والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کے فضائل
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا۔ وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا۔﴾
”اور آپ کے رب نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ لوگو! تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہاری زندگی میں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف نہ کہو، اور انہیں ڈانٹو نہیں، اور ان کے ساتھ نرمی اور ادب و احترام کے ساتھ بات کرو اور جذبہ رحمت کے ساتھ، ان کے سامنے تواضع اور انکساری اختیار کرو، اور دعا کرو کہ اے میرے رب! جس طرح ان دونوں نے بچپن میں میری پرورش و برداشت کی تھی تو ان پر رحم فرما دے۔“
(17-الإسراء:23،24)
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کر کے صراحت کے ساتھ توحید کا حکم دیا، اور اس کے بعد ہی والدین کے ساتھ اچھا معاملہ کرنے کا حکم دے کر انسان کے دل و دماغ میں یہ بات بٹھانی چاہی کہ توحیدِ باری تعالیٰ اور اس کے حقوق کی ادائیگی کے بعد، دنیا میں والدین کے حقوق سے بڑھ کر کوئی حق نہیں۔ اور اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کا خالق و موجد ہے، اس لیے اس کی عبادت ضروری ہوئی، اور رحمِ مادر میں باپ کا نطفہ قرار پانے کے بعد، ماں اس کا بوجھ نو ماہ تک تکلیفیں برداشت کر کے ڈھوتی رہتی ہے اور جب اللہ کی قدرت سے ماں کے پیٹ سے بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ بالکل عاجز و کمزور ہوتا ہے اس میں حرکت کرنے کی بھی صلاحیت نہیں ہوتی۔ اس وقت ماں اور باپ اللہ کے بعد اس کا سہارا بنتے ہیں، اس کی حفاظت کی خاطر دن کا چین اور رات کا سکون کھو دیتے ہیں اور ہر جتن کر کے اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں، اسے اپنی نگاہِ شفقت کے زیرِ سایہ پالتے ہیں۔ تو گویا اس کے وجود و بقا کے لیے اللہ تعالیٰ کی قدرت و ربوبیت کے بعد انہی دونوں کی محبت و شفقت کام کرتی ہے۔ اللہ رب العزت نے انسانیت کو والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا جو طریقہ سکھلایا اس سے جو بات سمجھ آتی ہے، وہ یہ ہے کہ انسان کو اپنے والدین کی تعظیم و تکریم اور خدمت کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھنی چاہیے۔ جب دونوں یا ان میں سے ایک بوڑھے ہو جائیں تو ان پر نگاہِ شفقت و محبت ڈالے، ان کی خدمت کر کے قلبی راحت محسوس کرے اور ان کی خدمت کرتے ہوئے اگر کوئی تکلیف پہنچے تو اف نہ کرے اور ان کے ساتھ غایتِ محبت و اکرام کا معاملہ کرے، ان کے سامنے اپنے آپ کو جھکا کر رکھے، سخت لہجہ میں بات نہ کرے، آواز اونچی نہ کرے، ان کی خدمت کو دنیا و آخرت کی سعادت و نیک بختی کا سبب سمجھے، اس لیے کہ آج وہ دونوں اس شخص کی مدد کے محتاج ہو گئے ہیں جو پیدائش کے بعد سے ان کی مدد کا محتاج ترین فرد تھا، یہاں تک کہ ان کے سایہ عاطفت میں پل بڑھ کر جوان ہوگیا۔
قفال نے ”واخفض لهما جناح الذل“ کے تحت لکھا ہے کہ جس طرح چڑیا غایتِ حفاظت کے پیشِ نظر اپنے چوزوں کو اپنے پر سے ڈھانک لیتی ہے اور جب پرواز سے فارغ ہو کر زمین پر اترنا چاہتی ہے تو اپنے پر سمیٹ لیتی ہے اسی طرح لڑکا جب جوان ہو جائے اور والدین بوڑھے ہو جائیں تو ہر دم ان کی حفاظت کرتا رہے اور ان کے سامنے نہایت عاجزی اور انکساری کے ساتھ رہے۔ آیت کے اس حصہ میں تواضع اور انکساری کی طرف ایک بلیغ اشارہ ہے۔ سعید بن جبیر نے اس کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ اے انسان! تو اپنے والدین کے لیے اس طرح تواضع و انکساری کا اظہار کر جس طرح غلام اپنے سخت مزاج اور سخت گیر آقا کے سامنے کرتا ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے گویا یہ کہنا چاہا ہے کہ والدین کے لیے اپنی شفقت و محبت پر اکتفا نہ کرو، بلکہ جب تک زندہ رہو، روزانہ کم از کم پانچوں نمازوں میں ان کے حق میں دعا کرو کہ اللہ ان پر دائمی رحمت کرے، ان کی مغفرت فرما دے اور انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے جس طرح انہوں نے غایتِ شفقت و محبت کے ساتھ تمہاری پرورش کی تھی جب تم چھوٹے تھے اور حرکت نہیں کر سکتے تھے۔ (تیسیر الرحمن: 1/ 803-804)
عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما قال: أقبل رجل إلى نبي صلى الله عليه وسلم ، فقال: أبايعك على الهجرة والجهاد، أبتغي الأجر من الله تعالى. قال: فهل من والديك أحد حي؟ قال: نعم، بل كلاهما. قال: فتبتغي الأجر من الله تعالى؟ قال: نعم. قال: فارجع إلى والديك، فأحسن صحبتهما .
سیدنا عبد اللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: میں آپ سے ہجرت اور جہاد پر بیعت کرتا ہوں اور اللہ سے اجر کا طالب ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: ”تیرے ماں باپ میں سے کوئی زندہ ہے؟“ اس نے جواب دیا: ہاں، بلکہ دونوں ہی (زندہ ہیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو اللہ سے اجر کا طالب ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اپنے والدین کے پاس لوٹ جا اور ان کی اچھی طرح خدمت کر۔“
صحیح البخاری، کتاب الجهاد، باب الجهاد بإذن الأبوين، رقم: 3004۔ صحیح مسلم، کتاب البر والصلة، باب بر الوالدين، وأيهما أحق به، رقم: 2549۔
عن عبد الله بن عمرو رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: رضى الرب فى رضى الوالد، وسخط الرب فى سخط الوالد .
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پروردگار کی رضا مندی والد کی رضا مندی میں ہے، اور پروردگار کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے۔“
سنن الترمذی، کتاب البر والصلة، باب ماجاء من الفضل في رضا الوالدين، رقم: 1899۔ السلسلة الصحيحة، رقم: 516۔
فائدہ:
مذکورہ بالا حدیثِ پاک میں لفظ ”الوالد“ سے مراد صرف باپ نہیں ہے۔ بلکہ ماں اور باپ دونوں یعنی والدین مراد ہیں۔ جیسا کہ امام ترمذی رحمہ اللہ کی تبویب سے ظاہر ہے:
باب ماجاء فى الفضل فى رضا الوالدين
”اس بیان میں کہ جو والدین کی رضامندی حاصل کرنے کی فضیلت ہے۔“
یاد رہے کہ والدین میں سے ماں زیادہ فضیلت کی حامل ہے۔ اور اُن میں سے نیک برتاؤ کی وہ زیادہ حق دار ہے۔
عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : نمت، فرأيتني فى الجنة، فسمعت صوت قاري يقرأ، فقلت: من هذا؟ فقالوا: هذا حارثة بن النعمان . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : كذاك البر، كذاك البر . وكان أبر الناس بأمه.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں سویا تو میں نے خود کو (خواب میں) جنت میں دیکھا، میں نے (وہاں) ایک قاری کی آواز سنی جو قراءت کر رہا تھا۔ میں نے دریافت کیا: یہ کون ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: یہ حارثہ بن نعمان ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح نیکی (کا بدلہ) ہے، اسی طرح نیکی (کا بدلہ) ہے۔“ اور وہ (حارثہ) لوگوں میں سب سے زیادہ اپنی والدہ کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا تھا۔
مسند أحمد: 152/6۔ مصنف عبدالرزاق، رقم: 20119۔ شیخ شعیب نے اسے ”صحیح الإسناد“ کہا ہے۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے؟ ارشاد فرمایا: ”وقت پر نماز ادا کرنا۔“ میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: ”والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا۔“ میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔“
صحیح البخاری، کتاب مواقيت الصلاة، باب فضل الصلاة لوقتها، رقم: 527۔ صحیح مسلم، کتاب الإيمان، باب بيان كون الإيمان بالله تعالى أفضل الأعمال، رقم: 85۔