مضمون کے اہم نکات
سنت و بدعت
بدعت کی تعریف:
لغوی تعریف: یہ ،،بدع،، سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے کسی چیز کا ایسے طریقے پر ایجاد کرنا جس کی پہلے کوئی مثال نہ ہو اور اس سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: [بَدِیۡعُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ] دو آسمانوں اور زمین کو بنانے والا۔ (البقرة:117)
یعنی ان کا ایجاد کرنے والا، ایسے طریقے پر جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ہے۔
اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: [قُلۡ مَا کُنۡتُ بِدۡعًا مِّنَ الرُّسُلِ] کہہ دیجیے! میں اللہ کی جانب سے بندوں کی طرف پیغام لانے والا پہلا انسان نہیں ہوں۔ (الأحقاف:9)
بلکہ مجھ سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔
اور مثل ہے: ،،ابتدع فلان بدعة،، (یعنی) اس نے ایسا طریقہ ایجاد کیا ہے جسے اس سے پہلے کسی نے نہیں کیا ہے۔
ابتداع و ایجاد کی دو قسمیں ہیں:
[1] عادات میں ابتداع و ایجاد جیسے نئی نئی ایجادات، مثلا: بجلی، ٹیلیفون، کار، ہوائی جہاز، فریج وغیرہ اور یہ جائز ہے، اس لیے کہ عادات میں اصل اباحت ہے یعنی ثواب حاصل کرنے کے لیے کوئی کام کرنا۔
[2] دین میں نئی چیز ایجاد کرنا، یہ حرام ہے۔ اس لیے کہ دین میں اصل توقیف ہے یعنی اصل پر قائم رہنا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کسی نے ہمارے دین میں کسی ایسی نئی چیز کی ایجاد کی جو دین سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے۔ [بخارى، كتاب الصلح، باب إذا اصطلحوا على صلح جور ….. الخ:2697]،[مسلم، كتاب الأقضية، باب نقض الأحكام الباطلة ورد محدثات الأمور:1718]
اور ایک دوسری روایت میں ہے:
جس نے کوئی ایسا کام کیا جس پر ہمارا حکم نہیں ہے تو وہ مردود ہے۔ [بخاری، تعلیقا، کتاب البيوع، باب النجش و من قال لا يجوز ذلك البيع.]،[مسلم، كتاب الأقضية، باب نقض الأحكام الباطلة ورد محدثات الأمور: 18/1718]
بدعت کی قسمیں:
دین میں بدعت کی دو قسمیں ہیں:
پہلی قسم:
ایسی بدعت جس کا تعلق قول و اعتقاد سے ہے، جیسے جہمیہ، معتزلہ، رافضیہ اور تمام گمراہ فرتوں کے اقوال و اعتقادات۔
دوسری قسم:
عبادات میں بدعت، جیسے اللہ کی پرستش غیر مشروع طریقے سے کرنا اور اس کی چند قسمیں ہیں:
[1] نفس عبادت ہی بدعت ہو جیسے کوئی ایسی عبادت ایجاد کر لی جائے جس کی شریعت میں کوئی بنیاد اور اصل نہ ہو۔ مثلاً نماز غوثیہ، غیر مشروع نماز، غیر مشروع روزہ یا غیر مشروع عیدیں جیسے عید میلا د وغیرہ۔
[2] دوسری قسم جو مشروع عبادت میں زیادتی کی شکل میں ہو جیسے کوئی ظہر یا عصر کی نماز میں پانچویں رکعت زیادہ کر دے۔
[3] جو عبادت کی ادائیگی کے طریقوں میں ہو یعنی اسے غیر شرعی طریقے پر ادا کرے۔ جیسے مشروع اذکار و دعا ئیں اجتماعی آواز اور خوش الحانی سے ادا کرنا اور جیسے اپنے آپ پرعبادت میں اتنی سختی برتنا کہ وہ سنت رسول ﷺ سے تجاوز کر جائے۔
[4] جو مشروع عبادت کسی ایسے وقت کی تخصیص کی شکل میں ہو جسے شریعت نے خاص نہ کیا ہو۔ جیسے پندرھویں شعبان کی شب و روز کو نماز و روزے کے ساتھ خاص کرنا کیونکہ نماز و روزے اصلاً مشروع ہیں لیکن کسی وقت کے ساتھ خاص کرنے کے لیے دلیل کی ضرورت ہے۔
بدعت کی تمام قسموں کا حکم دینی نقطہ نظر سے:
دین میں ہر بدعت حرام اور باعث ضلالت و گمراہی ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: دین کے اندر تمام نئی پیدا کی ہوئی چیزوں سے بچو، کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ [مسند أحمد:17145]،[أبو داود، كتاب السنة، باب في لزوم السنة:4607]
اور رسول اللهﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے بھی۔ [من أحدث في أمرنا هذا ما ليس فيه فهو رد] جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جس کا تعلق دین سے نہیں ہے تووہ مردود ہے۔ [بخارى، كتاب الصلح، باب إذا اصطلحوا على صلح جور ….. الخ:2697]
اور ایک دوسری روایت میں ہے۔ [من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد] جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس کا تعلق دین سے نہیں تو وہ مردود اور نا قابل قبول ہے۔ [مسلم، كتاب الأقضية، باب نقض الأحكام الباطلة ورد محدثات الأمور:1718]
تو یہ احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ دین میں ایجاد سندہ نئی چیز بدعت ہی ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور وہ مردود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عبادات و اعتقادات میں بدعتیں حرام ہیں۔ لیکن یہ حرمت بدعت کی نوعیت کے اعتبار سے مختلف ہے۔ بعض بدعتیں صراحتاً کفر ہیں جیسے صاحب قبر سے تقرب حاصل کرنے کے لیے قبروں کا طواف کرنا اور ان پر ذبیحے اور نذر و نیاز پیش کرنا۔ ان سے مرادیں مانگنا اور فریاد رسی کرنا، یا جیسے غالی قسم کے جہمیوں اورمعتزلیوں کے اقوال ہیں بعض بدعتیں وسائل شرک میں سے ہیں۔ جیسے قبروں پر عمارتیں تعمیر کرنا اور وہاں نماز پڑھنا اور دعائیں مانگنا۔ بعض بدعتیں فسق اعتقادی ہیں جیسے خوارج، قدریہ اور مرجیہ کے اقوال اور مشروع دلیلوں کے مخالف ان کے اعتقادات بعض بدعتیں معصیت و نافرمانی کی ہیں جیسے شادی و بیاہ سے کنارہ کشی اور دھوپ میں کھڑے ہو کر روزہ رکھنے کی بدعت اور شہوت و جماع ختم کرنے کی غرض سے خصی ہونے یا کرنے کی بدعت۔
جس نے بدعت کی تقسیم اچھی اور بری بدعت سے کی ہے وہ غلطی و خطا پر ہے اور رسول اللہ ﷺ کی حدیث (كل بدعة ضلالة) [مسلم، كتاب الجمعة، باب تخفيف الصلاة والخطبة:867]
کے خلاف ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے تمام بدعتوں پر گمراہی کا حکم لگایا ہے اور یہ صاحب کہتے ہیں کہ ہر بدعت گمراہی نہیں بلکہ کچھ بدعتیں ایسی ہیں جو نیک ہیں، اچھی ہیں۔
حافظ ابن رجب نے اپنی کتاب جامع العلوم و الحکم میں رسول اللہﷺ کے اس فرمان: (فإن كل بدعة ضلالة) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپﷺ کا مذکورہ فرمان جامع کلمات میں سے ہے، جن سے کوئی چیز خارج نہیں ہے۔ وہ اصول دین میں ایک عظیم اصل ہے اور رسول اللہ ﷺ کے فرمان: (من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد) کے مشابہ ہے۔ [بخاری:2697]،[مسلم:1718]
لہذا جس نے بھی کوئی نئی چیز ایجاد کی اور دین کی طرف اس کی نسبت کی اور دین میں اس کی کوئی اصل مرجع نہیں ہے تو وہ گمرا ہی ہے۔ اور دین اس سے بری و الگ ہے، خواہ وہ اعتقادی مسائل ہوں یا ظاہری و باطنی اعمال و اقوال ہوں۔
بدعت حسنہ کہنے والوں کے پاس کوئی حجت و دلیل نہیں ہے سوائے سید نا عمر رضي اللہ عنہ کے تراویح کے بارے میں اس قول کے کہ (نعم البدعة هذه) یہ کیا ہی اچھی بدعت ہے۔ [بخاری، کتاب التراويح، باب فضل من قام رمضان:2010]
ان لوگوں کا کہنا یہ بھی ہے کہ بہت ساری چیزیں ایسی رو پذیر ہوئیں جن پر سلف نے کوئی نکیر نہیں کی ہے، جیسے کتابی شکل میں قرآن کریم کا جمع کرنا اور حدیث کی کتابت و تدوین تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ چیزیں ایسی ہیں جن کی شریعت میں اصل ہے، یہ نئی نہیں ہیں اور رہا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان تو اس سے مراد لغوی بدعت ہے نہ کہ شرعی بدعت۔ پس شریعت میں جس کی اصل موجود ہے، جس کی جانب رجوع کیا جا سکتا ہے تو جب اسے بدعت کہا جاتا ہے تو وہ لغوی بدعت مراد ہوتی ہے نہ کہ شرعی۔ اس لیے کہ شرعی طور پر بدعت وہ ہے جس کی شریعت میں کوئی اصل نہ ہو کہ اس کی جانب رجوع کیا جا سکے اور قرآن کریم ایک کتاب کی شکل میں جمع کرنے کی اصل شریعت میں موجود ہے، اس لیے کہ نبی کریم ﷺ لکھنے کا حکم فرماتے تھے لیکن متفرق طور پر لکھا تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک مصحف میں حفاظت کی غرض سے اکٹھا کیا۔
اور تراویح رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضي اللہ عنہم کو چند راتیں پڑھائیں آخر میں فرض ہونے کے خوف سے جماعت سے پڑھنا چھوڑ دیا تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم برابر اللہ کے رسول ﷺ کی زندگی میں اور وفات کے بعد الگ الگ گروپ بنا کر پڑھتے رہے یہاں تک کہ سیدنا عمر رضي اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں ایک امام کے پیچھے تمام لوگوں کو جمع کر دیا۔ جیسے نبی کریم ﷺ کے پیچھے پڑھتے تھے۔ اور یہ دین کے اندر کوئی بدعت نہیں ہے۔
اور کتابت حدیث کی بھی شریعت میں اصل ہے، اس لیے کہ نبی کریم ﷺ نے بعض صحابہ کرام رضي اللہ عنہم کو حدیثیں لکھنے کی اجازت مرحمت فرمائی تھی۔ اور عمومی طور پر آپ ﷺ کے زمانے میں اس کے لکھنے کی ممانعت تھی، اس ڈر سے کہ کہیں قرآن کے ساتھ خلط ملط نہ ہو جائے۔
لیکن جب آپ ﷺ کی وفات ہو گئی تو یہ خطرہ ٹل گیا کیونکہ قرآن کریم مکمل ہو گیا اور آپ ﷺ کی وفات سے پہلے ہی محفوظ کر لیا گیا تو اس کے بعد مسلمانوں نے سنت کو ضیاع سے بچانے کی غرض سے اس کی تدوین شروع کی۔ اللہ تعالیٰ انھیں اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے بہترین بدلا دے، اس لیے کہ انھوں نے اپنے رب کی کتاب اور نبی ﷺ کی سنت کو ضائع ہونے سے اور خلط ملط کرنے والوں کے کھیل سے محفوظ رکھا۔
معلوم ہونا چاہیے کہ عام بدعتیں جن کا تعلق علوم و عبادات سے ہے یہ خلفائے راشہ کے آخری دور خلافت میں رونما ہوئیں جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے اس کی خبر دی ہے۔ آپ نے فرمایا: [من يعش منكم بعدي فسيرى اختلافا كثيرا، فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين]
تم میں سے جو لوگ میرے بعد زندہ رہیں گے وہ بہت زیادہ اختلافات دیکھیں گے تو تم لوگ میری سنت اور میرے بعد خلفائے راشدین کی سنت کو لازم کر لو اور اسی پر جمے رہو۔ [سنن أبي داود، كتاب السنة، باب في لزوم السنة:4607]،[مسند أحمد:17145]،[سنن ابن ماجه، كتاب السنة (المقدمة ):43]،[سنن الترمذي:2676]،[مسند الشاميين للطبرانی:2017]
تو سب سے پہلے انکار تقدیر، انکار عمل، تشیع اور خوارج کی بدعتیں ظاہر ہوئیں، یہ بدعتیں دوسری صدی ہجری میں رونما ہو ئیں جب کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے۔ انھوں نے ان بدعتوں پر گرفت کی پھر اعتزال کی بدعت ظاہر ہوئی اور مسلمانوں میں طرح طرح کے فتنے ظاہر ہوئے۔ پھر خیالات میں اختلافات پیدا ہوئے۔ بدعات اور نفس پرستی کی جانب میلان ہوا۔
صوفیت اور قبروں پر تعمیر کی بدعتیں بہترین زمانوں کے گزر جانے کے بعد ظاہر ہوئیں اور ایسے ہیں جوں جوں وقت گزرتا گیا قسم قسم کی بدعتیں بڑھتی رہیں۔
بدعتوں کے ظاہر ہونے کی جگہیں:
اسلامی ممالک بدعتوں کے ظاہر ہونے میں مختلف ہیں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ وہ بڑے بڑے شہر جہاں صحابہ کرام رضي اللہ عنہم نے سکونت اختیار کی اور جن سے علم و ایمان کی قندیلیں روشن ہوئیں پانچ ہیں۔ دونوں حرم یعنی مکہ و مدینہ دونوں عراق یعنی بصرہ، کوفہ اور شام۔ انھی جگہوں سے قرآن و حدیث، فقہ و عبادت اور دیگر اسلامی امور کی کرنیں پھوٹیں اور بجز مدینہ نبویہ کے انھی شہروں سے اعتقادی بدعتیں نکلیں۔
کوفہ سے شیعیت و ارجا کی ابتدا ہوئی، جو بعد میں دیگر شہروں میں پھیلی اور بصرہ سے قدریت و اعتزال اور غلط و فاسد عبادتوں کا ظہور ہوا جو بعد میں دوسرے شہروں میں پھیلا اور شام ناصبیت اور قدریت کا گڑھ تھا، رہی جہمیت تو اس کا ظہور خراسان کی جانب سے ہوا اور یہ سب سے بری بدعت ہے۔ بدعتوں کا ظہور شہر نبوی سے دوری کے اعتبار سے ہوا اور جب سیدنا عثمان رضي اللہ عنہ کی شہادت کے بعد فرقہ بندی ہوئی تو ضروری بدعت کا ظہور ہوا لیکن مدینہ نبویہ ان بدعتوں کے ظہور سے محفوظ تھا، اگرچہ وہاں بھی کچھ ایسے لوگ تھے جو دلوں میں بدعات چھپائے ہوئے تھے مگر اہل مدینہ کے نزدیک وہ ذلیل و رسوا تھے۔ کیونکہ مدینہ میں قدریہ وغیرہ کی جماعت تھی لیکن یہ لوگ ذلیل و مغلوب تھے۔ اس کے برخلاف کوفہ میں شیعیت و ارجا، بصرہ میں اعتزال و زاہدوں کی بدعتیں اور شام میں اہل بیت سے براءت کا اظہار، تو یہ چیزیں ان مقامات پر ظاہر و باہر تھیں۔ نبی کریمﷺ سے صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ دجال مدینہ میں داخل نہیں ہو گا۔ وہاں امام مالک کے شاگردوں کے زمانے تک علم و ایمان ظاہر و غالب رہا اور یہ لوگ چوتھی صدی ہجری کے ہیں۔ رہے تین بہترین صدیوں کے زمانے تو ان میں مدینہ نبویہ میں قطعی طور پر کوئی بدعت یں ظاہر نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی دین کے اعتقادی امور میں کوئی بدعت یہاں سے دوسرے شہروں کی طرح نکلی۔
بدعات ظاہر ہونے کے اسباب:
بلا شبه کتاب و سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے ہی میں بدعت و گمراہی میں پڑنے سے نجات ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
[وَ اَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیۡ مُسۡتَقِیۡمًا فَاتَّبِعُوۡہُ ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمۡ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ]
اور یہی میرا راستہ سیدھا ہے، اس کی پیروی کرو اور دیگر راستوں کی پیروی نہ کرو جو تمھیں اس کے راستے سے جدا کر دیں۔ (الأنعام:153)
نبی کریم ﷺ نے اس کو سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضي اللہ عنہ کی روایت میں واضح کر دیا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سامنے ایک لکیر کھینچی اور فرمایا: کہ یہ اللہ کا راستہ ہے پھر اس کے دائیں بائیں چند لکیریں کھینچیں اور فرمایا یہ بہت سارے راستے ہیں اوران میں سے ہر ایک راستے پر شیطان ہے جو اپنی جانب بلا رہا ہے۔ [مسند أحمد:4142]،[النسائي في الكبرى كتاب التفسير، باب قول تعالى و إن هذا صراطی: 11109]،[صحیح ابن حبان:3665]
پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
[وَ اَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیۡ مُسۡتَقِیۡمًا فَاتَّبِعُوۡہُ ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمۡ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ؕ ذٰلِکُمۡ وَصّٰکُمۡ بِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ]
اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے، سو اس راہ پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گی، اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے، تاکہ تم پرہیز گاری اختیار کرو۔ (الأنعام:153)
پس جو بھی کتاب وسنت سے روگردانی کرے گا تو اسے گمراہ کن راستے اور نئی نئی بدعتیں اپنی جانب کھینچ لیں گی۔ بدعتوں کے ظہور کے اسباب کا خلاصہ درج ذیل امور میں پیش کیا جاتاہے: دینی احکام سے لا علمی و جہالت، خواہشات کی پیروی، آراء و اشخاص کے لیے عصبیت برتنا، کافروں کی مشابہت اختیار کرنا اور ان کی تقلید کرنا۔ ان اسباب کو قدرے تفصیل سے بیان کریں گے۔
دینی احکام سے لا علمی و جہالت:
جوں جوں زمانہ گزرتا گیا اور لوگ آثار رسالت سے دور ہوتے گئے، علم کم ہوتا رہا اورجہالت عام ہوتی گئی جیسا کہ اس کی خبر نبی کریمﷺ نے اپنی اس حدیث میں دی ہے: تم میں سے زندہ رہنے والا شخص بہت سارے اختلافات دیکھے گا۔ [أبو داود، كتاب السنة، باب في لزوم السنة:4607]
اور اپنے اس فرمان میں بھی کہ اللہ تعالی علم بندوں سے چھین کر نہیں ختم کرے گا بلکہ علماء کو ختم کر کے علم ختم کرے گا۔ یہاں تک کہ جب کسی عالم کو زندہ نہیں چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو رؤسا (مفتی) بنا لیں گے اور یہ لوگ مسئلہ پوچھے جانے پر بغیر علم کے فتوی دیں گے، تو خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ [بخاری کتاب العلم باب كيف يقبض العلم:100]
تو علم اور علماء ہی بدعت کا منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں اور جب علم و علماء ہی کا فقدان ہو جائے تو بدعت کے پھلنے پھولنے اور بدعتیوں کے سرگرم ہونے کے مواقع پیدا ہو جاتے ہیں۔
خواہشات کی پیروی:
جو کتاب وسنت سے اعراض کرے گا وہ اپنی خواہشات کی پیروی کرے گا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
[فَاِنۡ لَّمۡ یَسۡتَجِیۡبُوۡا لَکَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا یَتَّبِعُوۡنَ اَہۡوَآءَہُمۡ ؕ وَ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ بِغَیۡرِ ہُدًی مِّنَ اللّٰہِ]
اگر یہ تیری نہ مانیں تو تو یقین کر لے کہ یہ صرف اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں اور اس سے بڑھ کر بہکا ہوا کون ہے جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہو بغیر اللہ کی رہنمائی کے؟ (القصص:50)
اور فرمایا: [اَفَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ وَ اَضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلۡمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰی سَمۡعِہٖ وَ قَلۡبِہٖ وَ جَعَلَ عَلٰی بَصَرِہٖ غِشٰوَۃً ؕ فَمَنۡ یَّہۡدِیۡہِ مِنۡۢ بَعۡدِ اللّٰہِ]
کیا آپ نے اسے بھی دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور با وجود سمجھ بوجھ کے اللہ نے اسے گمراہ کر دیا ہے اور اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھ پر بھی پردہ ڈال دیا ہے، اب ایسے شخص کو اللہ کے بعد کون ہدایت دے سکتا ہے؟ (الجاثية:23)
اور یہ بدعتیں اتباع خواہشات کی پیداوار ہیں۔
مخصوص لوگوں کی رائے کے لیے تعصب برتنا:
کسی کی رائے کی طرف داری کرنا یہ انسان اور دلیل کی پیروی و معرفت حق کے درمیان بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
[وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمُ اتَّبِعُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ قَالُوۡا بَلۡ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلۡفَیۡنَا عَلَیۡہِ اٰبَآءَنَا] اور ان سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب کی فرماں برداری کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ (البقرة:170)
اور آج کل یہی حالت متعصبین کی ہے، خواہ وہ مذہب صوفیت کے بعض پیروکار ہوں یا قبوری حضرات، جب انھیں کتاب وسنت کی پیروی اور ان دونوں کی مخالف چیزوں کو چھوڑنے کو کہا جاتا ہے تو یہ حضرات اپنے مذاہب ، مشائخ اور آباؤ اجداد کو دلیل بناتے اور بطور حجت پیش کرتے ہیں۔
کافروں سے مشابہت اختیار کرنا:
کافروں سے مشابہت سب سے زیادہ بدعتوں میں مبتلا کرنے والی چیزوں میں سے ہے جیسا کہ ابو واقد لیثی کی حدیث میں ہے، کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے رسولﷺ کے ساتھ حنین کی طرف نکلے اور ہمارے کفر کا زمانہ ابھی قریب ہی تھا۔ مشرکوں کے لیے ایک بیری کا درخت تھا جہاں یہ لوگ ٹھہرتے تھے اور جس کے ساتھ اپنے ہتھیار لڑکاتے تھے، جسے ذات انواط کہا جاتا تھا۔ تو ہمارا گزر بیری کے درخت کے پاس سے ہوا۔ ہم لوگوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول (ﷺ) ہمارے لیے بھی ذات انواط بنا دیجیے جیسا کہ ان کے لیے ذات انواط ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سبحان اللہ! یہ تو ایسے ہی ہے جیسے موسیٰ (ﷺ) کی قوم نے کہا تھا: [اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰـہًا کَمَا لَہُمۡ اٰلِـہَۃٌ] ہمارے لیے بھی ایک معبود ایسا ہی مقرر کر دیجیے جیسے ان کے یہ معبود ہیں۔ (الأعراف:138)
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم ضرور پہلے لوگوں کے طریقوں پر چلو گے۔
[ترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء لتركبن سنن من كان قبلكم:2180]
اس حدیث میں واضح بیان ہے کہ کفار کی مشابہت ہی نے بنی اسرائیل اور بعض صحابہ کو اس بات پر ابھارا کہ وہ اپنے نبی ﷺ سے ایسا غلط مطالبہ کریں۔ کہ وہ ان کے لیے اللہ کو چھوڑ کر ایک ایسا معبود مقرر کر دیں جس کی وہ پرستش کریں اور اس سے تبرک حاصل کریں اور یہی آج حقیقت میں ہو رہا ہے، اس لیے کہ اکثر مسلمانوں نے شرک و بدعت کے ارتکاب میں کافروں کی روش اپنائی ہوئی ہے۔ جیسے برتھ ڈے منانا، مخصوص اعمال کے لیے دنوں اور ہفتوں کی تعیین، یادگاری چیزوں اور مناسبتوں سے جلسے جلوس منعقد کرنا، یادگاری تصویریں و مجسمے قائم کرنا، ماتم کی محفلیں منعقد کرنا، جنازے کی بدعتیں اور قبروں پر تعمیر وغیرہ، قبروں پر غیرشرعی کام اور غیر اللہ کو پکارنا۔
بدعتیوں کے متعلق امت مسلمہ کا موقف:
اہل سنت والجماعت ہمیشہ سے بدعتیوں کی تردید اور ان کی بدعتوں کا انکار کرتے رہے ہیں اور انھیں ایسا کرنے سے منع کرتے رہے ہیں۔ اس کی چند مثالیں آپ کے سامنے پیش کی جارہی ہیں:
[1] سیده ام درداءرضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ کہتی ہیں کہ ابو الدرداء (رضي اللہ عنہ) میرے پاس غصے کی حالت میں آئے۔ میں نے پوچھا: کیا بات ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں ان لوگوں میں محمد ﷺ کے دین سے کچھ نہیں جانتا ہوں، سوائے اس کے کہ یہ تمام لوگ نماز پڑھتے ہیں۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب فضل صلاة الفجر في جماعة:650]
[2] عمرو بن یحییٰ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم لوگ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دروازے پر صبح کی نماز سے پہلے بیٹھے ہوئے تھے کہ جب وہ باہر نکلیں تو ہم سبھی لوگ ان کے ساتھ مسجد کو چلیں۔ اتنے میں ابو موسیٰ اشعری رضي اللہ عنہ آئے اور کہا کہ کیا ابھی تک ابو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نہیں نکلے؟ ہم نے کہا کہ نہیں تو وہ بھی ان کے نکلنے تک بیٹھ گئے۔ جب وہ نکلے تو ہم کبھی لوگ کھڑے ہو گئے۔ ابو موسیٰ رضي اللہ عنہ نے کہا کہ اے ابو عبدالرحمن! میں نے ابھی مسجد میں ایک ایسی چیز دیکھی ہے جو مجھے بہت ناگوار گزری اور الحمدللہ خیر ہی دیکھی ہے۔ انھوں نے پوچھا وہ کیا ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ اگر وہ وہاں رہیں گے تو آپ بھی دیکھ لیں گے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے مسجد میں کچھ لوگوں کو حلقہ لگا کر بیٹھے ہوئے دیکھا، وہ نماز کے انتظار میں تھے، ہر حلقے میں ایک آدمی تھا اور ان کے ہاتھ میں کنکریاں تھیں۔ جب وہ کہتا کہ سو بار اللہ اکبر کہو تو سب لوگ سو بار اللہ اکبر کہتے اور جب وہ کہتا کہ سو بار لا الہ الا اللہ کہو تو وہ سو بار لا الہ الا اللہ کہتے ہیں۔ جب وہ کہتا کہ سو مرتبہ سبحان اللہ کہو تو وہ سو مرتبہ سبحان اللہ کہتے۔ انھوں نے کہا: کیوں نہیں تم نے انھیں اپنے گناہوں کو شمار کرنے کو کہا؟ اور تم ضمانت لے لیتے کہ تمھاری کوئی بھی نیکی ضائع نہیں ہو گی۔ پھر وہ چلے ہم بھی ان کے ساتھ چل پڑے یہاں تک کہ ان حلقوں میں سے ایک حلقے کے پاس آکر کھڑے ہوئے اور کہا:یہ میں تمھیں کیا کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں؟ تو انھوں نے جواب دیا: ابو عبد الرحمن کنکریاں ہیں جن سے ہم تکبیر وتہلیل اور تسبیح وتحمید کا شمار کرتے ہیں۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگ اپنی اپنی خطا میں شمار کرو، میں تمھارے لیے اس بات کی ضمانت لیتا ہوں کہ تمھاری کوئی نیکی برباد نہیں ہوگی۔ اے امت محمد! تمھاری تباہی و بربادی ہو، کتنی جلدی تمھاری ہلاکت آگئی۔ یہ صحابہ کرام ان کی جماعت موجود ہے، یہ نبی کریم ﷺ کے کپڑے ابھی بوسیدہ نہیں ہوئے اور نہ آپﷺ کے برتن ٹوٹے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کیا تم لوگ ایسے طریقے پر ہو جو محمدﷺ کے طریقے سے زیادہ بہتر ہے یا گمراہی کے دروازے کھولنے والے ہو۔ تو ان لوگوں نے کہا کہ اللہ کی قسم! اے ابو عبد الرحمن! ہمارا مقصد صرف خیر ہی کا ہے۔ انھوں نے کہا: کہ کتنے خیر کے متلاشی اسے ہرگز نہیں پا سکتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو ایک حدیث سنائی کہ ایک قوم قرآن مجید پڑھے گی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ اور اللہ کی قسم مجھے معلوم نہیں، ہو سکتا ہے کہ وہ زیادہ تر تمھیں میں سے ہوں۔ یہ کہہ کر وہاں سے واپس چلے گئے۔
عمر و بن سلمہ کہتے ہیں کہ ہم نے انھیں نہروان کے دن دیکھا کہ وہ خوارج کے ساتھ ہم سے نیزہ زنی کر رہے تھے۔
[سنن الدارمي: ح 210]،[المعجم الكبير للطبراني: ح 8636]
[3] ایک آدمی امام مالک بن انس رحمہ اللہ کے پاس آکر کہنے لگا کہ میں کہاں سے احرام باندھوں؟ تو آپ نے جواب دیا کہ اس میقات سے جو رسول اللہ ﷺ نے مقرر کیے، وہاں سے احرام باندھو۔ آدمی نے کہا کہ اگر اس سے دور سے احرام باندھوں تو؟ امام مالک نے کہا کہ یہ میں اچھا نہیں سمجھتا۔ تو اس آدمی نے کہا کہ اس میں آپ کیا برا سمجھتے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ تمھارے فتنے میں پڑنے کا مجھے خوف ہے۔ اس آدمی نے کہا کہ خیر کے زیادہ چاہنے میں کیا فتنہ ہو سکتا ہے۔ تو امام مالک نے جواب دیا کہ اللہ تعالٰی فرماتا: [فَلۡیَحۡذَرِ الَّذِیۡنَ یُخَالِفُوۡنَ عَنۡ اَمۡرِہٖۤ اَنۡ تُصِیۡبَہُمۡ فِتۡنَۃٌ اَوۡ یُصِیۡبَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ]
سنو! جو لوگ حکم رسول (ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں انھیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آپڑے یا انھیں درد ناک عذاب نہ پہنچے۔ (النور:63)
پھر فرمایا: اور کون سا فتنہ اس سے بڑا ہو سکتا ہے کہ تم نے اپنے آپ کو ایسے فضل کے ساتھ خاص کیا جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خاص نہیں تھا۔
یہ چند نمونے ہیں اور اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ہر زمانے میں علمائے کرام بدعتیوں کا انکار کرتے رہے ہیں۔