مہمان نوازی کے فضائل قرآن وحدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

مہمان نوازی کے فضائل

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ‏ ﴿وَجَاءَهُ قَوْمُهُ يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ وَمِن قَبْلُ كَانُوا يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ ۚ قَالَ يَا قَوْمِ هَٰؤُلَاءِ بَنَاتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَلَا تُخْزُونِ فِي ضَيْفِي ۖ أَلَيْسَ مِنكُمْ رَجُلٌ رَّشِيدٌ﴾ ‎
”اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس دوڑتے ہوئے آئے، اور وہ پہلے سے ہی برائیاں کرتے آ رہے تھے۔ لوط نے کہا: اے میری قوم کے لوگو! یہ میری بیٹیاں ہیں، یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں، پس تم اللہ سے ڈرو، اور میرے مہمانوں کو چھیڑ کر مجھے رسوا نہ کرو، کیا تم میں کوئی آدمی بھی سمجھدار نہیں ہے؟“
(11-هود:78)
﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْرَاهِيمَ الْمُكْرَمِينَ. ‏ إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا سَلَامًا ۖ قَالَ سَلَامٌ قَوْمٌ مُّنكَرُونَ ‎. فَرَاغَ إِلَىٰ أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجْلٍ سَمِينٍ.﴾
”اے میرے نبی! کیا آپ کو ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر پہنچی ہے جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا، ابراہیم نے سلام کا جواب دیا، اور دل میں کہا کہ یہ انجانے لوگ ہیں۔ پھر خاموشی کے ساتھ اپنے گھر والوں کے پاس دوڑ کر گئے، پھر ایک بھنا ہوا موٹا تازہ بچھڑا لے کر آئے۔“
(51-الذاريات:24 تا 26)
ان آیات سے معلوم ہوا کہ مہمان نوازی کرنا انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت ہے۔ جیسا کہ سیدنا لوط و سیدنا ابراہیم علیہما الصلاۃ والسلام کے بارہ میں بیان ہوا ہے۔ چونکہ مہمان اپنے میزبان کے پاس آتا ہے تو اس کی امان میں ہوتا ہے۔ اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے یا کوئی تکلیف پہنچائے تو یہ میزبان کی سبکی کا باعث بنتا ہے۔ لہذا اس سلسلے میں دونوں بزرگ ہستیوں نے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے مہمانوں کے ساتھ حسنِ سلوک کیا۔
سیدنا ابو شریح العدوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم ضيفه جائزته . قالوا: وما جائزته يا رسول الله؟ قال: يومه وليلته، والضيافة ثلاثة أيام، فما كان وراء ذلك فهو صدقة عليه .
”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے تو اسے مہمان کی عزت کرتے ہوئے اس کا حق ادا کرنا چاہیے۔“ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دن اور رات (یعنی اس میں اپنی طاقت کے مطابق بہتر کھانا تیار کرے) اور مہمان نوازی تین دن ہے، پس جو اس کے علاوہ ہو، وہ صدقہ ہے۔“
صحیح بخاری، کتاب الأدب، باب من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يؤذ جاره، رقم: 6019۔ صحیح مسلم، کتاب اللقطة، باب الضيافة، رقم: 4513 تا 4515۔
عن أبى هريرة رضى الله عنه أن النبى صلى الله عليه وسلم قال: من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم ضيفه، ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليصل رحمه، ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا أو ليصمت .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے اپنے مہمان کی عزت کرنی چاہیے۔ اور جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ صلہ رحمی (رشتے داروں سے حسنِ سلوک) کرے۔ اور جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اس کو چاہیے کہ بھلائی کی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔“
صحیح بخاری، کتاب الأدب، باب إكرام الضيف وخدمته، رقم: 6138۔ صحیح مسلم، کتاب الإيمان، باب الحث على إكرام الجار والضيف ولزوم الصمت إلا من الخير، رقم: 47۔
سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
يا أيها الناس! أفشوا السلام، وأطعموا الطعام، وصلوا والناس نيام تدخلوا الجنة بسلام .
”لوگو! سلام پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ، اور جب (دوسرے) لوگ سو رہے ہوں تو نماز پڑھو، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو گے۔“
سنن الترمذی، کتاب صفة القيامة، باب حديث أفشوا السلام، رقم: 2485۔ سنن ابن ماجہ، رقم: 1334 و 3251۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔