وعدہ پورا کرنے کا ثواب
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُ ۚ وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ ۖ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا﴾
”اور تم لوگ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقہ سے جو اس کے حق میں سب سے بہتر ہو، یہاں تک کہ وہ اپنی بھرپور جوانی کو پہنچ جائے، اور عہد و پیمان کو پورا کرو، بے شک عہد و میثاق کے بارے میں (قیامت کے دن) پوچھا جائے گا۔“
(17-الإسراء:34)
﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ. … وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ.﴾
”یقیناً ان مومنوں نے فلاح پالی…. اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد و پیمان کا خیال رکھتے ہیں۔“
(23-المؤمنون:1 تا 8)
اس آیت مقدسہ میں اللہ تعالیٰ نے فلاح وفوز سے ہم کنار بندوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کی ایک نشانی ایفائے عہد بیان کی ہے۔ ویسے بھی احادیث میں عہد و وعدہ کی خلاف ورزی منافقین کی علامات میں بیان کی گئی ہے۔ لامحالہ جو وعدہ پورا کرے گا۔ وہ منافقین کی علامت سے بری ہو کر مؤمنین کی صف میں شامل ہو جائے گا اور یہی کامیابی کی راہ ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خطاب کرتے ہوئے فرماتے تھے:
لا إيمان لمن لا أمانة له، ولا دين لمن لا عهد له
”اس شخص کا ایمان نہیں جو امانت کی حفاظت نہیں کرتا، اور اس شخص کا دین نہیں جو عہد کی پاسداری نہیں کرتا۔“
مسند احمد: 3/135 شیخ شعیب نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
معلوم ہوا کہ جو شخص امانت وعہد کی حفاظت و پاسداری کرتا ہے اس میں ایمان ودین جیسی قیمتی نعمت موجود ہے۔