جو شخص اللہ کے لیے سوال کرے اسے کچھ دینے کے متعلق احکامات
① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من استعاذ باللہ فأعيذوه، ومن سأل باللہ فأعطوه، ومن دعاكم فأجيبوه، ومن صنع إليكم معروفا فكافئوه، فإن لم تجدوا ما تكافئونه فادعوا له حتى تروا أنكم قد كافأتموه
”جو شخص اللہ کے نام پر پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دے دو۔ جو شخص اللہ کے نام پر سوال کرے تو اسے دو، جو شخص تمہیں دعوت دے تو اسے قبول کرو۔ اور جو شخص تمہارے ساتھ بھلائی کرے تو اسے اس کا بدلہ دو۔ اگر تم ایسی کوئی چیز نہ پاؤ جو تم اس کے بدلے میں دے سکو تو اس کے لیے دعا کرتے رہو حتیٰ کہ تم سمجھو کہ تم نے اس کا بدلہ دے دیا ہے۔“
ابو داؤد، کتاب الزکاة، حدیث 1671.
عمر رسیدہ افراد کی عزت کرنا
① سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما أكرم شاب شيخا لسنه إلا قيض اللہ له من يكرمه عند سنه
”جو نوجوان کسی عمر رسیدہ شخص کی اس کی عمر کی وجہ سے عزت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے کسی کو مقرر کر دیتا ہے جو اس کی اس عمر میں عزت کرے۔“
الترمذی، کتاب البر، حدیث 2022۔
② سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن من إجلال اللہ إكرام ذي الشيبة المسلم، وحامل القرآن غير الغالي فيه ولا الجافي عنه، وإكرام ذي السلطان المقسط
”عمر رسیدہ مسلمان کی، حاملِ قرآن کی جو اس میں غلو کرنے والا ہو نہ بے مروتی برتنے والا اور عادل بادشاہ کی عزت کرنا اللہ تعالیٰ کے اکرام و احترام میں سے ہے۔“
ابو داؤد، کتاب الأدب، حدیث 4843۔
راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
رأيت رجلا يتقلب فى الجنة فى شجرة قطعها من ظهر الطريق كانت تؤذي الناس
”میں نے ایک آدمی کو ایک درخت کی وجہ سے جنت میں چلتے پھرتے دیکھا جو اس نے مسلمانوں کے راستے سے کاٹا تھا جو لوگوں کے لیے باعثِ تکلیف تھا۔“
بخاری، کتاب المظالم، حدیث 2472، مسلم، کتاب الإمارة 1914/164۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے کوئی چیز بتائیں جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے فائدہ پہنچائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اعزل الأذى عن طريق المسلمين
”مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دیا کرو۔“
مسلم، کتاب البر 1914/127۔
③ سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے معلوم نہیں، شاید کہ آپ چلے (فوت ہو) جائیں اور میں آپ کے بعد باقی رہوں، پس زادِ راہ کے لیے مجھے کوئی چیز بتا دیں جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے فائدہ پہنچائے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
افعل كذا، وافعل كذا، وأمط الأذى عن الطريق
”یہ کرو، یہ کرو اور راستے سے تکلیف دہ چیز کو دور کر دو۔“
مسلم، کتاب البر 2022/4 – 2618/132۔
④ سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ مجھے ایسی چیز کی بابت بتائیں جس کے ذریعے اللہ مجھے فائدہ پہنچائے۔ ارشاد فرمایا:
اعزل الأذى عن طريق المسلمين
”مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز کو دور کر۔“
مسلم 2618، ابن ماجه 3681۔
راہ بھٹکے ہوئے شخص کی رہنمائی کرنا
① سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تبسمك فى وجه أخيك لك صدقة، وأمرك بالمعروف ونهيك عن المنكر صدقة، وإرشادك الرجل فى أرض الضلال لك صدقة، وإماطتك الحجر والشوكة والعظم عن الطريق لك صدقة، وإفراغك من دلوك فى دلو أخيك لك صدقة
”تیرا اپنے بھائی کے سامنے مسکرا دینا صدقہ ہے، تیرا نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا صدقہ ہے، تیرا کسی راہ بھٹکے ہوئے شخص کی رہنمائی کر دینا صدقہ ہے، تیرا راستے سے پتھر، کانٹے اور ہڈی کو ہٹا دینا صدقہ ہے، اور تیرا اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے ڈول میں پانی ڈال دینا صدقہ ہے۔“
الترمذی، کتاب البر، حدیث 1956۔