چھٹا شبہ: آیات قرآنیہ سے استدلال
منکرینِ حدیث حجیت حدیث سے انکار میں نمایاں اور پرکشش انداز میں جو دلیل پیش کرتے ہیں وہ قرآن کریم کی درج ذیل آیات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ
”ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی جس میں ہر چیز کا بیان ہے۔“
(16-النحل:89)
نیز فرمایا:
وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ
”ہر بات کی تفصیل (اس کتاب میں) ہے۔“
(12-يوسف:111)
نیز فرمایا:
وَهُوَ الَّذِي أَنْزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلًا
”وہ ذات جس نے تمھاری طرف کتاب نازل فرمائی جو کہ واضح ہے۔“
(6-الأنعام:114 )
نیز فرمایا:
كِتَابٌ فُصِّلَتْ آيَاتُهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
”ایک کتاب ہے کہ اس کی آیات کو کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے، قرآن عربی زبان میں اس قوم کے لیے جو جانتے ہیں۔“
(41-حم السجدة:3 )
لغت کے اعتبار سے ظاہری معنی یہ ہے کہ قرآن کریم بذات خود ایک جامع مفصل اور مکمل کتاب ہے جس میں ہر چیز کا بیان ہے۔ اس بات میں تو کسی مسلمان کا اختلاف نہیں لیکن منکرینِ حدیث اس سے یہ مقصد لیتے ہیں کہ قرآن کریم کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کی اتباع اور اس کی تشریح کی ضرورت نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں قرآن کریم پر عمل کر کے ایک صحیح معاشرہ قائم کر دیا جو اس وقت کے تقاضے کے مطابق تھا۔ اب ہم اپنے زمانے میں صاحب وحی کی طرح قرآن کریم پر عمل کرنے سے حدیث کے بغیر ہی مناسب معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔ ”كل شيء“ ہر چیز کے الفاظ میں تمام اصول، فروع، کلیات اور جزئیات شامل ہیں۔ ہر مسئلہ قرآن کریم میں موجود ہے۔
جواب:
(1) عقل اور محاورے کے لحاظ سے یہ استدلال بالکل غلط ہے، جزئیات اور فروع لامحدود ہیں، احادیث اور تفسیر و فقہ کی بہت سی کتابیں ہیں لیکن اب بھی ایسی جزئیات اور فروع سامنے آتی ہیں کہ ان کا حل صراحت کے ساتھ ان بہت سی کتابوں میں بھی نہیں۔ لفظ ”كل شيء“ کبھی لغوی معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور اسے استغراق حقیقی کہا جاتا ہے، جیسے فرمایا:
”إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ“
یعنی کوئی بھی چیز اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے علم سے خارج نہیں لیکن یہ لفظ محاورے کے لحاظ سے عموماً استغراق عرفی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں تورات کے متعلق فرمایا:
وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْعِظَةً وَتَفْصِيلًا لِكُلِّ شَيْءٍ
”اور ہم نے اس (موسیٰ علیہ السلام) کے لیے تختیوں پر ہر طرح کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی۔“
(7-الأعراف:145)
اگر تورات میں ہر چیز کی تفصیل تھی تو پھر اس کے بعد انجیل، زبور اور قرآن کریم نازل کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ لیکن اس سے مراد یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے دین میں جو ضروری اصول و کلیات تھے وہ اس (تورات) میں بیان کیے گئے تھے۔ اسی طرح ابراہیم علیہ السلام کے خاص معجزے کے متعلق فرمایا:
ثُمَّ اجْعَلْ عَلَى كُلِّ جَبَلٍ مِنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعْيًا
”پھر ان میں سے ایک ایک ٹکڑا ہر پہاڑ پر رکھ دیں، پھر انھیں بلائیں تو وہ آپ کی طرف دوڑتے ہوئے آئیں گے۔“
(2-البقرة:260 )
اگر یہاں ”كل جبل“ ہر پہاڑ سے دنیا کے تمام پہاڑ مراد لیے جائیں تو یہ عادت اور عقل کے خلاف ہے۔ کسی انسان کے اختیار ہی میں نہیں کہ وہ دنیا کے تمام پہاڑوں پر پہنچ سکے۔ یہاں بھی وہ بعض پہاڑ مراد ہیں جو ابراہیم علیہ السلام کے نزدیک تھے۔
شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو منع کرتے ہوئے فرمایا:
وَلَا تَقْعُدُوا بِكُلِّ صِرَاطٍ
”اور ہر راستے پر نہ بیٹھو۔“
(7-الأعراف:86)
شعیب علیہ السلام کی قوم کے لوگ تمام راستوں میں بیٹھتے تھے نہ بیٹھ سکتے تھے، لہذا اس آیت میں بھی ”كل“ سے بعض مراد ہے، یعنی وہاں کے نزدیک والے راستے۔ فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں ساحر جمع کرنے کے لیے ان الفاظ کے ساتھ حکم دیا:
ائْتُونِي بِكُلِّ سَاحِرٍ عَلِيمٍ
”تمام ماہر جادوگروں کو میرے پاس لے آؤ۔“
(10-يونس:79)
اس آیت میں بھی تمام جادوگروں سے مراد دنیا کے تمام جادوگر نہیں تھے بلکہ صرف مصر میں رہنے والے جادوگر ہی مراد تھے۔ اسی طرح قرآن کریم میں استغراق عرفی کی بہت سی مثالیں موجود ہیں تو ”وتفصيلا لكل شيء“ اور ”تبيانا لكل شيء“ سے یہ مراد نہیں کہ تمام اصول و کلیات اور فروع و جزئیات قرآن کریم میں موجود ہیں بلکہ اس سے مراد دین اسلام کے ضروری اصول و کلیات، علوم و معارف اور جزئیات میں سے بعض صراحت کے ساتھ، بعض اشارتاً، بعض دلالۃً، بعض مجمل، بعض مفسر اور بعض متشابہ کے طور پر موجود ہیں، پھر ان میں سے جس کی ضرورت اور اہمیت زیادہ تھی، اس کی شرح احادیث میں بیان کر دی اور حدیث کے احکام بھی درحقیقت قرآن کے احکام ہیں جیسا کہ پہلے ثابت کیا گیا ہے۔
(2) پرویز صاحب خود بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ قرآن کریم میں سب کچھ نہیں ہے، چنانچہ لکھتے ہیں: ”ہمارا ایمان ہے کہ قرآن تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے اور اس کی ہدایت قیامت تک نافذ العمل رہے گی۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کے ضابطہ حیات میں ہر قسم کے مسائل و معاملات کے لیے جزئی اور فروعی احکام نہیں دیے جا سکتے تھے۔“
مقام حدیث، ص: 242
نیز لکھا ہے: ”دوسری قابل غور حقیقت یہ ہے کہ قرآن میں کچھ احکام دیے گئے ہیں لیکن بیشتر امور میں اصولی ہدایت دی گئی ہے۔ نظام خداوندی کا فریضہ یہ ہے کہ وہ ان اصولوں کے احکام نہیں بلکہ اصولوں کی جزئیات حالات کے تقاضے کے مطابق جماعت مومنین کے مشورہ سے خود مرتب کرے۔“
مقام حدیث، ص : 65
حاصل کلام یہ ہے کہ پرویزی فکر کے مطابق قرآن میں سارے احکام نہیں ہیں۔ جزئیات فروع کی تفصیل جماعت مومنین (کبھی اسے مرکز ملت کا نام دیا جاتا ہے) کے مشورے سے کی جائے گی۔ کیا اس طرح قرآن ہر چیز کی تفصیل ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ قرآن کریم میں سارے احکام نہیں ہیں اور جزئیات و فروع کی تفصیل محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے، لہذا اہل اسلام غور فرمائیں کہ مرکز ملت اور جماعت مومنین کا مشورہ مفید اور صحیح ہوگا یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شرح اور تفصیل صحیح ہوگی جو ہر زمانے کے مطابق بھی ہے۔ اور ”وَتَفْصِيلًا لِكُلِّ شَيْءٍ“ ہر چیز کی تفصیل کا مصداق بھی۔