دعوتی مراسلہ كا مقصد
سلطانِ معظم نے چند سوالات کی تشریح و توضیح کا مطالبہ کیا، ہمارے جواب کا مقصود و مطلوب صرف یہ ہے کہ:
➊ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہو۔
➋ ہم اسی اللہ کریم کی عبادت کریں۔
➌ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ کیونکہ شریعتِ مطہرہ کی ہدایات کے بغیر اللہ کی عبادت ممکن نہیں۔
جیسے: پانچ وقت کی نماز، رمضان المبارک کے روزے، اور بیت اللہ کا حج۔ یا جن امور کے انجام دینے کی دعوت دی جیسے قیام اللیل، مسجدِ نبوی اور مسجدِ اقصی کی طرف سفر کرنا تاکہ وہاں جا کر نماز ادا کی جائے، قرآن کریم کی تلاوت ہو، ذکر و اذکار اور اعتکاف وغیرہ جیسے اعمالِ صالحہ انجام دیے جائیں۔ ان اعمال کے علاوہ مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت اور نماز کے اندر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کہنا، مساجد کے اندر ایسے طریقے سے اعمال انجام دینا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء ہو۔ نیز سنت کے مطابق زیارتِ قبور کا فریضہ۔
سنت نہ کہ بدعت
حقیقت یہ ہے کہ سنت کے مطابق اعمال انجام دینا ہی دینِ اسلام ہے۔ ہم پر واجب ہے کہ تمام عبادات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے تجاوز نہ کریں۔ جیسے مسجدِ قباء کی زیارت اور اس میں نماز کی ادائیگی، شہدائے احد اور جنت البقیع کی زیارت۔ ایسے اعمال کو عبادت نہیں کہا جا سکتا جو اللہ تعالیٰ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناپسند تھے، اور نہ ہی ایسے اعمال سے تقرب الی اللہ حاصل ہو سکتا ہے۔ جیسے مشرکین، اہل کتاب اور اہل بدعت کی عبادات۔ یہ لوگ ایسے اعمال کرتے ہیں جن کا نہ اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا اور نہ ان کی تبلیغ کے لیے کوئی رسول ہی بھیجا، جیسے:
➊ مخلوقات کی بندگی کرنا۔
➋ ستاروں، ملائکہ اور انبیاء کی پرستش۔
➌ انبیاء و صلحاء کی تصاویر کی پوجا کرنا جیسے نصاریٰ اپنے گرجوں میں کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم ان کے ذریعے شفاعت طلب کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبات میں ہمیشہ دہرایا کرتے تھے:
خير الكلام كلام الله وخير الهدي هدي محمد وشر الأمور محدثاتها وكل بدعة ضلالة
”بہترین کلام اللہ کا کلام ہے اور بہترین راستہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے اور بدترین امور نئے کام (بدعت) ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔“
صحيح مسلم – كتاب الجمعة : باب تخفيف الصلاة والخطبة (حديث : 827)۔ سنن نسائي كتاب السهو باب نوع آخر من الذكر بعد التشهد (حديث : 1312)
بدعت اس کام کو کہتے ہیں جو شریعت میں نیا ہو۔ بعض اوقات کوئی کام سنت سے ثابت ہوتا ہے لیکن جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد (دوسری صورت میں) انجام دیا جاتا ہے تو اسے بدعت کا نام دیا جاتا ہے جیسے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا وہ قول جو انہوں نے رمضان المبارک میں لوگوں کو ایک قاری کے پیچھے جمع کر کے فرمایا تھا:
نعمت البدعة هذه والتي ينامون عنها أفضل
”یہ اچھی بدعت ہے اور وہ (نماز) جس سے لوگ سو جاتے ہیں (آخری پہر پڑھنا) اس سے افضل ہے۔“
صحیح بخاری کتاب صلاة التراويح – باب فضل من قام رمضان (حديث : 2010)
حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامِ رمضان کو سنت قرار دیتے ہوئے فرمایا تھا:
إن الله قد فرض عليكم صيام رمضان وسننت لكم قيامه
”اللہ تعالیٰ نے تم پر رمضان کے روزے فرض کئے ہیں اور میں نے تمہارے لیے اس کا قیام سنت قرار دیا ہے۔“
سنن نسائى – كتاب الصيام : باب ذكر اختلاف يحيى بن ابی کثیر (حدیث : 2212) و اسناده ضعيف النضر بن شیبان ضعیف راوی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں لوگ متفرق دو دو چار چار جمع ہو کر قیامِ رمضان کیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت بھی کرائی اور فرمایا تھا:
إن الرجل إذا صلى مع الإمام حتى ينصرف كتب له قيام ليلة
”جب کوئی شخص امام کے ساتھ باجماعت نماز پڑھتا ہے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے، تو اس کے اعمال نامہ میں پوری رات کا قیام لکھا جاتا ہے۔“
سنن ابی داود کتاب شهر رمضان باب في قيام شهر رمضان (حدیث : 1375)۔ سنن ترمذى كتاب الصوم باب ماجاء في قيام شهر رمضان (حدیث : 806) سنن نسائی۔ کتاب قيام الليل – باب قيام شهر رمضان (حدیث) : (1204)، سنن ابن ماجه كتاب اقامة الصلوت باب ماجاء في قيام شهر رمضان (حدیث : 1327)
لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ وقت فرضی نمازوں کی طرح قیامِ رمضان کی جماعت پر مداومت نہیں کی تاکہ قیامِ رمضان فرض قرار نہ پا جائے۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے تشریف لے گئے اور اب فرض کے اضافے کا خدشہ نہ رہا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں باجماعت نمازِ تراویح کا التزام فرمایا۔
صحیح بخاری کتاب صلاة التراويح – باب فضل من قام رمضان (حدیث : 2010)