اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کے فضائل قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کے فضائل

دعا اللہ تعالیٰ کے حضور التجا کرنے اور اپنی ضروریات کا مداوا کرنے کا نام ہے۔
ڈاکٹر لقمان سلفی حفظہ اللہ لکھتے ہیں:
قبولیت دعا کی چھ شرطیں ہیں، اگر وہ پوری نہ ہوں تو دعا قبول نہیں ہوتی:
① دعا اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ کے واسطے سے کی جائے۔
② نیت خالص ہو۔
③ دعا کرنے والا اپنی مسکنت و محتاجی کا اظہار کرے۔
④ کسی گناہ کی دعا نہ کرے۔
⑤کسی ایسی چیز کے لیے دعا نہ کرے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مدد لینی چاہے۔
⑥ اسے یقین ہو کہ اللہ نے اگر اسے کسی دنیاوی فائدے سے محروم رکھا ہے، تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، بالکل اس نعمت کی مانند جو اللہ تعالیٰ نے اسے دیا ہے۔ (تيسير الرحمن: 1/102)
﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ﴾
”اور تمہارے رب کا فرمان سرزد ہو چکا ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا، یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وہ ذلیل ہو کر جہنم میں پہنچ جائیں گے۔“
(40-غافر:60)
یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور اس کی عظیم نعمت ہے کہ اس نے انہیں اس چیز کی طرف دعوت دی جس میں ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے، اور انہیں حکم دیا کہ وہ اس سے دعا کریں، یعنی دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ… اور ان سے وعدہ فرمایا کہ وہ ان کی دعا قبول کرے گا اور ان متکبرین کو وعید سنائی ہے، جو تکبر کی بناء پر اس کی عبادت سے منہ موڑتے ہیں۔ (تفسیر السعدی: 3/2393)
﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ﴾
(اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!) اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو (آپ کہہ دیجیے) بیشک میں تو قریب ہوں۔ میں پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ تو چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں، اور مجھ پر یقین رکھیں تاکہ وہ راہ راست پا لیں۔“
(2-البقرة:186)
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إن الله حيي كريم ، يستحيي إذا رفع الرجل إليه يديه أن يردهما صفرا خائبتين
”بے شک اللہ تعالیٰ حیا کرنے والا اور مہربان ہے، اور کوئی بندہ جب اس کی طرف ہاتھ بلند کرتا ہے تو اسے حیا آتی ہے کہ وہ انہیں خالی واپس لوٹا دے۔“
صحیح سنن ترمذی، کتاب الدعوات، باب (105) رقم: 3556 – صحیح سنن ابوداؤد، ابواب الوتر، باب الدعاء رقم: 1488 ـ صحيح سنن ابن ماجه رقم: 3865.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کہ رات کا تہائی حصہ باقی رہتا ہے، اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول کرتا ہے۔ اور فرماتا ہے:
من يدعوني فاستجيب له؟ من يسألني فأعطيه؟ من يستغفرني فأغفر له؟ وفي رواية لمسلم: فلا يزال كذلك حتى يضيء الفجر
”کون ہے جو مجھ سے دعا مانگے تو میں اس کی دعا قبول کروں؟ اور کون ہے جو مجھ سے سوال کرے تو میں اسے عطا کروں؟ اور کون ہے جو مجھ سے معافی طلب کرے تو میں اسے معاف کر دوں؟“ اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے: ”پھر وہ بدستور اسی طرح رہتا ہے یہاں تک کہ فجر روشن ہو جاتی ہے۔“
صحیح بخاری، کتاب التهجد، رقم: 1145 – صحيح مسلم: صلاة المسافرين، باب الترغيب في الدعاء والذكر، رقم: 758/169.
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إن فى الليل لساعة ، لا يوافقها رجل مسلم يسأل الله خيرا من أمر الدنيا والآخرة ، إلا أعطاه إياه ، وذلك كل ليلة
”بے شک رات میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جس میں کوئی بھی مسلمان شخص دنیا و آخرت کی بھلائی کا اللہ تعالیٰ سے سوال کرے، تو اللہ تعالیٰ اسے عطا فرماتا ہے اور یہ گھڑی ہر رات میں ہوتی ہے۔“
صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين باب في الليل ساعة مستجاب فيها الدعاء، رقم: 757.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
الدعاء هو العبادة
”دعا ہی عبادت ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۃ غافر کی آیت نمبر (60) تلاوت فرمائی۔
سنن الترمذي، كتاب الدعوات، باب ماجاء في فضل الدعاء ، رقم: 3372 – البانی رحمہ اللہ نے اسے
”صحیح“ کہا ہے۔