اصلاح عمل کا ثواب قرآن وحدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

اصلاح عمل کا ثواب

؎ انداز بیاں گرچہ کچھ شوخ نہیں
شاید کہ تیرے دل میں اُتر جائے میری بات
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے تو انہیں شتر بے مہار نہیں چھوڑا، بلکہ عبادت کے طریقے بیان کرنے، راہ صواب کی طرف راہنمائی کرنے کے لیے انبیاء ورسل علیہم السلام کو مبعوث فرمایا۔ انبیاء کرام نہ صرف لوگوں کو دعوت دین پہنچاتے بلکہ ان کے نفس کو کفر، شرک و فسق کی آلائشوں سے پاک و مطہر کرنے کے طریقے بھی بیان فرماتے۔ الغرض تزکیہ نفس و اصلاح عمل کی ترغیب دلاتے۔۔ لہذا جو شخص اپنے نفس کا تزکیہ اور اصلاح کر کے اعمال صالحہ بجا لاتا ہے تو ایسے بندے کی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مدح بیان فرمائی ہے:
﴿وَالَّذِينَ يُمَسِّكُونَ بِالْكِتَابِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُصْلِحِينَ﴾ ‎
اور جو لوگ کتاب کے پابند ہیں، اور نماز کی پابندی کرتے ہیں ہم ایسے لوگوں کا جو اپنی اصلاح کریں ثواب ضائع نہ کریں۔
(7-الأعراف:170)
‏ ﴿وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ ۖ فَمَنْ آمَنَ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۔‏ وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا يَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ ۔﴾
اور ہم پیغمبروں کو صرف اس واسطے بھیجا کرتے ہیں کہ وہ بشارت دیں، اور ڈرائیں، پھر جو ایمان لے آئے اور درستی کر لے، سو اُن لوگوں پر کوئی اندیشہ نہیں اور نہ وہ مغموم ہوں گے۔ اور جو لوگ ہماری آیتوں کو جھوٹا بتلائیں ان کو عذاب پہنچے گا۔ ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے۔“
(6-الأنعام:48،49)
عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فمن أحب أن يزحزح عن النار، ويدخل الجنة فلتأته منيته وهو يؤمن بالله واليوم الآخر، وليأت إلى الناس الذى يحب أن يؤتى إليه
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اسے آگ سے بچا لیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے تو اسے اس حال میں موت آئے کہ وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، تو وہ لوگوں کے ساتھ اسی طرح پیش آئے جیسے وہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کے ساتھ پیش آئیں۔“
صحيح مسلم، كتاب الامارة، باب وجوب الوفاء ببيعة الخليفة، رقم: 1844.