ عند اللہ مستوجب سزا ہے۔
اسی طرح اس کا مفہوم مخالف یہ بنے گا کہ جو شخص چغل خوری سے اجتناب کرتا ہے وہ جنت میں بھی جائے گا، اور عذاب قبر سے بھی محفوظ رہے گا۔ تو ایسے لوگ جو اس سے گریز کرتے ہیں۔ ان کے لیے دخول جنت سے یہ چیز مانع نہیں ہوگی۔ ان شاء اللہ!