استغفار، توبہ اور اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

استغفار کے متعلق احکامات

① اغر مزنی صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنه ليغان على قلبي وإني لأستغفر الله فى اليوم مائة مرة
”میرے دل پر بوجھ طاری ہو جاتا ہے اور بے شک میں دن میں سو مرتبہ اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں“۔
مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار 41/2702۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
والله إني لأستغفر الله وأتوب إليه فى اليوم أكثر من سبعين مرة
”اللہ کی قسم! میں دن میں ستر مرتبہ سے زائد بار اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں رجوع کرتا ہوں“۔
بخاری، کتاب الاستغفار 6307، الترمذی، کتاب الدعوات 3312۔
③ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، ہم گنا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی مجلس میں سو مرتبہ یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
رب اغفر لي وتب على إنك أنت التواب الرحيم
”اے میرے رب! مجھے بخش دے اور میری توبہ قبول فرما، بے شک تو ہی توبہ قبول کرنے والا، مہربانی کرنے والا ہے“۔
ابوداؤد، کتاب الصلوة، باب فی الاستغفار 1516، ترمذی، کتاب الدعوات، باب ما يقول اذا قام من المجلس 3430۔
④ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من لزم الإستغفار جعل الله له من كل ضيق مخرجا ومن كل هم فرجا ورزقه من حيث لا يحتسب
”جو شخص استغفار کو لازم کر لیتا ہے تو اللہ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کی راہ پیدا کر دیتا ہے، ہر غم سے نجات دے دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق فراہم کرتا ہے کہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا“۔
ابوداؤد، باب فی فضل الاستغفار 1518، اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ اس میں حکم بن مصعب مجہول راوی ہے۔
⑤ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
والذي نفسي بيده لو لم تذنبوا لذهب الله بكم ولجاء بقوم يذنبون فيستغفرون الله تعالى فيغفر لهم
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تمہیں لے جائے اور (تمہاری جگہ) ایسی قوم کو لے آئے جو گناہ کرتے ہوں، اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے ہوں تو اللہ انہیں بخش دے“۔
مسلم 2749، بیہقی فی الآداب 1028۔
⑥ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من قال: أستغفر الله الذى لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه غفرت ذنوبه وإن كان قد فر من الزحف
”جو شخص یہ دعا پڑھتا ہے: میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ اور قائم رہنے والا ہے، اور میں اس کے حضور توبہ کرتا ہوں، اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں؛ خواہ وہ میدانِ جہاد سے فرار ہوا ہو“۔
ابوداؤد، باب فی الاستغفار 1517، الترمذی، کتاب الدعوات 3572، یہ حدیث صحیح ہے، مستدرک حاکم 511/1۔
⑦ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سيد الإستغفار أن يقول العبد: اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت خلقتني وأنا عبدك وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت أعوذ بك من شر ما صنعت أبوء لك بنعمتك على وأبوء بذنبي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت. من قالها بالنهار موقنا بها فمات من يومه قبل أن يمسي فهو من أهل الجنة ومن قالها من الليل وهو موقن بها فمات قبل أن يصبح فهو من أهل الجنة
”سید الاستغفار یہ ہے کہ بندہ یوں کہے: اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا، میں تیرا بندہ ہوں، میں اپنی استطاعت کے مطابق تیرے عہد اور تیرے وعدے پر قائم ہوں، میں نے جو برائی کی ہے اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، تو نے مجھے جن نعمتوں سے نوازا، مجھے ان کا اقرار ہے اور مجھے اپنے گناہوں کا بھی اعتراف ہے، پس مجھے بخش دے، اس لیے کہ تیرے سوا کوئی اور گناہ معاف نہیں کر سکتا۔ جو شخص دن کے وقت یقین کے ساتھ یہ کلمات پڑھتا ہے اور وہ اسی دن شام ہونے سے پہلے فوت ہو جائے تو وہ اہل جنت میں سے ہے، اور جو اسے رات کے وقت پڑھتا ہے پھر صبح ہونے سے پہلے پہلے وہ فوت ہو جائے تو وہ اہل جنت میں سے ہے“۔
بخاری، کتاب الاستغفار 6306، ترمذی، کتاب الدعوات 3390۔

توبہ کا بیان

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
والله إني لأستغفر الله وأتوب إليه فى اليوم مائة مرة
”اللہ کی قسم! میں دن میں سو مرتبہ اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں“۔
ابن ماجه، کتاب الادب، باب الاستغفار 6307، اس میں "سو مرتبہ” کی بجائے "ستر مرتبہ” کا ذکر ہے، دیکھئے فتح الباری 85/11۔
② سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
لله أفرح بتوبة عبده المؤمن من رجل نزل فى أرض دوية مهلكة معه راحلته عليها طعامه وشرابه فوضع رأسه فنام نومة فاستيقظ وقد ذهبت راحلته فطلبها حتى إذا اشتد عليه الحر والعطش أو ما شاء الله قال: أرجع إلى مكاني الذى كنت فيه فأنام حتى أموت فوضع رأسه على ساعده ليموت فاستيقظ فإذا راحلته عنده عليها زاده وشرابه فالله أشد فرحا بتوبة العبد المؤمن من هذا براحلته وزاده
”اللہ کو اپنے مومن بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوشی محسوس ہوتی ہے جس نے قیام کے لیے نا موافق اور مہلک بیماریوں والی زمین پر پڑاؤ ڈالا، اس کے پاس سواری ہے جس پر اس کا کھانا پینا ہے، پس اس نے اپنا سر رکھا اور گہری نیند سو گیا، جب وہ بیدار ہوا تو دیکھا کہ اس کی سواری غائب ہے، وہ اس کی تلاش میں نکلتا ہے، حتیٰ کہ جب گرمی اور پیاس کی شدت تیز ہو جاتی ہے یا پھر جو اللہ عزوجل چاہے تو وہ کہتا ہے: میں واپس اسی جگہ جاتا ہوں جہاں پہلے قیام کیا تھا، وہاں جا کر سو جاتا ہوں حتیٰ کہ مر جاؤں گا، وہ اپنے بازو پر اپنا سر رکھتا ہے تاکہ وہ فوت ہو جائے، پس وہ بیدار ہوتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس کی سواری اس کے سامنے کھڑی ہے اور اس پر اس کا زادِ راہ اور اس کا پانی بھی موجود ہے (تو وہ خوش ہو جاتا ہے)، پس اللہ تعالیٰ کو مومن بندے کی توبہ سے اس شخص کی خوشی سے زیادہ خوشی ہوتی ہے جتنی اس شخص کو اپنی سواری ملنے پر خوشی ہوتی ہے“۔
بخاری 6308، مسلم 2744، ترمذی 2498، مسند احمد 383/1، مشكوة المصابیح، باب الاستغفار والتوبة، صحیح الترغیب والترہیب، باب الترغیب فی التوبة، احیاء علوم الدین، باب بیان وجوب التوبة۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من تاب قبل طلوع الشمس من مغربها تاب الله عليه
”جو شخص سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے پہلے توبہ کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے“۔
مسلم، کتاب التوبة 2703۔
④ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله يبسط يده بالليل ليتوب مسيء النهار ويبسط يده بالنهار ليتوب مسيء الليل حتى تطلع الشمس من مغربها
”اللہ تعالیٰ رات کے وقت اپنا ہاتھ دراز فرماتا ہے تاکہ دن کے وقت غلطی کرنے والا توبہ کر لے اور وہ دن کے وقت اپنا ہاتھ دراز فرماتا ہے تاکہ رات کے وقت غلطی کرنے والا توبہ کر لے (یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) حتیٰ کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے“۔
مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار 2759۔ السنن الکبری للبیہقی، الجزء 8، ص 136، 11180۔
⑤ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله يقبل توبة العبد ما لم يغرغر
”اللہ بندے کی توبہ قبول فرما لیتا ہے جب تک اس کا دم گلے میں نہیں اٹکتا“۔
ترمذی، کتاب الدعوات، باب فی فضل التوبة والاستغفار … الخ 3537، مسند احمد، مسند المکثرین من الصحابه، مسند عبد الله بن عمر 4253، امام ترمذی نے فرمایا: یہ روایت حسن ہے۔

اللہ کا تقرب کیسے؟

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قال الله تعالى: إذا تقرب عبدي مني شبرا تقربت منه ذراعا وإذا تقرب مني ذراعا تقربت منه باعا أو بوعا وإذا أتاني يمشي أتيته هرولة
”اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: جب میرا بندہ ایک بالشت میرے قریب آتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہو جاتا ہوں اور جب وہ ایک ہاتھ برابر میرے قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہو جاتا ہوں اور جب وہ چل کر میری طرف آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کی طرف آتا ہوں“۔
بخاری، کتاب التوحید 7405، مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار 2675، ترمذی، کتاب الدعوات 3603۔