تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ گزشتہ آیات میں منافقین کے عیوب کا بیان تھا، یہاں بات مکمل کرنے کے لیے فرمایا کہ یہ چونکہ ظالم ہیں، اس لیے ان کے عیب ظاہر کرنا جائز ہے۔ (کبیر) تاہم حتی الوسع نام لے کر بیان نہ کرے۔ (موضح) «وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِيْعًا عَلِيْمًا» یعنی اگر مظلوم زیادتی کرے گا تو اﷲ تعالیٰ کو وہ بھی معلوم ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ابوداؤد میں ہے { سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی کوئی چیز چور چرا لے گئے تو آپ ان پر بد دعا کرنے لگیں۔ حضور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا! کیوں اس کا بوجھ ہلکا کر رہی ہو؟ } ۱؎ [سنن ابوداود:4909،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس پر بد دعا نہ کرنی چاہیئے بلکہ یہ دعا کرنی چاہیئے «اللھم اعنی علیہ واستخرج حقی منہ» ’ یا اللہ اس چور پر تو میری مدد کر اور اس سے میرا حق دلوا دے۔ ‘ آپ سے ایک اور روایت میں مروی ہے کہ { اگرچہ مظلوم کے ظالم کو کوسنے کی رخصت ہے مگر یہ خیال رہے کہ حد سے نہ بڑھ جائے۔ }
عبدالکریم بن مالک جزری رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں“گالی دینے والے کو یعنی برا کہنے والے کو برا تو کہہ سکتے ہیں لیکن بہتان باندھنے والے پر بہتان نہیں باندھ سکتے۔“ ایک اور آیت میں ہے «وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ مَا عَلَيْهِمْ مِّنْ سَبِيْلٍ» ۱؎ [42-الشورى:41] ’ جو مظلوم اپنے ظالم سے اس کے ظلم کا انتقام لے، اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔ ‘
ابوداؤد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں“دو گالیاں دینے والوں کا وبال اس پر ہے، جس نے گالیاں دینا شروع کیا۔ ہاں اگر مظلوم حد سے بڑھ جائے تو اور بات ہے۔} ۱؎ [صحیح مسلم:2578]
ابوداؤد، ابن ماجہ وغیرہ میں ہے { صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ آپ ہمیں ادھر ادھر بھیجتے ہیں۔ بعض مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہاں کے لوگ ہماری مہمانداری نہیں کرتے“ آپ نے فرمایا اگر وہ میزبانی کریں تو درست، ورنہ تم ان سے لوازمات میزبانی خود لے لیا کرو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2461]
مسند احمد کی روایت میں { فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ جو مسلمان کسی اہل قبلہ کے ہاں مہمان بن کر جائے اور ساری رات گذر جائے لیکن وہ لوگ اس کی مہمانداری نہ کریں تو ہر مسلمان پر اس مہمان کی نصرت ضروری ہے تاکہ میزبان کے مال سے اس کی کھیتی سے بقدر مہمانی دلائیں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:3751،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند کی اور حدیث میں ہے { ضیافت کی رات ہر مسلمان پر واجب ہے، اگر کوئی مسافر صبح تک محروم رہ جائے تو یہ اس میزبان کے ذمہ قرض ہے، خواہ ادا کرے خواہ باقی رکھے} ۱؎ [سنن ابوداود:3750،قال الشيخ الألباني:صحیح] ان احادیث کی وجہ سے امام احمد رحمہ اللہ وغیرہ کا مذہب ہے کہ ضیافت واجب ہے،
ابوداؤد شریف وغیرہ میں ہے { ایک شخص سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر عرض کرتا ہے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے میرا پڑوسی بہت ایذاء پہنچاتا ہے، آپ نے فرمایا ایک کام کرو، اپنا کل مال اسباب گھر سے نکال کر باہر رکھ دو }۔
اس نے ایسا ہی کیا راستے پر اسباب ڈال کر وہیں بیٹھ گیا، اب جو گذرتا وہ پوچھتا کیا بات ہے؟ یہ کہتا میرا پڑوسی مجھے ستاتا ہے میں تنگ آ گیا ہوں، راہ گزر اسے برا بھلا کہتا، کوئی کہتا رب کی مار اس پڑوسی پر۔ کوئی کہتا اللہ غارت کرے اس پڑوسی کو، جب پڑوسی کو اپنی اس طرح کی رسوائی کا حال معلوم ہوا تو اس کے پاس آیا، منتیں کر کے کہا“اپنے گھر چلو اللہ کی قسم اب مرتے دم تک تم کو کسی طرح نہ ستاؤں گا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:124]
بعض تو کہتے ہیں دعا «سُبحانَكَ على حلمِكَ بَعدَ عِلمِكَ» { یا اللہ تیری ذات پاک ہے کہ تو باوجود جاننے کے پھر بھی برد باری اور چشم پوشی کرتا ہے۔ }
بعض کہتے ہیں «سُبحانَكَ على عفوِكَ بعدَ قٌدرتِكَ» { اے قدرت کے باوجود درگذر کرنے والے اللہ تمام پاکیاں تیری ذات کے لیے مختص ہیں۔ }
صحیح حدیث شریف میں ہے { صدقے اور خیرات سے کسی کا مال گھٹتا نہیں، عفو و درگذر کرنے اور معاف کر دینے سے اللہ تعالیٰ اور عزت بڑھاتا ہے اور جو شخص اللہ کے حکم سے تواضع، فروتنی اور عاجزی اختیار کرے اللہ اس کا مرتبہ اور توقیر مزید بڑھا دیتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2588]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنه لا يحبُّ الجهر بالسوء من القول؛ أي: يبغض ذلك ويمقُتُه ويعاقبُ عليه، ويشمل ذلك جميع الأقوال السيئة التي تسوء وتحزن؛ كالشتم والقذف والسَّبِّ ونحو ذلك؛ فإن ذلك كلَّه من المنهيِّ عنه الذي يبغضُه الله، ويدلُّ مفهومها أنه يحبُّ الحسن من القول؛ كالذِّكر والكلام الطيب الليِّن. وقوله: {إلَّا من ظُلم}؛ أي: فإنه يجوز له أن يَدْعُوَ على من ظَلَمَهُ ويشتكي منه ويجهر بالسُّوء لمن جَهَرَ له به من غير أن يكذِبَ عليه ولا يزيدُ على مظلمتِهِ ولا يتعدَّى بشتمه غير ظالمه، ومع ذلك؛ فعفوُهُ وعدم مقابلته أولى؛ كما قال تعالى: {فمن عفا وأصْلَحَ فأجرُهُ على الله}، {وكان الله سميعاً عليماً}.
ولما كانت الآية قد اشتملت على الكلام السيئ والحسن والمباح؛ أخبر تعالى أنه سميع، فيسمع أقوالكم؛ فاحذروا أن تتكلَّموا بما يغضب ربَّكم فيعاقبكم [على ذلك]، وفيه أيضاً ترغيب على القول الحسن. عليمٌ بنيَّاتكم ومصدر أقوالكم.